The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship
كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ
Chapter 46
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Don't bear aversion against one another and don't be jealous of one another and be servants of Allah.
مجھ سے احمد بن سعید دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا, سہیل نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو ، دولت کا حصول اور نمائش میں ایک دوسرے سے مقابلہ نہ کرو اور اللہ کے ایسے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Don't nurse grudge and don't bid him out for raising the price and don't nurse aversion or enmity and don't enter into a transaction when the others have entered into that transaction and be as fellow-brothers and servants of Allah. A Muslim is the brother of a Muslim. He neither oppresses him nor humiliates him nor looks down upon him. The piety is here, (and while saying so) he pointed towards his chest thrice. It is a serious evil for a Muslim that he should look down upon his brother Muslim. All things of a Muslim are inviolable for his brother in faith: his blood, his wealth and his honour.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا, داؤد بن قیس نے ہمیں عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے کے لیے دھوکے سے قیمتیں نہ بڑھاؤ ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ، ایک دوسرے سے منہ نہ پھیرو ، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے اور اللہ کے بندے بن جاؤ جو آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ مسلمان ( دوسرے ) مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرتا ہے ، نہ اسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے ۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کیا ، ( پھر فرمایا ) : " کسی آدمی کے برے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ، ہر مسلمان پر ( دوسرے ) مسلمان کا خون ، مال اور عزت حرام ہیں ۔ "
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ with some addition (and it is this):
Verily Allah does not look to your bodies nor to your faces but He looks to your hearts, and he pointed towards the heart with his fingers.
اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عامر بن کریز کے آزاد کردہ غلام ابوسعید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاَ اس کے بعد داؤد کی حدیث کی طرح بیان کیا ، کچھ چیزیں زیادہ بیان کیں اور کچھ کم ، زائد بیان کردہ باتوں میں سے ایک یہ ہے
" اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کو دیکھتا ہے نہ تمہاری صورتوں کو لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے ۔ " اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Verily Allah does not look to your faces and your wealth but He looks to your heart and to your deeds.
ہم سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے کثیر بن ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن برقان نے بیان کیا, یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نہیں دیکھتا ، لیکن وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتا ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The gates of Paradise are not opened but on two days, Monday and Thursday. and then every servant (of Allah) is granted pardon who does not associate anything with Allah except the person in whose (heart) there is rancour against his brother. And it would be said: Look towards both of them until there is reconciliation; look toward both of them until there is reconciliation; look towards both of them until there is reconciliation. This hadith has been narrated on the authority of Suhail who narrated it on the authority of his father with the chain of transmitters of MaIik, but with this variation of wording:, (Those would not be granted pardon) who bycott each other.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, امام مالک بن انس نے سہیل ( بن ابی صالح ) سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا ، اس بندے کےسوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو ، چنانچہ کہا جاتا ہے : ان دونون کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ، ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔ ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں ۔ " ( اور صلح کے بعد ان کی بھی بخشش کر دی جائے ۔ )
A similar Hadith (as no. 6544) was narrated from Suhail, from his father, with the chain of narrators of Malik, except that in the Hadith of Ad-Darawardi it says: bu Huraira reported it as a marfu' hadith (and the words are):
"Except who two forsake one another," from the report of Ibn Abdah. And Qutaibah said: "Except two who forsake one another."
زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جریر نے حدیث بیان کی ۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے عبدالعزیز دراوردی سے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( جریر اور عبدالعزیز ) نے سہیل سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد ( ابو صالح ) سے مالک کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ابن عبدہ سے دراوردی کی بیان کردہ حدیث میں ہے
" سوائے ان دو کے جنہوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ رکھا ہو ۔ " اور قتیبہ نے کہا : " سوائے ان دو کے جنہوں نے دوری اختیار کر رکھی ہو ۔ " سوائے ہجرت کے، ابن عبدہ کی روایت کے مطابق اور قتیبہ نے کہا: سوائے مہاجرین کے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancour against his brother and it would he said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا, سفیان نے مسلم بن ابی مریم سے ، انہوں نے ابوصالح سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے ایک بار اس حدیث کو مرفوعا بیان کیا ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں ، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ، اس شخص کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور کینہ ہو ، تو ( ان کے بارے میں ) کہا جاتا ہے : ان دونوں کو رینے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ، ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں ۔ "
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying The deeds of people would be presented every week on two days, viz. Monday and Thursday, and every believing servant would be granted pardon except the one in whose (heart) there is rancour against his brother and it would he said: Leave them and put them off until they are turned to reconciliation.
