Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Some people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall we see our Lord on the Day of Resurrection?" He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the sun when it is not hidden by clouds?" They replied, "No, Allah's Messenger (ﷺ)." He said, "Do you crowd and squeeze each other on looking at the moon when it is full and not hidden by clouds?" They replied, No, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "So you will see Him (your Lord) on the Day of Resurrection similarly Allah will gather all the people and say, 'Whoever used to worship anything should follow that thing. 'So, he who used to worship the sun, will follow it, and he who used to worship the moon will follow it, and he who used to worship false deities will follow them; and then only this nation (i.e., Muslims) will remain, including their hypocrites. Allah will come to them in a shape other than they know and will say, 'I am your Lord.' They will say, 'We seek refuge with Allah from you. This is our place; (we will not follow you) till our Lord comes to us, and when our Lord comes to us, we will recognize Him. Then Allah will come to then in a shape they know and will say, "I am your Lord.' They will say, '(No doubt) You are our Lord,' and they will follow Him. Then a bridge will be laid over the (Hell) Fire." Allah's Messenger (ﷺ) added, "I will be the first to cross it. And the invocation of the Apostles on that Day, will be 'Allahumma Sallim, Sallim (O Allah, save us, save us!),' and over that bridge there will be hooks Similar to the thorns of As Sa'dan (a thorny tree). Didn't you see the thorns of As-Sa'dan?" The companions said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)." He added, "So the hooks over that bridge will be like the thorns of As-Sa-dan except that their greatness in size is only known to Allah. These hooks will snatch the people according to their deeds. Some people will be ruined because of their evil deeds, and some will be cut into pieces and fall down in Hell, but will be saved afterwards, when Allah has finished the judgments among His slaves, and intends to take out of the Fire whoever He wishes to take out from among those who used to testify that none had the right to be worshipped but Allah. We will order the angels to take them out and the angels will know them by the mark of the traces of prostration (on their foreheads) for Allah banned the f ire to consume the traces of prostration on the body of Adam's son. So they will take them out, and by then they would have burnt (as coal), and then water, called Ma'ul Hayat (water of life) will be poured on them, and they will spring out like a seed springs out on the bank of a rainwater stream, and there will remain one man who will be facing the (Hell) Fire and will say, 'O Lord! It's (Hell's) vapor has Poisoned and smoked me and its flame has burnt me; please turn my face away from the Fire.' He will keep on invoking Allah till Allah says, 'Perhaps, if I give you what you want), you will ask for another thing?' The man will say, 'No, by Your Power, I will not ask You for anything else.' Then Allah will turn his face away from the Fire. The man will say after that, 'O Lord, bring me near the gate of Paradise.' Allah will say (to him), 'Didn't you promise not to ask for anything else? Woe to you, O son of Adam ! How treacherous you are!' The man will keep on invoking Allah till Allah will say, 'But if I give you that, you may ask me for something else.' The man will say, 'No, by Your Power. I will not ask for anything else.' He will give Allah his covenant and promise not to ask for anything else after that. So Allah will bring him near to the gate of Paradise, and when he sees what is in it, he will remain silent as long as Allah will, and then he will say, 'O Lord! Let me enter Paradise.' Allah will say, 'Didn't you promise that you would not ask Me for anything other than that? Woe to you, O son of Adam ! How treacherous you are!' On that, the man will say, 'O Lord! Do not make me the most wretched of Your creation,' and will keep on invoking Allah till Allah will smile and when Allah will smile because of him, then He will allow him to enter Paradise, and when he will enter Paradise, he will be addressed, 'Wish from so-and-so.' He will wish till all his wishes will be fulfilled, then Allah will say, All this (i.e. what you have wished for) and as much again therewith are for you.' " Abu Huraira رضی اللہ عنہ added: That man will be the last of the people of Paradise to enter (Paradise).
