Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The people will sweat so profusely on the Day of Resurrection that their sweat will sink seventy cubits deep into the earth, and it will rise up till it reaches the people's mouths and ears."
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ، ان سے ثوربن زید نے بیان کیا ، ان سے ابوالغیث نے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قیامت کے دن لوگ پسینے میں شرابور ہو جائیں گے اور حالت یہ ہو جائے گی کہ تم میں سے ہر کسی کا پسینہ زمین پر ستر ہاتھ تک پھیل جائے گا اور منہ تک پہنچ کر کانوں کو چھونے لگے گا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The cases which will be decided first (on the Day of Resurrection) will be the cases of blood-shedding. "
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا مجھ سے شقیق نے بیان کیا ، کہا میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ لوگوں کے درمیان ہو گا وہ ناحق خون کے بدلہ کا ہو گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever has wronged his brother, should ask for his pardon (before his death), as (in the Hereafter) there will be neither a Dinar nor a Dirham. (He should secure pardon in this life) before some of his good deeds are taken and paid to his brother, or, if he has done no good deeds, some of the bad deeds of his brother are taken to be loaded on him (in the Hereafter).
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کیا ہو تو اسے چاہئے کہ اس سے ( اس دنیا میں ) معاف کرا لے ۔ اس لیے کہ آخرت میں روپے پیسے نہیں ہوں گے ۔ اس سے پہلے ( معاف کرا لے ) کہ اس کے بھائی کے لیے اس کی نیکیوں میں سے حق دلایا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس ( مظلوم ) بھائی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The believers, after being saved from the (Hell) Fire, will be stopped at a bridge between Paradise and Hell and mutual retaliation will be established among them regarding wrongs they have committed in the world against one another. After they are cleansed and purified (through the retaliation), they will be admitted into Paradise; and by Him in Whose Hand Muhammad's soul is, everyone of them will know his dwelling in Paradise better than he knew his dwelling in this world."
ہم سے صلت بن محمدنے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا اس آیت کے بارے میں و نزعنا مافی صدورہم من غل ( سورۃ الاعراف ) کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے ابوالمتوکل ناجی نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مومنین جہنم سے چھٹکارا پا جائیں گے لیکن دوزخ و جنت کے درمیان ایک پل پر انہیں روک لیا جائے گا اور پھر ایک کے دوسرے پر ان مظالم کا بدلہ لیا جائے گا جو دنیا میں ان کے درمیان آپس میں ہوئے تھے اور جب کانٹ چھانٹ کر لی جائے گی اور صفائی ہو جائے گی تب انہیں جنت میں داخل ہونے کی اجازت ملے گی ۔ پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ! جنتیوں میں سے ہر کوئی جنت میں اپنے گھر کو دنیا کے اپنے گھر کے مقابلہ میں زیادہ بہتر طریقے پر پہچان لے گا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
"The Prophet (ﷺ) said, 'Anybody whose account (record) is questioned will surely be punished.' I said, 'Doesn't Allah say: 'He surely will receive an easy reckoning?' (84.8) The Prophet (ﷺ) replied. 'This means only the presentation of the account."' Narrated `Aisha: The Prophet (ﷺ) said (as above, 543).
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے عثمان بن اسود نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے ، ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو ضرور عذاب ہو گا ۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے کہ ” پھر عنقریب ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد صرف پیشی ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ), said, "None will be called to account on the Day of Resurrection, but will be ruined." I said "O Allah's Messenger (ﷺ)! Hasn't Allah said: 'Then as for him who will be given his record in his right hand, he surely will receive an easy reckoning? (84.7-8) -- Allah's Messenger (ﷺ) said, "That (Verse) means only the presentation of the accounts, but anybody whose account (record) is questioned on the Day of Resurrection, will surely be punished."
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن ابوصغیرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس شخص سے بھی قیامت کے دن حساب لیاگیا پس وہ ہلاک ہوا ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے خود نہیں فرمایا ہے کہ ” پس جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو عنقریب اس سے ایک آسان حساب لیا جائے گا “ ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو صرف پیشی ہو گی ۔ ( اللہ رب العزت کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ) قیامت کے دن جس کے بھی حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو عذاب یقینی ہو گا ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Prophet used to say, "A disbeliever will be brought on the Day of Resurrection and will be asked. "Suppose you had as much gold as to fill the earth, would you offer it to ransom yourself?" He will reply, "Yes." Then it will be said to him, "You were asked for something easier than that (to join none in worship with Allah (i.e. to accept Islam, but you refused).
