Back to Sahih Muslim

The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship

كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ

Chapter 46

Hadith 6620
Sahih
حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَوْ جَلَدُّهُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ.
English

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zinad with a slight variation of wording.

Urdu

ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا, ابوزناد نے ہمیں اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی ، البتہ انہوں نے "" او جلدة "" کہا ۔ ابوزناد نے کہا : یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی زبان ہے ۔ ( قریش کی زبان میں ) یہ لفظ "" جلدته "" ہی ہے ۔ ( معنی ایک ہی ہے ، یعنی جسے میں کوڑے ماروں ۔ )

Hadith 6621
Sahih
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
English

A hadith like this has been reported on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.

Urdu

ہم سے سلیمان بن معبد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا, ایوب نے عبدالرحمٰن اعرج سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔

Hadith 6622
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ يَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ وَإِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ كَفَّارَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
English

Salim, the freed slave of Nasriyyin, said: I heard Abu Huraira رضی اللہ عنہ as saying:

He heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: O Allah, Muhammad is a human being. I lose my temper just as human beings lose temper, and I have held a covenant with Thee which Thou wouldst not break: For a believer whom I give any trouble or invoke curse or beat, make that an expiation (of his sins and a source of) his nearness to Thee on the Day of Resurrection.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے سالم کی سند سے, نصریوں کے آزاد کردہ غلام سالم نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا ، کہہ رہے تھے کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ ( دعا کرتے ہوئے ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! محمد ایک بشر ہی ہے ، جس طرح ایک بشر کو غصہ آتا ہے ، اسے بھی غصہ آتا ہے اور میں تیرے حضور ایک وعدہ لیتا ہوں جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ جس مومن کو بھی میں نے تکلیف پہنچائی ، اسے برا بھلا کہا یا کوڑے سے مارا تو اس سب کچھ کو اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دینا اور ایسی قربت میں بدل دینا جس کے ذریعے سے قیامت کے دن تو اسے اپنا قرب عطا فرمائے ۔ "

Hadith 6623
Sahih
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

He heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: O Allah, for any believing servant whom I curse make that as a source of nearness to Thee on the Day of Resurrection.

Urdu

مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ ( دعا کرتے ہوئے ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! میں جس بندہ مومن کو برا بھلا کہوں تو اس کے لیے اسے قیامت کے دن اپنی قربت میں بدل دینا ۔ "

Hadith 6624
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ كَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: I have held covenant with Thee which Thou wouldst not break, so for any believer whom I curse or beat, make that an expiation on the Day of Resurrection.

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب اور عبد بن حمید نے بیان کیا, ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا

آپ ( دعا کرتے ہوئے ) فرما رہے تھے : " اے اللہ! میں نے تیرے حضور پختہ عہد لیا ہے جس میں تو میرے ساتھ ہرگز خلاف ورزی نہیں فرمائے گا کہ کوئی بھی مومن جسے میں نے تکلیف پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے سے مارا ہو ، اسے تو قیامت کے دن اس کے لیے ( گناہوں کا ) کفارہ بنا دینا ۔ "

Hadith 6625
Sahih
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ لَهُ زَكَاةً وَأَجْرًا.
English

Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: I am a human being and I have made this term with my Lord, the Exalted and Glorious: For any servant amongst Muslims whom I curse or scold, make that a source of purity and reward.

Urdu

مجھ سے ہارون بن عبداللہ اور حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: حجاج بن محمد نے کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے بتایا ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا

آپ فرماتے تھے : " میں ایک بشر ہی ہوں اور میں نے اپنے رب عزوجل سے یہ عہد لیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے جس بندے کو سب و شتم کروں تو یہ سب کچھ اس کے لیے پاکیزگی اور اجر ( کا سبب ) بن جائے ۔ "

Hadith 6626
Sahih
حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters.