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا مجھ کو سعید اور عطا بن یزید نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے ، کہا ہم کو معمر نے ، انہیں زہری نے ، انہیں عطا بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھ سکیں گے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا سورج کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے جبکہ اس پر کوئی بادل ، ابر وغیرہ نہ ہو ۔ صحابہ نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کیا جب کوئی بادل نہ ہو تو تمہیں چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا ، نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا کہ پھر تم اللہ تعالیٰ کو اسی طرح قیامت کے دن دیکھو گے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور کہے گا کہ تم میں سے جو شخص جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اسی کے پیچھے لگ جائے ، چنانچہ جو لوگ سورج کی پرستش کیا کرتے تھے وہ اس کے پیچھے لگ جائیں گے اور جو لوگ چاند کی پوجا کرتے تھے وہ ان کے پیچھے ہو لیں گے ۔ جو لوگ بتوں کی پرستش کرتے تھے وہ ان کے پیچھے لگ جائیں گے اور آخر میں یہ امت باقی رہ جائے گی اور اس میں منافقین کی جماعت بھی ہو گی ، اس وقت اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے نہ ہوں گے اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں ۔ لوگ کہیں گے تجھ سے اللہ کی پناہ ۔ ہم اپنی جگہ پر اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ ہمارا پروردگار ہمارے سامنے نہ آئے ۔ جب ہمارا رب ہمارے پاس آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے ( کیونکہ وہ حشر میں ایک بار اس کو پہلے دیکھ چکے ہوں گے ) پھر حق تعالیٰ اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے ہوں گے اور ان سے کہا جائے گا ( آؤ میرے ساتھ ہولو ) میں تمہارا رب ہوں ! لوگ کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے ، پھر اسی کے پیچھے ہو جائیں گے اور جہنم پر پل بنا دیا جائے گا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اس پل کو پار کروں گا اور اس دن رسولوں کی دعا یہ ہو گی کہ اے اللہ ! مجھ کو سلامت رکھیو ۔ اے اللہ ! مجھ کو سلامت رکھیو اور وہاں سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے ۔ تم نے سعدان کے کانٹے دیکھے ہیں ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ہاں دیکھے ہیں یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پھر سعدان کے کانٹوں کی طرح ہوں گے البتہ اس کی لمبائی چوڑائی اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے مطابق اچک لیں گے اور اس طرح ان میں سے بعض تو اپنے عمل کی وجہ سے ہلاک ہو جائیں گے اور بعض کا عمل رائی کے دانے کے برابر ہو گا ، پھر وہ نجات پاجائے گا ۔ آخر جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے سے فارغ ہو جائے گا اور جہنم سے انہیں نکالنا چاہے گا جنہیں نکالنے کی اس کی مشیت ہو گی ۔ یعنی وہ جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کی گواہی دی ہو گی اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ وہ ایسے لوگوں کو جہنم سے نکالیں ۔ فرشتے انہیں سجدوں کے نشانات سے پہچان لیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ ابن آدم کے جسم میں سجدوں کے نشان کو کھائے ۔ چنانچہ فرشتے ان لوگوں کو نکالیں گے ۔ یہ جل کر کوئلے ہو چکے ہوں گے پھر ان پر پانی چھڑکا جائے گا جسے ماء الحیاۃ ( زندگی بخشنے والا پانی ) کہتے ہیں ۔ اس وقت وہ اس طرح تروتازہ ہو جائے گے جیسے سیلاب کے بعد زرخیز زمین میں دانہ اگ آتا ہے ۔ ایک ایسا شخص باقی رہ جائے گا جس کے چہرہ جہنم کی طرف ہو گا اور وہ کہے گا اے میرے رب ! اس کی بدبوں نے مجھے پریشان کر دیا ہے اور اس کی لپٹ نے مجھے جھلسا دیا ہے اور اس کی تیزی نے مجھے جلا ڈالا ہے ، ذرا میرا منہ آگ کی طرف سے دوسری طرف پھیردے ۔ وہ اسی طرح اللہ سے دعا کرتا رہے گا ۔ آخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں تیرا یہ مطالبہ پورا کر دوں تو کہیں تو کوئی دوسری چیز مانگنی شروع نہ کر دے ۔ وہ شخص عرض کرے گا نہیں ، تیری عزت کی قسم ! میں اس کے سوا کوئی دوسری چیز نہیں مانگوں گا ۔ چنانچہ اس کا چہرہ جہنم کی طرف سے دوسری طرف پھیر دیا جائے گا ۔ اب اس کے بعد وہ کہے گا ۔ اے میرے رب ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دیجئیے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے ابھی یقین نہیں دلایا تھا کہ اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگے گا ۔ افسوس ! اے ابن آدم ! تو بہت زیادہ وعدہ خلاف ہے ۔ پھر وہ برابر اسی طرح دعا کرتا رہے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اگر میں تیری یہ دعا قبول کر لوں تو تو پھر اس کے علاوہ کچھ اور چیز مانگنے لگے گا ۔ وہ شخص کہے گا نہیں ، تیری عزت کی قسم ! میں اس کے سوا اور کوئی چیز تجھ سے نہیں مانگوں گا اور وہ اللہ سے عہدوپیمان کرے گا کہ اس کے سوا اب کوئی اور چیز نہیں مانگے گا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کے دروازے کے قریب کر دے گا ۔ جب وہ جنت کے اندر کی نعمتوں کو دیکھے گا تو جتنی دیر تک اللہ تعالیٰ چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا ، پھر کہے گا اے میرے رب ! مجھے جنت میں داخل کر دے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ کیا تو نے یہ یقین نہیں دلایا تھا کہ اب تو اس کے سوا کوئی چیز نہیں مانگے گا ۔ اے ابن آدم ! افسوس ، تو کتنا وعدہ خلاف ہے ۔ وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب ! مجھے اپنی مخلوق کا سب سے بدبخت بندہ نہ بنا ۔ وہ برابر دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس دے گا ۔ جب اللہ ہنس دے گا تو اس شخص کو جنت میں داخل ہونے کی اجازت مل جائے گی ۔ جب وہ اندر چلا جائے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کر چنانچہ وہ اس کی خواہش کرے گا ۔ پھر اس سے کہا جائے گا کہ فلاں چیز کی خواہش کرو ، چنانچہ وہ پھر خواہش کرے گا یہاں تک کہ اس کی خواہشات ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ تیری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی زیادہ نعمتیں اور دی جاتی ہیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی سند سے کہا کہ یہ شخص جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا ہو گا ۔
Narrated 'Ata (while Abu Huraira was narrating (see previous hadith)):
Abu Sa`id رضی اللہ عنہ was sitting in the company of Abu Huraira رضی اللہ عنہ and he did not deny anything of his narration till he reached his saying: "All this and as much again therewith are for you." Then Abu Sa`id رضی اللہ عنہ said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'This is for you and ten times as much.' " Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "In my memory it is 'as much again therewith.' "
عطاء نے بیان کیا کہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور انہوں نے ان کی کسی بات پر اعتراض نہیں کیا لیکن جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث کے اس ٹکڑے تک پہنچے کہ تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اتنی ہی اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” تمہاری یہ ساری خواہشات پوری کی جاتی ہیں اور اس سے دس گنا اور زیادہ نعمتیں دی جاتی ہیں ۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں میں نے یوں ہی سنا ہے ۔ یہ سب چیزیں اور اتنی ہی اور ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "I am your predecessor at the Lake-Fount."
مجھ سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نےاور
ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تم سے پہلے ہی حوض پر موجود رہوں گا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "I am your predecessor at the Lake-Fount, and some of you will be brought in front of me till I will see them and then they will be taken away from me and I will say, 'O Lord, my companions!' It will be said, 'You do not know what they did after you had left.' Similarly, Asim has reported from Abu Wail. Hadrat Hudhaifah رضی اللہ عنہ has reported it from the prophet ﷺ.
