The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship
كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ
Chapter 46
Abu Sa'id Khudri and Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: Glory is His lower garment and Majesty is His cloak and (Allah says, ) He who contends with Me in regard to them I shall torment him.
ہم سے احمد بن یوسف الازدی نے بیان کیا، ہم سے عمر بن حفص بن غیث نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے الاعمش نے بیان کیا، ہم سے ابو اسحاق نے بیان کیا، ابو مسلم کی سند سے۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے اسے بتایا, حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، دونوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عزت اللہ عزوجل کا تہبند ہے اور کبریائی اس ( کے کندھوں ) کی چادر ہے ۔ جو شخص ان ( صفات ) کے معاملے میں میرے مدمقابل میں آئے گا ، میں اسے عذاب دوں گا ۔ "
Jundub رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stated that a person said: Allah would not forgive such and such (person). Thereupon Allah the Exalted and Glorious, said: Who is he who adjures about Me that I would not grant pardon to so and so; I have granted pardon to so and so and blotted out his deeds (who took an oath that I would not grant pardon to him).
ہم سے سوید بن سعید نے معتمر بن سلیمان سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابو عمران جونی نے حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی نے کہا : اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کون ہے جو مجھ پر قسم کھا رہا ہے کہ میں فلاں کو نہیں بخشوں گا؟ میں نے ( اس ) فلاں کو تو بخش دیا اور ( ایسا کہنے والے! ) تیرے سارے عمل ضائع کر دیے ۔ " یا جن الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger (may peace he upon him) as saying: Many a person with disheveled hair and covered with dust is turned away from the doors (whereas he is held in such a high esteem by Allah) that if he were to adjure in the name of Allah (about anything) Allah would fulfil that.
مجھ سے سوید بن سعید نے بیان کیا، مجھ سے حفص بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے علاء بن عبدالرحمٰن کی سند سے، اپنے والد کی سند سے,حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بہت سے غبار میں اٹے ہوئے ( غریب الوطن ، مسافر ) بکھرے ہوئے بالوں والے ، دروازوں سے دھتکار دیے جانے والے لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ پر ( اعتماد کر کے ) قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم پوری کر دیتا ہے ۔ "
Abu Huraira reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When a person says that people are ruined he is himself ruined. Abu Ishaq said: I do not know whether he said ahlakahum or ahlakuhum.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا, حماد بن ابی سلمہ اور امام مالک نے سہیل بن ابی صالح ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب ایک شخص ( یہ ) کہتا ہے : لوگ ہلاک ہو گئے تو وہ انہیں ہلاک کر دیتا ہے ۔ "" ( امام مسلم کے ایک شاگرد ) ابواسحاق نے کہا : مجھے ( یعنی طور پر ) معلوم نہیں کہ ( کاف کے ) زبر کے ساتھ اهلكهم ( اس نے انہیں ہلاک کر دیا ہے ) یا پیش کے ساتھ اهلكهم ( ان سب سے بڑھ کر ہلاک کرنے والا ہے ) ۔ ""
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا, روح بن قاسم اور سلیمان بن بلال نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Gabriel impressed upon me (kind treatment) towards the neighbour (so much) that I thought as if he would confer upon him the (right) of inheritance.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, مالک بن انس ، لیث بن سعد اور یزید بن ہارون سب نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی ، ( اسی طرح ) محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں عبدالوہاب ثقفی نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، کہا : مجھے ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے خبر دی کہ عمرہ نے ان کو حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ کہتی تھیں : میں نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " مجھے جبریل مسلسل ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کے لیے کہتے رہے ، حتی کہ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ ضرور انہی وراثت میں شریک کر دیں گے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha رضی اللہ عنہا through another chain of transmitters.
مجھ سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا, ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Gabriel impressed upon me (the kind treatment) towards the neighbour (so much) that I thought as if he would soon confer upon him the (right) of inheritance.
مجھ سے عبید اللہ بن عمر القواری نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زرعی نے بیان کیا, عمر بن محمد کے والد نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جبریل مجھے لگاتار ہمسائے کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے رہے حتی کہ مجھے یقین ہونے لگا کہ وہ اسے وارث ( بھی ) بنا دیں گے ۔ "
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Abu Dharr, when you prepare the broth, add water to that and give that (as a present) to your neighbour.
