Sa'id bin Zaid رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Truffles are 'Manna' which Allah, the Exalted the Majestic, sent to the people of Israil, and its juice is a medicine for the eyes.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا, سفیا ن نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ، کہا : میں نے عمرو بن حریث سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا تھا کہہ رہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ عزوجل نے بنی اسرئیل پر ( آسمان سے ) اتارا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاہے ۔
Sa'id bin Zaid رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Truffles are 'Manna' and its juice is the medicine for the eyes.
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن شبیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے سنا, شہر بن حوشب نے کہا : میں نے عبد الملک بن عمیر سےسنا ، انھوں نے کہا : میں عبد الملک سے ملا تو انھوں نے مجھے عمرو بن حریث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" کھمبی اس من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
We were with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) at Marr az-Zahran, and we were plucking the fruit of the Arak tree, whereupon Allah's Messenger (may peace he upon him) said: Pluck only its black ones (for they are the most pleasant). We said: Allah's Messenger, it seems you shepherded the flock. He said: Yes. Has there been a prophet who did not shepherd it (or some words like it)?
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، یونس کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے, ابو سلمہ عبد الرحمٰن نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم مرالظہرا ن ( کے مقام ) پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم پیلو چن رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ان میں سے سیاہ پیلو چنو ۔ " ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یوں لگتا ہے جیسے آپ نے بکریاں چرا ئی ہو ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہاں کو ئی نبی نہیں جس نے بکریاں نہ چرا ئی ہوں ۔ " یا اسی طرح کی بات ارشاد فرما ئی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The best of condiments or condiment is vinegar.
مجھ سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا, یحییٰ بن حسان نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " سالنوں میں سے عمدہ یا ( فرمایا ) عمدہ سالن سرکہ ہے ۔ "
This hadith has been reported on the authority of Sulaiman bin Bilal with the same chain of transmitters and he is reported to have said:
The best condiment. And he did not doubt (about this word).
ہم سے موسیٰ بن قریش بن نافع التمیمی نے بیان کیا, یحییٰ بن صالح وحاظی نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنا ئی اور کہا
" سالنوں میں سے عمدہ " اور شک نہیں کیا ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) asked his family for condiment. They (the members of his household) said: We have nothing with us but vinegar. He asked for it, he began to eat it, and then said: Vinegar is a good condiment, vinegar is a good condiment.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا, ابو بشر نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے آپ نے سرکہ منگایا اور اسی کے ساتھ روٹی کھا نا شروع کردی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ۔ " سرکہ عمدہ سالن ہے سرکہ عمدہ سالن ہے ۔ "
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) took hold of my hand one day (and led me) to his residence. There was presented to him some pieces of bread, whereupon he said: Is there no condiment? They (the members of his household) said: No, except some vinegar. He (the Holy Prophet) said: Vinegar is a good condiment. Jabir رضی اللہ عنہ said: I have always loved vinegar since I heard it trom Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Talha said: I have always loved vinegar since I heard about it from Jabir.
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم الدورقی نے بیان کیا, اسماعیل بن علیہ نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی کہا , مجھے طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت جا بربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تو خادم آپ کے لیے روٹی کے کچھ ٹکڑے نکال کر لا یا آپ نے پو چھا : " کو ئی سالن نہیں ہے؟ " اس نے کہا : تھوڑا سا سرکہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " بلا شبہ سرکہ عمدہ سالن ہے ۔ " حضرت جا بر رضی اللہ عنہ نے کہا : جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے میں سرکہ پسند کرتا ہوں اور طلحہ ( راوی ) نے کہا : جب سے میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے میں بھی سرکے کو پسند کرتا ہوں ۔
This hadith is reported on the authority of Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) took hold of his hand and led him to his residence as narrated above up to the words: Vinegar is a good condiment. But in the hadith transmitted through this chain of transmitters, there is no mention of the subsequent part.
