The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship
كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ
Chapter 46
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
He (the Holy Prophet ﷺ) said: Three (children) who die in childhood.
ہم سے محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا, محمد بن جعفر اور معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے اسی سند کے ساتھ اس کے ہم معنی روایت کی اور دونوں نے شعبہ سے ( روایت کرتے ہوئے ) مزید یہ کہا : عبدالرحمن بن اصبہانی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے ابوحازم سے سنا ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، کہا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تین بچے جو بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچے ۔ "
Abu Hassan reported:
I said to Abu Huraira رضی اللہ عنہ that my two children had died. Would you narrate to me anything from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) a hadith which would soothe our hearts in our bereavements? He said: Yes. Small children are the fowls of Paradise. If one of them meets his father (or he said his parents) he would take hold of his cloth, or he said with his hand as I take hold of the hem of your cloth (with my hand). And he (the child) would not take off (his hand) from it until Allah causes his father to enter Paradise.
ہمیں سوید بن سعید اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے حدیث بیان کی ۔ ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں معتمر ( بن سلیمان تیمی ) نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے ابوسلیل سے اور انہوں نے ابوحسان سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا : میرے وہ بچے فوت ہو گئے ہیں ، آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی حدیث سنا سکتے ہیں جس سے آپ ہمیں ہمارے فوت ہونے والوں کے متعلق ہمارے دلوں کی تسلی دلا سکیں؟ ( ابوحسان نے ) کہا : ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہاں ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " چھوٹے بچے جنت کے پانی کے کیڑے ہیں ( وہ جنت کے اندر ہی رہتے ہیں ) ان میں سے کوئی اپنے باپ ۔ ۔ یا فرمایا : اپنے ماں باپ ۔ ۔ کو ملے گا تو وہ اسے اس کے کپڑے سے پکڑ لے گا ۔ ۔ یا کہا : اس کے ہاتھ سے ۔ ۔ جس طرح میں نے تمہارے اس کپڑے کے کنارے سے پکڑا ہوا ہے ، پھر اس وقت تک نہیں ہٹے گا ۔ ۔ یا کہا : نہیں رکے گا ۔ ۔ یہاں تک کہ اللہ اسے اور اس کے والد کو جنت میں داخل کر دے گا ۔ " اور سوید کی روایت میں ( ابوسلیل سے روایت ہے کے بجائے یوں ) ہے : ہمیں ابوسلیل نے حدیث سنائی ۔
It was narrated from At-Taimi with this chain of narrators and he said:
"Did you her anything from the Messenger of Allah ﷺ which will console us for our lose?" He said: "yes."
مجھ سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید نے تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا
آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات سنی ہے جس سے آپ ہمارے فوت ہو جانے والوں کے حوالے سے ہمارے دلوں کو تسلی دلا سکیں؟ ( حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہاں ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
A woman came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with her child and said: Allah's Apostle, invoke Allah's blessing upon him for I have already buried three. He said: You have buried three! She said: Yes. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You have, indeed, safeguarded yourself against the torment of Hell with a strong safeguard. 'Umar has made a mention of his father, whereas others have not made a mention of his father.
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابوسعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابوبکر کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں عمر بن حفص بن غیاث نے حدیث بیان کی ۔ انہوں نے کہا؛ ہمیں میرے والد نے اپنے دادا طلق بن معاویہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی اور کہا : اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیے ، میں تین بچے دفن کر چکی ہوں ۔ آپ نے فرمایا : "" تم نے تین ( بچوں ) کو دفن کیا ہے؟ "" اس نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : "" تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے ایک مضبوط باڑ لگا دی ہے ۔ "" عمر ( بن حفص ) نے کہا : انہوں نے اپنے دادا ( طلق ) سے روایت کی اور باقیوں نے کہا : طلق سے روایت ہے اور دادا کا ذکر نہیں کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
A woman came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) with her child and said: Allah's Messenger, he is ailing, and I am afraid (that he may die), as I have already buried three. Thereupon he said: It (their sad demise) would be a protection against Hell-Fire for you. Zuhair has not mentioned the kunya of Abu Ghiyath; he has mentioned his name.
قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے طلق بن معاویہ نخعی ابوغیاث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزرعہ بن عمرو بن جریر سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی تو اس نے کہا : اللہ کے رسول! یہ بیمار ہے اور میں اس کے بارے میں ( سخت ) خوف کا شکار ہوں ، میں ( اپنے ) تین بچے دفن کر چکی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے دوزخ سے بچنے کے لیے مضبوط باڑ بنا لی ہے ۔ "" زہیر نے کہا : طلق سے روایت ہے اور کنیت ( ابوغیاث ) کا ذکر نہیں کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When Allah loves a servant, He calls Gabriel and says: Verily, I so and so; you should also love him, and then Gabriel begins to love him. Then he makes an announcement in the heaven saying: Allah loves so and so and you also love him, and then the inhabitants of the Heaven (the Angels) also begin to love him and then there is conferred honour upon him in the earth; and when Allah is angry with any servant He calls Gabriel and says: I am angry with such and such and you also become angry with him, and then Gabriel also becomes angry and then makes an announcement amongst the inhabitants of heaven: Verily Allah is angry with so-and so, so you also become angry with him, and thus they also become angry with him. Then he becomes the object of wrath on the earth also.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے : میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو ، کہا : تو جبرئیل اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر وہ آسمان میں آواز دیتے ہیں ، کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتاہے ، تم بھی اس سے محبت کرو ، چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں ، کہا : پھر اس کے لیے زمین میں مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرئیل کو بُلا کر فرماتا ہے : میں فلاں شخص سے بغج رکھتا ہوں ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، تو جبرئیل اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے بغض رکھتا ے ، تم بھی اس سے بغض رکھو ، کہا : تو وہ ( سب ) اس سے بغض رکھتے ہیں ، پھر اس کے لیے زمین میں بھی بغض رکھ دیا جاتا ہے ۔ "
This hadith has been reported on the authority of Suhail with the same chain of transmitters except with this variation that in the hadith transmitted on the authority of 'Ali' bin Musayyib, there is no mention of (the word) Anger .
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یعقوب نے بیان کیا، یعنی ابن عبدالرحمٰن قاری نے اور قتیبہ نے کہا, عبدالعزیز دراوردی ، علاء بن مسیب اور امام مالک بن انس سب نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، البتہ علاء بن مسیب کی حدیث میں بغض کا ذکر نہیں ہے ( صرف محبت کرنے کی بات ہے ۔ )
Suhail bin Abi Salih, reported:
We were in Arafa that there happened to pass Umar bin Abdul-'Aziz and he was the Amir of Hajj. People stood up in order to catch a glimpse of him. I said to my father: Father, I think that Allah loves Umar bin Abdul-'Aziz. He said: How is it? I said: It is because of the love in people's heart for him. Thereupon he said: By One Who created your father, I heard Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrating from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) a hadith like one transmitted on the authority of Suhail.
مجھ سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا:عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمی ماجثون نے سہیل سے ، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی ، کہا
ہم عرفہ میں تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا وہاں سے گذر ہوا اور وہ حج کے امیر تھے ، لوگ کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے ، میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عمر بن عبدالعزیز سے محبت کرتا ہے ، انہوں نے پوچھا : اس کا کیا سبب ہے؟ میں نے کہا : اس لیے کہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پائی جاتی ہے ، انہوں ( ابوصالح ) نے کہا : تیرا باپ قربان ہو! تم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنی ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے سہیل سے جریر کی روایت کردہ حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) Saying: Souls are troops collected together and those who familiarised with each other (in the heaven from where these come) would have affinity, with one another (in the world) and those amongst them who opposed each other (in the Heaven) would also be divergent (in the world).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سہیل نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " روحیں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں ۔ اور جو لوگ ایک دوسرے سے واقف ہوں گے (جہاں سے یہ آئیں گے) ایک دوسرے سے (دنیا میں) وابستگی ہوں گی اور ان میں سے جو ایک دوسرے کے مخالف ہوں گے وہ بھی (جنت میں) اختلاف کریں گے۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrated directly from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), He said:
People are like mines of gold and silver; those who were excellent in Jahiliya (during the days of ignorance) are excellent In Islam, when they have, an understanding, and the souls are troops collected together and those who had a mutual familiarity amongst themselves in the store of prenatal existence would have affinity amongst them, (in this world also) and those who opposed one of them, would be at variance with one another.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے کثیر بن ہشام نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن برقان نے بیان کیا, یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا ایک حدیث بیان کی ، کہا
" لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح معدنیات کی کانیں ہیں ، جو زمانہ جاہلیت میں اچھے تھے وہ اگر دین کو سمجھ لیں تو زمانہ اسلام میں بھی اچھے ہیں ۔ اور روحیں ایک ساتھ رہنے والی جماعتیں ہیں جو آپس میں ( ایک جیسی صفات کی بنا پر ) ایک دوسرے کو پہنچاننے لگیں ان میں یکجائی پیدا ہو گئی اور جو ( صفات کے اختلاف کی بنا پر ) ایک دوسرے سے گریزاں رہیں ، وہ باہم مختلف ہو گئیں ۔ "
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
A desert Arab said to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ): When would be the Last Hour? Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: What preparation have you made for that? Thereupon he said: The love of Allah and of His Messenger (that is my preparation for the Last Hour) (for the Day of Resurrection). Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا، ہم سے مالک نے بیان کیا, اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم نے اس کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ " اس نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کی محبت ۔ آپ نے فرمایا : " تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہے ۔ "
Anas رضی اللہ عنہ reported:
A person said to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ): When would be the Last Hour? He (the Holy Prophet) said: What preparation have you made for that? And he gave no details, but said: I love Allah and His Messenger. Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب اور محمد بن عبداللہ بن نمیر ابی عمر نے بیان کیا۔ اور تلفظ زہیر کے لیے ہے, سفیان نے زہری سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیار کی ہے؟ " اس نے زیادہ چیزوں کا ذکر نہیں کیا ، ( چند ایک کاموں کا ذکر کر سکا ) اس نے کہا : اور لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہے ۔ "
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported through another chain of transmitters:
A desert Arab came to Allah's Messenger (may peace be upon, him), the rest of the hadith is the same but with this variation that he said: I have not made much preparations which merit appreciation for myself.
