Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
"You people do (bad) deeds (commit sins) which seem in your eyes as tiny (minute) than hair while we used to consider those (very deeds) during the life-time of the Prophet (ﷺ) as destructive sins." Imam Bukhari regards ''الْمُهْلِكَاتِ'' the things which devastate.
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا ، ان سے غیلان نے ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے کہا
تم ایسے ایسے عمل کرتے ہو جو تمہاری نظر میں بال سے زیادہ باریک ہیں ( تم اسے حقیر سمجھتے ہو ، بڑا گناہ نہیں سمجھتے ) اور ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ان کاموں کو ہلاک کر دینے والا سمجھتے تھے ۔ امام بخاری نے کہا کہ حدیث میں جو لفظ موبقات ہے اس کا معنی ہلاک کرنے والے ۔
Narrated Sa`d bin Sahl As-Sa`idi رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) looked at a man fighting against the pagans and he was one of the most competent persons fighting on behalf of the Muslims. The Prophet (ﷺ) said, "Let him who wants to look at a man from the dwellers of the (Hell) Fire, look at this (man)." Another man followed him and kept on following him till he (the fighter) was injured and, seeking to die quickly, he placed the blade tip of his sword between his breasts and leaned over it till it passed through his shoulders (i.e., committed suicide)." The Prophet (ﷺ) added, "A person may do deeds that seem to the people as the deeds of the people of Paradise while in fact, he is from the dwellers of the (Hell) Fire: and similarly a person may do deeds that seem to the people as the deeds of the people of the (Hell) Fire while in fact, he is from the dwellers of Paradise. Verily, the (results of) deeds done, depend upon the last actions."
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابو غسان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو مشرکین سے جنگ میں مصروف تھا ، یہ شخص مسلمانوں کے صاحب مال و دولت لوگوں میں سے تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ کسی جہنمی کو دیکھے تو وہ اس شخص کو دیکھے ۔ اس پر ایک صحابی اس شخص کے پیچھے لگ گئے وہ شخص برابر لڑتا رہا اور آخر زخمی ہو گیا ۔ پھر اس نے چاہا کہ جلدی مر جائے ۔ پس اپنی تلوار ہی کی دھار اپنے سینے کے درمیان رکھ کر اس پر اپنے آپ کو ڈال دیا اور تلوار اس کے شانوں کو چیرتی ہوئی نکل گئی ( اس طرح وہ خودکشی کر کے مر گیا ) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بندہ لوگوں کی نظرمیں اہل جنت کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنم میں سے ہوتا ہے ۔ ایک دوسرا بندہ لوگوں کی نظرمیں اہل جہنم کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور اعمال کا اعتبار تو خاتمہ پر موقوف ہے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is the best of mankind!" The Prophet said, "A man who strives for Allah's Cause with his life and property, and also a man who lives (all alone) in a mountain path among the mountain paths to worship his Lord and save the people from his evil." This tradition was followed by Zubaydi, Sulaiman Kathir and Numan from Bani. And Muammar narrated from Zuhri, Ata or Ubayd Allah, from him Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ , may Allah be pleased with him, and from him the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, and Yunus and Ibn Musafir, and Yahya ibn Sa’eed to Ibn Shihab, may Allah be pleased with him. Described It was narrated that the Prophet (ﷺ) gave it to him and a companion from the Prophet (ﷺ).
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے عطاء بن یزید نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ سوال کیا گیا اے اللہ کے رسول ! محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے اوزاعی نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا یا رسول اللہ ! کون شخص سب سے اچھا ہے ؟ فرمایا کہ وہ شخص جس نے اپنی جان اور مال کے ذریعہ جہاد کیا اور وہ شخص جو کسی پہاڑ کی کھوہ میں ٹھہرا ہوا اپنے رب کی عبادت کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھتا ہے ۔ اس روایت کی متابعت زبیدی ، سلیمان بن کثیر اور نعمان نے زہری سے کی ۔ اور معمر نے زہری سے بیان کیا ، ان سے عطاء یا عبیداللہ نے ، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور یونس وابن مسافر اور یحییٰ بن سعید نے ابن شہاب ( زہری ) سے بیان کیا ، ان سے عطاء نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
I heard from the Prophet (ﷺ) saying, "There will come a time upon the people when the best property of a Muslim will be sheep which he will take to the tops of mountains and to the places of rainfall, run away with his religion (in order to save it) from afflictions."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ماجشون نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب ایک مسلمان کا سب سے بہتر مال بھیڑیں ہوں گی وہ انہیں لے کر پہاڑکی چوٹیوں اور بارش کی جگہوں پر چلا جائے گا ۔ اس دن وہ اپنے دین کو لے کر فسادوں سے ڈر کر وہاں سے بھاگ جائے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When honesty is lost, then wait for the Hour." It was asked, "How will honesty be lost, O Allah's Messenger (ﷺ)?" He said, "When authority is given to those who do not deserve it, then wait for the Hour."
