Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
By Allah except Whom none has the right to- be worshipped, (sometimes) I used to lay (sleep) on the ground on my liver (abdomen) because of hunger, and (sometimes) I used to bind a stone over my belly because of hunger. One day I sat by the way from where they (the Prophet (ﷺ) and his companions) used to come out. When Abu Bakr رضی اللہ عنہ passed by, I asked him about a Verse from Allah's Book and I asked him only that he might satisfy my hunger, but he passed by and did not do so. Then `Umar رضی اللہ عنہ passed by me and I asked him about a Verse from Allah's Book, and I asked him only that he might satisfy my hunger, but he passed by without doing so. Finally Abu-l-Qasim (the Prophet (ﷺ) ) passed by me and he smiled when he saw me, for he knew what was in my heart and on my face. He said, "O Aba Hirr (Abu Huraira)!" I replied, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said to me, "Follow me." He left and I followed him. Then he entered the house and I asked permission to enter and was admitted. He found milk in a bowl and said, "From where is this milk?" They said, "It has been presented to you by such-and-such man (or by such and such woman)." He said, "O Aba Hirr!" I said, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "Go and call the people of Suffa to me." These people of Suffa were the guests of Islam who had no families, nor money, nor anybody to depend upon, and whenever an object of charity was brought to the Prophet, he would send it to them and would not take anything from it, and whenever any present was given to him, he used to send some for them and take some of it for himself. The order of the Prophet upset me, and I said to myself, "How will this little milk be enough for the people of As- Suffa? though I was more entitled to drink from that milk in order to strengthen myself", but behold! The Prophet (ﷺ) came to order me to give that milk to them. I wondered what will remain of that milk for me, but anyway, I could not but obey Allah and His Apostle so I went to the people of As-Suffa and called them, and they came and asked the Prophet's permission to enter. They were admitted and took their seats in the house. The Prophet (ﷺ) said, "O Aba-Hirr!" I said, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "Take it and give it to them." So I took the bowl (of milk) and started giving it to one man who would drink his fill and return it to me, whereupon I would give it to another man who, in his turn, would drink his fill and return it to me, and I would then offer it to another man who would drink his fill and return it to me. Finally, after the whole group had drunk their fill, I reached the Prophet (ﷺ) who took the bowl and put it on his hand, looked at me and smiled and said. "O Aba Hirr!" I replied, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "There remain you and I." I said, "You have said the truth, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "Sit down and drink." I sat down and drank. He said, "Drink," and I drank. He kept on telling me repeatedly to drink, till I said, "No. by Allah Who sent you with the Truth, I have no space for it (in my stomach)." He said, "Hand it over to me." When I gave him the bowl, he praised Allah and pronounced Allah's Name on it and drank the remaining milk.
مجھ سے ابونعیم نے یہ حدیث آدھی کے قریب بیان کی اور آدھی دوسرے شخص نے ، کہا ہم سے عمر بن ذرنے بیان کیا ، کہا ہم سے مجاہد نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ
” اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں ( زمانہ نبوی میں ) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا ۔ ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے صحابہ نکلتے تھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گزر ے اور میں نے ان سے کتاب اللہ کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا ، میرے پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ چلے گئے اور کچھ نہیں کیا ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے ، میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت پوچھی اور پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہیں کیا ۔ اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور آپ نے جب مجھے دیکھا تو آپ مسکرا دئیے اور آپ میرے دل کی بات سمجھ گئے اور میرے چہرے کو آپ نے تاڑلیا ۔ پھر آپ نے فرمایا اباہر ! میں نے عرض کیا لبیک ، یا رسول اللہ ! فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ اور آپ چلنے لگے ۔ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دیا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر گھر میں تشریف لے گئے ۔ پھر میں نے اجازت چاہی اور مجھے اجازت ملی ۔ جب آپ داخل ہوئے تو ایک پیالے دودھ ملا ۔ دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ کہا فلاں یا فلانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تحفہ میں بھیجا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اباہر ! میں نے عرض کیا لبیک ، یا رسول اللہ ! فرمایا ، اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی میرے پاس بلا لاؤ ۔ کہا کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں ، وہ نہ کسی کے گھر پناہ ڈھونڈھتے ، نہ کسی کے مال میں اور نہ کسی کے پاس ! جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ رکھتے ۔ البتہ جب آپ کے پاس تحفہ آتا تو انہیں بلا بھیجتے اور خود بھی اس میں سے کچھ کھاتے اور انہیں بھی شریک کرتے ۔ چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری اور میں نے سوچا کہ یہ دودھ ہے ہی کتنا کہ سارے صفہ والوں میں تقسیم ہو ، اس کا حقدار میں تھا کہ اسے پی کر کچھ قوت حاصل کرتا ۔ جب صفہ والے آئیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمائیں گے اور میں انہیں اسے دے دوں گا ۔ مجھے تو شاید اس دودھ میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی حکم برداری کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا ۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچائی ، وہ آ گئے اور اجازت چاہی ۔ انہیں اجازت مل گئی پھر وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اباہر ! میں نے عرض کیا لبیک ، یا رسول اللہ ! فرمایا لواور اسے ان سب حاضرین کو دے دو ۔ بیان کیا کہ پھر میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک کو دینے لگا ۔ ایک شخص دودھ پی کر جب سیراب ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر دوسرے شخص کو دیتا وہ بھی سیراب ہو کر پیتا پھر پیالہ مجھ کو واپس کر دیتا اور اسی طرح تیسرا پی کر پھر مجھے پیالہ واپس کر دیتا ۔ اس طرح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا لوگ پی کر سیراب ہو چکے تھے ۔ آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اورمسکرا کر فرمایا ، اباہر ! میں نے عرض کیا ، لبیک ، یا رسول اللہ ! فرمایا ، اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے سچ فرمایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو ۔ میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے رہے کہ اور پیو آخر مجھے کہنا پڑا ، نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، اب بالکل گنجائش نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے دے دو ، میں نے پیالہ آنحضرت صلہی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور بسم اللہ پڑھ کر بچا ہوا خود پی گئے ۔
Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :
I was the first man among the Arabs to throw an arrow for Allah's Cause. We used to fight in Allah's Cause while we had nothing to eat except the leaves of the Hubla and the Sumur trees (desert trees) so that we discharged excrement like that of sheep (i.e. unmixed droppings). Today the (people of the) tribe of Bani Asad teach me the laws of Islam. If so, then I am lost, and all my efforts of that hard time had gone in vain.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ، ان سے قیس نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں سب سے پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلائے ۔ ہم نے اس حال میں وقت گزارا ہے کہ جہاد کر رہے ہیں اور ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز حبلہ کے پتوں اور اس ببول کے سوا کھانے کے لئے نہیں تھی اور بکری کی مینگنیوں کی طرح ہم پاخانہ کیا کرتے تھے ۔ اب یہ بنو اسد کے لوگ مجھ کو اسلام سکھلا کر درست کرنا چاہتے ہیں پھر تو میں بالکل بدنصیب ٹھہرا اور میرا سارا کیا کرایا اکارت گیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The family of Muhammad had never eaten their fill of wheat bread for three successive days since they had migrated to Medina till the death of the Prophet.
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہامجھ سے جریر بن عبدالحمید نے ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کو مدینہ آنے کے بعد کبھی تین دن تک برابر گیہوں کی روٹی کھانے کے لئے نہیں ملی ، یہاں تک کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رو ح قبض ہو گئی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The family of Muhammad did not eat two meals on one day, but one of the two was of dates.
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بغوی نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسحاق ازرق نے بیان کیا ، ان سے مسعر بن کدام نے ، ان سے ہلال نے ، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانہ نے اگر کبھی ایک دن میں دو مرتبہ کھا نا کھایا تو ضرور اس میں ایک وقت صرف کھجوریں ہوتی تھیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The bed mattress of the Prophet (ﷺ) was made of a leather case stuffed with palm fibres.
