Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Angels do not enter the house in which there are portrayals or pictures.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، وہ سلیمان بن بلال سے، سہیل کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں مجسمے ( بت ) یاتصاویر ہوں ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Angels do not accompany the travellers who have with them a dog and a bell.
ہم سے ابو کامل فضیل بن حسین الجہدری نے بیان کیا, بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سہیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( رحمت کے ) فرشتے ( سفرکے ) ان رفیقوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے درمیان کتا ہواور نہ ( ان کے ساتھ جن کے پاس ) گھنٹی ہو ۔ "
This hadith has been reported on the authority of Suhail with the same chain of transmitters.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, جریر اور عبد العزیز دراوردی دونوں نے سہل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The bell is the musical instrument of the Satan.
اور ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن جعفر نے، ہم سے العلاء کی سند سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " گھنٹی شیطان کی بانسری ہے ۔
Abu Bashir Ansari رضی اللہ عنہ reported:
He had had (the opportunity of accompanying Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in some of his journeys. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent one of his messengers 'Abdullah bin Abi Bakr said: I think he said (these words) when the people were at the places of rest: No necklace of strings be left on the necks of the camels or the necklace kept unbroken. Imam Malik said: To my mind (this practice) of wearing necklace round the necks of camels or animals was because of the fact that they (wanted to save them) from the influence of the evil eye.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: امام مالک نے عبد اللہ بن ابی بکر سے ، انھوں نے عباد بن تمیم سے روایت کی کہ حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے انھیں بتا یا کہ
وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کو بھیجا ۔ عبد اللہ ابو بکر نے کہا : میرا گمان ہے کہ انھوں نے کہا : لو گ اپنی اپنی سونے کی جگہ میں پہنچ چکے تھے ۔ ( اور حکم دیا ) : "" کسی اونٹ کی گردن میں تانت ( کمان کے دونوں سرے جوڑے نے والی مضبوط باریک چمڑے کی ڈوری ) کا ہا ر ۔ یا کو ئی بھی ہار ۔ نہ چھوڑ اجا ئے مگر اسے کاٹ دیا جا ئے ۔ "" امام مالک نے فرما یا : "" میراخیال ہے کہ یہ ( ہار ) نظر بد سے بچانے کے لیے ( گلے میں ڈالے جا تے ) تھے ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade striking on the face or branding on the face.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, علی بن مسہر نے ابن جریج سے ، انھوں نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرما یا کہ ( جانور کو ) منہ پر مارا جا ئے یا منہ پر نشانی ثبت کی جائے ۔
This hadith has been reported on the authority of Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا, حجاج بن محمد اور محمد بن بکر دونوں نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فر ما یا : سابقہ حدیث کے مانند ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
There happened to pass before Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) an ass the face of which had been cauterised, whereupon he said: Allah has cursed one who has cauterised it (on the face).
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن اعین نے بیان کیا, معقل نے ابو ہریرہ سے انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ پر داغا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے اسے ( منہ پر ) داغاہے اس پر اللہ کی لعنت ہو ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw an ass which had been cauterised on the face. He disapproved of it saying: By Allah, I do not cauterise (the animal) but on a part at a distance from the face, and commanded (for the cauterisation) of his ass and it was cauterised on the buttocks and he was the first to cauterise on the buttocks.
ہم سے احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن حارث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا کہ نعیم ابا عبداللہ صاحب , حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلا م ناعم ابو عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگا نے کے لیے داغا گیا تھا آپ نے اس کو بہت برا خیال کیا ، انھوں نے ( حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : اللہ کی قسم !میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کر تا ۔ پھر انھوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین ( کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے ) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Umm Sulaim رضی اللہ عنہا gave birth to a child. She said to him: Anas رضی اللہ عنہ, see that nothing is given to this child until he is brought to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in the morning, so that he should chew some dates and touch his palate with it. I went to him in the morning and he was in the garden at that time having the mantle of Jauniyya over him and he was bus in cauterising (the camels) which had been brought to him (as spoils of war) in victory (over the enemy).
