The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship
كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ
Chapter 46
Jarir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good and he who is deprived of tenderly feelings is in fact deprived of good.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا, محمد بن اسماعیل نے عبدالرحمٰن بن ہلال سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص نرم مزاجی سے محروم ہوا وہ بھلائی سے محروم ہوا ، یا جو شخص نرم مزاجی سے محروم کر دیا جاتا ہے وہ بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔ "
A'isha رضی اللہ عنہا, the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: 'A'isha رضی اللہ عنہا , verily Allah is kind and He loves kindness and confers upon kindness which he does not confer upon severity and does not confer upon anything else besides it (kindness).
ہم سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حیوا نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن الحاد نے بیان کیا، وہ ابوبکر بن حزم رضی اللہ عنہ سے۔ عمرہ کے اختیار پر، یعنی عبدالرحمٰن کی بیٹی، عائشہ کے اختیار پر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ! اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا اور نرمی کو پسند فرماتا ہے اور نرمی کی بنا پر وہ کچھ عطا فرماتا ہے جو درشت مزاجی کی بنا پر عطا نہیں فرماتا ، وہ اس کے علاوہ کسی بھی اور بات پر اتنا عطا نہیں فرماتا ۔ "
A'isha رضی اللہ عنہا, the wife of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Kindness is not to be found in anything but that it adds to its beauty and it is not withdrawn from anything but it makes it defective.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے مقدام بن شریح بن بانی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : " نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے ۔ "
This hadith has been reported by Miqdam bin Shuraih bin Hani with the same chain of transmitters but with this addition:
'A'isha رضی اللہ عنہا mounted upon a wild camel and she began to make that go round and round. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: You should show kindness, and then he made a mention of this hadith.
ہم سے محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: محمد بن جعفر نے کہا , ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے مقدام بن شریح بن بانی کو اسی سند سے ( حدیث بیان کرتے ہوئے ) سنا اور انہوں نے حدیث میں مزید بیان کیا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک ایسے اونٹ پر سوار ہوئیں جس میں ابھی سرکشی تھی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے گھمانے لگیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عائشہ! " نرمی سے کام لو ۔ " اس کے بعد اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا ۔
Imran bin Husain رضی اللہ عنہ reported:
We were with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in some of his journeys and there was a woman from the Ansar riding a she-camel that it shied and she invoked curse upon that. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) heard it and said: Unload that and set it free for it is accursed. 'Imran رضی اللہ عنہ said: I still perceive that (dromedary) walking amongst people and none taking any notice of that.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے ابن علیہ کی سند سے کہا, اسماعیل بن ابراہیم نے کہا : ہمیں ایوب نے ابوقلابہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابومہلب سے ، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور ایک انصاری عورت اونٹنی پر سوار تھی کہ اچانک وہ اونٹنی مضطرب ہوئی ، اس عورت نے اس پر لعنت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی ، آپ نے فرمایا : "" اس ( اونٹنی ) پر جو کچھ موجود ہے وہ ہٹا لو اور اس کو چھوڑو کیونکہ وہ ملعون اونٹنی ہے ۔ "" حضرت عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جیسے میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اونٹنی لوگوں کے درمیان چل رہی ہے ، کوئی اس سے تعرض نہیں کرتا ۔
Imran رضی اللہ عنہ reported:
I perceive as if I am looking towards that dromedary, and in the hadith transmitted on the authority of Thaqafi (the words are): Unload it and make its back bare for it is accursed.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور ابو الربیع نے بیان کیا، کہا:حماد بن زید اور ( عبدالوہاب ) ثقفی نے ایوب سے اسماعیل کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر حماد کی حدیث میں ہے : حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے کہا
جیسے اب بھی میں اس کو دیکھ رہا ہوں ، وہ خاکستری رنگ کی ایک اونٹنی ہے ۔ اور ثقفی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس پر جو کچھ ہے اتار لو ، اس کی پیٹھ ننگی کر دو کیونکہ وہ ایک ملعون اونٹنی ہے ۔ "
Abu Burza al-Aslami رضی اللہ عنہ reported:
A slave-girl was riding a dromedary and there was also the luggage of people upon it. that she suddenly saw Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). The way of the mountain was narrow and she said (to that dromedary): Go ahead (but that dromedary did not move). She (that slave-girl), out of anger, said: O Allah, let that (dromedary) be damned. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Let the dromedary on which the curse has been invoked not proceed with us.