Urdu

مجھ سے ابن ابی خلف نے بیان کیا, روح اور ابوعاصم دونوں نے ہمیں ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔

Hadith 6627
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ فَقَالَ آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ كَبِرْتِ لَا كَبِرَ سِنُّكِ فَرَجَعَتْ الْيَتِيمَةُ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْكِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا لَكِ يَا بُنَيَّةُ قَالَتْ الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنِّي فَالْآنَ لَا يَكْبَرُ سِنِّي أَبَدًا أَوْ قَالَتْ قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّى لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَى يَتِيمَتِي قَالَ وَمَا ذَاكِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ زَعَمَتْ أَنَّكَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَكْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَكْبَرَ قَرْنُهَا قَالَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَى رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَى رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَى كَمَا يَرْضَى الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَكَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ و قَالَ أَبُو مَعْنٍ يُتَيِّمَةٌ بِالتَّصْغِيرِ فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلَاثَةِ مِنْ الْحَدِيثِ.
English

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

There was an orphan girl with Umm Sulaim رضی اللہ عنہا (who was the mother of Anas). Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw that orphan girl and said: O, it is you; you have grown young. May you not advance in years! That slave-girl returned to Umm Sulaim رضی اللہ عنہا weeping. Umm Sulaim رضی اللہ عنہا said: O daughter, what is the matter with you? She said: Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) has invoked curse upon me that I should not grow in age and thus I would never grow in age, or she said, in my (length) of life. Umm Sulaim went out wrapping her head-dress hurriedly until she met Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He said to her: Umm Sulaim رضی اللہ عنہا , what is the matter with you? She said: Allah's Apostle, you invoked curse upon my orphan girl. He said: Umm Sulaim رضی اللہ عنہا , what is that? She said: She (the orphan girl) states you have cursed her saying that she might not grow in age or grow in life. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) smiled and then said: Umm Sulaim رضی اللہ عنہا , don't you know that I have made this term with my Lord. And the term with my Lord is that I said to Him: 1 am a human being and I am pleased just as a human being is pleased and I lose temper just as a human being loses temper, so for any person from amongst my Ummah whom I curse and he in no way deserves it, let that, O Lord, be made a source of purification and purity and nearness to (Allah) on the Day of Resurrection.

Urdu

زہیر بن حرب اور ابومعن رقاشی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ اور الفاظ زہیر کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عمر بن یونس نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اسحق بن ابی طلحہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس ایک یتیم لڑکی تھی اور یہی ( ام سلیم رضی اللہ عنہا ) ام انس بھی کہلاتی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو فرمایا : "" تو وہی لڑکی ہے ، تو بڑی ہو گئی ہے! تیری عمر ( اس تیزی سے ) بڑی نہ ہو "" وہ لڑکی روتی ہوئی واپس حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئی ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے پوچھا : بیٹی! تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے خلاف دعا فرما دی ہے کہ میری عمر زیادہ نہ ہو ، اب میری عمر کسی صورت زیادہ نہ ہو گی ، یا کہا : اب میرا زمانہ ہرگز زیادہ نہیں ہو گا ، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا جلدی سے دوپٹہ لپیٹتے ہوئے نکلیں ، حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : "" ام سلیم! کیا بات ہے؟ "" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے نبی! کیا آپ نے میری ( پالی ہوئی ) یتیم لڑکی کے خلاف دعا کی ہے؟ آپ نے پوچھا : "" یہ کیا بات ہے؟ "" حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا : وہ کہتی ہے : آپ نے دعا فرمائی ہے کہ اس کی عمر زیادہ نہ ہو ، اور اس کا زمانہ لمبا نہ ہو ، ( حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے ، پھر فرمایا : "" ام سلیم! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اپنے رب سے پختہ عہد لیا ہے ، میں نے کہا : میں ایکبشر ہی ہوں ، جس طرح ایک بشر خوش ہوتا ہے ، میں بھی خوش ہوتا ہوں اور جس طرح بشر ناراض ہوتے ہیں میں بھی ناراض ہوتا ہوں ۔ تو میری امت میں سے کوئی بھی آدمی جس کے خلاف میں نے دعا کی اور وہ اس کا مستحق نہ تھا تو اس دعا کو قیامت کے دن اس کے لیے پاکیزگی ، گناہوں سے صفائی اور ایسی قربت بنا دے جس کے ذریعے سے تو اسے اپنے قریب فرما لے ۔ "" ابو معن نے کہا : حدیث میں تینوں جگہ ( یتیمہ کے بجائے ) تصغیر کے ساتھ يتيمة ( چھوٹی سی یتیم بچی کا لفظ ) ہے ۔

Hadith 6628
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَاءَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى قُلْتُ لِأُمَيَّةَ مَا حَطَأَنِي قَالَ قَفَدَنِي قَفْدَةً.
English

Ibn Abbas رضی اللہ عنہ reported:

I was playing with children that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to pass by (us). I hid myself behind the door. He (the Prophet) came and patted my shoulders and said: Go and call Mu'awiya. I returned and said: He is busy in taking food. He again asked me to go and call Mu'awiya to him. I went (and came back) and said that he was busy in taking food, whereupon he said: May Allah not fill his belly! Ibn Muthanna, said: I asked Umm Umayya what he meant by the word Hatani. He said: It means he patted my shoulders.

