The Book of Virtue, Enjoining Good Manners, and Joining of the Ties of Kinship
كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ
Chapter 46
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and no mention is made in the hadith transmitted on the authority of 'Isa (of these words): He who endeavours to tell the truth and endeavours to tell a lie, and in the hadith transmitted on the authority of Mushir (the words are): Until Allah records it .
ہم سے منجاب بن الحارث التمیمی نے بیان کیا, ابن مسہر اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، انہوں نے عیسیٰ کی روایت میں : " صدق کا قصد کرتا رہتا ہے اور جھوٹ کا قصد کرتا رہتا ہے " کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔ اور ابن مسہر کی روایت میں ( " اللہ کے نزدیک " کے بجائے ) " حتی کہ اللہ اس کو لکھ لیتا ہے " کے الفاظ ہیں ۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Whom do you count as Raqub amongst you? They (his Companions) said: One who has no children (the children are born unto him but they do not survive). Thereupon he (the Holy Prophet) said: He is not a Raqub but Raqub is one who does not find his child as the forerunner (in Paradise). He then said: Whom do you count as a wrestler amongst you? We said: He who wrestles with persons. He said: No, it is not he but one who controls himself when in a fit of rage.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، اور یہ لفظ قتیبہ کے لیے ہے, جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے حارث بن سوید سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگ اپنے خیال میں رقوب کسے شمار کرتے ہو؟ ہم نے عرض کی : جس شخص کے بچے پیدا نہ ہوتے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : " یہ رقوب نہیں ہے ، بلکہ رقوب وہ شخص ہے جس نے ( آخرت میں ) کسی بچے کو آگے نہ بھیجا ہو ۔ " آپ نے فرمایا : " تم اپنے خیال میں پہلوان کسے سمجھتے ہو؟ " ہم نے کہا : جس کو لوگ پچھاڑ نہ سکیں ۔ آپ نے فرمایا : " پہلوان وہ نہیں ہے ، بلکہ پہلوان تو وہ شخص ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھتا ہے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The strong-man is not one who wrestles well but the strong man is one who controls himself when he is in a fit of rage.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور عبد الاعلی بن حماد نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: میں نے ابن شہاب کی سند سے مالک کو پڑھا, سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( کوئی شخص ) پچھاڑ دینے سے طاقت نہیں ہوتا ۔ طاقتور ( مضبوط ) وہ ہے جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھتا ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: One is not strong because of one's wrestling skillfully. They said: Allah's Messenger, then who is strong? He said: He who controls his anger when he is in a fit of rage.
ہم سے حاجب بن ولید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا, زبیدی نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرماتے تھے : " پچھاڑ دینے سے کوئی شخص طاقتور نہیں ہوتا ۔ " صحابہ نے پوچھا : اللہ کے رسول! پھر طاقت ور کون ہے؟ آپ نے فرمایا : " جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھتا ہے ۔ "
This hadith has been reported on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے عبد الرزاق کی سند سے بیان کیا, معمر اور شعیب دونوں نے زہری سے خبر دی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
Sulaiman bin Surad رضی اللہ عنہ reported:
Two persons abused each other in the presence of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and the eyes of one of them became red as embers and the veins of his neck were swollen. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I know of a wording, if he were to utter that, his fit of rage (would be no more and that wording is): I seek refuge with Allah from Satan the accursed. The person said: Do you find any madness in me? Ibn al-'Ala' said: Do you see it? And he made no mention of the person.
یحییٰ بن یحییٰ اور محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عدی بن ثابت سے اور انہوں نے حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپس میں گالم گلوچ کیا ، ان دو میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور گردن کی رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے کہہ دے تو وہ ( غصے کی ) جس کیفیت میں خود کو پا رہا ہے وہ جاتی رہے گی ، ( وہ کلمہ ہے ) : "" اعوذبالله من الشيطان الرجيم "" اس آدمی نے کہا : کیا آپ مجھ پر جنون طاری دیکھتے ہیں؟ ابن علاء کی روایت میں ( صرف ) "" اور کیا آپ دیکھتے ہیں "" کے الفاظ ہیں اور انہوں نے "" آدمی "" کا تذکرہ نہیں کیا ۔
Sulaiman bin Surad رضی اللہ عنہ reported:
Two persons abused each other in the presence of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and one of them fell into a rage and his face became red. Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw him and said: I know of a wording; if he were to utter that, he would get out (of the fit of anger) (and the wording is): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. Thereupon, a person went to him who had heard that from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said to him: Do you know what Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said? He (the Holy Prophet) said: I know of a wording; if he were to say that, (the fit) would be no more (and the words are): I seek refuge with Allah from Satan, the accursed. And the person said to him: Do you find me mad?