مجھ سے احمد بن رجاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔
Narrated Qatada:
We used to go to Anas bin Malik رضی اللہ عنہ and see his baker standing (preparing the bread). Anas رضی اللہ عنہ said, "Eat. I have not known that the Prophet (ﷺ) ever saw a thin well-baked loaf of bread till he died, and he never saw a roasted sheep with his eyes."
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، کہاکہ
ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ، ان کا نان بائی وہیں موجو د ہوتا ( جو روٹیاں پکا پکا کر دیتا جاتا ) حضرت انس رضی اللہ عنہ لوگو ں سے کہتے کہ کھاؤ ، میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتلی روٹی کھاتے نہیں دیکھا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے سموچی بھنی ہوئی بکری دیکھی ۔ یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) الف الف مرۃ بعد دکل ذرۃ ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A complete month would pass by during which we would not make a fire (for cooking), and our food used to be only dates and water unless we were given a present of some meat.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، کہامجھ کو میرے والد نے خبر دی اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
ہمارے اوپر ایسا مہینہ بھی گزر جاتا تھا کہ چولھا نہیں جلتا تھا ۔ صرف کھجور اور پانی ہوتا تھا ۔ ہاں اگر کبھی کسی جگہ سے کچھ تھوڑا سا گوشت آ جا تا ۔ تو اس کو بھی کھا لیتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
She said to `Urwa, "O, the son of my sister! We used to see three crescents in two months, and no fire used to be made in the houses of Allah's Messenger (ﷺ) (i.e. nothing used to be cooked)." `Urwa said, "What used to sustain you?" `Aisha رضی اللہ عنہا said, "The two black things i.e. dates and water, except that Allah's Messenger (ﷺ) had neighbors from the Ansar who had some milch she-camels, and they used to give the Prophet (ﷺ) some milk from their house, and he used to make us drink it."
ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، ان سے یزید بن رومان نے بیان کیا ، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ،
انہوں نے عروہ سے کہا ، بیٹے ! ہم دومہینو ں میں تین چاند دیکھ لیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی بیویوں ) کے گھروں میں چولھا نہیں جلتا تھا ۔ میں نے پوچھا پھر آپ لوگ زندہ کس چیز پر رہتی تھیں ؟ بتلا یا کہ صرف دو کالی چیزوں پر ، کھجور اور پانی ۔ ہاں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جن کے یہاں دوہیل اونٹنیاں تھیں وہ اپنے گھروں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دودھ بھیج دیتے اور آپ ہمیں وہی دودھ پلا دیتے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Give food to the family of Muhammad."
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ا ن سے عمارہ نے ، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ۔ ” اے اللہ ! آل محمد کو اتنی روزی دے کہ وہ زندہ رہ سکیں “ ۔
Narrated Masruq:
I asked `Aisha ہ رضی اللہ عنہا "What deed was the most beloved to the Prophet?" She said, "The regular constant one." I said, "At what time did he use to get up at night (for the Tahajjud night prayer)?' She said, "He used to get up on hearing (the crowing of) the cock (the last third of the night).
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد عثمان بن حبلہ نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، ان سے اشعث نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد ابوالشعثاء سلیم بن اسود سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے مسروق سے سنا ، کہاکہ
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ، کون سی عبادت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند تھی ۔ فرمایا کہ جس پر ہمیشگی ہو سکے ۔ کہا کہ میں نے پوچھا آپ رات کو تہجد کے لئے کب اٹھتے تھے ؟ بتلایا کہ جب مرغ کی آواز سن لیتے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The most beloved action to Allah's Messenger (ﷺ) was that whose doer did it continuously and regularly.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل تھا جس کو آدمی ہمیشہ کرتا رہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The deeds of anyone of you will not save you (from the (Hell) Fire)." They said, "Even you (will not be saved by your deeds), O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "No, even I (will not be saved) unless and until Allah bestows His Mercy on me. Therefore, do good deeds properly, sincerely and moderately, and worship Allah in the forenoon and in the afternoon and during a part of the night, and always adopt a middle, moderate, regular course whereby you will reach your target (Paradise).