ہم سے ابو کامل الجہدری اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور ہم سے ابو کامل نے بیان کیا اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, عبدالعزیز بن عبدالصمد عمی نے کہا : ہمیں ابوعمران جونی نے عبداللہ بن صامت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوذر! جب تم شوربا پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسیوں کو یاد رکھو ۔ "
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) commanded me thus: Whenever you prepare a broth, add water to it, and have in your mind the members of the household of your neighbours and then give them out of this with courtesy.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا, شعبہ نے ابو عمران جونی سے ، انہوں نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی : " جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو ، پھر اپنے ہمسایوں میں سے کسی ( ضرورت مند ) گھرانے کو دیکھو اور اس میں سے کچھ اچھے طریقے سے ان کو بھجوا دو ۔ "
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: Don't consider anything insignificant out of good things even if it is that you meet your brother with a cheerful countenance.
مجھ سے ابو غسان المسمعی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عامر نے بیان کیا، یعنی الخزاز نے، کہا ہم سے ابو عمران الجونی نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ کی سند سے۔ ابن الصامت ,حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " نیکی میں کسی چیز کو حقیر نہ سمجھو ، چاہے یہی ہو کہ تم اپنے ( مسلمان ) بھائی کو کھلتے ہوئے چہرے سے ملو ۔ "
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
When any needy (person) came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with a need he commanded him to his Companions, saying: Make a recommendation for him, and you would get the reward. Allah, however, gives the verdict through the tongue of His Apostle what He likes most.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر اور حفص بن غیث نے بیان کیا، انہوں نے برید بن عبداللہ کی سند سے، وہ ابو بردہ کی سند سے, حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ضرورت مند آتا تو آپ اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے : " تم ( ابھی اس کی ) شفاعت کرو ، تمہیں بھی اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان سے وہی فیصلہ جاری کرائے گا جو اس کو پسند ہو گا ۔ "
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The similitude of good company and that of bad company is that of the owner of musk and of the one (iron-smith) blowing bellows, and the owner of musk would either offer you free of charge or you would buy it from him or you would. smell its pleasant odour, and so far as one who blows the. bellows is concerned, he would either burn your clothes or you shall have to smell its repugnant smell.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، وہ برید بن عبداللہ نے اپنے دادا کی سند سے, حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : " نیک ہم نشیں اور بُرے ہم نشیں کی مثال مُشک بردار اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے ، مُشک بردار یا تم کو ہدیے میں مشک دے دے گا یا تم اس سے خرید لو گے ، ورنہ کم از کم تمہیں اس سے اچھی خوشبو آئے گی اور بھٹی دھونکنے والا یا تو ( چنگاریوں سے ) تمہارے کپڑے جلائے گا یا تمہیں ( اس سے ) بدبُو آئے گی ۔ "
A'isha رضی اللہ عنہا , the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said:
A woman came to me along with her two daughters. She asked me for (charity) but she found nothing with me except one date, so I gave her that. She accepted it and then divided it between her two daughters and herself ate nothing out of that. She then got up and went out, and so did her two daughters. (In the meanwhile) Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) visited me and I narrated to him her story. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who is involved (in the responsibility) of (bringing up) daughters, and he accords benevolent treatment towards them, there would be protection for him against Hell-Fire.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن قحزاز نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ نے بیان کیا, معمر اور شعیب نے ابن شہاب زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے حدیث بیان کی ، انہیں عروہ بن زبیر نے بتایا کہ ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا
میرے پاس ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ، اس نے مجھ سے ( کھانا ) مانگا تو اسے میرے پاس ایک کھجور کے سوا اور کچھ نہ ملا ۔ میں نے وہی اس کو دے دی ، اس نے وہ کھجور لے کر اپنی دو بیٹیوں میں تقسیم کر دی اور خود اس میں سے کچھ نہ کھانا ، پھر وہ کھڑی ہوئی ، اور وہ اس کی دونوں بیٹیاں چلی گئیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس عورت کی بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کسی پر بیٹیوں کی پرورش کا بار پڑ جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے ( بچانے والا ) پردہ ہوں گی ۔ "
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
A poor woman came to me along with her daughters. I gave her three dates. She gave a date to each of them and then she took up one date and brought that to her mouth in order to eat that, but her daughters expressed desire to eat it. She then divided the date that she intended to eat between them. This (kind) treatment of her impressed me and I mentioned that which she did to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Thereupon he said: Verily Allah has assured Paradise for her, because of (this act) of her, or He has rescued her from Hell-Fire.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے بکر، یعنی ابن مدر نے، ہم سے ابن الحاد کی سند سے بیان کیا کہ زیاد بن ابی زیاد ابن عیاش کے موکل تھے, عراک بن مالک نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بیٹیاں اٹھائی ہوئی تھیں ، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں ، اس نے کہا ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی ، ( بچی ہوئی ) ایک کھجور کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی ، تو وہ بھی اس کی دو بیٹیوں نے کھانے کے لیے مانگ لی ، اس نے وہ کھجور بھی جو وہ کھانا چاہتی تھی ، دو حصے کر کے دونوں بیٹیوں کو دے دی ۔ مجھے اس کا یہ کام بہت اچھا لگا ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا : " اللہ نے اس ( عمل ) کی وجہ سے اس کے لیے جنت پکی کر دی ہے یا ( فرمایا : ) اس وجہ سے اسے آگ سے آزاد کر دیا ہے ۔ "
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He, who brought up two girls properly till they grew up, he and I would come (together) (very closely) on the Day of Resurrection, and he interlaced his fingers (for explaining the point of nearness between him and that person).