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسری سند ) اور مجھ سے محمد بن معمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ قیامت کے دن کافر کو لایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا کیاخیال ہے کہ اگر زمین بھر کر تمہارے پاس سونا ہو تو کیا سب کو ( اپنی نجات کے لیے ) فدیہ میں دے دو گے ؟ وہ کہے گا کہ ہاں ، تو اس وقت اس سے کہا جائے گا کہ تم سے اس سے بہت آسان چیز کا ( دنیا میں ) مطالبہ کیا گیا تھا ۔
Narrated `Adi bin Hatim رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "There will be none among you but will be talked to by Allah on the Day of Resurrection, without there being an interpreter between him and Him (Allah) . He will look and see nothing ahead of him, and then he will look (again for the second time) in front of him, and the (Hell) Fire will confront him. So, whoever among you can save himself from the Fire, should do so even with one half of a date (to give in charity).
مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے خیثمہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں ہر ہر فرد سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس طرح کلام کرے گا کہ اللہ کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا ۔ پھر وہ دیکھے گا تو اس کے آگے کوئی چیز نظر نہیں آئے گی ۔ پھر وہ اپنے سامنے دیکھے گا اور اس کے سامنے آگ ہو گی ۔ پس تم میں سے جو شخص بھی چاہے کہ وہ آگ سے بچے تو وہ راہ خدا میں خیرخیرات کرتا رہے ۔ خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہی ممکن ہو ۔
Narrated `Adi bin Hatim رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Protect yourself from the Fire." He then turned his face aside (as if he were looking at it) and said again, "Protect yourself from the Fire," and then turned his face aside (as if he were looking at it), and he said so for the third time till we thought he was looking at it. He then said, "Protect yourselves from the Fire, even if with one half of a date and he who hasn't got even this, (should do so) by (saying) a good, pleasant word.'
اعمش نے کہا: مجھے عمرو نے خیثمہ کی سند سے اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جہنم سے بچو ۔ پھر آپ نے چہرہ پھیرلیا ، پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو اور پھر اس کے بعد چہرہ مبارک پھیرلیا ، پھر فرمایا جہنم سے بچو ۔ تین مرتبہ آپ نے ایسا ہی کیا ۔ ہم نے اس سے یہ خیال کیا کہ آپ جہنم دیکھ رہے ہیں ۔ پھر فرمایا کہ جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے اور جسے یہ بھی نہ ملے تو اسے ( لوگوں میں ) کسی اچھی بات کہنے کے ذریعہ سے ہی ( جہنم سے ) بچنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "The people were displayed in front of me and I saw one prophet passing by with a large group of his followers, and another prophet passing by with only a small group of people, and another prophet passing by with only ten (persons), and another prophet passing by with only five (persons), and another prophet passed by alone. And then I looked and saw a large multitude of people, so I asked Gabriel, "Are these people my followers?' He said, 'No, but look towards the horizon.' I looked and saw a very large multitude of people. Gabriel said. 'Those are your followers, and those are seventy thousand (persons) in front of them who will neither have any reckoning of their accounts nor will receive any punishment.' I asked, 'Why?' He said, 'For they used not to treat themselves with branding (cauterization) nor with Ruqya (get oneself treated by the recitation of some Verses of the Qur'an) and not to see evil omen in things, and they used to put their trust (only) in their Lord." On hearing that, 'Ukasha bin Mihsan رضی اللہ عنہ got up and said (to the Prophet), "Invoke Allah to make me one of them." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah, make him one of them." Then another man got up and said (to the Prophet), "Invoke Allah to make me one of them." The Prophet (ﷺ) said, 'Ukasha has preceded you."
