Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Seventy thousand people of my followers will enter Paradise without accounts, and they are those who do not practice Ar-Ruqya and do not see an evil omen in things, and put their trust in their Lord.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے حصین بن عبدالرحمن سے سنا ، انہوں نے کہا کہ میں سعید بن جبیر کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے ستر ہزار لوگ بے حساب جنت میں جائیں گے ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے نہ شگون لیتے ہیں اور اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔
Narrated Muawiya رضی اللہ عنہ wrote to Al-Mughira:
"Write to me a narration you have heard from Allah's Messenger (ﷺ)." So Al-Mughira wrote to him, "I heard him saying the following after each prayer: 'La ilaha illal-lahu wahdahu la sharika lahu, lahu-l-mulk wa lahuI-hamd, wa huwa 'ala kulli Shai-in qadir.' He also used to forbid idle talk, asking too many questions (in religion), wasting money, preventing what should be given, and asking others for something (except in great need), being undutiful to mothers, and burying one's little daughters (alive). Ayyub, Ibn-e-Sireen, Hadrat Anas رضی اللہ عنہ reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو ایک سے زیادہ کئی آدمیو ں نے خبر دی جن میں مغیرہ بن مقسم اور فلاں نے ( مجالد بن سعید ، ان کی روایت کو ابن خزیمہ نے نکالا ) اور ایک تیسرے صاحب داود بن ابی ہند بھی ہیں ، انہیں شعبی نے ، انہیں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد نے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ کو لکھا کہ
کو ئی حدیث جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو وہ مجھے لکھ بھیجو ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ نماز سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے کہ لا إله إلا الله ، وحده لا شريك له ، له الملك ، وله الحمد ، وهو على كل شىء قدير ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، بادشاہت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے “ یہ تین مرتبہ پڑھتے ۔ بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بےفائدہ بات چیت کرنے ، زیادہ سوال کرنے ، مال ضائع کرنے ، اپنی چیز بچا کر رکھنے اور دوسروں کی مانگتے رہنے ، ماؤں کی نافرمانی کرنے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع فرماتے تھے ۔ اور ہشیم سے روایت ہے ، انہیں عبدالملک ابن عمیر نے خبر دی ، کہا کہ میں نے وراد سے سنا ، وہ یہ حدیث مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever can guarantee (the chastity of) what is between his two jaw-bones and what is between his two legs (i.e. his tongue and his private parts), I guarantee Paradise for him."
ہم سے محمد بن ابوبکر مقدمی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے ابوحازم سے سنا ، انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز ( زبان ) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز ( شرمگاہ ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لئے جنت کی ذمہ داری دیتا ہوں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever believes in Allah and the Last Day should talk what is good or keep quiet, and whoever believes in Allah and the Last Day should not hurt (or insult) his neighbor; and whoever believes in Allah and the Last Day, should entertain his guest generously."
مجھ سے عبد العزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابرہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔
Narrated Abu Shuraih Al-Khuza`i:
My ears heard and my heart grasped (the statement which) the Prophet (ﷺ) said, "The period for keeping one's guest is three days (and don't forget) his reward." It was asked, "What is his reward?" He said, "In the first night and the day he should be given a high class quality of meals; and whoever believes in Allah and the Last Day, should entertain his guest generously; and whoever believes in Allah and the Last Day should talk what is good (sense) or keep quiet."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا ، ان سے ابوشریح خزاعی نے بیان کیاانہوں نے کہا کہ
میرے دونوں کا نوں نے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا مہمانی تین دن کی ہوتی ہے مگر جو لازمی ہے وہ تو پوری کرو ۔ پوچھا گیا لازمی کتنی ہے ؟ فرمایا کہ ایک دن اور ایک رات اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اپنے مہمان کی خاطر کرے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتاہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ چپ رہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
He heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "A slave of Allah may utter a word without thinking whether it is right or wrong, he may slip down in the Fire as far away a distance equal to that between the east."
مجھ سے ابرہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے یزید بن عبداللہ نے ، ان سے محمد بن ابرہیم نے ، ان سے عیسیٰ بن طلحہ تیمی نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ ایک بات زبان سے نکالتا ہے اور اس کے متعلق سوچتا نہیں ( کتنی کفر اور بے ادبی کی بات ہے ) جس کی وجہ سے وہ دوزخ کے گڑھے میں اتنی دور گر پڑتا ہے جتنا مغرب سے مشرق دور ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet; said, "A slave (of Allah) may utter a word which pleases Allah without giving it much importance, and because of that Allah will raise him to degrees (of reward): a slave (of Allah) may utter a word (carelessly) which displeases Allah without thinking of its gravity and because of that he will be thrown into the Hell-Fire."