ہم سے ابو کامل الجہدری فضیل بن حسین نے بیان کیا, یزید بن زریع نے کہا : ہمیں تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک باندی ایک اونٹنی پر سوار تھی جس پر لوگوں کا کچھ سامان بھی لدا ہوا تھا ، اچانک اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، اس وقت پہاڑ ( کے درے نے ) گزرنے والوں کا راستہ تنگ کر دیا تھا ۔ اس باندی نے ( اونٹنی کو تیز کرنے کے لیے زور سے ) کہا : چل ( تیز چلو تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ جائیں ، جب وہ اونٹنی تیز نہ ہوئی تو کہنے لگی : ) اے اللہ! اس پر لعنت بھیج ( حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ اونٹنی جس پر لعنت ہو ہمارے ساتھ ( شریک سفر ) نہ ہو ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters but with a variation of words (and that is):
By Allah, let that accompany us not which has been damned, or he said like it.
ہم سے محمد بن عبد الاعلی نے بیان کیا, معتمر بن سلیمان اور یحییٰ بن سعید نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، معتمر کی حدیث میں مزید یہ ہے
( کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) " نہیں ، اللہ کی قسم! ایسی اونٹنی ہمارے ساتھ نہ رہے جس پر اللہ کی لعنت ہو ۔ " یا آپ نے جن الفاظ میں فرمایا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: It does not seem proper for a Siddiq that he should be an invoker of curse.
ہم سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: سلیمان بن بلال نے مجھے خبر دی ، کہا : علاء بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے ، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک صدیق کے شایان شان نہیں کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو ۔ "
A similar report (as no. 6608) was narrated from Al-Ala bin Abdur Rahman with this chain of narrators.
مجھ سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا, محمد بن جعفر نے علاء بن عبدالرحمٰن سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Zaid bin Aslam reported:
'Abdul-Malik bin Marwan sent some domestic goods for decoration to Umm Darda' on his own behalf, and when it was night 'Abd al-Malik got up and called for the servant. It seemed as if he (the servant) was late (in responding to his call), so he ('Abd al-Malik) invoked curse upon him, and when it was morning Umm Darda' رضی اللہ عنہا said to him: I heard you cursing your servant during the night when you called him, and she said: I heard Abu Darda' رضی اللہ عنہ as saying that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The invoker of curse would neither be intercessor nor witness on the Day of Resurrection.
مجھ سے سوید بن سعید نے بیان کیا, حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے روایت کی کہ
عبدالملک بن مروان نے حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا کو اپنی طرف سے گھر کا کچھ عمدہ سامان بھیجا ، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات کو عبدالملک اٹھا ، اس نے اپنے خادم کو آواز دی ، غالبا اس نے دیر لگا دی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی ، جب اس ( عبدالملک ) نے صبح کی تو حضرت ام درداء رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے رات کو سنا کہ جس وقت تم نے اپنے خادم کو بلایا تھا تو تم نے اس پر لعنت کی تھی ، پھر وہ کہنے لگیں : میں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ شفاعت کرنے والے ہوں گے ، نہ گواہ بنیں گے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو غسان المسماعی اور عاصم بن الندر التیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم دونوں کو اسحاق بن ابراہیم عبد الرزاق نے بیان کیا, معمر نے زید بن اسلم سے اسی سند سے حفص بن میسرہ کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
Umm Darda' reported on the authority of Abu Darda' رضی اللہ عنہ as saying:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The invoker of curse would neither be witness nor intercessor on the Day of Resurrection.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا, ہشام بن سعد نے زید بن اسلم اور ابوحازم سے روایت کی ، انہوں نے ام درداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " بلاشبہ زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے روز نہ شہادت دینے والے ہوں گے اور نہ شفاعت کرنے والے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
It was said to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Invoke curse upon the polytheists, whereupon he said: I have not been sent as the invoker of curse, but I have been sent as mercy.