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ، کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ( دوسری سند ) اور مجھ سے اسید بن زید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا کہ میں سعید بن جبیر کی خدمت میں موجود تھا اس وقت انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ پوری امت گزری ، کسی نبی کے ساتھ چند آدمی گزرے ، کسی نبی کے ساتھ دس آدمی گزرے ، کسی نبی کے ساتھ پانچ آدمی گزرے اور کوئی نبی تنہا گزرا ۔ پھر میں نے دیکھا تو انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت دور سے نظر آئی ۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا کیا یہ میری امت ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ افق کی طرف دیکھو ۔ میں نے دیکھا تو ایک بہت زبردست جماعت دکھائی دی ۔ فرمایا کہ یہ ہے آپ کی امت اور یہ جو آگے آگے سترہزار کی تعداد ہے ان لوگوں سے حساب نہ لیا جائے گا اور نہ ان پر عذاب ہو گا ۔ میں نے پوچھا ، ایسا کیوں ہو گا ؟ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ داغ نہیں لگواتے تھے ۔ دم جھاڑ نہیں کرواتے تھے ، شگون نہیں لیتے تھے ، اپنے رب پر بھروسہ کرتے تھے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اٹھ کر بڑھے اور عرض کیا کہ حضور دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان لوگوں میں کر دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ ! انہیں بھی ان میں سے کر دے ۔ اس کے بعدایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میرے لیے بھی دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے کر دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ اس میں تم سے آگے بڑھ گئے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "From my followers there will enter Paradise a crowd, seventy thousand in number, whose faces will glitter as the moon does when it is full." On hearing that, 'Ukasha bin Mihsan Al-Asdi رضی اللہ عنہ got up, lifting his covering sheet, and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah that He may make me one of them." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah, make him one of them." Another man from the Ansar got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to make me one of them. "The Prophet (ﷺ) said (to him), "'Ukasha has preceded you."
ہم سے معاذ بن اسد مروزی نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو یونس بن یزید بن خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کی ایک جماعت جنت میں داخل ہو گی جس کی تعداد ستر ہزار ہو گی ۔ ان کے چہرے اس طرح روشن ہوں گے جیسے چودہویں رات کا چاند روشن ہوتا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ نے بیان کیا کہ اس پر حضرت عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، اپنی دھاری دار کملی جو ان کے جسم پر تھی ، اٹھاتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! انہیں بھی ان میں سے کر دے ۔ اس کے بعد ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! دعا کیجئے کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے کر دے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم پر سبقت لے گئے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Seventy-thousand or seven-hundred thousand of my followers (the narrator is in doubt as to the correct number) will enter Paradise holding each other till the first and the last of them enter Paradise at the same time, and their faces will have a glitter like that of the moon at night when it is full."
ہم سے سعید بن ابو مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جنت میں میری امت کے سترہزار یا سات لاکھ ( راوی کو ان میں سے کسی ایک تعداد میں شک تھا ) آدمی اس طرح داخل ہوں گے کہ بعض بعض کو پکڑے ہوئے ہوں گے اور اس طرح ان میں کے اگلے پچھلے سب جنت میں داخل ہو جائیں گے اور ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet; said, "The people of Paradise will enter Paradise, and the people of the (Hell) Fire will enter the (Hell) Fire: then a call-maker will get up (and make an announcement) among them, 'O the people of the (Hell) Fire! No death anymore ! And O people of Paradise! No death (anymore) but Eternity."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل جنت جنت میں اور اہل جہنم جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو ایک آواز دینے والا ان کے درمیان کھڑا ہو کر پکارے گا کہ اے جہنم والو ! اب تمہیں موت نہیں آئے گی اور اے جنت والو ! تمہیں بھی موت نہیں آئے گی بلکہ ہمیشہ یہیں رہنا ہو گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, " It will be said to the people of Paradise, 'O people of Paradise! Eternity (for you) and no death,' and to the people of the Fire, 'O people of the Fire, eternity (for you) and no death!"
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اہل جنت سے کہا جائے گا کہ اے اہل جنت ! ہمیشہ ( تمہیں یہیں ) رہنا ہے ، تمہیں موت نہیں آئے گی اور اہل دوزخ سے کہا جائے گا کہ اے دوزخ والو ! ہمیشہ ( تم کو یہیں ) رہنا ہے ، تم کو موت نہیں آئے گی ۔
Narrated `Imran رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "I looked into paradise and saw that the majority of its people were the poor, and I looked into the Fire and found that the majority of its people were women."
