It was narrated that As-Suddi said:
I asked Anas bin Malik رضی اللہ عنہ : 'How should I leave after I have prayed- to the right or to the left?' He said: 'I usually saw the Messenger of Allah (ﷺ) leave to the right.'
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا, سدی (اسماعیل بن عبدالرحمٰن) کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میں اپنے داہنے اور بائیں سلام پھیر کر کیسے پلٹوں؟ تو انہوں نے کہا: رہا میں تو میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Al-Aswad said:
Abdullah رضی اللہ عنہ said: 'No one among you should allow the Shaitan to give him wrong ideas by making him believe that he can only leave after praying by moving to his right, because I saw the Messenger of Allah (ﷺ) usually departing to the left.'
ہم سے ابو حفص عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے العمش نے عمرہ کی سند سے بیان کیا, اسود کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تم میں سے کوئی خود سے شیطان کا کوئی حصہ نہ کرے کہ غیر ضروری چیز کو اپنے اوپر لازم سمجھ لے، اور داہنی طرف ہی سے پلٹنے کو اپنے اوپر لازم کر لے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اکثر بائیں طرف سے پلٹتے دیکھا ہے۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) drink standing and sitting, and he prayed barefoot and with sandals, and he left (after prayer) to the right and to the left.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں بقیع نے خبر دی، کہا: ہم کو الزبیدی نے بیان کیا، ان سے مکحول نے بیان کیا، ان سے مسروق بن اجدہ نے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر، اور ننگے پاؤں اور جوتے پہن کر بھی نماز پڑھتے دیکھا ہے، اور آپ سلام پھیر نے کے بعد ( کبھی ) اپنے دائیں طرف پلٹتے، اور ( کبھی ) اپنے بائیں طرف۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
Women used to pray fajr with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he said the taslim they would leave, wrapped in their Mirts, unrecognizable because of the darkness.
ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا، کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے الاوزاعی کی سند سے، زہری نے عروہ کی سند سے خبر دی ہے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کرتی تھیں، جب آپ سلام پھیرتے تو وہ اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی نکل جاتیں، اور اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتیں ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer one day, then he turned to face us and said: 'I am now your imam, so do not hasten to bow or prostrate or stand or leave before I do. I can see you in front of me and behind me.' Then he said: 'By the One in Whose Hand is my soul, if you had seen what I have seen, you would laugh little and weep much.' We said: 'What have you seen, O Messenger of Allah (ﷺ)?' He said: 'Paradise and Hell.'
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن مسهر نے مختار بن فلفل کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: میں تمہارا امام ہوں، تو تم مجھ سے رکوع و سجود اور قیام میں جلدی نہ کرو، اور نہ ہی سلام میں، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں، اور پیچھے سے بھی ، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم وہ چیزیں دیکھتے جو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنستے کم، اور روتے زیادہ ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے جنت اور جہنم دیکھی ہے ۔
It was narrated that Abu Dharr رضی اللہ عنہ said:
We fasted Ramadan with the Messenger of Allah (ﷺ), and the Prophet (ﷺ) did not lead us in Qiyam until there were seven days left of the month, then he led us in Qiyam until one-third of the night had passed. Then, when there were six days left, he did not lead us in Qiyam. When there were five days left, he led us in praying Qiyam until half the night had passed. We said: 'O Messenger of Allah (SA), why don't you lead us in praying Qiyam for the rest of the night?' He said: 'If a man prays with the Imam until he leaves, that will be continued for him as if he spent the whole night in prayer.' Then, when there were four days left, he did not lead us in praying Qiyam. When there were three days left he sent for his daughters and women, and gathered the people, and he led us in praying Qiyam until we feared that we would miss Al-Falah. Then he did not lead us in praying Qiyam for the rest of the month. Dawud (one of the narrators) said: I said: ' What is falah?' He said: 'Sahur.'
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، کہا: ہم سے داؤد بن ابی ہند نے ولید بن عبدالرحمٰن سے اور جبیر بن نفیر کی سند سے بیان کیا, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے رکھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ رمضان کے مہینہ کی سات راتیں رہ گئیں، تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تہائی رات کے قریب گزر گئی، پھر چھٹی رات آئی لیکن آپ ہمیں پڑھانے کھڑے نہیں ہوئے، پھر جب پانچویں رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے کھڑے ہوئے ( اور پڑھاتے رہے ) یہاں تک کہ تقریباً آدھی رات گزر گئی، تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ یہ رات پوری پڑھاتے، آپ نے فرمایا: آدمی جب امام کے ساتھ نماز پڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتا ہے ، پھر چوتھی رات آئی تو آپ ہمیں تراویح پڑھانے نہیں کھڑے ہوئے، پھر جب رمضان کے مہینہ کی تین راتیں باقی رہ گئیں، تو آپ نے اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو کہلا بھیجا اور لوگوں کو بھی جمع کیا، اور ہمیں تراویح پڑھائی یہاں تک کہ ہمیں خوف ہوا کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے، پھر اس کے بعد مہینہ کے باقی دنوں میں آپ نے ہمیں تراویح نہیں پڑھائی۔ داود بن ابی ہند کہتے ہیں: میں نے پوچھا: فلاح کیا ہے؟ تو انہوں نے ( ولید بن عبدالرحمٰن نے ) کہا: سحری کھانا۔
It was narrated that 'Uqbah bin Al-Harith رضی اللہ عنہ said:
I prayed 'Asr with the Prophet (ﷺ) in Al-Madinah, then he left, stepping over the necks of the people, so quickly that the people were surprised at his haste. He entered unto one of his wives, then he came out and said: 'While I was praying 'Asr, I remembered some gold that we had, and I did not want it to stay with us overnight, so I ordered that it be distributed.'
ہم سے احمد بن بکر حرانی نے بیان کیا، کہا: ہم سے بشر بن سری نے، عمر بن سعید بن ابی حسین النوفلی کی سند سے، ابن ابی ملیکہ کی سند سے بیان کیا, عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ میں نماز عصر پڑھی، پھر آپ تیزی سے لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے گئے یہاں تک کہ لوگ آپ کی تیزی سے تعجب میں پڑ گئے، کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے پیچھے گئے ( کہ کیا معاملہ ہے ) آپ اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں داخل ہوئے، پھر باہر نکلے اور فرمایا: میں نماز عصر میں تھا کہ مجھے سونے کا وہ ڈلا یاد آ گیا جو ہمارے پاس تھا، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ رات بھر وہ ہمارے پاس پڑا رہے، لہٰذا جا کر میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا ۔
It was narrated from Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہم that:
On the Day of Al-Khandaq رضی اللہ عنہ, after the sun had set, Umar bin Al-Khattab started cursing the disbelievers of the Quraish and said: O Messenger of Allah, I was hardly able to pray until the sun set. The Messenger of Allah (ﷺ) said: By Allah, I did not pray. So we went down with the Messenger of Allah (ﷺ) to Buthan. He performed wudu' for prayer and so did we, and he prayed 'Asr after the sun had set, then he prayed Maghrib after that.
ہم سے اسماعیل بن مسعود اور محمد بن عبد الاعلی نے بیان کیا: ہم سے خالد بن حارث نے ہشام کی سند سے، یحییٰ بن ابی کثیر نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج ڈوب جانے کے بعد کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نماز نہیں پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا، تو رسول اللہ نے فرمایا: قسم اللہ کی! میں نے بھی نہیں پڑھی ہے ، چنانچہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے، پھر آپ نے نماز کے لیے وضو کیا، اور ہم نے بھی وضو کیا پھر آپ نے سورج ڈوب جانے کے باوجود ( پہلے ) عصر پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب پڑھی۔