ہم سے ابو الطاہر اور عمرو بن سواد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, امام مالک بن انس نے مسلم بن ابی مریم سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگوں کے اعمال ہر ہفتے میں دو بار پیش کیے جاتے ہیں ، پیر کے دن اور جمعرات کے دن اور ہر ایمان رکھنے والے بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے ، اس بندے کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور بغض ہوتا ہے ۔ تو ( ان کے بارے میں ) کہا جاتا ہے : ان دونوں کو چھوڑ دو ، یا مؤخر کر دو یہاں تک کہ دونوں ( عداوت چھوڑ کر ایک دوسرے کی طرف ) واپس آ جائیں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Verily. Allah would say on the Day of Resurrection: Where are those who have mutual love for My Glory's sake? Today I shall shelter them in My shadow when there is no other shadow but the shadow of Mine.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس کی سند سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر کی سند سے، ابو الحباب کی سند سے سعید بن یسار، ابی کی سند سے, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا : میرے جلال کی بنا پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں رکھوں گا ، آج کے دن جب میرے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہیں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: A person visited his brother in another town and Allah deputed an Angel to wait for him on his way and when he came to him he said: Where do you intend to go? He said: I intend to go to my brother in this town. He said: Have you done any favour to him (the repayment of which you intend to get)? He said: No, excepting this that I love Mm for the sake of Allah, the Exalted and Glorious. Thereupon he said: I am a messenger to you from, Allah: (to inform you) that Allah loves you as you love him (for His sake).
عبدالاعلیٰ بن حماد نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابورافع سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ایک شخص اپنے بھائی سے ملنے کے لیے گیا جو دوسری بستی میں تھا ، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے پر ایک فرشتے کو اس کی نگرانی ( یا انتظار ) کے لیے مقرر فرما دیا ۔ جب وہ شخص اس ( فرشتے ) کے سامنے آیا تو اس نے کہا : کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس نے کہا : میں اپنے ایک بھائی کے پاس جانا چاہتا ہوں جو اس بستی میں ہے ۔ اس نے پوچھا : کیا تمہارا اس پر کوئی احسان ہے جسے مکمل کرنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا : نہیں ، بس مجھے اس کے ساتھ صرف اللہ عزوجل کی خاطر محبت ہے ۔ اس نے کہا : تو میں اللہ ہی کی طرف سے تمہارے پاس بھیجا جانے والا قاصد ہوں کہ اللہ کو بھی تمہارے ساتھ اسی طرح محبت ہے جس طرح اس کی خاطر تم نے اس ( بھائی ) سے محبت کی ہے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Hammid bin Salama with the same of transmitters.
شیخ ابو احمد نے کہا, ابوبکر بن محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abu Rabi' reported:
Allah's Apostle (ﷺ) as saying: The one who visits the sick is in fact like one who is in the fruit garden of Paradise so long as he does not return.
سعید بن منصور اور ابوربیع زہرانی سے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواسماء سے ، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ ۔ ابو ربیع نے کہا : انہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا بیان کیا ۔ ۔ اور سعید کی حدیث میں ہے : ( ثوبان رضی اللہ عنہ نے ) کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مریض کی عیادت کرنے والا واپس آنے تک جنت کے درمیان گزرنے والی روش پر ہوتا ہے ۔ "
Thauban رضی اللہ عنہ, the freed slave of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who visits the sick continues to remain in the fruit garden of Paradise until he returns.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا, ہشیم نے ہمیں خالد سے خبر دی ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابواسماء سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص کسی مریض کی عیادت کرتا ہے وہ واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش پر رہتا ہے ۔ "
Thauban رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Verily, when a Muslim visits his brother in Islam he is supposed to remain in the fruit garden of Paradise until he returns.