ہم سے عثمان بن ہثیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عوف بن ابی جمیلہ نے بیان کیا ، ان سے ابورجاء عمران عطاردی نے ، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں نے جنت میں جھانک کردیکھا تو وہاں رہنے والے اکثر غریب لوگ تھے اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا ( شب معراج میں ) تو وہاں عورتیں تھیں ۔
Narrated Usama رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "I stood at the gate of Paradise and saw that the majority of the people who had entered it were poor people, while the rich were forbidden (to enter along with the poor, because they were waiting the reckoning of their accounts), but the people of the Fire had been ordered to be driven to the Fire. And I stood at the gate of the Fire and found that the majority of the people entering it were women."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا ، انہیں ابوعثمان نہدی نے ، انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا تو وہاں اکثر داخل ہونے والے محتاج لوگ تھے اور محنت مزدوری کرنے والے تھے اور مالدار لوگ ایک طرف روکے گئے ہیں ، ان کا حساب لینے کے لیے باقی ہے اور جو لوگ دوزخی تھے وہ تو دوزخ کے لیے بھیج دئیے گئے اور میں نے جہنم کے دروازے پر کھڑے ہو کر دیکھا تو اس میں اکثر داخل ہونے والی عورتیں تھیں ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the people of Paradise have entered Paradise and the people of the Fire have entered the Fire, death will be brought and will be placed between the Fire and Paradise, and then it will be slaughtered, and a call will be made (that), 'O people of Paradise, no more death ! O people of the Fire, no more death ! ' So the people of Paradise will have happiness added to their previous happiness, and the people of the Fire will have sorrow added to their previous sorrow."
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو عمر بن محمد بن زید نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے ، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور اہل دوزخ دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کر دیا جائے گا ۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اے جنت والو ! تمہیں اب موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو ! تمہیں بھی اب موت نہیں آئے گی ۔ اس بات سے جنتی اور زیادہ خوش ہو جائیں گے اور جہنمی اور زیادہ غمگین ہو جائیں گے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah will say to the people of Paradise, 'O the people of Paradise!' They will say, 'Labbaik, O our Lord, and Sa`daik!' Allah will say, 'Are you pleased?" They will say, 'Why should we not be pleased since You have given us what You have not given to anyone of Your creation?' Allah will say, 'I will give you something better than that.' They will reply, 'O our Lord! And what is better than that?' Allah will say, 'I will bestow My pleasure and contentment upon you so that I will never be angry with you after for-ever.' "
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی ، انہیں زید بن اسلم نے ، انہیں عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ اے جنت والو ! جنتی جواب دیں گے ہم حاضر ہیں اے ہمارے پروردگار ! تیری سعادت حاصل کرنے کے لیے ۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اب تم لوگ خوش ہوئے ؟ وہ کہیں گے اب بھی بھلا ہم راضی نہ ہوں گے کیونکہ اب تو تو نے ہمیں وہ سب کچھ دے دیا جو اپنی مخلوق کے کسی آدمی کو نہیں دیا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اس سے بھی بہتر چیز دوں گا ۔ جنتی کہیں گے اے رب ! اس سے بہتر اور کیا چیز ہو گی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب میں تمہارے لیے اپنی رضامندی کو ہمیشہ کے لیے دائمی کر دوں گا یعنی اس کے بعد کبھی تم پر ناراض نہیں ہوں گا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Haritha رضی اللہ عنہ was martyred on the day (of the battle) of Badr while he was young. His mother came to the Prophet (ﷺ) saying, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You know the relation of Haritha رضی اللہ عنہ to me (how fond of him I was); so, if he is in Paradise, I will remain patient and wish for Allah's reward, but if he is not there, then you will see what I will do." The Prophet (ﷺ) replied, "May Allah be merciful upon you! Have you gone mad? (Do you think) it is one Paradise? There are many Paradises and he is in the (most superior) Paradise of Al-Firdaus."
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسحاق ابراہیم بن محمد نے بیان کیا ، ان سے حمید طویل نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
حارثہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ بر کی لڑائی میں شہید ہو گئے ۔ وہ اس وقت نوعمر تھے تو ان کی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کو معلوم ہے کہ حارثہ سے مجھے کتنی محبت تھی ، اگر وہ جنت میں ہے تو میں صبر کر لوں گی اور صبر پر ثواب کی امیدوار رہوں گی اور اگر کوئی اور بات ہے تو آپ دیکھیں گے کہ میں اس کے لیے کیا کرتی ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس کیا تم پاگل ہو گئی ہو ۔ جنت ایک ہی نہیں ہے ، بہت سی جنتیں ہیں اور وہ ( حارثہ رضی اللہ عنہ ) جنت الفردوس میں ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The width between the two shoulders of a Kafir (disbeliever) will be equal to the distance covered by a fast rider in three days."
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم کو فصل بن موسیٰ نے خبر دی ، کہا ہم کو فضیل نے خبر دی ، انہیں حازم نے ، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کافر کے دونوں شانوں کے درمیان تیز چلنے والے کے لیے تین دن کی مسافت کا فاصلہ ہو گا “ ۔