Urdu

محمد بن مثنیٰ عنزی اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابوحمزہ قصاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا ، کہا : آپ آئے اور میرے دونوں شانوں کے درمیان اپنے کھلے ہاتھ سے ہلکی سی ضرب لگائی ( مقصود پیار کا اظہار تھا ) اور فرمایا : " جاؤ ، میرے لیے معاویہ کو بلا لاؤ ۔ " میں نے آپ سے آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ۔ آپ نے دوبارہ مجھ سے فرمایا : " جاؤ ، معاویہ کو بلا لاؤ ۔ " میں نے پھر آ کر کہا : وہ کھانا کھا رہے ہیں ، تو آپ نے فرمایا : " اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ۔ "

Hadith 6629
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
English

This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہ with a slight variation of wording.

Urdu

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا, نضر بن شمیل نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوحمزہ نے خبر دی کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہتے تھے : میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں آپ سے چھپ گیا ۔ آگے اسی ( سابقہ حدیث ) کی طرح بیان کیا ۔

Hadith 6630
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: The worst amongst the people is the double-faced one; he comes to some people with one face and to others with the other face.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک کو ابو الزناد کی سند سے پڑھا, اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بدترین انسانوں میں سے دو رخا شخص ( بھی ) ہوتا ہے ۔ وہ ان لوگوں سے ایک چہرے کے ساتھ ملتا ہے اور ان لوگوں سے دوسرے چہرے کے ساتھ ملتا ہے ۔ "

Hadith 6631
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

He heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The worst amongst people is one with the double face. He comes to some people with one face and to others with the other face.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ یزید بن ابی حبیب کی سند سے, عراک بن مالک نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " لوگوں میں سے بدترین شخص دو چہروں والا ہوتا ہے ، جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرے سے آتا ہے اور اُن لوگوں کے پاس دوسرے چہرے سے آتا ہے ۔ "

Hadith 6632
Sahih
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: You will find the worst amongst the people one having double face. He comes to some people with one face and to the others with the other face.

Urdu

مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, سعید بن مسیب اور ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگوں میں سے بدترین شخص اسے پاؤ گے جس کے دو چہرے ہیں ، ان کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور اُن کے پاس دوسرا چہرہ لے کر آتا ہے ۔ "

Hadith 6633
Sahih
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَكَانَتْ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ كَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ الْحَرْبُ وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا.
English

Humaid bin 'Abdul-Rahman bin 'Auf reported:

His mother Umm Kulthum daughter of 'Uqba bin Abu Mu'ait رضی اللہ عنہ , and she was one amongst the first emigrants who pledged allegiance to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), as saying that she heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: A liar is not one who tries to bring reconciliation amongst people and speaks good (in order to avert dispute), or he conveys good. Ibn Shihab said he did not hear that exemption was granted in anything what the people speak as lie but in three cases: in battle, for bringing reconciliation amongst persons and the narration of the words of the husband to his wife, and the narration of the words of a wife to her husband (in a twisted form in order to bring reconciliation between them).

Urdu

مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے خبر دی کہ

ان کی والدہ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے سب سے پہلے ہجرت کی ۔ انہوں نے اسے ( اپنے بیٹے کو ) خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے : "" وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں میں صلح کرائے اور اچھی بات کہے اور اچھی بات پہنچائے ۔ "" ابن شہاب نے کہا : لوگ جو جھوٹی باتیں کرتے ہیں ، میں نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کے بارے میں نہیں سنا کہ ان کی اجازت دی گئی ہے : جنگ اور جہاد میں ، لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے اور خاوند کا اپنی بیوی سے ( اسے راضی کرنے کی ) بات اور عورت کی اپنے خاوند سے ( اسے راضی کرنے کے لیے ) بات ۔ ""

Hadith 6634
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ وَقَالَتْ وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ بِمِثْلِ مَا جَعَلَهُ يُونُسُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ ُ.
English

A similar report was narrated by Muhammad bin Muslim bin Ubidullah bin Abdullah bin Shihab with this chain of narrators, except that in the Hadith of Salih it say:

"She said: I did not hear him grant any concession concerning anything that people call lies except in three cases'" like the report narrated by yunus from Ibn Shihab.

