The Book of Mosques and Places of Prayer
كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة
Chapter 5
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: When the supper is brought and the prayer begins, one, should first take food
مجھ سے عمرو ناقد، زہیر بن حرب اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں بتاؤ سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’ جب رات کا کھا نا آ جائے اور نماز کے لیے تکبیر ( بھی ) کہہ دی جائے تو پہلے کھانا کھا لو.
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When the supper is brought before you, and it is also the time to say prayer, first take food before saying evening prayer and do not hasten (to prayer, leaving aside the food).
ہم سے ہارون بن سعید الا یلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا,عمرو ( بن حارث ) نے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا ( بھی ) وقت ہو جائے تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کھانے کی ابتدا کرو اور ( نماز کے لیے ) اپنا رات کا کھانا چھوڑ نے میں عجلت نہ کرو ۔ ‘ ‘ ( اس زمانے میں رات کا کھانا مغرب کے قریب ہی کھا یا جاتا تھا ۔ )
A hadith similar to that narrated by Ibn 'Uyaynah (no. 1241), from Az-Zuhri, from Anas رضی اللہ عنہ was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا , from the prophet ﷺ.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن نمیر ، حفص اور وکیع نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی جس طرح ابن عیینہ نے زہر ی سے اور انھوں نےحضرت انس رضی اللہ عنہ سے بیان کی ۔
Ibn 'Umar reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When the supper is served to any one of you and the prayer also begins. (in such a case) first take supper, and do not make haste (for prayer) till you have (taken the food).
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، اور قول ان کا ہے، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبید اللہ نے نافع کی سند سے بیان کیا,سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے سامنے شام کا کھانا رکھا جائے ادھر نماز کھڑی ہو تو پہلے کھانا کھا لے اور نماز کے لئے جلدی نہ کرے جب تک کھانے سے فارغ نہ ہو ۔ “
A hadith like this has been narrated from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the authority of Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ with another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن اسحاق المسیبی نے بیان کیا، ان سے انس نے، یعنی مجھ سے ابن عیاض نے بیان کیا,موسیٰ بن عقبہ ، ابن جریج اور ایوب سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کی ۔
Ibn Atiq reported: Al-Qasim was in the presence of 'A'isha (رضی اللہ عنہا) that I narrated a hadith and Qasim was a man who committed errors in (pronouncing words) and his mother was a freed slave-girl. 'A'isha رضی اللہ عنہا said to him:
What is the matter with you that you do not narrate as this son of my brother narrated (the ahaditb)? Well I know from where you picked it up. This is how his mother brought him up and how your mother brought you up. Qasim felt angry (on this remark of Hadrat 'A'isha رضی اللہ عنہا ) and showed bitterness towards her. When he saw that the table had been spread for 'A'isha رضی اللہ عنہا , he stood up, 'A'isha رضی اللہ عنہا, said: Where are you going? He said: (I am going) to say prayer. She said: Sit down (to take the food). He said: I must say prayer. She said: Sit down, ) faithless, for I have heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: No prayer can be (rightly said) when the food is there (before the worshipper), or when he is prompted by the call of nature.
حاتم بن اسماعیل نے ( ابو حزرہ ) یعقوب بن مجاہد سے ، انھوں ابن ابی عتیق ( عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمان بن ابی بکر صدیق ) سے روایت کی ، کہا : میں نے اور قاسم ( بن محمد بن ابی بکر صدیق ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( بیٹھے ہوئے ) گفتگو کی ۔ قاسم زبان کی شدید غلطیاں کرنے والے انسان تھے ، وہ ایک کنیز کے بیٹے تھے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا
کیا بات ہے تم میرے اس بھتیجے کی طرح کیوں گفتگو نہیں کرتے ؟ ہا ں ، میں جانتی ہوں ( تم میں ) یہ بات کہاں سے آئی ہے ، اس کو اس کی ماں نے ادب ( گفتگو کا طریقہ ) سکھایا اورتمھیں تمھاری ماں نے سکھایا ۔ اس پر قاسم ناراض ہو گئے اور ان کے خلاف دل میں غصہ کیا ، پھر جب انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا دسترخوان آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : کہاں جاتے ہو؟ انھوں نے کہا : میں نماز پڑھنے لگا ہوں ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : بیٹھ جاؤ ۔ انھوں نے کہا : میں نے نماز پڑھنی ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : بیٹھ جاؤ ، دھوکےباز! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’کھانا سامنے آجائے تو نماز نہیں ۔ اور نہ وہ ( شخص نماز پڑھے ) جس پر پیشاب پاخانہ کی ضرورت غالب آرہی ہو ۔ ‘ ‘
Abdullah bin 'Atiq narrated from the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on the authority of 'A'isha رضی اللہ عنہا , but he made no mention of the account of Qasim.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا,اسماعیل بن جعفر نے کہا : مجھے ابو حزرہ القاص ( یققوب بن مجاہد ) نے عبداللہ بن ابی عتیق سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انھوں نے نبی ﷺ سے اسی کے مانند روایت کی اور حدیث میں قاسم کا واقعہ بیان نہ کیا ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said during the battle of Khaybar: He who ate of this plant, i. e. garlic, should not come to the mosques. In the narration of Zubair, there is only a mention of battle and not of Khaybar.