نصر کے والد علی جہضمی نے کہا : ہمیں مثنیٰ بن سعید نے طلحہ بن نافع سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : " سرکہ عمدہ سالن ہے " تک ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
While I was sitting in my house there happened to pass by me Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He made a gesture to me and I stood up for him. He took hold of my hand until we came to one of the apartments of his wives. He entered and then asked me to get in. So I entered and there was hanging a curtain beside her. He (the Holy Prophet) said: Is there any food (with you)? They (the members of the household) said: Yes And then there were brought three loaves of bread for him (the Holy Prophet ﷺ) and placed in the basket of palm leaves. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) picked up one loaf and placed that before him, and then picked up another one and placed it before me. He then picked up the third one and broke it into two parts, and kept the one-half before him and the other half before me, and then said: Is there any condiment? They (the members of the household) said: There is nothing (in the form of condiment) but some vinegar only. He said: Bring that, for vinegar is a good condiment.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا, حجاج بن ابی زینب نے کہا : مجھے ابو سفیان طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا
میں کسی گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میرے پاس سے ہوا ، آپ نے میری طرف اشارہ کیا میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا آپ نے میرا ہا تھ پکڑا اور چل پرے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا کے حجروں میں سے کسی کےحجرے پر آئے اور اندر داخل ہو گئےپھر مجھے بھی آنے کی اجازت دی میں ( حجرہ انورمیں ) ان کے حجاب کے عالم میں داخل ہوا آپ نے فرما یا : " کچھ کھا نے کو ہے؟ " گھر والوں نے کہا : ہے اور تین روٹیاں لا ئی گئیں اور ان کو ایک اونی رومال ( دستراخوان ) پر رکھ دیا گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے تیسری کے دوٹکڑے کیے ، آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے پو چھا : " کو ئی سالن بھی ہے؟ " گھر والوں نے کہا : تھوڑا سا سرکہ ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " لے آؤ سرکہ کیا خوب سالن ہے ! "
Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ reported:
when food was brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) he ate out of that, and sent the remaining part to me, and one day he sent to me the left-over; (I found that he) had not taken from it at all for it included garlic. I asked him whether that was forbidden, whereupon he said: No, but I do not like it because of its odour. He (Abu Ayyub Ansari) said: Then I also do not like what you do not like.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا اور اس کا قول ابن المثنیٰ کا ہے, محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے جا بر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے انھوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کو ئی کھا نا لا یا جا تا تو آپ اس میں سے تناول فرماتے اور جو بچ جا تا اسے میرے پاس بھیج دیتے ایک دن آپ نے میرے پاس بچا ہوا کھا نا بھیجا جس میں سے آپ نے خود کچھ نہیں کھا یا تھا کیونکہ اس میں ( کچا ) لہسن تھا میں نے آپ سے پو چھا : کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرما یا : " نہیں لیکن میں اس کی بد بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ " میں نے عرض کی : جو آپ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے ۔
This Hadith is narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Aflah the freed slave of Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had alighted in his house (viz. of Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ at the time of his emigration to Medina) and he occupied the lower story, whereas Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ lived in the upper story. One night, Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ got up and said (to himself): (How unfortunate it is) that we walk above the head of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), so they went aside and spent the night in a nook and then told Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about it whereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The lower storey is more comfortable (for me). but he (Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ) said: We (would not live) over the roof under which you live. So Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) shifted to the upper storey, whereas Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ shifted to the lower storey; and he (Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ ) used to prepare food for Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ); and when it was brought (back) to him he asked (to locate) the part, where his fingers had touched (the food), and he followed his fingers on that part where his fingers (those of the Holy Prophet) had touched it. (One day) he prepared food which contained garlic, and when it was returned to him he asked (to locate) the part which the fingers of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had touched. It was said to him that he had not eaten (the food). He (Abd Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ ) was distressed and went up to him (to the Holy Prophet) and said: Is it forbidden? But Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: No, (it is not forbidden), but I do not like it. and he (Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ ) said: I also do not like what you do not like or which you did not like. He (Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ ) said: (The Prophet did not eat garlic) as Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was visited (by angels) and brought him the message of Allah.
