Narrated Abu Qatada bin Rib'i Al-Ansari رضی اللہ عنہ :
A funeral procession passed by Allah's Messenger (ﷺ) who said, "Relieved or relieving?" The people asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What is relieved and relieving?" He said, "A believer is relieved (by death) from the troubles and hardships of the world and leaves for the Mercy of Allah, while (the death of) a wicked person relieves the people, the land, the trees, (and) the animals from him."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے محمد بن عمرو حلحلہ نے ، ان سے سعد بن کعب بن مالک نے ، ان سے ابوقتادہ بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ نے ، وہ بیان کرتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے لوگ ایک جنازہ لے کر گزرے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مستریح یامستراح “ ہے ۔ یعنی اسے آرام مل گیا ، یا اس سے آرام مل گیا ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ” المستریح او المستراح منہ “ کا کیا مطلب ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن بندہ دنیا کی مشقتوں اور تکلیفوں سے اللہ کی رحمت میں نجات پاجاتا ہے وہ مستریح ہے اورمستراح منہ وہ ہے کہ فاجر بندہ سے اللہ کے بندے ، شہر ، درخت اور چوپائے سب آرام پاجاتے ہیں ۔
Narrated Abu Qatada:
The Prophet (ﷺ) said, "Relieved or relieving. And a believer is relieved (by death).
مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبد ربہ بن سعید نے ، ان سے محمد بن عمر نے بیان کیا ، ان سے طلحہ بن کعب نے بیان کیا ، ان سے ابوقتادہ نے اور ان سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مرنے والا یا تو آرام پانے والا ہے یا دوسرے بندوں کو آرام دینے والا ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When carried to his grave, a dead person is followed by three, two of which return (after his burial) and one remains with him: his relative, his property, and his deeds follow him; relatives and his property go back while his deeds remain with him."
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کے ساتھ تین چیزیں چلتی ہیں دوتو واپس آجاتی ہیں صرف ایک کام اس کے ساتھ رہ جاتا ہے ، اس کے ساتھ اس کے گھر والے اس کا مال اور اس کا عمل چلتا ہے اس کے گھر والے اور مال تو واپس آ جاتا ہے اور اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When anyone of you dies, his destination is displayed before him in the forenoon and in the afternoon, either in the (Hell) Fire or in Paradise, and it is said to him, "That is your place till you are resurrected and sent to it."
ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو صبح و شام ( جب تک وہ برزخ میں ہے ) اس کے رہنے کی جگہ اسے ہر روز دکھائی جاتی ہے یا دوزخ ہو یا جنت اور کہا جاتا ہے کہ یہ تیرے رہنے کی جگہ ہے یہاں تک کہ تو اٹھایا جائے ۔ ( یعنی قیامت کے دن تک ۔ )
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "Do not abuse the dead, for they have reached the result of what they have done."
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں مجاہد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ مرگئے ان کو برا نہ کہو کیونکہ جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا تھا اس کے پاس وہ خود پہنچ چکے ہیں ۔ انہوں نے برے بھلے جو بھی عمل کئے تھے ویسا بدلہ پا لیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Two men, a Muslim and a Jew, abused each other. The Muslim said, "By Him Who gave superiority to Muhammad over all the people." On that, the Jew said, "By Him Who gave superiority to Moses over all the people." The Muslim became furious at that and slapped the Jew in the face. The Jew went to Allah's Messenger (ﷺ) and informed him of what had happened between him and the Muslim. Allah's Apostle said, "Don't give me superiority over Moses, for the people will fall unconscious on the Day of Resurrection and I will be the first to gain consciousness, and behold ! Moses will be there holding the side of Allah's Throne. I will not know whether Moses has been among those people who have become unconscious and then has regained consciousness before me, or has been among those exempted by Allah from falling unconscious."