Urdu

ہم سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا, صالح نے کہا : ہمیں محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، مگر صالح کی حدیث میں ہے : اور

( ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : میں نے آپ سے نہیں سنا کہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں آپ نے ان میں سے تین کے سوا کسی بات کی اجازت دی ہو ۔ ( آگے ) اسی کے مانند جس طرح یونس نے ابن شہاب کا قول بتایا ہے ۔

Hadith 6635
Sahih
و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ وَنَمَى خَيْرًا وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَه.
English

This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording.

Urdu

ہم سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا, معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ آپ کے اس فرمان تک خبر دی : " اور اچھی بات پہنچائی " اور اس کے بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔

Hadith 6636
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا.
English

Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:

Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: Should I inform you that slandering, that is in fact a tale-carrying which creates dissension amongst people, (and) he (further) said: The person tells the truth until he is recorded as truthful, and lie tells a lie until lie is recorded as a liar.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے ابو اسحاق کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا, حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا

محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تم کو یہ نہ بتاؤں کہ بدترین حرام کیا ہے؟ یہ چغلی ہے جو لوگوں کی زبان پر رواں ہو جاتی ہے ۔ " اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انسان سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ ( اللہ تعالیٰ کے ہاں ) وہ صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ بولتا رہتا ہے حتی کہ اس کو کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔ "

Hadith 6637
Sahih
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا.
English

Abdullah رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: Truth leads one to Paradise and virtue leads one to Paradise and the person tells the truth until he is recorded as truthful, and lie leads to obscenity and obscenity leads to Hell, and the person tells a lie until he is recorded as a liar.

Urdu

ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، عثمان بن ابی شیبہ نے اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا, جریر نے منصور سے ، انہوں نے ابووائل ( شقیق ) سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سچ نیکی اور اچھائی کے راستے پر لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے ، ایک آدمی سچ بولتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ کے ہاں صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور ( جہنم کی ) آگ کی طرف لے جاتا ہے اور ایک آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے ۔ "

Hadith 6638
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْكَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Telling of truth is a virtue and virtue leads to Paradise and the servant who endeavours to tell the truth is recorded as truthful, and lie is obscenity and obscenity leads to Hell-Fire, and the servant who endeavours to tell a lie is recorded as a liar. Ibn Abu Shaiba reported this from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).

Urdu

ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہناد بن سری نے کہا : ہمیں ابواحوص نے منصور سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور بندہ پوری کوشش سے سچ ہی کا قصد کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ کج روی ہے اور کج روی جہنم کی طرف لے جاتی ہے اور بندہ جھوٹ بولنے کا قصد ہوتا رہتا ہے حتی کہ اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ۔ "" ابن ابی شیبہ کی روایت میں ( "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" کے بجائے ) "" نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے "" کے الفاظ ہیں ۔

Hadith 6639
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا.
English

Abdullah رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: It is obligatory for you to tell the truth, for truth leads to virtue and virtue leads to Paradise, and the man who continues to speak the truth and endeavours to tell the truth is eventually recorded as truthful with Allah, and beware of telling of a lie for telling of a lie leads to obscenity and obscenity leads to Hell-Fire, and the person who keeps telling lies and endeavours to tell a lie is recorded as a liar with Allah.

Urdu

ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا, ابومعاویہ اور وکیع نے کہا , ہمیں اعمش نے شقیق ( ابووائل ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم صدق پر قائم رہو کیونکہ صدق نیکی کے راستے پر چلاتا ہے اور نیکی جنت کے راستے پر چلاتی ہے ۔ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے اور کوشش سے سچ پر قائم رہتا ہے ، حتی کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ لیا جاتا ہے اور جھوٹ سے دور رہو کیونکہ جھوٹ کج روی کے راستے پر چلاتا ہے اور کج روی آگ کی طرف لے جاتی ہے ، انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے جھوٹا لکھ لیا جاتا ہے ۔ "