This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitter.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, ابن عینیہ ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle (ﷺ) forbade dyeing (one's cloth or hair) in saffron. Hammad said that it pertains to men only.
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو ربیع اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفرانی رنگ ( سے رنگے کپڑے پہننے ) سے منع فرمایا ۔ قتیبہ نے کہا کہ حماد نے کہا : یعنی مردوں کو ( منع فرمایا )
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade that a person should (wear) clothes dyed in saffron.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن نمیر اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو زعفرانی رنگ ( پہننے ) سے منع فرمایا ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
When Abu Qubafa رضی اللہ عنہ (father of Abu Bakr) came in the yeu of Victory or on the Day of Victory (to the Prophet to pledge his allegiance to him) his head and his beard were white like hyssop. He (the Holy Prophet ﷺ) commanded or the women were commanded by him that they should change this with something (that the colour of his hair should be changed).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, ابوخیثمہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
فتح مکہ کے سال یا فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کو لایاگیا ، وہ آئے اور ان کے سر اور داڑھی کےبال ثغام یا ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کی عورتوں کوحکم دیا ، یا ان کے بارے میں ( ان کےگھر کی عورتوں کو ) حکم دیا گیا ، فرمایا : " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز ( اور رنگ ) سے بدل د یں ۔ "
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Abu Quhafa رضی اللہ عنہ was led (to the andience of the Holy Prophet ﷺ) on the day of the Conquest of Mecca and his head and beard were white like hyssop, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Change it with something but avoid black.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا,ابن جریج نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
فتح کہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا ، ان کے سر اورداڑھی کے بال سفیدی میں ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز سے تبدیل کردو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Jews and the Christians do not dye (their hair), so oppose them.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا اور تلفظ یحییٰ کا ہے کہ ہمیں اطلاع دیں۔ دوسرے نے کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے، ابوسلمہ اور سلیمان بن یسار کی سند سے بیان کیا, حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہود اوراور نصاریٰ ( بالوں کو ) رنگ نہیں لگا تے تم ان کی مخالفت کرو ( بالوں کو رنگ لگا ؤ ۔ )
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Gabriel ( علیہ السلام) made a promise with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to come at a definite hour; that hour came but he did not visit him. And there was in his hand (in the hand of Allah's Apostle) a staff. He threw it from his hand and said: Never has Allah or His messengers (angels) ever broken their promise. Then he cast a glance (and by chance) found a puppy under his cot and said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , when did this dog enter here? She said: By Allah, I don't know He then commanded and it was turned out. Then Gabriel came and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to him: You promised me and I waited for you, but you did not come, whereupon he said: It was the dog in your house which prevented me (to come), for we (angels) do not enter a house in which there is a dog or a picture.
مجھ سے سوید بن سعید نے بیان کیا, عبد العزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے ، چنانچہ وہ گھڑی آگئی لیکن جبرئیل علیہ السلام نہ آئے ۔ ( اس وقت ) آپ کے دست مبارک میں ایک عصاتھا ۔ آپ نے اسے اپنے ہا تھا سے ( نیچے پھینکا اور فرمایا : " نہ اللہ تعا لیٰ اپنے وعدے کی خلا ف ورزی کرتا ہے نہ رسول ( خلا ف ورزی کرتے ہیں ۔ ) " جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیا ء علیہ السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے ) پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چار پا ئی کے نیچے کتے " کا ایک پلا تھا ۔ آپ نے فرما یا : " عائشہ رضی اللہ عنہا ! یہ کتا یہاں کب گھسا ؟ " انھوں نے کہا : واللہ !مجھے بالکل پتہ نہیں چلا ۔ آپ نے حکم دیا تو اس ( پلے ) کو نکال دیا گیا ، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما یا : " آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے ۔ " انھوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا ، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں دا خخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ۔ نہ ( اس میں جہاں تصویر ہو) ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hazim with the same chain of transmitters:
Gabriel had promised Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he would come; the rest of the hadith is the same, but it is not so lengthy as the other one.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے بیان کیا, ہمیں وہب نے اسی سند کے ساتھ ابو حازم سے حدیث سنا ئی کہ
جبرا ئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے پھر حدیث بیان کی اور ابو حازم کے بیٹے کی طرح لمبی تفصیل نہیں بتا ئی ۔
Maimuna رضی اللہ عنہا reported:
One morning Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was silent with grief. Maimuna رضی اللہ عنہا said: Allah's Messenger, I find a change in your mood today. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Gabriel had promised me that he would meet me tonight, but he did not meet me. By Allah, he never broke his promises, and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) spent the day in this sad (mood). Then it occurred to him that there had been a puppy under their cot. He commanded and it was turned out. He then took some water in his hand and sprinkled it at that place. When it was evening Gabriel met him and he said to him: you promised me that you would meet me the previous night. He said: Yes, but we do not enter a house in which there is a dog or a picture. Then on that very morning he commanded the killing of the dogs until he announced that the dog kept for the orchards should also be killed, but he spared the dog meant for the protection of extensive fields (or big gardens).