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امانت ضائع کی جائے تو قیامت کا انتظار کرو ۔ پوچھا یا رسول اللہ ! امانت کس طرح ضائع کی جائے گی ؟ فرمایا جب کام نااہل لوگوں کے سپرد کر دئیے جائیں تو قیامت کا انتظار کرو ۔
Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) narrated to us two narrations, one of which I have seen (happening) and I am waiting for the other. He narrated that honesty was preserved in the roots of the hearts of men (in the beginning) and then they learnt it (honesty) from the Qur'an, and then they learnt it from the (Prophet's) Sunna (tradition). He also told us about its disappearance, saying, "A man will go to sleep whereupon honesty will be taken away from his heart, and only its trace will remain, resembling the traces of fire. He then will sleep whereupon the remainder of the honesty will also be taken away (from his heart) and its trace will resemble a blister which is raised over the surface of skin, when an ember touches one's foot; and in fact, this blister does not contain anything. So there will come a day when people will deal in business with each other but there will hardly be any trustworthy persons among them. Then it will be said that in such-and-such a tribe there is such-and-such person who is honest, and a man will be admired for his intelligence, good manners and strength, though indeed he will not have belief equal to a mustard seed in his heart." The narrator added: There came upon me a time when I did not mind dealing with anyone of you, for if he was a Muslim, his religion would prevent him from cheating; and if he was a Christian, his Muslim ruler would prevent him from cheating; but today I cannot deal except with so-and-so and so-and-so. (See Hadith No. 208, Vol. 9)
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہاان سے زید بن وہب نے ، کہا ہم سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوحدیثیں ارشاد فرمائیں ۔ ایک کا ظہور تو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا منتظر ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ امانت لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں اترتی ہے ۔ پھر قرآن شریف سے ۔ پھر حدیث شریف سے اس کی مضبوطی ہوتی جاتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے اس کے اٹھ جانے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ” آدمی ایک نیند سوئے گا اور ( اسی میں ) امانت اس کے دل سے ختم ہوئے گی اور اس بیایمانی کا ہلکا نشان پڑ جائے گا ۔ پھر ایک اور نیند لے گا اب اس کا نشان چھالے کی طرح ہو جائے گاجیسے تو پاؤں پر ایک چنگاری لڑھکائے تو ظاہر میں ایک چھالا پھول آتا ہے اس کو پھولا دیکھتا ہے ، پر اندر کچھ نہیں ہوتا ۔ پھر حال یہ ہو جائے گا کہ صبح اٹھ کر لوگ خریدوفروخت کریں گے اور کوئی شخص امانت دار نہیں ہو گا ۔ کہا جائے گا کہ بنی فلاں میں ایک امانت دار شخص ہے ۔ کسی شخص کے متعلق کہا جائے گا کہ کتنا عقلمند ہے ، کتنا بلند حوصلہ ہے اور کتنا بہادر ہے ۔ حالانکہ اس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ( امانت ) نہیں ہو گا ۔ “ ( حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے ایک ایسا وقت بھی گذارا ہے کہ میں اس کی پروا نہیں کرتا تھا کہ کس سے خریدوفروخت کرتا ہوں ۔ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس کو اسلام ( بیایمانی سے ) روکتا تھا ۔ اگر وہ نصرانی ہوتا تو اس کا مددگار اسے روکتا تھا لیکن اب میں فلاں اور فلاں کے سوا کسی سے خریدوفروخت ہی نہیں کرتا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "People are just like camels, out of one hundred, one can hardly find a single camel suitable to ride."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہامجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں کی مثال اونٹوں کی سی ہے قریب ہے کہ تو ان میں سے ایک کو بھی سواری کے قابل نہ پائے ۔
Narrated Jundub رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, and I did not hear anyone else saying that the prophet ﷺ said thus. So, I came close to him and he was saying that the prophet ﷺ said: Whose performs an action in order to win fame, Allah will make him famous, and whose acts ostentatiously, Allah will make a like show (on the Day of Resurrection) of him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، کہا مجھ سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا ۔ ( دوسری سند ) حضرت امام بخاری نے کہا کہ ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور میں نے آپ کے سوا کسی کو یہ کہتے نہیں سنا کہ ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “ چنانچہ میں ان کے قریب پہنچا تو میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کسی نیک کام کے نتیجہ میں ) جو شہرت کا طالب ہو اللہ تعالیٰ اس کی بدنیتی قیامت کے دن سب کو سنا دے گا ۔ اسی طرح جو کوئی لوگوں کو دکھانے کے لئے نیک کام کرے گا اللہ بھی قیامت کے دن اس کو سب لوگوں کو دکھلا دے گا ۔