مجھ سے حجاج بن الشاعر اور احمد بن سعید بن صخر نے بیان کیا، اور یہ قول ان کے قریب ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا: ثابت نے بیان کیا۔ حجاج بن یزید ابو زید الاہوال کی روایت: ہم سے عاصم بن عبداللہ بن الحارث نے افلح مولا کی سند سے بیان کیا, حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام افلح نے حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں مہمان ٹھرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے مکان میں رہے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کے درجہ میں تھے ۔ ایک دفعہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں ، پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے ۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر جانے کے لئے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیچے کا مکان آرام کا ہے ( رہنے والوں کے لئے اور آنے والوں کے لئے اور اسی لئے رسول اللہ نیچے کے مکان میں رہتے تھے ) ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کے درجہ میں تشریف لے گئے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آ گئے ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کرتے تھے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آتا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھاتے اور اس کے بعد بچا ہوا کھانا واپس جاتا ) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ ( آدمی سے ) پوچھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کھانے کی کس جگہ پر لگی ہیں اور وہ وہیں سے ( برکت کے لئے ) کھاتے ۔ ایک دن سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا ، جس میں لہسن تھا ۔ جب کھانا واپس گیا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کہاں لگی تھیں؟ انہیں بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نہیں کھایا ۔ یہ سن کر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور اوپر گئے اور پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہے ، مجھے بھی ناپسند ہے ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( فرشتے ) آتے تھے ( اور فرشتوں کو لہسن کی بو سے تکلیف ہوتی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھاتے ) ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
A person came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: I am hard pressed by hunger. He sent (message) to one of his wives (to procure food for him). but she said: By Him Who has sent you with Truth, I do not have anything but water. He (the Holy Prophet) then sent the (same) message to another, and she gave the same reply, until all of them gave the same reply: By Him Who has sent thee with the Truth, there is nothing with me but only water, whereupon he (the Holy Prophet) said: Allah would show mercy to him who will entertain this guest tonight. A person from the Ansar stood up and said: Messenger of Allah, I (am ready to entertain). He took him to his house and said to his wife: Is there anything with you (to serve the gdest)? She said: No, but only a subsistence for our children. He said: Distract their attention with something, and when the guest enters extinguish the lamp and give him the impression that we are eating. So they sat down. and the guest had his meal. When it was morning he went to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who said: Allah was well pleased with what you both did for your guest this night.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, جریر بن عبدالحمید نےفضیل بن غزوان سے ، انھوں نے ابو حازم اشجعی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے ( کھانے پینے کی ) بڑی تکلیف ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس کہلا بھیجا ، وہ بولیں کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے کہ میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ، یہاں تک کہ سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے یہی جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی رات کون اس کی مہمانی کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، تب ایک انصاری اٹھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں کرتا ہوں ۔ پھر وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ وہ بولی کہ کچھ نہیں البتہ میرے بچوں کا کھانا ہے ۔ انصاری نے کہا کہ بچوں سے کچھ بہانہ کر دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے اور دیکھنا جب ہم کھانے لگیں تو چراغ بجھا دینا ۔ پس جب وہ کھانے لگا تو وہ اٹھی اور چراغ بجھا دیا ( راوی ) کہتا ہے وہ بیٹھے اور مہمان کھاتا رہا ۔ اس نے ایسا ہی کیا اور میاں بیوی بھوکے بیٹھے رہے اور مہمان نے کھانا کھایا ۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے تعجب کیا جو تم نے رات کو اپنے مہمان کے ساتھ کیا ( یعنی خوش ہوا ) ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
A guest spent the night with a person from the Ansar who had nothing with him but food (sufficient) for his own self and his children. He said to his wife: (Lull) the children to sleep, and put out the lamp, and serve the guest with what you have with you. It was on this occasion that this verse was revealed: Those who prefer the needy to their own selves in spite of the fact that they are themselves in pressing need (Lix. 9).