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا, یزید بن زُرَیع نے کہا : ہمیں خالد نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابو اسماء رحبی سے ، انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس آنے تک مسلسل جنت کی ایک روش میں موجود ہوتا ہے ۔ "
Thauban رضی اللہ عنہ, the freed slave of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ), reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who visits the sick is supposed to remain in the fruit garden of Paradise. It was said: Allah's Messenger, what is this Khurfat-ul-jannah? He said: It is a place abounding in fruits.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے یزید کی سند سے بیان کیا اور لفظ زہیر کا ہے, یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں عاصم احول نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے خبر سنائی ، انہوں نے ابو اشعث سے ، انہوں نے ابو اسماء رحبی سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی وہ مسلسل جنت کی روش میں رہا ۔ " آپ سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ! جنت کی روش کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا : " اس کے پھل جنہیں وہ چنتا ہے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Asim al-Ahwal with the same chain of transmitters.
مجھ سے سوید بن سعید نے بیان کیا, مروان بن معاویہ نے عاصم احول سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Verily, Allah, the Exalted and Glorious, would say on the Day of Resurrection: O son of Adam, I was sick but you did not visit Me. He would say: O my Lord; how could I visit Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Didn't you know that such and such servant of Mine was sick but you did not visit him and were you not aware of this that if you had visited him, you would have found Me by him? O son of Adam, I asked food from you but you did not feed Me. He would say: My Lord, how could I feed Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? He said: Didn't you know that such and such servant of Mine asked food from you but you did not feed him, and were you not aware that if you had fed him you would have found him by My side? (The Lord would again say: ) O son of Adam, I asked drink from you but you did not provide Me. He would say: My Lord, how could I provide Thee whereas Thou art the Lord of the worlds? Thereupon He would say: Such and such of servant of Mine asked you for a drink but you did not provide him, and had you provided him drink you would have found him near Me.
ہم سے محمد بن حاتم بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے بہز نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ثابت کی سند سے، ابو رافع نے, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا : آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی ۔ وہ کہے گا : میرے رب! میں کیسے تیری عیادت کرتا جبکہ تو رب العالمین ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا ، تو نے اس کی عیادت نہ کی ۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا ، تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا ۔ وہ شخص کہے گا : اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا : تو نے اسے کھانا نہ کھلایا اگر تو اس کو کھلا دیتا تو تمہیں وہ ( کھانا ) میرے پاس مل جاتا ۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا ۔ وہ شخص کہے گا : میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہ پلایا ، اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو ( آج ) اس کو میرے پاس پا لیتا ۔ "
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
I did not see anyone else being afflicted with more severe illness than Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). In the narration transmitted by 'Uthman there is a slight variation of wording.
عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابووائل سے ، انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا
میں نے کوئی شخص نہیں دیکھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہو ۔ عثمان کی روایت میں " سخت تکلیف کا سامنا " کے بجائے " جس کی تکلیف زیادہ سخت ہو " ہے ۔
This hadith has been narrated on the authority of A'mash through other chains of transmitters.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ح، ابن المثنیٰ نے اور ہم سے ابن بشر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، مجھ سے بشر بن عدی نے بیان کیا۔ خالد، محمد، یعنی ابن جعفر نے ان سب کو ہم سے بیان کیا, شعبہ اور سفیان دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
I visited Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as he was running a high temperature. I touched his body with my hand and said to him: Allah's Messenger, you are running a high temperature, whereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Yes, it is so. I comparatively have a more severe fever than any one of you. I said: Is it because there is a double reward in store for you? Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Yes, it is so. And Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) again said: When a Muslim falls ill, his compensation is that his minor sins are obliterated just as leaves fall (in autumn). In the hadith transmitted on the authority of Zubair there is (no mention of these words): I touched his body with my hands.
عثمان بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا؛ ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے حارث بن سوید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کو بخار چڑھ رہا تھا ، میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا اور عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کو تو بہت سخت بخار چڑھا ہوا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، مجھے اتنا بخار چڑھتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو بخار چڑھتا ہے ۔ "" میں نے عرض کی : یہ اس لیے کہ آپ کے لیے دہرا اجر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ہاں ، ( یہی بات ہے ۔ ) "" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کوئی مسلمان نہیں جسے کوئی تکلیف پہنچے ، مرض ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور تکلیف مگر اللہ اس کے سبب سے اس کی برائیاں ( گناہ ) جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے ۔ "" زہیر کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں : "" تو میں نے آپ کو ہاتھ سے چھوا ۔ ""