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور عبدالرحمٰن الاعرج نے بیان کیا ، ان دونوں نے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
دو آدمیوں نے آپس میں گالی گلوچ کی ۔ جن میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی تھا ۔ مسلمان نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا ۔ یہودی نے کہا کہ اس پروردگار کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان پر برگزیدہ کیا ۔ راوی نے بیان کیا کہ مسلمان یہودی کی بات سن کر خفا ہو گیا اور اس کے منہ پر ایک طمانچہ رسید کیا ۔ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا اور مسلمان کا سارا واقعہ بیان کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو موسیٰ علیہ السلام پر مجھ کو فضیلت مت دو کیونکہ قیامت کے دن ایسا ہو گا کہ صور پھونکتے ہی تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جسے ہوش آئے گا ۔ میں کیا دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوئے ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم کی موسیٰ علیہ السلام بھی ان لوگوں میں ہوں گے جو بیہوش ہوئے تھے اور پھر مجھ سے پہلے ہی ہوش میں آ گئے تھے یا ان میں سے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سے مستثنیٰ کر دیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The people will fall down unconscious at the time when they should fall down (i.e., on the Day of Resurrection), and then I will be the first man to get up, and behold, Moses will be there holding (Allah's) Throne. I will not know whether he has been amongst those who have fallen unconscious." Hadrat Abu Saeed رضی اللہ عنہ (Khudri) has also reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے ہوشی کے وقت تمام لوگ بیہوش ہو جائیں گے اور سب سے پہلے اٹھنے والا میں ہوں گا ۔ اس وقت موسیٰ عرش الٰہی کا کونہ تھامے ہوں گے ۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ بیہوش بھی ہوں گے یا نہیں ۔ اس حدیث کو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah will take the whole earth (in His Hand) and will roll up the Heaven in His right Hand, and then He will say, "I am King! Where are the kings of the earth ? "
ہم سے مقاتل مروزی نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو یونس بن یزید ایلی نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ” اللہ تعالیٰ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا ۔ پھر فرمائے گا کہ اب میں ہوں بادشاہ ۔ آج زمین کے بادشاہ کہاں گئے ؟ “
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The (planet of) earth will be a bread on the Day of Resurrection, and The resistible (Allah) will topple turn it with His Hand like anyone of you topple turns a bread with his hands while (preparing the bread) for a journey, and that bread will be the entertainment for the people of Paradise." A man from the Jews came (to the Prophet) and said, "May The Beneficent (Allah) bless you, O Abul Qasim! Shall I tell you of the entertainment of the people of Paradise on the Day of Resurrection?" The Prophet (ﷺ) said, "Yes." The Jew said, "The earth will be a bread," as the Prophet (ﷺ) had said. Thereupon the Prophet (ﷺ) looked at us and smiled till his premolar tooth became visible. Then the Jew further said, "Shall I tell you of the udm (additional food taken with bread) they will have with the bread?" He added, "That will be Balam and Nun." The people asked, "What is that?" He said, "It is an ox and a fish, and seventy thousand people will eat of the caudate lobe (i.e. extra lobe) of their livers."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے خالد بن یزید نے ، ان سے سعید بن ابی ہلال نے ، ان سے زید بن اسلم نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قیامت کے دن ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جسے اللہ تعالیٰ اہل جنت کی میزبانی کے لیے اپنے ہاتھ سے الٹے پلٹے گا جس طرح تم دسترخوان پر روٹی لہراتے پھراتے ہو ۔ پھر ایک یہودی آیا اور بولا ابوالقاسم ! تم پر رحمن برکت نازل کرے کیا میں تمہیں قیامت کے دن اہل جنت کی سب سے پہلی ضیافت کے بارے میں خبر نہ دوں ؟ آپ نے فرمایا ، کیوں نہیں ۔ تو اس نے ( بھی یہی ) کہا کہ ساری زمین ایک روٹی کی طرح ہو جائے گی جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف دیکھا اور مسکرائے جس سے آپ کے آگے کے دانت دکھائی دینے لگے ۔ پھر ( اس نے ) خود ہی پوچھا کیا میں تمہیں اس کے سالن کے متعلق خبر نہ دوں ؟ ( پھر خود ہی ) بولا کہ ان کا سالن بالام و نون ہو گا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ کیا چیز ہے ؟ اس نے کہا کہ بیل اور مچھلی جس کی کلیجی کے ساتھ زائد چربی کے حصے کو ستر ہزار آدمی کھائیں گے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "The people will be gathered on the Day of Resurrection on reddish white land like a pure loaf of bread (made of pure fine flour)." Sahl added: That land will have no landmarks for anybody (to make use of).
ہم سے سعید بن ابومریم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا کہا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” قیامت کے دن لوگوں کا حشر سفید و سرخی آمیز زمین پر ہو گا جیسے میدہ کی روٹی صاف و سفید ہوتی ہے ۔ اس زمین پر کسی ( چیز ) کا کوئی نشان نہ ہو گا “ ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The people will be gathered in three ways: (The first way will be of) those who will wish or have a hope (for Paradise) and will have a fear (of punishment), (The second batch will be those who will gather) riding two on a camel or three on a camel or ten on a camel. (The third batch) the rest of the people will be urged to gather by the Fire which will accompany them at the time of their afternoon nap and stay with them where they will spend the night, and will be with them in the morning wherever they may be then, and will be with them in the afternoon wherever they may be then."
ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے ، ان سے ان کے اولد طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لوگوں کا حشرتین فرقوں میں ہو گا ( ایک فرقہ والے ) لوگ رغبت کرنے نیز ڈرنے والے ہوں گے ۔ ( دوسرا فرقہ ایسے لوگوں کا ہو گا کہ ) ایک اونٹ پر دو آدمی سوار ہوں گے کسی اونٹ پر تین ہوں گے ، کسی اونٹ پرچار ہوں گے اور کسی پر دس ہوں گے ۔ اور باقی لوگوں کو آگ جمع کرے گی ( اہل شرک کا یہ تیسرا فرقہ ہو گا ) جب وہ قیلولہ کریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ ٹھہری ہو گی جب وہ رات گزاریں گے تو آگ بھی ان کے ساتھ وہاں ٹھہری ہو گی جب وہ صبح کریں گے تو آگ بھی صبح کے وقت وہاں موجود ہو گی اور جب وہ شام کریں گے تو آگ بھی شام کے وقت ان کے ساتھ موجود ہو گی “ ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
A man said, "O Allah's Prophet! Will a Kafir (disbeliever) be gathered (driven prone) on his face?" The Prophet (ﷺ) said, "Is not He Who made him walk with his legs in this world, able to make him walk on his face on the Day of Resurrection?" (Qatada رضی اللہ عنہ , a sub-narrator said: Yes, (He can), by the Power of Our Lord!")
ہم سے عبداللہ بن محمدنے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس بن محمد بغدادی نے بیان کیا ، کہا ہم سے شیبان نحوی نے بیان کیا ، کہا ان سے قتادہ نے ، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک صحابی نے کہا ، اے اللہ کے نبی ! قیامت میں کافروں کو ان کے چہرے کے بل کس طرح حشر کیا جائے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ذات جس نے انہیں دنیا میں دو پاؤں پر چلایا اسے اس پر قدرت نہیں ہے کہ قیامت کے دن انہیں چہرے کے بل چلادے ۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ضرور ہے ہمارے رب کی عزت کی قسم ۔ بیشک وہ منہ کے بل چلا سکتا ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "You will meet Allah barefooted, naked, walking on feet, and uncircumcised." Sufyan, the reporter, says: We consider it of those Ahadith of Hadrat Ibn-e-Abbas رضی اللہ عنہما which he heard from the prophet ﷺ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا اورانہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،
آپ نے فرمایا کہ تم اللہ سے قیامت کے دن ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور پیدل چل کر بن ختنہ ملو گے ۔ سفیان نے کہا کہ یہ حدیث ان ( نویاد دس حدیثوں ) میں سے ہے جن کے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خود ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
I heard Allah's Messenger (ﷺ) while he was delivering a sermon on a pulpit, saying, "You will meet Allah barefooted, naked, and uncircumcised."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ منبر پر خطبہ میں فرما رہے تھے کہ تم اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملو گے کہ ننگے پاؤں ، ننگے جسم اور بغیر ختنہ ہو گے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) stood up among us and addressed (saying) "You will be gathered, barefooted, naked, and uncircumcised (as Allah says): 'As We began the first creation, We shall repeat it..' (21.104) And the first human being to be dressed on the Day of Resurrection will be (the Prophet) Abraham Al-Khalil. Then will be brought some men of my followers who will be taken towards the left (i.e., to the Fire), and I will say: 'O Lord! My companions whereupon Allah will say: You do not know what they did after you left them. I will then say as the pious slave, Jesus said, And I was witness over them while I dwelt amongst them..........(up to) ...the All-Wise.' (5.117-118). The narrator added: Then it will be said that those people (relegated from Islam, that is) kept on turning on their heels (deserted Islam).
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے ، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا ، تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کئے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹادیں گے “ اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے ۔ میں اس پر کہوں گا اے میرے رب ! یہ تو میرے ساتھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں ۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) نے کہا کہ یا اللہ ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا ۔ ( المائدہ : 117 ، 118 ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ فرشتے ( مجھ سے ) کہیں گے کہ یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے ۔ ( مرتد ہوتے رہے )
Narrated `Aisha رضی اللہ عہنا :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The people will be gathered barefooted, naked, and uncircumcised." I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Will the men and the women look at each other?" He said, "The situation will be too hard for them to pay attention to that."
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن ابی صغیرہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی ملکیہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بیان کیا اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عہنا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم ننگے پاؤں ننگے جسم ، بلا ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس پر میں نے پوچھا ، یا رسول اللہ ! تو کیا مرد عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتے ہوں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت معاملہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہو گا ۔ اس خیال بھی کوئی نہیں کر سکے گا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
While we were in the company of the Prophet (ﷺ) in a tent he said, ''Would it please you to be one fourth of the people of Paradise?" We said, "Yes." He said, "Would It please you to be one-third of the people of Paradise?" We said, "Yes." He said, "Would it please you to be half of the people of Paradise?" We said, "Yes." Thereupon he said, "I hope that you will be one half of the people of Paradise, for none will enter Paradise but a Muslim soul, and you people, in comparison to the people who associate others in worship with Allah, are like a white hair on the skin of a black ox, or a black hair on the skin of a red ox."