Narrated Mu`adh bin Jabal رضی اللہ عنہ :
While I was riding behind the Prophet (ﷺ) as a companion rider and there was nothing between me and him except the back of the saddle, he said, "O Mu`adh!" I replied, "Labbaik O Allah's Messenger (ﷺ)! And Sa`daik!" He proceeded for a while and then said, "O Mu`adh!" I said, "Labbaik and Sa`daik, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He then proceeded for another while and said, "O Mu`adh bin Jabal!" I replied, "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ), and Sa`daik!" He said, "Do you know what is Allah's right on His slaves?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "Allah's right on his slaves is that they should worship Him and not worship anything besides Him." He then proceeded for a while, and again said, "O Mu`adh bin Jabal!" I replied. "Labbaik, O Allah's Messenger (ﷺ), and Sa`daik." He said, "Do you know what is (Allah's) slaves' (people's) right on Allah if they did that?" I replied, "Allah and His Apostle know better." He said, "The right of (Allah's) slaves on Allah is that He should not punish them (if they did that).
ہم سے ہد بہ بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن حارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سوا ری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ۔ سوا کجاوہ کے آخری حصہ کے میرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک ، یا رسول اللہ ! پھر تھوڑی دیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے پھر فرمایا اے معاذ ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ ! پھر تھوڑی دیر مزید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے ۔ پھر فرمایا اے معاذ ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ ! فرمایا ، تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ فرمایا ، اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا اے معاذبن جبل ! میں نے عرض کیا لبیک وسعدیک یا رسول اللہ ! فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ جب بندے یہ کر لیں تو ان کا اللہ پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ فرمایا کہ بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) had a she-camel. Humaid At- taweel has reported from Hadrat Anas رضی اللہ عنہ that The Prophet (ﷺ) had a she-camel called Al-`Adba' and it was too fast to surpass in speed. There came a bedouin riding a camel of his, and that camel outstripped it (i.e. Al-Aqba'). That result was hard on the Muslims who said sorrowfully, "Al- Adba has been outstripped." Allah's Messenger (ﷺ) said, "It is due from Allah that nothing would be raised high in this world except that He lowers or puts it down."
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے زبیر بن معاویہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حمید نے بیان کیا ، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی ( دوسری سند ) حضرت اما م بخاری نے کہا اور مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو فزاری نے اور ا بو خالد احمر نے خبر دی ، انہیں حمید طویل نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام ” عضباء “ تھا ( کوئی جانور دوڑ میں ) اس سے آگے نہیں بڑھ پاتا تھا ۔ پھر ایک اعرابی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے آگے بڑھ گیا ۔ مسلمانوں پر یہ معاملہ بڑا شاق گزرا اور کہنے لگے کہ افسوس عضباء پیچھے رہ گئی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ لازم کر لیا ہے کہ جب دنیا میں وہ کسی چیز کو بڑھاتا ہے تو اسے وہ گھٹاتا بھی ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said, 'I will declare war against him who shows hostility to a pious worshipper of Mine. And the most beloved things with which My slave comes nearer to Me, is what I have enjoined upon him; and My slave keeps on coming closer to Me through performing Nawafil (praying or doing extra deeds besides what is obligatory) till I love him, so I become his sense of hearing with which he hears, and his sense of sight with which he sees, and his hand with which he grips, and his leg with which he walks; and if he asks Me, I will give him, and if he asks My protection (Refuge), I will protect him; (i.e. give him My Refuge) and I do not hesitate to do anything as I hesitate to take the soul of the believer, for he hates death, and I hate to disappoint him."