ہم سے ابو کریب محمد بن العلٰا نے بیان کیا, وکیع نے فضیل بن غزوان سے ، انھوں نے ابوحازم سے ، انھوں نےابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ
انصار میں سے ایک آدمی کے پاس ایک مہمان نے رات گزاری ، ان کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھاناتھا ، اس نے اپنی بیوی سے کہا ، بچوں کو سلا دو اور چراغ بھجادو اورجو کھانا تمہارے پاس ہے وہ مہمان کے قریب کردو ، تب یہ آیت نازل ہوئی : وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ " وہ ( دوسروں کو ) خود پرترجیح دیتے ہیں چاہے انھیں سخت احتیاج لاحق ہو ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
A man came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) so that he should entertain him as a guest, but he had nothing with which he could entertain him. He, therefore, asked if there was any person who would entertain him (assuring the audience) that Allah would show mercy to him. A person from the Ansar who was called Abu Talha رضی اللہ عنہ stood up and he took him to his house. The rest of the hadith is the same and mention is (also) made in that about the revelation of the verse as narrated by Waki'.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابن فضیل نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابو حازم سے انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مہمان بنالیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میزبانی کےلئے کچھ بھی نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی ایسا شخص ہے جواس کو مہمان بنائے؟اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے! " انصار میں سے ایک شخص کھڑے ہوگئے ، انھیں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہاجاتا تھا ، وہ اس ( مہمان ) کواپنے گھر لے گئے ، اس کے بعد جریر کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی ، انھوں نے بھی وکیع کی طرح آیت نازل ہونے کا ذکر کیا ۔
Miqdad رضی اللہ عنہ reported:
I and two of my companions were so much afflicted by hunger that we had lost our power of seeing and hearing. We presented ourselves (as guests) to the Companions of the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ), but none amongst them would entertain us. So we came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he took us to his residence and there were three goats. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Milk these for us. So we milked them and every person amongst us drank his share and we set aside the share of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). (It was his habit) to come during the night and greet (the people present there) in a manner that would not wake up one in sleep but make one who was awake hear it. He would then go to the mosque and say prayer, then go to the milk and drink it. Miqdad added: One night the Satan came to me when I had taken my share, and he said: Muhammad has gone to the Ansar, who would offer him hospitality and he would get what is with them, and he has no need for this draught (of milk). So I took (that milk) and drank it, and when it had penetrated deeply in my stomach and I was certain that there was no way out (but to digest it), the Satan aroused (my sense of) remorse and said: Woe be to thee! what have you done? You have taken the drink reserved for Muhammad! When he would come and he would not find it, he would curse you, and you would be ruined, and thus there would go (waste) this world and the Hereafter (for) you. There was a sheet over me; as I placed (pulled) it upon my feet, my head was uncovered and as I placed it upon my head, my feet were uncovered, and I could not sleep, but my two companions had gone to sleep for they had not done what I had done. There came Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he greeted as he used to greet (by saying as-Salamu 'Alaikum). He then came to the mosque and observed prayer and then came to his drink (milk) and uncovered it, but did not find anything in it. He raised his head towards the sky, and I said (to myself) that he (the Holy Prophet) was going to invoke curse upon me and I would be thus ruined; but he (the Holy Prophet) said: Allah, feed him who fed me and give drink to him who provided me drink. I held tight the sheet upon myself (and when he had supplicated), I took hold of the knife and went to the goats (possessed by the Holy Prophet) so that I may slauhter one for Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) which was the fattest amongst them, and in fact all of them were milch goats; then I took hold of the vessel which belonged to the family of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in which they used to milk and drink therefrom, and milked them in that until it swelled up with foam. I came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he said: Have you taken your share of the milk during the night? I said: Drink it. and he drank it; he then handed over (the vessel) to me and I said: Allah's Messenger, drink it, and he drank it and handed over (the vessel) to me again, I then perceived that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had been satiated and I had got his blessings. I burst into laughter (so much) so that I fell upon the ground, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Miqdad, it must be one of your mischiefs. I said: Allah's Messenger, this affair of mind is like this and this. and I have done so. Thereupon. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: This is nothing but a mercy from Allah. Why is it that you did not give me an opportunity so that we should have awakened our two friends and they would have got their share (of the milk)? I said: By Him Who has sent you with Truth. I do not mind whatever you give (to them), and whatever the (other) people happen to get, when I had got it along with you from among the people.