ہم سے نصر بن علی الجہدمی نے بیان کیا, ابواسامہ نے کہا , میں نے اعمش سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے عدی بن ثابت سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے آپس میں گالم گلوچ کیا ۔ ان میں سے ایک کو غصہ چڑھنا شروع ہو گیا اور اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف نظر کی اور فرمایا : " مجھے ایک کلمے : " اعوذبالله من الشيطان الرجيم " کا پتہ ہے ۔ اگر یہ شخص وہ ( کلمہ ) کہہ دے تو اس سے یہ ( غصہ ) جاتا رہے گا ۔ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ بات ) سننے والوں میں سے ایک آدمی اٹھ کر اس شخص کی طرف گیا اور کہا : تمہیں پتہ ہے کہ ابھی ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ آپ نے فرمایا ہے : " مجھے ایک ایسے کلمے : " اعوذبالله من الشيطان الرجيم " کا پتہ ہے ۔ اگر یہ ( شخص ) وہ ( کلمہ ) کہہ دے تو اس سے یہ کیفیت جاتی رہے گی ۔ " اس شخص نے کہا : کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں جنون کا شکار ہو گیا ہوں؟
This hadith has been reported on the authority of A'mash with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا,حفص بن غیاث نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When Allah fashioned Adam in Paradise, He left him as He liked him to leave. Then Iblis roamed round him to see what actually that was and when he found him hollow from within, he recognised that he had been created with a disposition that he would not have control over himself.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, یونس بن محمد نے حماد بن سلمہ سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب اللہ تعالیٰ نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کی صورت بنا لی تو جب تک چاہا ان ( کے جسد ) کو وہاں رکھا ۔ ابلیس اس کے اردگرد گھوم کر دیکھنے لگا کہ وہ کیسا ہے ۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ ( جسم ) اندر سے کھوکھلا ہے تو اس نے جان لیا کہ اسے اس طرح پیدا کیا گیا کہ یہ خود پر قابو نہیں رکھ سکتا ۔ "
A hadith like this has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن نافع نے بیان کیا, بہز نے کہا : ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When any one of you fights with his brother he should avoid striking at the face.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا, مغیرہ حزامی نے ہمیں ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے ( مسلمان ) بھائی سے لڑے تو چہرے ( پر مارنے ) سے اجتناب کرے ۔ "
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zinad and he said:
When one amongst you strikes (at the face).
ہم سے عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا
" جب تم میں سے کوئی ( دوسرے کو ) مارے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When any one of you fights with his brother, he should spare his face.
ہم سے شیبان بن فروخ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا, سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے ( پر مارنے ) سے بچے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When any one of you fights with his brother, he should not slap at the face.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوایوب سے سنا ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو اس کے چہرے پر طمانچہ نہ مارے ۔ "
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ and in the hadith transmitted on the authority of Ibn Hatim Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) is reported to have said:
When any one of you fights with his brother, he should avoid his face for Allah created Adam in His own image.
نصر بن علی جبضمی نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں مثنیٰ ( بن سعید ) نے حدیث بیان کی ، نیز مجھے محمد بن حاتم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالرحمٰن بن مہدی نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوایوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ، آپ نے فرمایا
" جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے آدم کو اس کی صورت پر بنایا ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When any one of you fights with his brother, he should avoid the face.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبد الصمد نے بیان کیا, ہمام نے کہا , ہمیں قتادہ نے ابوایوب یحییٰ بن مالک مراغی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے لڑے تو چہرے ( پر مارنے ) سے اجتناب کرے ۔ "
Urwa reported on the authority of his father:
Hisham bin Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ happened to pass by some people in Syria who had been made to stand in the sun and olive-oil was being poured upon their heads. He said: What is this? It was said: They are being punished for (not paying) the Kharaj (the government revenue). Thereupon he said: Allah would punish those who torment people in this world (without any genuine reason).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, حفص بن غیاث نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے ،
انہوں نے حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا شام میں ان کا کچھ لوگوں کے قریب سے گزرا ہوا جن کو دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر زیتون کا تیل ڈالا کیا تھا ، انہوں نے پوچھا : یہ کیا ہو رہا ہے؟ بتایا گیا : ان کو خراج ( نہ دینے ) کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے تو ( حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرنے کا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ۔ "
Hisham reported on the authority of his father:
Hisham bin Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ happened to pass by people, the farmers of Syria, who had been made to stand in the sun. He said: What is the matter with them? They said: They have been detained for Jizya. Thereupon Hisham رضی اللہ عنہ said: I bear testimony to the fact that I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah would torment those who torment people in the world.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابواسامہ نے ہشام سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا
حضرت ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ شام کے چند نبطیوں ( سامی قوم زمیندار لوگوں ) کے قریب سے گزرے ، انہوں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا ، انہوں نے پوچھا : ان کا معاملہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا : انہیں جزیے ( کی ادائیگی کے معاملے ) میں محبوس کیا گیا ہے ، تو حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters and he made this addition of Jarir:
(Hisham bin Hakim) went to Umair bin Sa'd who was then ruler in Palestine and he narrated to him this hadith and he (submitting before the words of the Prophet) commanded that they should be let off and so they were let off.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, وکیع ، ابومعاویہ اور جریر سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور جریر کی حدیث میں مزید یہ ہے ، کہا
اور فلسطین پر ان دنوں ان لوگوں کا امیر عمیر بن سعد ( انصاری ) تھا تو وہ ( ہشام رضی اللہ عنہ ) ان کے پاس گئے ، ان کو حدیث سنائی تو انہوں نے ان کے بارے میں حکم دیا ، چنانچہ ان کو چھوڑ دیا گیا ۔