محمد بن مثنیٰ اور زہیر بن حرب دونوں نے کہا : یحییٰ قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ
رسول اللہ ﷺ نے غزوؤ خیبر کے موقع پر فرمایا : ’’جس نے اس پودے ۔ آپ کی مراد لہسن تھا ۔ میں سے کچھ کھایا ہو وہ مسجدوں میں ہرگز نہ آئے ۔ ‘ ‘ زہیر نے صرف غزوہ کہا ، خیبر کا نام نہیں لیا ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who eats of this (offensive) plant must not approach our mosque, till its odor dies: (plant signifies) garlic.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: اور ہم سے انہوں نے بیان کیا,عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہم سے عبید اللہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس ترکاری میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجدوں کے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بوچلی جائے ۔ ‘ ‘ آپ کی مراد لہسن سے تھی ۔
Ibn Suhaib reported:
Anas رضی اللہ عنہ was asked about the garlic; he stated that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: He who eats of this plant (garlic) should not approach us and pray along with us.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن اُلیہ نے, عبدالعزیز سے ، جو صہیب کے بیٹے ہیں ، روایت ہے کہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے جواب دیا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس پودے میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہمارے قریب نہ آئے اور نہ ہمارے ساتھ نماز پڑھے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who eats of this plant (garlic) should not approach our mosque and should not harm us with the odour of garlic.
مجھ سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا - عبد نے کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا اور ابن رافع نے کہا, ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ہم سے معمر نے ابن المسیب کی سند سے الزہریری کے بارے میں بیان کیا،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس پودے میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور نہ ہمیں لہسن کی بو سے تکلیف دے ۔ ‘ ‘
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade eating of onions and leek. When we were overpowered by a desire (to eat) we ate them. Upon this he (the Holy Prophet) said: He who eats of this offensive plant must not approach our mosque, for the angels are harmed by the same things as men.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے کثیر بن ہشام نے بیان کیا، وہ ہشام الدستوائی کی سند سے,ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے پیاز اور گندنا کھا نے سے منع فرمایا ۔ سو ( ایک مرتبہ ) ہم ضرورت سے مجبور ہو گئے اور انھیں کھا لیا تو آپ نے فرمایا : ’’جس نے اس بدبودار سبزی میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہرگز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے ، فرشتے بھی یقیناً اس چیز سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔ ‘ ‘
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who eats garlic or onion should remain away from us or from our mosque and stay in his house. A kettle was brought to him which had (cooked) vegetables in it, He smelt (offensive) odour in it. On asking he was informed of the vegetables (cooked in it). He said: Take it to such and such Companion. When he saw it, he also disliked eating it. (Upon this). he (the Holy Prophet) said: You may eat it, for I converse with one with whom you do not converse.
ابو طاہر اور حرملہ نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے کہا : مجھے عطاء بن ابی رباح نے حدیث بیان کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نےکہا ۔ حرملہ کی روایت میں ہے ، ان ( جابر رضی اللہ عنہ ) کو یقین تھا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے لہسن یا پیاز کھایا وہ ہم سے دور رہے یا ہماری مسجدوں سے دور رہے اور اپنے گھر بیٹھے ۔ ‘ ‘ اور ایسا ہو ا کہ ( ایک دفعہ ) آپ کے پاس ایک ہانڈی لائی گئی جس میں کچھ سبز ترکاریاں تھیں ، آپ نے ان سے کچھ بو محسوس کی تو ان کے متعلق پوچھا ۔ آپ کو ان ترکاریوں کے بارے میں بتایا گیا جو اس میں ( ڈالی گئی ) تھیں تو آپ نے اسے ، اپنے ساتھیوں میں سے ایک کے پاس لے جانے کو کہا ۔ جب اس نے بھی اسے دیکھ کر ( آپ کی ناپسندیدگی کی بنا پر ) اس کو ناپسند کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تم کھا لو کیونکہ میں ان سے سرگوشی کرتا ہوں جن سے تم سرگوشی نہیں کرتےہو ۔ ‘ ‘ ( اس سے فرشتے مراد ہیں ۔ صحیح ابن خزیمہ اور صحیح ابن حبان کی روایت میں اس بات کی صراحت موجود ہے ۔ )
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) mying: He who eats of this (offensive) plant, i.e. garlic, and sometimes he said: He who eats onion and garlic and leek, should not approach our mosque for the angels are harmed by the same things as the children of Adam.
