The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
It was narrated by Hisham with this chain, and he said: "Muayqib told me,"
مجھ سے عبید اللہ بن عمر القواری نے بیان کیا,خالد بن حارث نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند سے حدیث سنائی اور ( عن معیقیب کے بجائے ) حدثنی معیقیب کہا ۔
It was narrated that Abu Salamah said:
Muayqib told me that concerning a man who smoothes the ground where he is going to prostrate, the Messenger of Allah said: 'If you must do that, then do it only once."'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شیبان نے یحییٰ سےابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے, باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ
معقب نے مجھ سے کہا رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جو سجدے کی جگہ کی مٹی برابر کرتا ہے ، فرمایا : ‘ ‘ اگر تم نے ایسا کرنا ہی ہے تو ایک بار کرو ۔ ’’
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw spittle on the wall towards Qibla, and scratched it away and then turning to the people said: When any one of you prays, he must not spit in front of him, for Allah is in front of him when he is engaged in prayer.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا,امام مالک نے نافع سے اور انھوں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے ( مسجد کی ) قبلے والی دیوار ( کی سمت ) میں بلغم ملا تھوک لگا ہو ا دیکھا تو اسے کھرچ دیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : ‘ ‘ جب تم میں سے کوئی نماز میں ہو تو اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے ۔ ’’
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw sputum sticking to the Qibla wall of the mosque, a hadith similar to that of Malik (no. 1223).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر اور ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, عبید اللہ ، لیث بن سعد ، ایوب ، ضحاک بن عثمان اور موسیٰ بن عقبہ سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی کہ
آپ ﷺ نے مسجد کے قبلے ( کی سمت ) میں بلغم دیکھا ۔ سوائے ضحاک کے کہ ان کی روایت میں ( مسجد کے قبلے کے بجائے ) ‘ ‘ قبلے ( کی سمت ) میں ’’ کے الفاظ ہیں ..... ( آگے ) امام مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے ۔
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw sputum sticking to the Qibla of the mosque. He scratched it off with a pebble and then forbade spitting on the right side or in front, but (it is permissible) to spit on the left side or under the left foot.
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے ہم سے روایت کی ہے, سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمن سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی ﷺ نے مسجد کے قبلے ( کی سمت ) میں بلغم دیکھا تو آپ نے اسے ایک کنکر کے ذریعے سے کھر چ ڈالا ، پھر آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے دائیں یا سامنے تھوکے ، البتہ وہ ( اگر کچی زمین یا ریت پر نماز پڑ ھ رہا ہے تو ) اپنی بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے ۔
Abu Huraira and Abu Sa'id رضی اللہ عنہما narrated:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw sputum, and a hadith similar to that of Ibn Uyaynah.
مجھ سے ابو الطاہر اور حرملہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا،( سفیان کے بجائے ) یونس اور ابراہیم نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمن سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہما دونوں نے انھیں خبر دی کہ
رسول اللہ ﷺ نے بلغم ملا تھوک دیکھا ........ ( ٖآگے ) ابن عینہ کی حدیث کے مانند ہے ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The Apostle of Allah ( ﷺ) saw spittle or snot or sputum, sticking to the wall towards Qibla and scratched it off.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک بن انس کی سند سے بیان کیا جس میں ان کو ہشام بن عروہ سے ان کے والد کی سند سے پڑھا گیا,حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم ﷺ نے قبلے کی دیوار پر تھوک یا رینٹ یا بلغم دیکھا تو کھرچ ڈالا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw some sputum in the direction of the Qibla of the mosque. He turned towards people and said: How Is it that someone amongst you stands before his Lord and then spits out in front of Him? Does any one of you like that he should be made to stand in front of someone and then spit at his face? So when any one of you spits, he must spit on his left side under his foot. But if he does not find (space to spit) he should do like this. Qasim (one of the narrators) spat in his cloth and then folded it and rubbed it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے ابن الیہ کی سند سے کہا, ہم سے بیان کیا,ابن علیہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں قاسم بن مہران سے ، انھوں نے ابو رافع سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قبلے ( کی سمت ) میں بلغم دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ’’ تم میں سے کسی ایک کو کیا ( ہو جاتا ) ہے ، وہ اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے ، پھر اپنے سامنے بلغم پھینک دیتا ہے ؟ کیا تم میں سے کسی کو یہ پسند ہے کہ اس کی طرف رخ کیا جائے ، اس کے منہ کے سامنے تھوک دیا جائے ؟ چنانچہ جب تم میں سے کوئی شخص کھنگار پھینکنا چاہے تو وہ اپنی جائیں جانب قدم کے نیچے پھینکے ، اگر اس کی گنجائش نہ پائے تو ایسے کر لے ۔ ‘ ‘ قاسم نے اس ک وضاحت میں اپنے کپڑے میں تھوکا ، پھر اس کے ایک حصے کو دوسرے پر رگڑ دیا
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
I perceive as if I am looking at the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) folding up a part of his cloth with another one.