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب نے اور ابن سبق نے بیان کیا کہ , عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتا یا کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فکر مندی کی حالت میں صبح کی ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آج دن ( کے آغاز ) سے آپ کی حالت معمول کے خلا ف دیکھ رہی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے ۔ بات یہ ہے کہ انھوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلا فی نہیں کی ، " کہا : تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا ۔ جو ہمارے ( ایک بستر کے نیچے بن جا نے والے ) ایک خیمہ ( نما حصے ) میں تھا ۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکا ل دیا گیا ، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا ۔ جب شام ہو ئی تو جبرائیل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟انھوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں ادا خل نہیں ہو تے جس میں کتا یا تصویر ہو ۔ پھر جب صبح ہو ئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آوارہ یا بے کا ر ) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا ، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی ( جورکھوالی نہیں کر سکتا ) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے ۔ ( ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پو ری کرتے ہیں )
Abu Talha رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having said: Angels do not enter a house in which there is a dog or a picture.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو الناقد نے اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور کہا باقی دو, سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
Abu Talha رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Angels do not enter the house in which there is a dog or a statue.
مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یو نس نے مجھے ابن شہا ب سے ، خبر دی انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سئے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے , میں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔ "
A hadith like that of Yunus (no. 5515) was narrated from Az-zuhri with this chain of narrators.
اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی , معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کے مانند اور سند میں خبر دینے کی صرا حت کرتے ہو ئے روایت کی ۔
Abu Tilha, the Companion of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having said: Verily, angels do not enter the house in which there is a picture. Busr reported: Zaid fell ill and we went to inquire after his health and (found) that there was hanging at his door a curtain with a picture on it. I said to 'Ubaidullah Khaulani who had been under the patronage of Maimuna رضی اللہ عنہا , the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Did not Zaid himself inform us before about (the Holy Prophet's command pertaining to the pictures), whereupon 'Ubaidullah said: Did you not hear when he said: Except the prints on the cloth ?
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث سنا ئی انھوں نے بسربن سعید سے ، انھوں نے زید بن خالد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو طلحہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : بلا شبہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کو ئی تصویر ہو ۔ "" بسر نے کہا : پھر اس اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے ۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ( دیکھا ) ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر ( بنی ہو ئی ) تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے لے پا لک عبید اللہ خولا نی سے کہا : کیا حضرت زید نے پہلےدن ( جب ملا قات ہو ئی تھی ۔ ) ہمیں تصویر ( کی ممانعت ) کے بارے میں خبر ( حدیث ) بیان نہیں کی تھی؟ تو عبید اللہ نے کہا : جب انھوں نے "" کپڑے پربنے ہو ئے نقش کے سوا "" کے الفاظ کہے تھے تو کیا تم نے نہیں سنے تھے؟
Abu Talha رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Angels do not enter a house in which there is a picture. Busr said: Zaid bin Khalid fell sick and we visited him to inquire after his health. As we were in his house (we saw) a curtain having pictures on it. I said to 'Ubaidullah Khaulani: Did he not narrate to us (the Holy Prophet's command pertaining to pictures)? Thereupon he said: He in fact did that (but he also said): Except the prints upon the cloth. Did you not hear this? I said: No, whereupon He said: He had in fact made a mention of this.
ہم سے ابو الطاہر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انھیں بکیر بن اشج نے حدیث سنا ئی ، انھیں بسر بن سعید نے حدیث سنائی کہ زید بن خالد جہنی نے انھیں حدیث سنائی اور ( اس وقت ) بسر کے ساتھ عبید اللہ خولا نی تھے ۔ ( کہا ) حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے انھیں یہ حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں تصویر ہو ۔ بسر نے کہا : پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے ، ہم ان کی عیا دت کے لیے گئے تو ہم نے ان گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں میں نے عبید اللہ خولا نی سے کہا : کیا ( حضرت زید بن خالد نے ) ہمیں تصاویر کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی ؟ ( عبید اللہ نے ) کہا : انھوں نے ( ساتھ ہی یہ ) کہا تھا : " سوائے کپڑے کے نقش کے " کیا آپ نے نہیں سنا تھا " میں نے کہا : نہیں انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! انھوں نے اس کا ذکر کیا تھا ۔
It was narrated from Zaid bin Khalid Al-Juhni, from Abu Talhah Al-Ansari who said:
"I heard the Messenger of Allah ﷺ say: 'The angles do not enter a house in which there is a dog or image.'"