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکے گا ۔ صحابہ نے عرض کی اور آپ کو بھی نہیں یا رسول اللہ ؟ فرمایا اور مجھے بھی نہیں ، سوا اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے ۔ پس تم کو چاہئے کہ درستی کے ساتھ عمل کرو اور میانہ روی اختیار کرو ۔ صبح اورشام ، اسی طرح رات کو ذرا سا چل لیا کرو اور اعتدال کے ساتھ چلا کرو منزل مقصود کو پہنچ جاؤ گے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do good deeds properly, sincerely and moderately and know that your deeds will not make you enter Paradise, and that the most beloved deed to Allah is the most regular and constant even if it were little."
ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درمیانی چال اختیار کرو اور بلند پروازی نہ کرو اور عمل کرتے رہو ، تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں نہیں داخل کر سکے گا ، میرے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے ۔ خواہ کم ہی کیوں نہ ہو ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) was asked, "What deeds are loved most by Allah?" He said, "The most regular constant deeds even though they may be few." He added, 'Don't take upon yourselves, except the deeds which are within your ability."
مجھ سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سعد بن ابراہیم نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کون سا عمل اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ؟ فرمایا جس پر ہمیشگی کی جائے ، خواہ وہ تھوڑی ہی ہو اور فرمایا نیک کام کرنے میں اتنی ہی تکلیف اٹھاؤ جتنی طاقت ہے ( جو ہمیشہ نبھ سکے ) ۔
Narrated 'Alqama:
I asked `Aisha رضی اللہ عنہا , mother of the believers, "O mother of the believers! How were the deeds of the Prophet? Did he use to do extra deeds of worship on special days?" She said, "No, but his deeds were regular and constant, and who among you is able to do what the Prophet (ﷺ) was able to do (i.e. in worshipping Allah)?"
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریرنے بیان کیا ، ان سے منصور نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیاکہ
میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ام المؤمنین ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر عبادت کیا کرتے تھے کیا آپ نے کچھ خاص دن خاص کر رکھے تھے ؟ بتلایا کہ نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور تم میں کون ہے جو ان عملوں کی طاقت رکھتا ہو جن کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طاقت رکھتے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "Do good deeds properly, sincerely and moderately, and receive good news because one's good deeds will not make him enter Paradise." They asked, "Even you, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "Even I, unless and until Allah bestows His pardon and Mercy on me." I think Abu Nadr, Abu Salamah reported it from Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا . Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا reports that the prophet ﷺ said: Be moderate, and become pleased. Mujahid says: ''سَدِيدًا'' and '' سَدَادًا '' means: wholeheartedly.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن زبرقان نے ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو جو نیک کام کرو ٹھیک طور سے کرو اور حد سے نہ بڑھ جاؤ بلکہ اس کے قریب رہو ( میانہ روی اختیار کرو ) اور خوش رہو اور یاد رکھو کہ کوئی بھی اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جائے گا ۔ صحابہ نے عرض کیا اور آپ بھی نہیں یا رسول اللہ ! فرمایا اور میں بھی نہیں ۔ سوا اس کے کہ اللہ اپنی مغفرت و رحمت کے سایہ میں مجھے ڈھانک لے ۔ مدینی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ موسیٰ بن عقبہ نے یہ حدیث ابوسلمہ سے ابوالنصر کے واسطے سے سنی ہے ۔ ابوسلمہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ۔ اور عفان بن مسلم نے بیان کیا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا درستی کے ساتھ عمل کرو اور خوش رہو ۔ اور مجاہد نے بیان کیا کہ ” سداداًسدیداً “ ہر دو کے معنیٰ صدق کے ہیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Once Allah's Messenger (ﷺ) led us in prayer and then (after finishing it) ascended the pulpit and pointed with his hand towards the Qibla of the mosque and said, "While I was leading you in prayer, both Paradise and Hell were displayed in front of me in the direction of this wall. I had never seen a better thing (than Paradise) and a worse thing (than Hell) as I have seen today, I had never seen a better thing and a worse thing as I have seen today."