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, شبانہ بن سوار نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت مقدار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں اور میرے دونوں ساتھی آئے اور ( فاقہ وغیرہ کی ) تکلیف سے ہماری آنکھوں اور کانوں کی قوت جاتی رہی تھی ۔ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر پیش کرتے تھے لیکن کوئی ہمیں قبول نہ کرتا تھا ۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے ۔ وہاں تین بکریاں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا دودھ دوہو ، ہم تم سب پئیں گے پھر ہم ان کا دودھ دوہا کرتے اور ہم میں سے ہر ایک اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھ چھوڑتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے اور ایسی آواز سے سلام کرتے جس سے سونے والا نہ جاگے اور جاگنے والا سن لے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے ، نماز پڑھتے ، پھر اپنے دودھ کے پاس آتے اور اس کو پیتے ۔ ایک رات جب میں اپنا حصہ پی چکا تھا کہ شیطان نے مجھے بھڑکایا ۔ شیطان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو انصار کے پاس جاتے ہیں ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے ہیں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت ہے ، مل جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہو گی؟ آخر میں آیا اور وہ دودھ پی گیا ۔ جب دودھ پیٹ میں سما گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ دودھ نہیں ملنے کا تو اس وقت شیطان نے مجھے ندامت کی اور کہنے لگا کہ تیری خرابی ہو تو نے کیا کام کیا؟ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ پی لیا ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے اور دودھ کو نہ پائیں گے تو تجھ پر بددعا کریں گے اور تیری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوں گی ۔ میں ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا جب اس کو پاؤں پر ڈالتا تو سر کھل جاتا اور جب سر ڈھانپتا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور مجھے نیند بھی نہ آ رہی تھی جبکہ میرے ساتھی سو گئے اور انہوں نے یہ کام نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور معمول کے موافق سلام کیا ، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی ، اس کے بعد دودھ کے پاس آئے ، برتن کھولا تو اس میں کچھ نہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا میں سمجھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرتے ہیں اور میں تباہ ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! کھلا اس کو جو مجھے کھلائے اور پلا اس کو جو مجھے پلائے ۔ یہ سن کر میں نے اپنی چادر کو مضبوط باندھا ، چھری لی اور بکریوں کی طرف چلا کہ جو ان میں سے موٹی ہو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کروں ۔ دیکھا تو اس کے تھن میں دودھ بھرا ہوا ہے ۔ پھر دیکھا تو اور بکریوں کے تھنوں میں بھی دودھ بھرا ہوا ہے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا ایک برتن لیا جس میں وہ دودھ نہ دوہتے تھے ( یعنی اس میں دوہنے کی خواہش نہیں کرتے تھے ) ۔ اس میں میں نے دودھ دوہا ، یہاں تک کہ اوپر جھاگ آ گیا ( اتنا بہت دودھ نکلا ) اور میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے حصے کا دودھ رات کو پیا یا نہیں؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ دودھ پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر مجھے دیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور پیا ۔ پھر مجھے دیا ، جب مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی ہے ، تب میں ہنسا ، یہاں تک کہ خوشی کے مارے زمین پر گر گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مقداد! تو نے کوئی بری بات کی؟ وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا حال ایسا ہوا اور میں نے ایسا قصور کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت کا دودھ ( جو خلاف معمول اترا ) اللہ کی رحمت تھی ۔ تو نے مجھ سے پہلے ہی کیوں نہ کہا ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی جگا دیتے کہ وہ بھی یہ دودھ پیتے؟ میں نے عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا کلام دے کر بھیجا ہے کہ اب مجھے کوئی پرواہ نہیں جب آپ نے اللہ کی رحمت حاصل کر لی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل کی تو کوئی بھی اس کو حاصل کرے ۔
This hadith has been reported on the authority of Mughira with the same chain of transmitters.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, نضر بن شمیل نے سلیمان بن مغیرہ سے اسی سند کےساتھ روایت کی ۔
Abdul-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہ reported:
We were one hundred and thirty (persons) with Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Does any one of You possess food? There was a person with (us) who had a sa' of flour or something about that, and it was kneaded. Then a tall polytheist with dishevelled hair came driving his flock of sheep. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Would you like to sell it (any one of these goats) or offer it as a gift or a present? He said: No, (I am not prepared to offer as a gift), but I would sell it. He (the Holy Prophet) bought a sheep from him, and it was slaughtered and its meat was prepared, and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded that its liver should be roasted. He (the narrator) said: By Allah, none among one hundred and thirty persons was left whom Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had not given a part out of her liver; if anyone was present he gave it to him. but if he was absent it was set aside for him. And he (the Holy Prophet) filled two bowls (one with soup and the other with mutton) and we all ate out of them to our hearts' content, but (still) some part was (left) in (those) two bowls, and I placed it on the camel- (or words to the same effect).