مجھ سے محمد بن عثمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے ، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے ، ان سے عطاء نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ( یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں ۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے ، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے ۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have been sent and the Hour (is at hand) as these two," showing his two fingers and sticking (separating) them out.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو غسان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں اورقیامت اتنے نزدیک نزدیک بھیجے گئے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوانگلیوں کے اشارہ سے ( اس نزدیکی کو ) بتایا پھر ان دونوں کو پھیلا یا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "I have been sent and the Hour (is at hand) as these two (fingers).
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریرنے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ اور ابوالتیاح نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دونوں ( انگلیوں ) کی طرح ( نزدیک نزدیک ) بھیجے گئے ہیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "I have been sent and the Hour (is at hand) as these two (fingers). Israil has reported likewise from Abu Haseen.
مجھ سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابوبکر بن عیاش نے خبر دی ، انہیں ابو حصین نے ، انہیں ابوصالح نے ، انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور قیامت ان دوکی طرح بھیجے گئے ہیں ۔ آپ کی مراد دو انگلیوں سے تھی ۔ ابوبکر بن عیاش کے ساتھ اس حدیث کو اسرائیل نے بھی ابو حصین سے روایت کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Hour will not be established till the sun rises from the west, and when it rises (from the west) and the people see it, then all of them will believe (in Allah). But that will be the time when 'No good it will do to a soul to believe then. If it believed not before.."' (6.158) The Hour will be established (so suddenly) that two persons spreading a garment between them will not be able to finish their bargain, nor will they be able to fold it up. The Hour will be established while a man is carrying the milk of his she-camel, but cannot drink it; and the Hour will be established when someone is not able to prepare the tank to water his livestock from it; and the Hour will be established when some of you has raised his food to his mouth but cannot eat it."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک سورج مغرب سے نہ نکلے گا ۔ جب سورج مغرب سے نکلے گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے ، یہی وہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو گا یا جس نے ایمان کے بعد عمل خیر نہ کیا ہو ۔ پس قیامت آ جائے گی اور دو آدمی کپڑا درمیان میں ( خریدوفروخت کے لئے ) پھیلائے ہوئے ہوں گے ۔ ابھی خریدوفروخت بھی نہیں ہوئی ہو گی اور نہ انہوں نے اسے لپیٹا ہی ہو گا ( کہ قیامت قائم ہو جائے گی ) اور قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر آ رہا ہو گا اور اسے پی بھی نہیں سکے گا اور قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنا حوض تیار کرارہا ہو گا اور اس کا پانی بھی نہ پی پائے گا ۔ قیامت اس حال میں قائم ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنا لقمہ اپنے منہ کی طرف اٹھائے گا اور اسے کھا نے بھی نہ پائے گا ۔
Narrated 'Ubada bin As-Samit رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Who-ever loves to meet Allah, Allah (too) loves to meet him and who-ever hates to meet Allah, Allah (too) hates to meet him". `Aisha رضی اللہ عنہا , or some of the wives of the Prophet (ﷺ) said, "But we dislike death." He said: It is not like this, but it is meant that when the time of the death of a believer approaches, he receives the good news of Allah's pleasure with him and His blessings upon him, and so at that time nothing is dearer to him than what is in front of him. He therefore loves the meeting with Allah, and Allah (too) loves the meeting with him. But when the time of the death of a disbeliever approaches, he receives the evil news of Allah's torment and His Requital, whereupon nothing is more hateful to him than what is before him. Therefore, he hates the meeting with Allah, and Allah too, hates the meeting with him." Abu Dawood and Shobah has briefly quoted it from Amr: Hadrat Aishah رضی اللہ عنہا has reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے ، کہا ہم سے قتادہ نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ۔ اور عا ئشہ رضی اللہ عنہا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے عرض کیا کہ مرنا تو ہم بھی نہیں پسند کرتے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ملنے سے موت مراد نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ ایماندار آدمی کو جب موت آتی ہے جو اسے اللہ کی خوشنودی اور اس کے یہاں اس کی عزت کی خوشخبری دی جاتی ہے ۔ اس وقت مومن کو کوئی چیز اس سے زیادہ عزیز نہیں ہوتی جو اس کے آگے ( اللہ سے ملاقات اور اس کی رضا اور جنت کے حصول کے لئے ) ہوتی ہے ، اس لئے وہ اللہ سے ملاقات کا خواہشمند ہو جا تا ہے اور اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جب کا فر کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی بشارت دی جاتی ہے ، اس وقت کوئی چیز اس کے دل میں اس سے زیادہ ناگوار نہیں ہوتی جو اس کے آگے ہوتی ہے ۔ وہ اللہ سے جاملنے کو ناپسند کرنے لگتا ہے ، پس اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ ابو دواؤد طیالسی اور عمرو بن مرزوق نے اس حدیث کو شعبہ سے مختصراً روایت کیا ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے زرارہ بن ابی اوفی نے ، ان سے سعد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever loves the meeting with Allah, Allah too, loves the meeting with him; and whoever hates the meeting with Allah, Allah too, hates the meeting with him."