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ، انہوں نے ابوالنضر سے سنا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ یعنی ابن دینار نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ابوصالح نے ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ اللہ کی رضامندی کے لئے ایک بات زبان سے نکالتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اسی کی وجہ سے اللہ اس کے درجے بلند کر دیتا ہے اور ایک دوسرا بندہ ایک ایسا کلمہ زبان سے نکالتا ہے جو اللہ کی نارضگی کا باعث ہوتا ہے اسے وہ کوئی اہمیت نہیں دیتا لیکن اس کی وجہ سے وہ جہنم میں چلا جاتا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said Allah will give shade to seven (types of people) under His Shade (on the Day of Resurrection). (one of them will be) a person who remembers Allah and his eyes are then flooded with tears.
ہم سے محمد بن بشارنے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات طرح کے لوگ وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں پناہ دے گا ۔ ( ان میں ) ایک وہ شخص بھی ہے جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔
Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "There was a man amongst the people who had suspicion as to the righteousness of his deeds. Therefore he said to his family, 'If I die, take me and burn my corpse and throw my ashes into the sea on a hot (or windy) day.' They did so, but Allah, collected his particles and asked (him), What made you do what you did?' He replied, 'The only thing that made me do it, was that I was afraid of You.' So Allah forgave him."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریربن عبدالحمید نے ، ان سے منصور بن معتمر نے ، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پچھلی امتوں میں کا ، ایک شخص جسے اپنے برے عملوں کا ڈرتھا ۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب میں مر جاؤ تو میرا لاش ریزہ ریزہ کر کے گرم دن میں اٹھا کے دریا میں ڈال دینا ۔ اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور اس سے پوچھا کہ یہ جو تم نے کیا اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس شخص نے کہا کہ پروردگار مجھے اس پر صرف تیرے خوف نے آمادہ کیا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت فرما دی ۔
Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) mentioned a man from the previous generation or from the people preceding your age whom Allah had given both wealth and children. The Prophet (ﷺ) said, "When the time of his death approached, he asked his children, 'What type of father have I been to you?' They replied: You have been a good father. He said, 'But he (i.e. your father) has not stored any good deeds with Allah (for the Hereafter): if he should face Allah, Allah will punish him. So listen, (O my children), when I die, burn my body till I become mere coal and then grind it into powder, and when there is a stormy wind, throw me (my ashes) in it.' So he took a firm promise from his children (to follow his instructions). And by Allah they (his sons) did accordingly(fulfilled their promise.) Then Allah said, "Be"' and behold! That man was standing there! Allah then said. "O my slave! What made you do what you did?" That man said, "Fear of You." So Allah forgave him. Salman has narrated it thus but he added: scattered me in the ocean, or what he narrated. Hadrat Abu Saeed Khudri رضی اللہ عنہ reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا ، کہا میں نے اپنے والد سے سنا ، ان سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے عقبہ بن عبد الغافر نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلی امتوں کے ایک شخص کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مال و اولاد عطاء فرمائی تھی ۔ فرمایا کہ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے لڑکو ں سے پوچھا ، باپ کی حیثیت سے میں نے کیسا اپنے آپ کو ثابت کیا ؟ لڑکوں نے کہا کہ بہترین باپ ۔ پھر اس شخص نے کہا کہ اس نے اللہ کے پاس کوئی نیکی نہیں جمع کی ہے ۔ قتادہ نے ( لم یتبر ) کی تفسیر ( لم ید خر ) ( نہیں جمع کی ) سے کی ہے ۔ اور اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے اللہ کے حضور میں پیش کیا گیا تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا ( اس نے اپنے لڑکو ں سے کہا کہ ) دیکھو ، جب میں مر جاؤں تو میری لاش کو جلا دینا اور جب میں کوئلہ ہو جاؤں تو مجھے پیس دینا اور کسی تیز ہوا کے دن مجھے اس میں اڑا دینا ۔ اس نے اپنے لڑکو ں سے اس پر وعدہ لیا چنانچہ لڑکوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا ۔ پھر اللہ تعا لیٰ نے فرمایا کہ ہو جا ۔ چنانچہ وہ ایک مرد کی شکل میں کھڑا نظر آیا ۔ پھر فرمایا میرے بندے ! یہ جو تو نے کرایا ہے اس پر تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا ؟ اس نے کہا کہ تیرے خوف نے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ یہ دیا کہ اس پر رحم فرمایا ۔ میں نے یہ حدیث عثمان سے بیان کیا کی تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلمان سے سنا ۔ البتہ انہوں نے یہ لفظ بیان کیے کہ ” مجھے دریا میں بہا دینا “ یا جیسا کہ انہوں نے بیان کیا اور معاذ نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، انہوں نے عقبہ سے سنا ، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said. "My example and the example of the message with which Allah has sent me is like that of a man who came to some people and said, "I have seen with my own eyes the enemy forces, and I am a naked warner (to you) so save yourself, save yourself! A group of them obeyed him and went out at night, slowly and stealthily and were safe, while another group did not believe him and thus the army took them in the morning and destroyed them."