( دوسری سند ) اور مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے مغیرہ نے ، کہا کہ میں نے ابووائل سے سنا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں اپنے حوض پر تم سے پہلے ہی موجود رہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میرے سامنے لائے جائیں گے پھر انہیں میرے سامنے سے ہٹا دیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ اے میرے رب ! یہ میرے ساتھی ہیں لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں ۔ اس روایت کی متابعت عاصم نے ابووائل سے کی ، ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "There will be a tank (Lake-Fount) in front of you as large as the distance between Jarba and Adhruh (two towns in Sham).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے ، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تمہارے سامنے ہی میرا حوض ہو گا وہ اتنا بڑا ہے جتنا جرباء اور اذرحاء کے درمیان فاصلہ ہے “ ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہ :
The word 'Al-Kauthar' means the abundant good which Allah gave to him (the Prophet (ﷺ) Muhammad). Abu Bishr said: I said to Sa`id, "Some people claim that it (Al-Kauthar) is a river in Paradise." Sa`id replied, "The river which is in Paradise is one item of that good which Allah has bestowed upon him (Muhammad).
مجھ سے عمرو بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر اور عطاء بن سائب نے خبر دی ، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
کوثر سے مراد بہت زیادہ بھلائی ( خیرکثیر ) ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کودی ہے ۔ ابوبشر نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے تو انہوں نے کہا کہ جو نہر جنت میں ہے وہ بھی اس خیر ( بھلائی ) کا ایک حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی ہے ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "My Lake-Fount is (so large that it takes) a month's journey to cross it. Its water is whiter than milk, and its smell is nicer than musk (a kind of Perfume), and its drinking cups are (as numerous) as the (number of) stars of the sky; and whoever drinks from it, will never be thirsty."
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا ، کہا ہم کو نافع بن عمر نے خبر دی ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میرا حوض ایک مہینے کی مسافت کے برابر ہو گا ۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہو گی اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے ۔ جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ پھر کبھی بھی ( میدان محشرمیں ) پیاسا نہ ہو گا “ ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The width of my Lake-Fount is equal to the distance between Aila (a town in Sham) and Sana' (the capital of Yemen) and it has as many (numerous) jugs as the number of stars of the sky."
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میرے حوض کی لمبائی اتنی ہو گی جتنی ایلہ اوریمن اور شہر صنعاء کے درمیان کی لمبائی ہے ۔ اور وہاں اتنی بڑی تعداد میں پیالے ہوں گے جتنی آسمان کے ستاروں کی تعداد ہے “ ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said: "While I was walking in Paradise (on the night of Mi'raj), I saw a river, on the two banks of which there were tents made of hollow pearls. I asked, "What is this, O Gabriel?' He said, 'That is the Kauthar which Your Lord has given to you.' Behold! Its scent or its mud was sharp smelling musk!" (The sub-narrator, Hudba is in doubt as to the correct expression. )
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسری سند ) اور ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں جنت میں چل رہا تھا کہ میں ایک نہر پر پہنچا اس کے دونوں کناروں پر خولدار موتیوں کے گنبد بنے ہوئے تھے ۔ میں نے پوچھا جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا یہ کوثر ہے جو آپ کے رب نے آپ کو دیا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ اس کی خوشبو یا مٹی تیز مشک جیسی تھی ۔ راوی ہدبہ کو شک تھا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Some of my companions will come to me at my Lake Fount, and after I recognize them, they will then be taken away from me, whereupon I will say, 'My companions!' Then it will be said, 'You do not know what they innovated (new things) in the religion after you."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ، ان سے انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میرے کچھ ساتھی حوض پر میرے سامنے لائے جائیں گے اور میں انہیں پہچان لوں گا لیکن پھر وہ میرے سامنے سے ہٹادئیے جائیں گے ۔ میں اس پر کہوں گا کہ یہ تو میرے ساتھی ہیں ۔ لیکن مجھ سے کہا جائے گا کہ آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں “ ۔
Narrated Abu Hazim from Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "I am your predecessor (forerunner) at the Lake-Fount, and whoever will pass by there, he will drink from it and whoever will drink from it, he will never be thirsty. There will come to me some people whom I will recognize, and they will recognize me, but a barrier will be placed between me and them."