عبید اللہ بن معاذ العنبری، حامد بن عمر البکراوی اور محمد بن عبد الاعلٰی نے ہم سے المعتمر بن سلیمان کی سند سے بیان کیا۔ اور یہ قول ابن معاذ سے ہے، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, ابو عثمان نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سو تیس آدمی تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کسی پاس کھانا ہے؟ ایک شخص کے پاس ایک صاع اناج نکلا یا تھوڑا کم یا زیادہ ۔ پھر وہ سب گوندھا گیا ۔ پھر ایک مشرک آیا ، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے لمبا بکریاں لے کر ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو ( بکری ) بیچتا ہے یا ہدیہ دیتا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں بیچتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی تو اس کا گوشت تیار کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلیجی ، گردے ، ۔ دل وغیرہ کو بھوننے کا حکم دیا ، ( حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوتیس آدمیوں میں سے ہر ایک شخص کو اس کی کلیجی وغیرہ کا ایک ٹکڑا دیا ، جو شخص موجودتھا اس کو دے دیا اور جو موجود نہیں تھا اسکے لئے رکھ لیا ۔ ( عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : آپ نے ( کھانے کے لئے ) دو بڑے پیالے بنائے اور ہم سب نے ان دو پیالوں میں سے کھایا اور سیر ہوگئے ، دونوں پیالوں میں کھانا پھر بھی بچ گیا تو میں نے اس کو اونٹ پر لاد لیا یاجس طرح انھوں نےکہا ۔
Abdul-Rabman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہ reported:
The people of Suffa were very poor. Once the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said (to his Companions): He who amongst you has food for two persons should take three (guests with him). and he who has with him food for four persons should take five or six (guests with him for entertaining them). It was (in accordance with these instructions of the Holy Prophet) that Abu Bakr رضی اللہ عنہ brought three persons, and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) brought ten persons (as guests to their respective houses). Abu Bakr رضی اللہ عنہ had brought three persons (he himself, and myself), my father and my mother (along with therm). He (the narrator) said: I do not know whether he also said: My wife and one servant who was common between our house and that of Abu Bakr رضی اللہ عنہ. Abu Bakr رضی اللہ عنہ had had his evening meal with Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He stayed here until night prayer had been offered. He then came back (to the house of Allah's Apostle) and stayed there until Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) felt drowsy and (Abu Bakr رضی اللہ عنہ ) then came (back to his own house) when (a considerable) part of the night had been over, as Allah had desired. His wife said to him: What held you back from your guests? He said: Oh! have you not served them the evening meal (by this time)? She said: It was in fact served to them. but they refused to eat until you came. He ('Abdul-Rahman) said: I slunk away and bid myself. He (Abu Bakr رضی اللہ عنہ ) said: O, you stupid fellow, and he reprimanded me, and said to the guests: Eat, though it may not be pleasant now. He said: By Allah. I will never eat it He ('Abdul-Rahman) said: By Allah. we did not take a morsel when from beneath that (there appeared) more until they had eaten to their fill, and lo! it was more than what it was before. Abu Bakr رضی اللہ عنہ saw that and found that it was so or more than that. He said to his wife: Sister of Band Firis, what is th-is? She said: By the coolness of my eyes. it is in excess by three times over the previous one. Then Abu Bakr رضی اللہ عنہ ate saying: That was from the Satan (viz. his vow for not eating the food). He then took a morsel out of that and then took it (the rest) to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and it was kept there until morning, and during (those days) there was a covenant between us and some other people, and the period of covenant was over, and we had appointed twelve officials with every person amongst them. It is Allah only Who knows as to how many people were there with each of them. He sent (this food to them) and all of them ate out of it.