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے سہیل بن ابی صالح کی سند سے، وہ سعید بن یسار ابی الحباب کی سند سے, بنو نجار کے آزاد کردہ غلا م ابو حباب سعید بن یسار نے حضرت زید بن خالد جہنی سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے " اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ، نہ ( اس میں جہاں ) مجسمے ہوں ۔ "
Abu Talha Ansari رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Angels do not enter the house in which there is a picture or portraits. I came to 'A'isha رضی اللہ عنہا and said to her: This is a news that I have received that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: Angels do not enter the house in which there is a picture or a dog, (and further added) whether she had heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) making a mention of it. She said: No (I did not hear this myself), but I narrate to you what I saw him doing. I bear testimony to the fact that he (the Holy Prophet ﷺ) set out for an expedition. I took a carpet and screened the door with it. When he (the Holy Prophet ﷺ) came back he saw that carpet and I perceived signs of disapproval on his face. He pulled it until it was torn or it was cut (into pieces) and he said: God has not commanded us to clothe stones and clay. We cut it (the curtain) and prepared two pillow out of it by stuffing them with the fibre of date-palms and he (the Holy Prophet ﷺ) did not find fault with it.
( سعید بن یسار نے ) کہا : ( یہ حدیث سن کر ) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا : انھوں ( ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ) نےکہا ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ۔ نہ ( اس میں ( جہاں کسی طرح کی تصویر یں ہوں ۔ " کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی جو انھوں نے بیان کی ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : نہیں ۔ ( میں نے اس طرح یہ الفاظ نہیں سنے ) لیکن میں تمھیں ہو بتا تی ہو ں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہو ئے دیکھا ۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے غزوے میں تشریف لے گئے تو میں نے نیچے بچھانے کا ایک مو ٹا ساکپڑا لیا اور دروازے پر اس کا پردہ بنادیا جب آپ آئے اور آپ نے وہ کپڑا دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے ، پھر آپ نے اسے پکڑ کر کھینچا اور اسے پھاڑ دیا اس کے ( دو ٹکرے کر دیے اور فرما یا : اللہ نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا ۔ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : پھر ہم نے اس کپڑے میں سے دو تکیے ( بنانے کے لیے دو ٹکڑے ) کاٹ لیے اور میں نے ان دونوں کے اندر کھجوروں کی چھا ل بھر دی ۔ آپ نے اس کے سبب سے مجھ پر کو ئی اعترا ض نہیں فرمایا.
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
We had a curtain with us which had portraits of birds upon it. Whenever a visitor came, he found them in front of him. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: Change them, for whenever I enter the room) I see them and it brings to my mind (the pleasures) of worldly life. She said: We had with us a sheet which had silk badges upon it and we used to wear it. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Muthanna but with this addition: 'Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not command us to tear that.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے ، انھوں نے عزرہ سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمن سے ، انھوں نے سعد بن ہشام سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
ہمارے ہاں ایک پردہ تھا جس میں پرندے کی تصویر تھی ، جب کوئی شخص اندر آتا یہ تصویر اس کےسامنے آجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اس پردے کو ہٹا دو کیونکہ میں جب بھی اندر آتا ہوں ۔ اور اس پردے کو دیکھتا ہوں تو دنیا کو یاد کرتا ہوں ۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ہمارے پاس ایک چادر تھی ، ہم کہتےتھے کہ اس کے کناروں پر سلا ہوا کپڑا ریشم ہے ، ہم اس چادر کو پہنتے تھے ۔
Ibn Abi Adiyy and Abdul-A'la narrated it with this chain of narrators (a hadith similar to no. 5421). Ibn Al-Muthanna said: "And he" -Meaning 'Abdullah "Added:
'The Messenger of Allah ﷺ did not tell us to cut it.'"
محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی اور عبدالاعلیٰ نے اسی سند کے ساتھ ( داود سے ) حدیث بیان کی ، ابن مثنیٰ نے کہا : اور اس میں انہوں نے ۔ ۔ ۔ ان کی مراد عبدالاعلیٰ سے ہے ۔ یہ اضافہ کیا
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چادر کو کاٹنے کا حکم نہیں دیا ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came back from the journey and I had screened my door with a curtain having portraits of winged horses upon it. He commanded me and I pulled it away.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا, ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے ، میں نےروئیں دار کپڑا دروازے کا پردہ بنایا ہوا تھا جس پر پروں والے گھوڑوں کی تصویریں تھیں تو آپ نے مجھے ( اتار نے کا ) حکم دیا تو میں نے اس کو اتاردیا ۔
Waki narrated it with this chain of narrator (a similar hadith to no. 5523), nd in the Hadith of Abdah it does not say: He came from a journey.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبدہ اور وکیع نے اسی سند کے ساتھ ہمیں ( ہشام بن عروہ سے ) حدیث بیان کی ، عبدہ کی حدیث میں " آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے " کے الفاظ نہیں ہیں ۔