ہم سے محمد بن عباد اور ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مروان یعنیا ن الفزاری نے یزید کی سند سے بیان کیا اور وہ ابو حازم کی سند سے ابن کیسان ہیں, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : اللہ کے رسول! مشرکین کے خلاف دعا کیجئے ۔ آپ نے فرمایا : " مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ، مجھے تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ۔ "
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Two persons visited Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and both of them talked about a thing, of which I am not aware, but that annoyed him and he invoked curse upon both of them and hurled malediction, and when they went out I said: Allah's Messenger, the good would reach everyone but it would not reach these two. He said: Why so? I said: Because you have invoked curse and hurled malediction upon both of them. He said: Don't you know that I have made condition with my Lord saying thus: O Allah, I am a human being and that for a Muslim upon whom I invoke curse or hurl malediction make it a source of purity and reward.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوضحیٰ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے ، مجھے معلوم نہیں کس معاملے میں انہوں نے آپ سے گفتگو کی اور آپ کو ناراض کر دیا ، آپ نے ان پر لعنت کی اور ان دونوں کو برا کہا ، جب وہ نکل کر چلے گئے تو میں نے عرض کی : کوئی شخص بھی جسے کوئی خیر ملی ہو ( وہ ) ان دونوں کو نہیں ملی ۔ آپ نے فرمایا : " وہ کیسے؟ " کہا : میں نے عرض کی : آپ نے ان کو لعنت کی اور برا کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں علم نہیں ہے میں نے اپنے رب سے کیا شرط کی ہوئی ہے؟ میں نے کہا ہے : اے اللہ! میں صرف بشر ہوں ، لہذا میں جس مسلمان کو لعنت کروں یا برا کہوں تو اس ( لعنت اور برا بھلا کہنے ) کو اس کے لیے گناہوں سے پاکیزگی اور حصولِ اجر کا ذریعہ بنا دے ۔ "
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and the hadith transmitted on the authority of 'Isa (the words are):
He had a private meeting with them and hurled malediction upon them and cursed them and sent them out.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور عیسیٰ ( بن یونس ) کی حدیث میں کہا
وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں ملے تو آپ نے انہیں برا بھلا کہا ، ان دونوں پر لعنت بھیجی اور ان کو نکال دیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: O Allah, I am a human being and for any person amongst Muslims upon whom I hurl malediction or invoke curse or give him whipping make it a source of purity and mercy.
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابوصالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! میں صرف ایک بشر ہوں ، اس لیے میں جس مسلمان کو برا بھلا کہوں یا اس پر لعنت کروں یا اس کو کوڑے ماروں تو اسے اُس کے لیے پاکیزگی ( کا ذریعہ ) اور رحمت بنا دے ۔ "
Jabir رضی اللہ عنہ reported Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) a hadith like it but with a slight variation of wording.
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے مانند روایت کی مگر اس میں " پاکیزگی اور اجر " کے الفاظ ہیں ۔
This hadith has been transmitted on the authority of A'mash and in the hadith transmitted on the authority of 'Isa the words are: Make it a source of reward, and in the hadith transmitted on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ (the words are): Make it a source of mercy.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے عبداللہ بن نمیر کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر عیسیٰ کی روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں " بنا دے " اور " اجر " کے لفظ ہیں اور جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اور " بنا دے " اور " رحمت " کے لفظ ہیں ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: O Allah, I make a covenant with Thee against which Thou wouldst never go. I am a human being and thus for a Muslim whom I give any harm or whom I scold or upon whom I invoke curse or whom I beat, make this a source of blessing, purification and nearness to Thee on the Day of Resurrection.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, مغیرہ بن عبدالرحمٰن حزامی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : " اے اللہ! میں تجھ سے عہد لیتا ہوں جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ میں ایک بشر ہی ہوں ، میں جس کسی مومن کو تکلیف پہنچاؤں ، اسے برا بھلا کہوں ، اس پر لعنت کروں ، اسے کوڑے ماروں تو ان تمام باتوں کو قیامت کے دن اس کے لیے رحمت ، پاکیزگی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنا قرب عطا فرمائے ۔ "