عبید اللہ بن معاذ العنبری، حامد بن عمر البکراوی، اور محمد بن عبد الاعلٰی القیسی نے ہم سے المتمیر اور کلام کی سند سے بیان کیا ہے۔ از ابن معاذ, معمبر بن سلیمان کے والد نے کہا : ہمیں ابو عثمان نے حدیث بیان کی کہ انھیں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
اصحاب صفہ محتاج لوگ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا کہ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تین ( تیسرے : صحیح بخاری : 602 ) کولے جائے ۔ اور جس کے پاس چار کا ہو وہ پانچویں یا چھٹے کو بھی لے جائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمیوں کو لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو لے گئے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال بھی دس کے قریب تھے تو گویا آدھا کھانا مہمانوں کے لئے ہوا ) ۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے گھر میں کوئی نہیں تھا سوائے میرے باپ اور میری ماں کے ۔ راوی نے کہا کہ شاید اپنی بیوی کا بھی کہا اور ایک خادم جو میرے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا ۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رات کا کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا ، پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھی گئی ۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ گئے اور وہیں رہے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ۔ غرض بڑی رات گزرنے کے بعد جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر آئے اور ان کی بیوی نے کہا کہ تم اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر کہاں رہ گئے تھے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے ان کو کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے کہا کہ مہمانوں نے تمہارے آنے تک نہیں کھایا اور انہوں نے مہمانوں کے سامنے کھانا پیش کیا تھا لیکن مہمان ان پر نہ کھانے میں غالب ہوئے ۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ناراضگی کے ڈر سے ) چھپ گیا تو انہوں نے مجھے پکارا کہ اے سست مجہول یا احمق! تیری ناک کٹے اور مجھے برا کہا اور مہمانوں سے کہا کہ کھاؤ اگرچہ یہ کھانا خوشگوار نہیں ہے ( کیونکہ بے وقت ہے ) ۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اللہ کی قسم میں اس کو کبھی بھی نہ کھاؤں گا ۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم جو لقمہ اٹھاتے نیچے وہ کھانا اتنا ہی بڑھ جاتا ، یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے اور کھانا جتنا پہلے تھا اس سے بھی زیادہ ہو گیا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کھانے کو دیکھا کہ وہ اتنا ہی ہے یا زیادہ ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنی عورت سے کہا کہ اے بنی فراس کی بہن یہ کیا ہے؟ وہ بولی کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ) کہ یہ تو پہلے سے بھی زیادہ ( ہوگیا ) ہے تین حصے زیادہ ہے ۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کھایا اور کہا کہ میں نے جو قسم کھائی تھی وہ ( غصے میں ) شیطان کی طرف سے تھی ۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا ، اس کے بعد وہ کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے ۔ میں بھی صبح کو وہیں تھا اور ہمارے اور ایک قوم کے درمیان عقد تھا ( یعنی صلح کا اقرار تھا ) ، پس اقرار کی مدت گزر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ آدمی ہمارے افسر کئے اور ہر ایک کے ساتھ لوگ تھے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہر ایک کے ساتھ کتنے لوگ تھے ۔ پھر وہ کھانا ان کے ساتھ کر دیا اور سب لوگوں نے اس میں سے کھایا ۔ یا جس طرح انہوں نے بیان کیا ۔
Abdul-Rahman bin Abd Bakr رضی اللہ عنہ reported:
There came to our house some guests. It was a common practice with my father to (go) and talk to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) during the night. While going he said: 'Abdul-Rahman, entertain the guests. When it was evening we served the food to them, but they refused saying: So long as the owner of the house does not come and join us, we would not take the meal. I said to them: He ('Abd Bakr رضی اللہ عنہ ) is a stern person, and if you would not do that (if you do not take the food). I fear, I may be harmed by him, but they refused. As he (my father) came, the first thing he asked was: Have you served the guests? They (the people of the household) said: We have not served them sofar. He said: Did I not command 'Abdul-Rahman (to do this)? He ('Abdul-Rahman) said: I slunk away and kept myself away by that time. He again said: O stupid fellow, I ask you on oath that In case you hear my voice you come to me. I came and said: By Allah, there is no fault of mine. These are your guests; you may ask them. I provided them with food but they refused to eat until you came. He said to them: Why is it that you did not accept our food? By Allah, I shall not even take food tonight (as you have not taken). They said: By Allah, we would not take until you join us. Thereupon he Abu Bakr رضی اللہ عنہ ) said: I have never seen a more unfortunate night than this. Woe be to thee! that you do not accept from us food prepared for you. He again said: What I did first (that is the taking of vow for not eating the food) was prompted by the Satan. Bring the food. The food was brought, and he ate by reciting the name of Allah and they also ate, and when it was morning he came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Allah's Messenger, their oath (that of the guests) came to be true, but mine was not true, and after that he informed him of the whole incident. He said: Your oath came to be the most true and you are the best of them. He (the narrator) said. I do not know whether he made an atonement for it.