مجھ سے محمد بن حاتم نے کہا,یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں کہا : مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے یہ ترکاری لہسن کھا یا ۔ ‘ ‘ اور ایک دفعہ فرمایا : ’’ جس نے پیاز ، لہسن اور گندنا کھایا ۔ تو وہ ہر گز ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے ( بھی ) ان چیزوں سے اذیت محسوس کرتے ہیں جس جن سے آدم کے بیٹے اذیت محسوس کرتےہیں ۔ ‘ ‘
Ibn Juraij has narrated it with the same chain of transmitters:
He who eats of this plant, i. e. garlic, should not come to us in our mosque, and he made no mention of onions or leek.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا،محمد بن بکر اور عبدالرزاق نے ( دو مختلف سندوں سے روایت کرتے ہوئے ) کہا : ہمیں ابن جریج نے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ خبر دی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے اس پودے ۔ آپ کی مراد لہسن سے تھی ۔ میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجد میں ہمارے پاس نہ آئے ۔ ‘ ‘ اور انھوں ( ابن جریج ) نے پیاز اور گندنے کا ذکر نہیں کیا ۔
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
We made no transgression but Khaybar was conquered. We, the Companions of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), fell upon this plant. i e. garlic. because the people were hungry. We ate it to our heart's content and then made our way towards the mosque. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sensed its odour and he said: He who takes anything of this offensive plant must not approach us in the mosque. The people said: Its (use) has been forbidden; its (use) bu been forbidden. This reached the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he said: O people, I cannot forbid (the use of a thing) which Allah has made lawful, but (this garlic) is a plant the odour of which is repugnant to me.
مجھ سے عمرو ناقد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن اُعلیہ نے بیان کیا، الجریری کی سند سے، ابو نضرہ سے,حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
ہم خیبر کی فتح سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ہم ، رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ، اس ترکاری ۔ لہسن ۔ پر جا پڑے ، لوگ بھوکے تھے اورہم نے اسے خوب اچھی طرح کھایا ، پھر ہم مسجد کی طرف گئے تو رسول اللہ ﷺ نے بومحسوس کی ۔ آپ نے فرمایا : ’’جس نے اس بدبودار پودے میں سے کچھ کھایا ہے وہ مسجد میں ہمارے قر یب نہ آئے ۔ ‘ ‘ اس پر لوگ کہنے لگے : ( لہسن ) حرام ہو گیا ، حرام ہو گیا ۔ یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا : ’’ اے لوگو! ایسی چیز کو حرام کرنا میرے ہاتھ میں نہیں جسے اللہ نے میرے لیے حلال کر دیا ہے لیکن یہ ایسا پودا ہے جس کی بو مجھے ناپسند ہے ۔ ‘ ‘
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) along with his Companions happened to pass by a field in which onions were sown. The people stopped there and ate out of that, but some of them did not eat. Then they (Propbet's Companions) went to him. He (first) called those who had not eaten the onions and kept the others (who had taken onions) waiting till its odour vanished.
ہم سے ہارون بن سعید الایلی اور احمد بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو نے بقیر بن اشج کے واسطہ سے ابن خاں دروازہ سے بیان کیا,حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ( ایک دفعہ ) پیاز کے ایک کھیت کے پاس سے گزرے ۔ ان میں سے کچھ لوگ اترے اور اس میں سے کچھ کھا لیا ، اور دوسروں نے نہ کھایا ۔ ہم آپ کے پاس گئے تو آپ نے ان لوگوں کو ( قریب ) بلا لیا جنھوں نے پیاز نہیں کھا یا تھا اور دوسرے ( جنھوں نے پیاز کھایا تھا ) انھیں پیچھے کر دیا یہاں تک کہ اس کی بو ختم ہو گئی ۔
Ma'dan bin Talha رضی اللہ عنہ reported:
'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ , delivered the Friday sermon and he made a mention of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and Abu Bakr. He (further) said: I saw in a dream that a cock pecked me twice, and I perceive that my death is near. Some people have suggested me to appoint my successor. And Allah would not destroy His religion. His caliphate and that with which He sent His Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) If death approaches me soon, the (issue) of Caliphate (would be decided) by the consent of these six men with whom the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) remained well pleased till his death. And I know fully well that some people would blame me that I killed with these very hands of mine some persons who apparently professed (Islam). And if they do this (blame me) they are the enemies of Allah, and are non-believers and have gone astray. And I leave not after me anything which to my mind seems more important than Kalala. And I never turned towards