ہم سے سعید بن ابومریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن مطرف نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے ، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں اپنے حوض کوثر پر تم سے پہلے موجود رہوں گا ۔ جو شخص بھی میری طرف سے گزرے گا وہ اس کا پانی پئے گا اور جو اس کا پانی پئے گا وہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور وہاں کچھ ایسے لوگ بھی آئیں گے جنہیں میں پہچانوں گا اور وہ مجھے پہچانیں گےلیکن میرے اور ان کے درمیان ایک رکاوٹ حائل ہو جائے گی۔
Narrated An-Nu`man bin Abi `Aiyash:
On hearing me, said. "Did you hear this from Sahl?" I said, "Yes." He said, " I bear witness that I heard Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ saying the same, adding that the Prophet (ﷺ) said: 'I will say: They are of me (i.e. my followers). It will be said, 'You do not know what they innovated (new things) in the religion after you left'. I will say, 'Far removed, far removed (from mercy), those who changed (their religion) after me." Hadrat Ibn-e-Abbas says: ''سُحْقًا '' means: distance. ''سَحِيقٌ'' means faraway. ''أَسْحَقَهُ'' means: I kept him at a distance.
ابوحازم نے بیان کیا کہ یہ حدیث مجھ سے نعمان بن ابی عیاش نے سنی اور کہا کہ
میری بات سن کر کہا۔ "کیا تم نے سہل سے یہ سنا ہے؟" میں نے کہا ہاں۔" انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی اور وہ اس حدیث میں کچھ زیادتی کے ساتھ بیان کرتے تھے ۔ ( یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ ) میں کہوں گا کہ یہ تو مجھ میں سے ہیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جائے گا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں ۔ اس پر میں کہوں گا کہ دور ہو وہ شخص جس نے میرے بعد دین میں تبدیلی کر لی تھی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سحقاً بمعنی بعداً ہے ۔ سحیق یعنی بعید ، اسحقہ یعنی ابعدہ ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said"On the Day of Resurrection a group of companions will come to me, but will be driven away from the Lake-Fount, and I will say, 'O Lord (those are) my companions!' It will be said, 'You have no knowledge as to what they innovated after you left; they turned apostate as renegades (reverted from Islam).
احمد بن شبیب بن سعید حبطی نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابنشہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قیامت کے دن میرے صحابہ میں سے ایک جماعت مجھ پر پیش کی جائے گی ۔ پھر وہ حوض سے دور کردےئے جائیں گے ۔ میں عرض کروں گا اے میرے رب ! یہ تو میرے صحابہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں گھڑلی تھیں ۔ یہ لوگ ( دین سے ) الٹے قدموں واپس لوٹ گئے تھے ۔
Narrated Ibn Al-Musaiyab:
The companions of the Prophet (ﷺ) said, "Some men from my companions will come to my Lake-Fount and they will be driven away from it, and I will say, 'O Lord, my companions!' It will be said, 'You have no knowledge of what they innovated after you left: they turned apostate as renegades (reverted from Islam).
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں ابن مسیب نے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے روایت کرتے تھے کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، حوض پر میرے صحابہ کی ایک جماعت آئے گی ۔ پھر انہیں اس سے دور کر دیا جائے گا ۔ میں عرض کروں گا میرے رب ! یہ تو میرے صحابہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی چیزیں ایجاد کر لی تھیں ، یہ الٹے پاؤس ( اسلام سے ) واپس لوٹ گئے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "While I was sleeping, a group (of my followers were brought close to me), and when I recognized them, a man (an angel) came out from amongst (us) me and them, he said (to them), 'Come along.' I asked, 'Where?' He said, 'To the (Hell) Fire, by Allah' I asked, 'what is wrong with them' He said, 'They turned apostate as renegades after you left.' Then behold! (Another) group (of my followers) were brought close to me, and when I recognized them, a man (an angel) came out from (me and them) he said (to them); Come along.' I asked, "Where?' He said, 'To the (Hell) Fire, by Allah.' I asked, What is wrong with them?' He said, 'They turned apostate as renegades after you left. So I did not see anyone of them escaping except a few who were like camels without a shepherd."