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے ، ان سے یزید بن عبداللہ نے ، ان سے ابوبردہ نے ، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسندکرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔
Narrated `Aisha (the wife of the Prophet) رضی اللہ عنہا :
When Allah's Messenger (ﷺ) was in good health, he used to say, "No prophet's soul is ever captured unless he is shown his place in Paradise and given the option (to die or survive)." So when the death of the Prophet (ﷺ) approached and his head was on my thigh, he became unconscious for a while and then he came to his senses and fixed his eyes on the ceiling and said, "O Allah (with) the highest companions." (See Qur'an 4:69). I said' "Hence he is not going to choose us." And I came to know that it was the application of the narration which he (the Prophet) used to narrate to us. And that was the last statement of the Prophet (before his death) i.e., "O Allah! With the highest companions." (See Qur'an 4:69)
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل بن خالد نے ، ان سے ابن شہاب نے ، کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے چند علم والوں کے سامنے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ خاصے تندرست تھے فرمایا تھا کسی نبی کی اس وقت تک روح قبض نہیں کی جاتی جب تک جنت میں اس کے رہنے کی جگہ اسے دکھا نہ دی جاتی ہو اور پھر اسے ( دنیا یا آخرت کے لئے ) اختیار دیا جاتا ہے ۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک میری ران پر تھا تو آپ پر تھوڑی دیر کے لئے غشی چھاگئی ، پھر جب آپ کو ہوش آیا تو آپ چھت کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھنے لگے ۔ پھر فرمایا ” اللہم الرفیق الاعلی “ میں نے کہا کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ترجیح نہیں دے سکتے اور میں سمجھ گئی کہ یہ وہی حدیث ہے جو حضور نے ایک مرتبہ ارشاد فرمائی تھی ۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے اپنی زبان مبارک سے اد ا فرمایا یعنی یہ ارشاد کہ ” اللہم الرفیق الاعلی “ یعنی یا اللہ ! مجھ کو بلند رفیقوں کا ساتھ پسند ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
There was a leather or wood container full of water in front of Allah's Messenger (ﷺ) (at the time of his death). He would put his hand into the water and rub his face with it, saying, "None has the right to be worshipped but Allah! No doubt, death has its stupors." Then he raised his hand and started saying, "(O Allah!) with the highest companions." (See Qur'an 4:69) (and kept on saying it) till he expired and his hand dropped."
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا ، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی ، انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے خبر دی کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی وفات کے وقت ) آپ کے سامنے ایک بڑا پانی کا پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں پانی تھا ۔ یہ عمر کو شبہ ہوا کہ ہانڈی کا کونڈا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس برتن میں ڈالتے اور پھر اس ہاتھ کو اپنے چہرہ پر ملتے اور فرماتے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، بلاشبہ موت میں تکلیف ہوتی ہے “ پھر آپ اپنا ہاتھ اٹھا کر فرمانے لگے ۔ ” فی الرفیق الاعلی “ یہاں تک کہ آپ کی روح مبارک قبض ہو گئی اور آپ کا ہاتھ جھک گیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Some rough bedouins used to visit the Prophet (ﷺ) and ask him, "When will the Hour be?" He would look at the youngest of all of them and say, "If this should live till he is very old, your Hour (the death of the people addressed) will take place." Hisham said that he meant (by the Hour), their death. Hisham says that it (Hour) means their death.
مجھ سے صدقہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ، انہیں ہشام نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
چند بدوی جو ننگے پاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے اور آپ سے دریافت کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کم عمر والے کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھا پے سے پہلے تم پر تمہاری قیامت آ جائے گی ۔ ہشام نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ( قیامت ) سے ان کی موت تھی ۔