The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying like this.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابو الاسود رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کچھ ایسا ہی ارشاد فرمایا۔
Sulaiman bin Buraida narrated it on the authority of his father:
A man cried out in the mosque saying: Who had called out for the red camel? Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: May it not be restored to you! The mosques are built for what they are meant.
مجھ سے حجاج بن الشاعر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا,سفیان ثوری نے ہمیں خبر دی ، انھوں نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والد ( بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ
ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا اور کہا : جو سرخ اونٹ ( کی نشاندہی ) کے لیے آواز دے گا ۔ تو نبی ﷺ فرمانے لگے : ’’تجھے ( تیرا اونٹ ) نہ ملے ، مسجدیں صرف انھی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انھیں بنایا گیا ۔ ‘ ‘ ( یعنی عبادت اور اللہ کے ذکر کے لیے ۔ )
Sulaiman bin Buraida reported on the authority of his father:
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said prayer a man stood up and said: Who called for a red camel? (Upon this) the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: May it not be restored to you! The mosques are built for what they are meant.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا,ابو سنان نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نےاپنے والد سے روایت کی کہ
( ایک بار ) جب نبی ﷺ نے نمازپڑھائی تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا : جو سرخ اونٹ ( کی نشاندہی ) کے لیے آواز دے گل ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’تم ( اپنا اونٹ ) نہ پاؤ ، مساجد صرف انھی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انھیں بنایا گیا ۔ ‘ ‘
Ibn Buraida narrated it on the authority of his father:
A Bedouin came when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had completed the morning prayer. He thrust his head in the door of the mosque, and then the hadith (as narrated above) was narrated. This hadith has been reported by another chain of transmitters.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا,محمد بن شیبہ نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے ( سلیمان ) بن بریدہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ
جب نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز پڑھ چکے تو ایک بدوی آیا اور مسجد کے دروازے سے اپنا سر اندر کیا ......پھر ان دونوں کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔ امام مسلم رضی اللہ عنہ نے کہا : محمد بن شیبہ سے مراد ابو نعامہ شیبہ بن نعامہ ہے جس سے مسعر ، ہشیم ، جریر اور دوسرے کوفی راویوں نے روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When any one of you stands up to pray, the devil comes to him and confuses him to that he does not know how much he has prayed. If any one of you has such an experience he should perform two prostrations while sitting down (in qa'da).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا,امام مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انھوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلا شبہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آکر اسے التباس ( شبہ ) میں ڈالتا ہے حتی کہ وہ نہیں جانتا کہ اس نے کتنی ( رکعتیں ) پڑھی ہیں ۔ تم میں سے کوئی جب یہ ( کیفیت ) پائے تووہ ( آخری تشہد میں ) بیٹھے ہوئے دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated by al-Zubri with the same chain of transmitters.
مجھ سے عمرو نقید اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہاسفیان بن عیینہ اور لیث بن سعد نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When there is a call to prayer the devil runs back breaking the wind so that he may not hear the call, and when the call is complete he comes back. And when the takbir is pronounced he again runs back, and when takbir is over he comes back and distracts a man saying: Remember such and such, remember such and such, referring to something the man did not have in his mind. with the result that he does not know how much he has prayed; so when any one of you is not sure how much he has prayed. he should perform two prostrations while sitting (qa'da).
ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا, یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے ، کہا : ہمیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث سنائی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے گوزمار رہا ہوتا ہے تاکہ اذان ( کی آواز ) نہ سنے ۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو ( واپس ) آتا ہے ، پھر جب نماز کے لیےتکبیر کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے ، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو آجاتا ہے تاکہ انسان اور اس کے دل کے درمیان خیال آرائی شروع کروائے ، وہ کہتا ہے : فلاں بات یاد کرو ، فلاں چیز یاد کرو ۔ وہ چیزیں ( اسے یاد کراتا ہے ) جو اسے یاد نہیں ہوتیں حتی کہ وہ شخص یوں ہو جاتا ہے کہ اسے یا د نہیں رہتا اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ، چنانچہ جب تم میں سے کسی کو یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو وہ ( تشہد میں ) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The devil takes to his heels breaking wind when the prayer begins. and the rest is the same but with this addition: He (the devil) makes him think of pleasant things (or things productive of enjoyment) and of the things wished for, and reminds him of such needs which he had forgotten.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو نے، عبد ربہ بن سعید کے واسطہ سے,عبدالرحمن اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : ’’جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے ...... ‘ ‘ آگے اوپر کی روایت کی طرح ذکر کیا اور یہ اضافہ کیا : ’’اسے رغبت اور امید دلاتا ہے اور اسے اس کی ایسی ضرورتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں ہوتیں ۔ ‘ ‘
Abdullah bin Buhaina رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) led us two rak'ahs of prayer in one of the (obligatory) prayers and then got up and did not sit. and the people stood up along with him. When he finished the prayer and we expected him to pronounce salutation. he said: Allah is Most Great while sitting and made two prostrations before salutation and then pronounced (the, final) salutation.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبدالرحمن اعرج سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن بحسینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کسی ایک نماز کی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر ( تیسری کے لیے ) کھڑے ہو گئے اور ( درمیان کے تشہد کے لیے ) نہ بیٹھے تو لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے ، جب آپ نے نماز پوری کر لی اور ہم آپ کے سلام کے انتظار میں تھے توآپ نے تکبیر کہی اور بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیر دیا ۔
Abdullah bin Buhaina al-Asadi رضی اللہ عنہ , the ally of Abual-Muttalib, reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood up in the noon prayer (though) he hadith sit (after the two rak'ahs). When he completed the prayer he performed two prostrations and said, Allah is the Most Great in each prostration, while he was sitting before pronouncing salutation, and the people performed prostration along with him. That was a compensation for he had forgotten to observe jalsa (after two rak'ahs).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے انہوں نے بیان کیا,لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نےاعرج سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن بحینہ اسدی رضی اللہ عنہ سے ، جو بنو عبدالمطلب کے حلیف تھے ، روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز میں ، جب آپ کو ( دوسری رکعت کےبعد ) بیٹھنا تھا ، کھڑے ہوگئے ، پھر جب آپ نے اپنی نماز مکمل کر لی تو آپ نے بیٹھے بیٹھے ہر سجدے کے لیے تکبیر کہتےہوئے سلام سے پہلے دو سجدے کیے ، اور لوگوں نے بھی ( تشہد کے لیے ) بیٹھے کی جگہ ، جو آپ بھول گئے تھے ، آپ کے ساتھ د و سجدے کیے ۔
Abdullah bin Malik ibn Buhaina al-Asadi رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood up (at the end of two rak'ahs) when he had to sit and proceeded on with the prayer. But when he was at the end of the prayer, he performed a prostration before the salutation and then pronounced the salutation.
ہم سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا,(ابن شہاب کے بجائے ) یحییٰ بن سعید نے عبدالرحمن اعرج سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مالک ابن بحینہ ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ دو رکعتوں کےبعد جہاں نماز میں آپ کا بیٹھنے کا ارادہ تھا ، ( وہاں ) کھڑے ہو گئے ، آپ نے اپنی نماز جاری رکھی ۔ پھر جب نماز کے آخرمیں پہنچے تو سلا م سے پہلے سجدے کیے ، اس کے بعد سلام پھیرا ۔
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When any one of you is in doubt about his prayer and he does Dot know how much he has prayed, three or four (rak'ahs). he should cast aside his doubt and base his prayer on what he is sure of. then perform two prostrations before giving salutations. If he has prayed five rak'ahs, they will make his prayer an even number for him, and if he has prayed exactly four, they will be humiliation for the devil.
مجھ سے محمد بن احمد بن ابی خلف نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن داؤد نے بیان کیا,سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اور اسے معلوم نہ ہو کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں ؟ تین یا چار ؟ تو وہ شک کو چھوڑ دے اور جتنی رکعتوں پر اسے یقین ہے ان پر بنیاد رکھے ( تین یقینی ہیں تو چوتھی پڑھ لے ) پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر لے ، اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لی ہیں تو یہ سجدے اس کی نماز کو جفت ( چھ رکعتیں ) کر دیں گے ارو اگر اس نے چار کی تکمیل کر لی تھی تو یہ سجدے شیطان کی ذلت و رسوائی کا باعث ہوں گے ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated by Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters and he said:
He should perform two prostrations before the salutation, as it was mentioned by Sulaiman bin Bilal.