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سےہلال بن علی نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن نماز پڑھائی ، پھر منبر پر چڑھے اور اپنے ہاتھ سے مسجد کے قبلہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اس وقت جب میں نے تمہیں نماز پڑھائی تو مجھے اس دیوار کی طرف جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی میں نے ( ساری عمر میں ) آج کی طرح نہ کوئی بہشت کی سی خوبصورت چیز دیکھی نہ دوزخ کی سی ڈراؤنی ۔ میں نے آج کی طرح نہ کوئی بہشت جیسی خوبصورت چیز دیکھی نہ دوزخ جیسی ڈرؤنی چیز ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, Verily Allah created Mercy. The day He created it, He made it into one hundred parts. He withheld with Him ninety-nine parts, and sent its one part to all His creatures. Had the non-believer known of all the Mercy which is in the Hands of Allah, he would not lose hope of entering Paradise, and had the believer known of all the punishment which is present with Allah, he would not consider himself safe from the Hell-Fire."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی مقبری نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رحمت کو جس دن بنایا تو اس کے سوحصے کئے اور اپنے پاس ان میں سے نناوے رکھے ۔ اس کے بعد تمام مخلوق کے لئے صرف ایک حصہ رحمت کا بھیجا ۔ پس اگر کافر کو وہ تمام رحم معلوم ہو جائے جو اللہ کے پاس ہے تو وہ جنت سے ناامید نہ ہو اور اگر مومن کو وہ تمام عذاب معلوم ہو جائیں جو اللہ کے پاس ہیں تو دوزخ سے کبھی بےخوف نہ ہو ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
Some people from the Ansar asked Allah's Messenger (ﷺ) (to give them something) and he gave to everyone of them, who asked him, until all that he had was finished. When everything was finished and he had spent all that was in his hand, he said to them, '"(Know) that if I have any wealth, I will not withhold it from you (to keep for somebody else); And (know) that he who refrains from begging others (or doing prohibited deeds), Allah will make him contented and not in need of others; and he who remains patient, Allah will bestow patience upon him, and he who is satisfied with what he has, Allah will make him self-sufficient. And there is no gift better and vast (you may be given) than patience."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی اور انہیں ابوسعید رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
چند انصار ی صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا اور جس نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیا ، یہاں تک کہ جو مال آپ کے پاس تھا وہ ختم ہو گیا ۔ جب سب کچھ ختم ہو گیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے دیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ جو بھی اچھی چیز میرے پاس ہو گی میں اسے تم سے بچا کے نہیں رکھتا ہوں ۔ بات یہ ہے کہ جو تم میں ( سوال سے ) بچتا رہے گا اللہ بھی اسے غیب سے دے گا اور جو شخص دل پر زور ڈال کر صبر کرے گا اللہ بھی اسے صبر دے گا اور جو بےپرواہ رہنا اختیار کرے گا اللہ بھی اسے بے پرواکر دے گا اور اللہ کی کوئی نعمت صبر سے بڑھ کر تم کو نہیں ملی ۔
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) used to pray so much that his feet used to become edematous or swollen, and when he was asked as to why he prays so much, he would say, "Shall I not be a thankful slave (to Allah)?"
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسعر بن کدام نے بیان کیا ، کہا ہم سے زیادبن علاقہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی نماز پڑھتے کہ آپ کے قدموں میں ورم آ جاتا یا کہا کہ آپ کے قدم پھول جاتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی جاتی کہ آپ تو بخشے ہوئے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ۔