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، مجھ سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ابن عون کی سند سے,محمد ( ابن سیرین ) نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، کہا
جب حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انھوں نے مجھ سے کہا : انس !اس بچے کا دھیان رکھو ، اس کے منہ میں کو ئی چیز نہ جا ئے یہاں تک کہ صبح تم اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جا ؤ آپ اسے گھٹی دیں گے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : کہ میں صبح کے وقت آیا ، اس وقت آپ باغ میں تھے ، آپ کے جسم پر ایک کا لے رنگ کی بنوجون کی بنا ئی ہو ئی منقش اونی چادر تھی اور آپ ان سواری کے جانوروں ( کے جسم ) پرنشان ثبت فر ما رہے تھے جو فتح مکہ کے زمانے میں ( فتح مکہ کے فوراً بعد جنگ حنین کے مو قع پر ) آپ کو حاصل ہو ئے تھے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
When his mother gave birth to a child they brought that child to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) so that he might chew some dates and touch his palate with them. and Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was at that time in the fold busy in cauterising the animals Shu'ba said: So far as I know (he was cauterising) their ears.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، کہ
جب ان کی والد کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ لوگ اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تا کہ آپ اسے گھٹی دیں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے اور بکریوں کو نشان لگا رہے تھے شعبہ نے کہا : میرا غالب گمان یہ ہے کہ انھوں نے ( حضرت انس رضی اللہ عنہ ) نے کہا تھا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) ان ( بکریوں ) کے کا نوں پر نشان لگا رہے تھے ۔ ( اونٹوں کو لگانے کے بعد بکریوں کو بھی وہیں لا کر نشان لگا رہے تھے ۔ )
Anas رضی اللہ عنہ reported:
We went to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as he was in the fold and he was cauterising the animals of the flock and I think (he was cauterising them) on their ears.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے ہشام بن زید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے باڑے میں گئے ، اس وقت آپ بکریوں کو نشان لگا رہے تھے ( ، شعبہ نے ) کہا : میرا خیال ہے ( ہشام نے ) کہا : کہ ان ( بکریوں ) کے کانوں پر ( نشان لگا رہے تھے ۔ )
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba through another chain of transmitters.
مجھ سے یحییٰ بن حبیب نے بیان کیا, خالد بن حارث محمد ( ابن جعفر غندر ) یحییٰ ( بن سعید قطان ) اور عبد الرحمن ( بن مہدی ) سب نے شعبہ سے ، اسی سند سے ، اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
I saw in the hand of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) an instrument for cauterisation and he was cauterising the caracia collected as Zakat.
ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، اوزاعی کی سند سے, اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نشان لگا نے والا آلہ دیکھا ، آپ صدقے میں آئے ہو ئے اونٹوں پر نشان ثبت فر ما رہے تھے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
I saw in the hand of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) an instrument for cauterisation and he was cauterising the caracia collected as Zakat.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے روایت کی کہا : مجھے عمر بن نافع نے اپنے والد سے خبردی ۔ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے " قزع " سے منع فرمایا ، میں نے نافع سے پو چھا : قزع کیا ہے ؟انھوں نے کہا : بچے کے سر کے کچھ حصے کے بال مونڈدیے جا ئیں اور کچھ حصے کو چھوڑ دیا جا ئے ۔
'Ubaidullah narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 5559), and the explanation in the hadith of Abu 'Usman was attributed to 'Ubaidullah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابو اسامہ اور عبد اللہ بن نمیر دونوں نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور انھوں نے ابو اسامہ کی حدیث میں ( قزع کی ) تفسیر کو عبید اللہ کا قول قراردیا ہے ۔ ( ان کے شاگردوں کے سامنے عبید اللہ نے یہ وضاحت نافع کی طرف منسوب کیے بغیر بیان کی ۔ )
This hadith has been narrated on the authority of 'Umar bin Nafi' with the same chain of transmitters and Muhammad bin Muthanna as well as 'Umar bin Nafi have given the same exposition (of the word Qaza') in their narration.
مجھ سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا, عثمان بن عثمان غطفانی اور روح ( بن قاسم ) نے عمر بن نافع سے عبید اللہ کی سند سے اسی کے مانند حدیث بیان کی اور دونوں نے تفسیر ( قزع کی وضاحت ) کو حدیث کا لا حقہ بنا یا ۔ ( الگ سے بیان نہیں کیا ۔ )
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
مجھ سے محمد بن رافع، حجاج بن الشعر اور عبد بن حمید نے عبد الرزاق کی سند سے، معمر کی سند سے بیان کیا, ایوب اور عبد الرحمٰن سراج نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی ۔
Abu Sa'id Al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Avoid sitting on the paths. They (his Companions) said: Allah's Messenger, there is no other help to it (but to sit there as we) hold our meetings and discuss matters there. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If you have to sit at all, then fulfil the rights, of the path. They said: What are their rights? Thereupon he said: Keeping the eye downward (so that you may not stare at the women), refraining from doing some harm to the other and exchanging mutual greetings (saying as-Salamu 'Alaikum to one another) and commanding the good and forbidding the evil.
مجھ سے سوید بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " راستوں میں بیٹھنے سے بچو ۔ " لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھے بغیر چارہ نہیں وہی ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر تم بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا ( جہاں مجلس ہے ) حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے پو چھا : راستے کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " نگا ہیں جھکا کر رکھنا ( چلنے والوں کے لیے ) تکلیف کا سبب بننے والی چیزوں کو ہٹانا سلام کا جواب دینا ، اچھی بات کا حکم دینا اور برا ئی سے روکنا ۔ "
This hadith has been reported on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters.
اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, عبد العزیز بن محمد مدنی اور ہشام بن سعید ان دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