ہم سے شیبان بن فرخ نے بیان کیا, عبدالوارث ، ہشیم اورشعبہ نے قاسم بن مہران سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابو رافع سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی ﷺ سے ابن علیہ کی حدیث کی طرح ( روایت بیان کی ۔ ) ہشیم کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
جیسے میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کپڑے کا ایک حصہ دوسرے پر لوٹا ( رگڑ ) رہے ہیں ۔ ( اس طرح مسجد میں گندگی نہیں پھیلتی اور کپڑے کو باہر لے جا کر دھویا جاسکتا ہے ۔ )
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When any one of you is engaged in prayer, he is holding intimate conversation with his Lord, so none of you must spit in front of him, or towards his right side, but towards his left side under his foot.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، اور ہم سے ابن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے, حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے راز و نیاز کرتا ہے ، اس لیے وہ نہ اپنے سامنے تھوکے نہ ہی دائیں طرف ، البتہ بائیں طرف پاؤں کے نیچے ( تھوک لے ۔ ) ‘ ‘
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Spitting in a mosque is a sin, and its expiation is that it should be buried.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، یحییٰ نے کہا: ہمیں خبر دی، اور قتیبہ نے کہا,ابو عوانہ نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مسجد میں تھوکنا ایک گنا ہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ ( اگر فرش کچا ہےتو ) اسے دفن کر دیا جائے ۔ ‘ ‘
Shu'ba reported I asked Qatada about spitting, in the mosque. He said: I heard Anas bin Malik رضی اللہ عنہ say:
I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: Spitting in the mosque is a sin, and its expiation is that it should be buried.
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارث نے بیان کیا، ان سے خالد نے، یعنی ہم سے ابن حارث نے بیان کیا, ( ابو عوانہ کے بجائے) شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے مسجد میں تھوکنے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ مسجد میں تھوکنا ایک گنا ہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کرنا ہے ۔ ‘ ‘
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The deeds of my people, good and bad, were presented before me, and I found the removal of something objectionable from the road among their good deeds, and the sputum mucus left unburied in the mosque among their evil deeds.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء الضّبعی اور شیبان بن فرخ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عیینہ کے خادم واصل نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن عقیل سے، انہوں نے یحییٰ بن یمار سے، انہوں نے کہا: ابو الاسود الدیلی کی ،حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’ میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے ، میں نے اس کے اچھے اعمال میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو دیکھا ، اس کے برے اعمال میں بلغم کو پا یا جو مسجد میں ہوتا ہے اور اسے دفن نہیں کیا جاتا ۔ ‘ ‘
Abdullah bin Shakhkhir reported on the authority of his father that he said:
I said prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and saw him spitting and rubbing it off with his shoe.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا,کہمس نے یزید بن عبداللہ بن شخیر سے ، انھوں نے اپنے والد سےروایت کی ، انھوں نےکہا :
میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( آپ کی اقتدا میں ) نماز ادا کی ، میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے ( گلے سے ) بلغم نکالا اور ( چونکہ پاؤں کے نیچے ریت تھی اس لیے ) اسے اپنے جوتے سے مسل دیا ۔
Abdullah bin Shakhkhir narrated it on the authority of his father:
He said prayer with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and he spat and then rubbed it off with his left shoe.
مجھ سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا،جریری نے ابو علاء یزید بن عبداللہ بن شخیر سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں نماز پڑھی ۔ کہا : آپ نے گلے سے بلغم نکالا اور اسے اپنے بائیں جوتے سے مسل ڈالا ۔
Sa'd bin Yazid reported: I said to Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Did the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) pray while putting on the shoes? He said: Yes.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا,بشر بن مفضل نے ہمیں ابو مسلمہ سعید بن یزید سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا :
کیا رسول اللہ ﷺ جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔
Sa'd bin Yazid Abu Mas'ama reported:
I said to Anas رضی اللہ عنہ like (that mentioned above).
ہم سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا, عباد بن عوام نے کہا : ہمیں ابو مسلمہ سعید بن یزید نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا
میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ..... ( آگے ) پہلی روایت کی طرح ہے
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) prayed in a garment which had designs over it, so he (the Holy Prophet) said: Take it to Abu Jahm and bring me a plain blanket from him, because its designs have distracted me.
مجھ سے عمرو نقید نے بیان کیا اور مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا : مجھ سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا اور تلفظ زہیر ہے انہوں نے کہا , سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے ، انھوں نعروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
نبی اکرم ﷺ نے بیل بوٹوں والی ایک منقش چادر میں نماز پڑھی اور فرمایا : ’’ اس کے بیل بوٹوں نے مجھے مشغول کر دیا تھا ، اسے ابو جہم کے پاس لے جاؤ اور ( اس کے بدلے ) مجھے انبجانی چادر لا دو ۔ ‘ ‘
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood for prayer with a garment which had designs over it. He looked at these designs and after completing the prayer said: Take this garment to Abu Jahm bin Hudhaifa and bring me a blanket for it has distracted me just now.
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا,یونس نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ ایک بیل بوٹوں والی منقش چادر پر نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو اس کے نقش و نگار پر آپ کی نظر پڑی ، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : ’’یہ منقش چادر ابو جہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ اور مجھے اس کی ( سادہ ) انبجانی چادر لادو کیونکہ اس نے ابھی میر نماز سے میری توجہ ہٹا دی تھی ۔ ‘ ‘
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
The Apostle of Allah (ﷺ) had a garment which had designs upon it and this distracted him in prayer. He gave it to Abu Jahm and took a plain garment in its place which is known anbijaniya.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا,(ابن شہاب زہری کے بجائے ) ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک منقش چادر تھی جس پر بیل بوٹے بنے ہوئے تھے ، نماز میں آپ کا خیال اس کی طرف چلا جاتا تھا ، آپ نے وہ ابو جہم کو دے دی اور اس کی ( بیل بوٹوں کے بغیر سادہ ) انبجانی چادر اس سے لے لی ۔ ( یہ چادر آذر بیجان کے ایک شہر انبجان کی طرف منسوب تھی ۔ )