مجھ سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو احمد الزبیری نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبدالعزیز نے بیان کیا، وہ عبید اللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے,حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے دو لڑکیوں کی ان کے بالغ ہونے تک پرورش کی ، قیامت کے دن وہ اور میں اس طرح آئیں گے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Anyone amongst the Muslims, three of whose children die, and he resigns himself calmly to the will of God, Fire will not touch him but for the fulfilment of the oath.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : " جس کسی مسلمان کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے آگ صرف قسم پورا کرنے کے لیے چھوئے گی ۔ "
This hadith has been reported by Zuhri on the authority of Malik, and in the hadith transmitted on the authority of Sufyan (the words are):
He would enter into Fire, except for the fulfilment of the oath.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: سفیان اور معمر دونوں نے زہری سے مالک کی سند کے ساتھ انہی کے مفہوم میں حدیث بیان کی ، مگر سفیان کی حدیث میں ہے
" تو وہ صرف قسم پوری کرنے کے لیے آگ میں داخل ہو گا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to a woman of the Ansar: In case anyone amongst you sees the sad demise of three children of (hers) and she resigns herself to the will of God hoping to get reward, she would be admitted to Paradise. A woman from amongst them said: Allah's Messenger, even if they (the children who die) are two. Thereupon, he (the Holy Prophet ﷺ ) said: Even if they are two.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے، یعنی ابن محمد نے بیان کیا, سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کی عورتوں سے فرمایا : " تم میں سے جس عورت کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان ( پر صبر کرتے ہوئے ان ) کا ثواب اللہ سے طلب کرے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گی ۔ " ان میں سے ایک عورت نے کہا : یا دو ( بچے فوت ہو جائیں؟ ) اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا : " یا دو بچے ( فوت ہو جائیں ۔ ) "
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
A woman came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Allah's Messenger, men receive your instructions; kindly allocate at your convenience a day for us also, on which we would come to you and you would teach us what Allah has taught you. He said: You assemble on such and such a day. They assembled and Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to them and taught them what Allah had taught him and he then said: No woman amongst you who sends her three children as her forerunners (in the Hereafter) but they would serve him as a protection against Hell-Fire. A woman said: What about two and two and two? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Even if they are two and two and two.
ہم سے ابو کامل الجہدری فضیل بن حسین نے بیان کیا, ابوعوانہ نے عبدالرحمٰن بن اصبہانی سے ، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کی : آپ کی گفتگو ( کا بڑا حصہ ) مرد لے گئے ، لہذا آپ ہمارے لیے بھی اپنی طرف سے ایک دن مقرر فرما دیں کہ ہم آپ کے پاس آیا کریں اور اللہ نے آپ کو جو سکھایا ہے اس میں سے آپ ہمیں بھی سکھا دیں ۔ آپ نے فرمایا : " تم عورتیں فلاں فلاں دن اکٹھی ہو جانا ۔ " خواتین اکٹھی ہو گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور اللہ نے جو علم آپ کو عطا فرمایا تھا اس میں سے ان کو بھی سکھایا ، پھر آپ نے فرمایا : " تم میں سے کوئی عورت نہیں جو اپنے بچوں میں سے تین بچوں کو اپنے آگے ( اللہ کے پاس ) روانہ کر دے ، مگر وہ اس کے لیے آگ سے بچانے والا پردہ بن جائیں گے ۔ " ایک عورت نے کہا : اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی اور دو بچے بھی ۔ "