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے ، کہا کہ مجھ سے ہلال نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم نے فرمایا میں ( حوض پر ) کھڑا ہوں گا کہ ایک جماعت میرے سامنے آئے گی اور جب میں انہیں پہچان لوں گا تو ایک شخص ( فرشتہ ) میرے اور ان کے درمیان سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ ۔ میں کہوں گا کہ کدھر ؟ وہ کہے گا کہ واللہ جہنم کی طرف ۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں ؟ وہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں ( دین سے ) واپس لوٹ گئے تھے ۔ پھر ایک اور گروہ میرے سامنے آئے گا اور جب میں انہیں بھی پہچان لوں گا تو ایک شخص ( فرشتہ ) میرے اور ان کے درمیان میں سے نکلے گا اور ان سے کہے گا کہ ادھر آؤ ۔ میں پوچھوں گا کہ کہاں ؟ تو وہ کہے گا ، اللہ کی قسم جہنم کی طرف ۔ میں کہوں گا کہ ان کے حالات کیا ہیں ؟ فرشتہ کہے گا کہ یہ لوگ آپ کے بعد الٹے پاؤں واپس لوٹ گئے تھے ۔ پس میں نے ان میں سے کسی کو بھاگتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے چند کے جو چرواہے کے بغیر اونٹوں کی طرح تھے۔"
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Between my house and my pulpit there is a garden from amongst the gardens of Paradise, and my pulpit is over my Lake-Fount."
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے حفص بن عاصم نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان کا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے ۔
Narrated Jundab رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet, saying, "I am your predecessor at the Lake-Fount. (Al-Kauthar) .
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، ان سے عبدالملک نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جندب رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حوض پر تم سے پہلے موجود ہوں گا ۔
Narrated `Uqba bin 'Amir رضی اللہ عنہ :
Once the Prophet (ﷺ) went out and offered the funeral prayers for the martyrs of Uhud, and then went to the pulpit and said, "I am a predecessor for you and I am a witness for you: and by Allah, I am looking at my Fount just now, and the keys of the treasures of the earth (or the keys of the earth) have been given to me: and by Allah, I am not afraid that you will worship others besides Allah after me, but I am afraid that you will strive and struggle against each other over these treasures of the world."
ہم سے عمروبن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یزید نے ، ان سے ابوالخیر مرثد بن عبداللہ نے اور ان سے عقبہ بن عامرص رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور شہداء احد کے لیے اس طرح دعا کی جس طرح میت کے لیے جنازہ میں دعا کی جاتی ہے ۔ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا لوگو ! میں تم سے آگے جاؤں گا اور تم پر گواہ رہوں گا اور میں واللہ اپنے حوص کی طرف اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا فرمایا کہ زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں ۔ خدا کی قسم میں تمہارے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتاکہ تم میرے بعد شرک کرو گے ، البتہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا کے لالچ میں پڑکر ایک دوسرے سے حسد کرنے لگوگے ۔
Narrated Haritha bin Wahb رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) mentioning the Lake-Fount (Al-Kauthar), saying, "(The width of the Lake-Fount) is equal to the distance between Medina and Sana' (capital of Yemen)."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے معبد بن خالد نے بیان کیا ، انہیں نے حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حوض کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ( وہ اتنا بڑا ہے ) جتنی مدینہ اور صنعاء کے درمیان دوری ہے ۔
Narrated Haritha رضی اللہ عنہ :
He heard the Prophet saying that his Lake-Fount would be as large as the distance between Sana' and Medina. Al- Mustaurid said to Haritha, "Didn't you hear him talking about the vessels?" He said, "No." Al- Mustaurid said, "The vessels are seen in it as (numberless as) the stars."
اور ابن ابوعدی محمد بن ابراہیم نے بھی شعبہ سے روایت کیا ، ان سے معبد بن خالد نے اور ان سے حارثہ رضی اللہ عنہ نے کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ کا حوض اتنا لمبا ہو گا جتنی صنعاء اور مدینہ کے درمیان دوری ہے ۔ اس پر حضرت مستورد نے کہا کیا آپ نے برتنوں والی روایت نہیں سنی ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ مستورد نے کہا کہ کہ اس میں برتن ( پینے کے ) اس طرح نظر آئیں گے جس طرح آسمان میں ستارے نظرآتے ہیں ۔