the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) (for guidance) more often than this Kalala, and he (the Holy Prophet) was not annoyed with me on any other (issue) than this: (And he was so perturbed) that he struck his fingers on my chest and said: Does this verse. that is at the end of Surat al-Nisa'. which was revealed in the hot season not suffice you? And if I live longer I would decide this (problem so clearly) that one who reads the Qur'an, or one who does not read it, would be able to take (correct), decisions (under its light). He ('Umar) further said: Allah! I call You witness on these governors of lands, that I sent them to (the peoples of these lands) so that they should administer justice amongst them, teach them their religion and the Sunnah of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and distribute amongst them the spoils of war and refer to me that which they find difficult to perform. O people. you eat 'these two plants and these are onions and garlic. and I find them nothing but repugnant for I saw that when the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sensed the odour of these two from a person in a mosque, he was made to go to al-Baqi'. So he who eats it should (make its odour) die by cooking it well.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا،ہشام نےکہا : ہم سے قتادہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انھوں نے حضرت معد ان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعے کے دن خطبہ دیا اور نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا ، کہا : میں نے خواب دیکھا ہے ، جیسے ایک مرغ نے مجھے تین ٹھونگیں ماری ہیں اور اس کو میں اپنی موت قریب آنے کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتا ۔ اور کچھ قبائل مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ میں کسی کو اپنا جانشین بنادو ں ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو ضائع نہیں ہونے دے گا ، نہ اپنی خلافت کو اور نہ اس شریعت کو جس کے ساتھ اس نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا ۔ اگر مجھے جلد موت آجائے تو خلافت ان چھ حضرات کے باہیم مشورے سے طے ہو گی جن سے رسول اللہ ﷺ اپنی وفات کے وقت خوش تھے ۔ اور میں جانتا ہوں کہ کچھ لوگ جن کو میں نے اسلام کی خاطر اپنے اس ہاتھ سے مارا ہے ، وہ اس امر ( خلافت ) پر اعتراض کریں گے ، اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہوں گے ، پھر میں اپنے بعد جو ( حل طلب ) چیزیں چھوڑ کر جارہا ر ہوں ان میں سے میرے نزدیک کلالہ کی وراثت کےمسئلے سے بڑھ کر کوئی مسئلہ زیادہ اہم نہیں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کسی مسئلے کے بارے میں اتنی دفعہ رجوع نہیں کیا جتنی دفعہ کلالہ کے بارے میں کیا اور آپ نے ( بھی ) میرے ساتھ کسی مسئلے میں اس قدر سختی نہیں برتی جتنی میرے ساتھ آپ نے اس مسئلے میں سختی کی حتیٰ کہ آپ نے انگلی میرے سینے میں چبھو کر فرمایا : ’’اے عمر ! کیا گرمی کے موسم میں اترنے والی آیت تمھارے لیے کافی نہیں جو سورۃ نساء کے آخر میں ہے ؟ ‘ ‘ میں اگر زندہ رہا تو میں اس مسئلے ( کلالہ ) کے بارے میں ایسا فیصلہ کروں گا کہ ( ہر انسان ) جو قرآن پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا ہے اس کے مطابق فیصلہ کر سکے گا ، پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ ! میں شہروں کے گورنرون کے بارے میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ میں نے لوگوں پر انھیں صرف اس لیے مقرر کر کے بھیجا کہ وہ ان سے انصاف کریں اور لوگوں کو ان کے دین اور ان کے نبی ﷺ کی سنت کی تعلیم دیں اور ان کے اموال فے ان میں تقسیم کریں اور اگر لوگوں کے معاملات میں انھیں کوئی مشکل پیش آئے تو اسے میرے سامنے پیش کریں ۔ پھر اے لوگو! تم دو پودے کھا تے ہو ، میں انھیں ( بو کے اعتبار سے ) برے پودے ہی سمجھتا ہوں ، یہ پیاز اور لہسن ہیں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، جب مسجد میں آپ کو کسی آدمی سے ان کی بوآتی تو آپ اسے بقیع کی طرف نکال دینے کا حکم صادر فرماتے ، لہذا جو شخص انھیں کھانا چاہتا ہے وہ انھیں پکاکر ان کی بو مار دے ۔
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن اولیاء نے بیان کیا,سعید بن ابی عروبہ اور شعبہ نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھی اسی کے مانند روایت کی.
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: If anyone hears a man crying out in the mosque about something he has lost, he should say: May Allah not restore it to you, for the mosques were not built for this.
ہم سے ابو الطاہر احمد بن عمرو نے بیان کیا, ابن وہب نےہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے حیوہ سے ، انھوں نے محمد بن عبدالرحمن سے ، انھوں نے شدادبن ہاد کے آزاد کردہ غلام ابو عبداللہ سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جوشخص کسی آدمی کو مسجد میں کسی گم شدہ جانور کے بارے میں اعلان کرتے ہوئے سنے تو وہ کہے : اللہ تمھارا جانور تمھیں نہ لوٹائے کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں ۔ ‘ ‘