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ان سے ابوبردہ نے ، اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میری اور جو کچھ کلام اللہ نے میرے ساتھ بھیجا ہے اس کی مثال ایک ایسے شخص جیسی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ( تمہارے دشمن کا ) لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور میں واضح ڈرانے والا ہوں ۔ پس بھاگو پس بھاگو ( اپنی جان بچاؤ ) اس پر ایک جماعت نے اس کی بات مان لی اور رات ہی رات اطمینان سے کسی محفوظ جگہ پر نکل گئے اور نجات پائی ۔ لیکن دوسری جماعت نے اسے جھٹلایا اور دشمن کے لشکر نے صبح کے وقت اچا نک انہیں آ لیا اور تباہ کر دیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) saying, "My example and the example of the people is that of a man who made a fire, and when it lighted what was around it, Moths and other insects started falling into the fire. The man tried (his best) to prevent them, (from falling in the fire) but they overpowered him and rushed into the fire. The Prophet (ﷺ) added: Now, similarly, I take hold of the knots at your waist (belts) to prevent you from falling into the Fire, but you insist on falling into it."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ،
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اور لوگوں کی مثال ایک ایسے شخص کی ہے جس نے آگ جلائی ، جب اس کے چاروں طرف روشنی ہو گئی تو پروانے اور یہ کیڑے مکوڑے جو آگ پر گرتے ہیں اس میں گرنے لگے اور آگ جلانے والا انہیں اس میں سے نکا لنے لگا لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آئے اور آگ میں گرتے رہے ۔ اسی طرح میں تمہاری کمر کو پکڑ کر آگ سے تمہیں نکالتا ہوں اور تم ہو کہ اسی میں گر تے جاتے ہو ۔
Narrated `Abdullah bin `Amr رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue or his hands. And a Muhajir (an emigrant) is the one who gives up (abandons) all what Allah has forbidden."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا ، ان سے عامر نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، کہاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے ( تکلیف پہنچنے سے ) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If you knew that which I know you would laugh little and weep much."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیاکہ حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر تمہیں وہ معلوم ہو جائے جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If you knew that which I know, you would laugh little and weep much."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ ٰ بن انس نے بیان کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں وہ معلوم ہوتا جو میں جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The (Hell) Fire is surrounded by all kinds of desires and passions, while Paradise is surrounded by all kinds of disliked undesirable things."
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوزخ خواہشات نفسانی سے ڈھک دی گئی ہے اورجنت مشکلات اور دشواریوں سے ڈھکی ہوئی ہے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Paradise is nearer to any of you than the Shirak (leather strap) of his shoe, and so is the (Hell) Fire.
ہم سے موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ تمہارے قریب ہے اور اسی طرح دوزخ بھی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "The truest poetic verse ever said by a poet, is: Indeed! Everything except Allah, is perishable."
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے غند ر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے سچا شعر جسے شاعر نے کہا ہے یہ ہے ” ہاں اللہ کے سوا تمام چیزیں بے بنیاد ہیں ۔ “
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If anyone of you looked at a person who was made superior to him in property and (in good) appearance, then he should also look at the one who is inferior to him.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں نے کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو دیکھے جو مال اور شکل و صورت میں اس سے بڑھ کر ہے تو اسے ایسے شخص کا دھیان کرنا چاہئے جو اس سے کم درجہ کا ہے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) narrating about his Lord I'm and said, "Allah ordered (the appointed angels over you) that the good and the bad deeds be written, and He then showed (the way) how (to write). If somebody intends to do a good deed and he does not do it, then Allah will write for him a full good deed (in his account with Him); and if he intends to do a good deed and actually did it, then Allah will write for him (in his account) with Him (its reward equal) from ten to seven hundred times to many more times: and if somebody intended to do a bad deed and he does not do it, then Allah will write a full good deed (in his account) with Him, and if he intended to do it (a bad deed) and actually did it, then Allah will write one bad deed (in his account) ."
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جعدابوعثمان نے بیان کیا ، ان سے ابورجاء عطاردی نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کر دی ہیں اور پھر انہیں صاف صاف بیان کر دیا ہے ۔ پس جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک مکمل نیکی کا بدلہ لکھا ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنے یہاں دس گنے سے سات سوگنے تک نیکیاں لکھی ہیں اور اس سے بڑھ کر اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنے یہاں نیکی لکھی ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اپنے یہاں اس کے لئے ایک برائی لکھی ہے ۔