مجھ سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے سالم بن نوح العطار نے بیان کیا, جریری نے ابو عثمان سے ، انھوں نے حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہمارے ہاں ہمارے کچھ مہمان آئے ، میرے والد رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے تھے ، وہ چلے گئے اور مجھ سے فرمایا : عبدالرحمن! تم اپنے مہمانوں کی سب خدمت بجا لانا ۔ جب شام ہوئی تو ہم نے ( ان کے سامنے ) کھانا پیش کیا ، کہا : توانھوں نے انکار کردیا اور کہا : جب گھر کے مالک ( بچوں کے والد ) آئیں گے اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے ( ہم اس وقت کھانا کھائیں گے ۔ ) کہا : میں نے ان کو بتایا کہ وہ ( میرے والد ) تیز مزاج آدمی ہیں ، اگرتم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے خدشہ ہے کہ مجھے ان کی طرف سے سزا ملے گی ۔ کہا : لیکن وہ نہیں مانے ، جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے تو ان ( کے متعلق پوچھنے ) سے پہلے انھوں نے کوئی ( اور ) بات شروع نہ کی ۔ انھوں نے کہا : مہمانوں ( کی میزبانی ) سے فارغ ہوگئے ہو؟گھر والوں نے کہا : واللہ! ابھی ہم فارغ نہیں ہوئے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں نے عبدالرحمن کو کہا نہیں تھا؟ ( حضرت عبدالرحمن نے ) کہا : میں ایک طرف ہٹ گیا انھوں نے آواز دی : عبدالرحمان! میں کھسک گیا ۔ پھر انہوں نے کہا : اے احمق!میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آوازسن رہا ہے تو آجا ۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں آگیا اور میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔ یہ ہیں آپ کے مہمان ان سے پوچھ لیجئے ، میں ان کاکھانا ان کے پاس لایاتھا ، انہوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکاور کردیا ، ( عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہاتو انھوں ( حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ( ان سے ) کہا : کیا بات ہے؟تم نے ہمارا پیش کیا ہواکھانا کیوں قبول نہیں کیا؟ ( عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!میں آج رات یہ کھانا نہیں کھاؤں گا ۔ مہمانوں نے کہا اللہ کی قسم!ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک آپ نہیں کھاتے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس شر جیسا ( شر ) ، اس رات جیسی ( رات ) میں نے کبھی نہیں دیکھی ، تم لوگوں پر افسوس!تمھیں کیا ہے؟تم لوگوں نے ہماری دعوت قبول کیوں نہیں کی؟پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( میری ) پہلی بات ( نہ کھانے کی قسم ) شیطان کی طرف سے ( ابھارنے پر ) تھی ۔ چلو ، اپنا میزبانی کا کھانا لاؤ ۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر کھانالایا گیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا صبح ہوئی تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان لوگوں نے قسم پوری کرلی اور میں نے توڑدی ( کہا ) پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : نہیں ، تم ان سے بڑھ کر قسم پوری کرنے والے ہو ، ان سے بہتر ہو ، " ( حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھ تک کفارہ دینے کی بات نہیں پہنچی ( مجھے معلوم نہیں کہ میرے والد نے کفارہ دیا یا کب دیا ۔ )