ہم سے مجمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو ؟ ہم نے کہا کہ جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو ؟ ہم نے کہا جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو ؟ ہم نے کہا جی ہاں ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ، مجھے امید ہے کہ تم لوگ ( امت مسلمہ ) اہل جنت کا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان ( تعداد میں ) اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The first man to be called on the Day of Resurrection will be Adam who will be shown his offspring, and it will be said to them, 'This is your father, Adam.' Adam will say (responding to the call), 'Labbaik and Sa`daik' Then Allah will say (to Adam), 'Take out of your offspring, the people of Hell.' Adam will say, 'O Lord, how many should I take out?' Allah will say, 'Take out ninety-nine out of every hundred." They (the Prophet's companions) said, "O Allah's Apostle! If ninety-nine out of every one hundred of us are taken away, what will remain out of us?" He said, "My followers in comparison to the other nations are like a white hair on a black ox."
ہم سے اسماعیل بن اویس نے بیان کیا ، کہا مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ثور نے ، ان سے ابوالغیث نے ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو پکارا جائے گا ۔ پھر ان کی نسل ان کو دیکھے گی تو کہا جائے گا کہ یہ تمہارے بزرگ دادا آدم ہیں ۔ ( پکارنے پر ) وہ کہیں گے کہ لبیک و سعدیک ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ نکال لو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے اے پروردگار ! کتنوں کو نکالوں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا فیصد ( ننانوے فیصد دوزخمی ایک جنتی ) صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جب ہم میں سو میں ننانوے نکال دئیے جائیں تو پھر باقی کیا رہ جائیں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام امتوں میں میری امت اتنی ہی تعداد میں ہو گی جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Allah will say, 'O Adam!. Adam will reply, 'Labbaik and Sa`daik (I respond to Your Calls, I am obedient to Your orders), wal Khair fi Yadaik (and all the good is in Your Hands)!' Then Allah will say (to Adam), Bring out the people of the Fire.' Adam will say, 'What (how many) are the people of the Fire?' Allah will say, 'Out of every thousand (take out) nine hundred and ninety-nine (persons).' At that time children will become hoary-headed and every pregnant female will drop her load (have an abortion) and you will see the people as if they were drunk, yet not drunk; But Allah's punishment will be very severe." That news distressed the companions of the Prophet (ﷺ) too much, and they said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who amongst us will be that man (the lucky one out of one-thousand who will be saved from the Fire)?" He said, "Have the good news that one-thousand will be from Gog and Magog, and the one (to be saved will be) from you." The Prophet (ﷺ) added, "By Him in Whose Hand my soul is, I Hope that you (Muslims) will be one third of the people of Paradise." On that, we glorified and praised Allah and said, "Allahu Akbar." The Prophet (ﷺ) then said, "By Him in Whose Hand my soul is, I hope that you will be one half of the people of Paradise, as your (Muslims) example in comparison to the other people (non-Muslims), is like that of a white hair on the skin of a black ox, or a round hairless spot on the foreleg of a donkey."
مجھ سے یوسف بن موسیٰ قطان نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے آدم ! آدم علیہ السلام کہیں گے حاضر ہوں فرماں بردار ہوں اور ہربھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے انہیں نکال لو ۔ آدم علیہ السلام پوچھیں گے جہنم میں ڈالے جانے والے لوگ کتنے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے ۔ یہی وہ وقت ہو گا جب بچے غم سے بوڑھے ہو جائیں گے اور حاملہ عورتیں اپنا حمل گرادیں گی اور تم لوگوں کو نشہ کی حالت میں دیکھوگے ، حالانکہ وہ واقعی نشہ کی حالت میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہو گا ۔ صحابہ کو یہ بات بہت سخت معلوم ہوئی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر ہم میں سے وہ ( خوش نصیب ) شخص کون ہو گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں خوشخبری ہو ، ایک ہزار یاجوج ماجوج کی قوم سے ہوں گے ۔ اور تم میں سے وہ ایک جنتی ہو گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، مجھے امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے ۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے اس پر اللہ کی حمد بیان کی اور اس کی تکبیر کہی ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مجھے امید ہے کہ آدھا حصہ اہل جنت کا تم لوگ ہو گے ۔ تمہاری مثال دوسری امتوں کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے کسی سیاہ بیل کے جسم پر سفید بالوں کی ( معمولی تعداد ) ہوتی ہے یا وہ سفید داغ جو گدھے کے آگے کے پاؤں پر ہوتا ہے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said (regarding the Verse), "A Day when all mankind will stand before the Lord of the Worlds,' (that day) they will stand, drowned in their sweat up to the middle of their ears."
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” یوم یقوم الناس لرب العالمین “ کی تفسیر میں فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی سارے جہانوں کے پروردگار کے آگے کھڑا ہو گا اس حال میں کہ اس کا پسینہ کانوں کی لو تک پہنچاہوا ہو گا ۔