مجھ سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا۔ ہم سے عبد نے بیان کیا، اور ابن رافع نے کہا: ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا, معمر نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند مگر ( اس میں ہے کہ ) اس نے کہا : میں نے اس کے لیے کچھ زیادہ تیار نہیں کی جس پر میں اپنی تعریف کر سکوں ( لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں ۔ )
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
A person came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said to Allah's Messenger: When would be the Last Hour? Thereupon he (the Holy Prophet) said: What preparation have you made for the Last Hour? He said: The love of Allah and of His Messenger (is my only preparation). Thereupon he (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love. Anas رضی اللہ عنہ said: Nothing pleased us more after accepting Islam than the words of Allah's Apostle: You would be along with one whom you love. And Anas رضی اللہ عنہ said. I love Allah and His Messenger and Abu Bakr and Umar رضی اللہ عنہما , and I hope that I would be along with them although I have not acted like them.
مجھے ابو الربیع العتکی نے بتایا, حماد بن زید نے کہا : ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ کے رسول! قیامت کب ہو گی؟ آپ نے فرمایا : "" تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ "" اس نے کہا : اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہو گی ۔ "" حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اسلام قبول کرنے کے بعد ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بڑھ کر اور کسی بات سے اتنی خوشی نہیں ہوئی : "" تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم کو محبت ہو گی ۔ "" حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میں ان کے ساتھ ہوں گا ، ہر چند کہ میں نے ان کی طرح عمل نہیں کیے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported: Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) this hadith through another chain of transmitters but he did not make mention of the words of Anas رضی اللہ عنہ :
I love, and what follows subsequently.
ہم سے محمد بن عبید الغبری نے بیان کیا, جعفر بن سلیمان نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ثابت بنانی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ
میں ( اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) سے محبت کرتا ہوں ، اور اس کے بعد والی بات بیان نہیں کی ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and I were coming out of the mosque that we met a person on the threshold of the mosque and he said to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ): When would be the Last Hour? Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: What preparation have you made for that? The man became silent and then said: Allah's Messenger, I have made no significant preparation with prayer and fasting and charity but I, however, love Allah and His Messenger. Thereupon (the Holy Prophet) said: You would be along with one whom you love.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور ہم سے عثمان نے جریر نے بیان کیا, منصور نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا
ایک بار جب میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے تو مسجد کی چوکھٹ کے پاس ہماری ایک شخص سے ملاقات ہوئی ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! قیامت کب ہے؟ آپ نے فرمایا : " تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ تو جیسے وہ ٹھٹھک گیا ، پھر اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے اس کے لیے بہت زیادہ نمازیں ، بہت زیادہ روزے اور بہت زیادہ صدقات تو تیار نہیں کیے ، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں ، آپ نے فرمایا : " تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تمہیں محبت ہو گی ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
مجھ سے محمد بن یحییٰ بن عبدالعزیز یشکری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عثمان بن جبلہ نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے شعبہ کے بارے میں بیان کیا, عمرو بن مرہ نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
This hadith has been reported on the authority of Anas رضی اللہ عنہ with different chains of transmitters.
ہمیں قتیبہ نے بتایا, ابوعوانہ ، شعبہ اور ہشام نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
A person came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ): What is your opinion about the person who loves the people but his (acts or deeds are not identical to theirs)? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: A person would be along with one whom he loves.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور عثمان نے کہا, جریر نے ( سلیمان ) اعمش سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! آپ اس شخص کو کیسے دیکھتے ہیں جو کسی قوم سے محبت کرتا ہے مگر ابھی تک اس کے ساتھ نہیں ملا؟ ( اعمال میں ان سے بہت پیچھے ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے ۔ "
A hadith like this has been transmitted on the authority of 'Abdullah رضی اللہ عنہ .
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، اور ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد یعنی ابن جعفر نے بیان کیا۔ ان دونوں شعبہ اور سلیمان بن قرم نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