مجھ سے احمد بن عبدالرحمٰن بن وہب نے بیان کیا، مجھ سے میرے چچا عبداللہ نے بیان کیا,داؤد بن قیس نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اس کے معنی کے مطابق یہ کہا
وہ ’’ ( نمازی ) سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘ جس طرح سلیمان بن بلال نے کہا ۔
Alqama narrated It on the authority of 'Abdullah (bin Mas'ud) who said:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said the prayer; (the narrator added): He made some act of omission or commission when he pronounced salutation; it was said to him: Messenger of Allah, is there something new about the prayer? He (the Holy Prophet) said: What is it? They said: You said prayer in such and such away. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) turned his feet and faced the Qibla and performed two prostrations and then pronounced salutations, and then turned his face towards us and said: If there is anything new about prayer (new command from the Lord) I informed you of that. But I am a human being and I forget as you for. get, so when I forget, remind me, and when any one of you is in doubt about his prayer. he should aim at what Is correct. and complete his prayer in that respect and then make two prostrations.
ہم سے عثمان، ابوبکر، ابن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم سب نے جریر کی سند سے بیان کیا - عثمان نے کہا, جریر نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے اور انھوں نے علقمہ سے روایت کی ، کہا حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ ابراہیم نے کہا : آپ نے اس میں زیادتی یا کمی کر دی ۔ پھر جب آپ نے سلام پھرا تو آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول ! کیانماز میں کوئی نئی چیز ( تبدیلی ) آگئی ہے ؟ آپ نے پوچھا : ’’وہ کیا ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھائی ہیں ۔ ( راوی نے کہا : ) آپ نے اپنے پاؤں موڑے ، قبلہ کی طرف رخ کیا اور دو سجدے کیے ، پھر سلام پھیرا ، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا : ’’اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوتی تو میں تمھیں بتا دیتا ، لیکن میں ایک انسان ہوں ، جس طرح تم بھولتے ہومیں بھی بھول جاتا ہوں ، اس لیے جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو اور جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے تو وہ صحیح کی جستجو کرے اور ا س کے مطابق ( نماز کی ) تکمیل کرے ، پھر ( سہو کے ) دو سجدے کر لے ۔ ‘ ‘
It was narrated from Mansur with this chain (no. 1274) And in the report of Ibn Bashr is:
"Let him try to work out what is correct."
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابن بشر اور وکیع دونوں نے مسعر سے اور انھوں نے منصور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ابن بشر کی روایت مین ہے
’’وہ غور کرے کہ اس میں سے صحت کے قریب ترکیا ہے ؟ ‘ ‘ اور وکیع کی روایت میں ہے : ’’ وہ صحیح ( صورت کو یاد رکرنے ) کی جستجو کرے ۔ ‘ ‘
This hadith is reported by Mansur with the same chain of transmitters, but with these words:
He should aim at correct (prayer) and it is advisable.
ہم سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا,وہیب بن خالد نے کہا : ہمیں منصور نے اسی سند کےس اتھ حدیث بیان کی ۔ منصور نے کہا
’’وہ غور کرے کہ اس میں صحت کے قریب تر کیا ہے ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters with the words:
He should aim at what is correct and complete.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید بن سعید اموی نے بیان کیا,سفیان نے منصور سے مذکورہ سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا
’’وہ صحیح کی جستجو کرے.
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters and said:
He should aim at correctness and that is right.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا,شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا
’’ اس میں جو صحیح کے قریب تر ہے اس کی جستجو کرے ۔ ‘ ‘
This hadith has been reported by Mansur with the same chain of transwitters and he said:
He should aim at what is according to him correct.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا,فضیل بن عیاض نے منصور سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا
’’وہ اس کی جستجو کرے جسے وہ صحیح سمجھتا ہے ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated by Mansur and he said:
He should aim at correctness.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا,عبدالعزیز بن عبد الصمد نے منصور سے ان سب راویوں کی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا
’’وہ صحیح کی جستجو کرے .