It was narrated that Abu 'Atiyyah said: Aishah رضی اللہ عنہا said:
'Turning around during prayer is something that the Shaitan snatches from one's prayer.'
ہم سے ہلال بن علاء بن ہلال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے المعافی بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: ہم سے القاسم نے جو ابن معن ہیں، انہوں نے العمش کی سند سے، عمارہ سے، ابو عطیہ سے، انہوں نے کہا:ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نماز میں ادھر ادھر دیکھنا چھینا جھپٹی ہے جسے شیطان نماز میں اس سے کرتا ہے۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) was ill, and we prayed behind him while he was sitting, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ repeated his takbirs so that the people could hear them. He turned to us and saw us standing, so he gestured to us to sit down. So we prayed behind him sitting. When he said the salam he said: 'Just now you were doing what the Persians and Romans do for their kings when they are sitting. Do not do that. Follow your Imams: If they pray standing then pray standing, and if they pray sitting then pray sitting.'
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے ابو الزبیر کی سند سے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
۔ ( ایک مرتبہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو ہم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ زور سے تکبیر کہہ کر لوگوں کو آپ کی تکبیر سنا رہے تھے، ( نماز میں ) آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے تو آپ نے ہمیں دیکھا کہ ہم کھڑے ہیں، آپ نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو ہم بیٹھ گئے، اور ہم نے آپ کی امامت میں بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ابھی ابھی تم لوگ فارس اور روم والوں کی طرح کر رہے تھے، وہ لوگ اپنے بادشاہوں کے سامنے کھڑے رہتے ہیں، اور وہ بیٹھے رہتے ہیں، تو تم ایسا نہ کرو، اپنے اماموں کی اقتداء کرو، اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھیں تو تم کھڑے ہو کر پڑھو، اور اگر بیٹھ کر پڑھیں بھی بیٹھ کر پڑھو ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to turn to his right and left when praying, but he did not twist his neck to look behind him.
ہم سے ابو عمار الحسین بن حریث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فضل بن موسیٰ نے عبداللہ بن سعید بن ابی ہند سے، ثور بن زید سے اور عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دائیں بائیں متوجہ ہوتے تھے لیکن آپ اپنی گردن اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں موڑتے تھے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to kill the two black ones (snakes and scorpions) while praying.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے سفیان اور یزید کی سند سے جو ابن زریع ہے، معمر کی سند سے، یحییٰ بن ابی کثیر نے ضمضم بن جوس کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ( کی حالت ) میں دو کالوں کو یعنی سانپ اور بچھو کو مارنے کا حکم دیا ہے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) enjoined killing the two black ones (snakes and scorpions) while praying.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن داؤد ابوداؤد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام نے جو ابن ابی عبد اللہ ہیں، انہوں نے معمر کی سند سے، یحییٰ کی سند سے، ضمضم کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دو کالوں کو مارنے کا حکم دیا۔
It was narrated from Abu Qatadah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray carrying Umamah رضی اللہ عنہا . When he prostrated he put her down and when he stood up he picked her up again.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے مالک نے، عامر بن عبداللہ بن زبیر سے، عمرو بن سلیم کی سند سے بیان کیا, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، اور نماز کی حالت میں ( اپنی نواسی ) امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھائے ہوئے تھے، جب آپ سجدہ میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب کھڑے ہوئے تو انہیں اٹھا لیا۔
It was narrated that Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) leading the people in prayer, carrying Umamah bint Abi Al-'As رضی اللہ عنہم on his shoulder. When he bowed he put her down and when he finished prostrating he picked her up again.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے عثمان بن ابی سلیمان کی سند سے، عامر بن عبداللہ بن زبیر کی سند سے، عمرو بن سالم کی سند سے,ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کی امامت کر رہے ہیں، اور امامہ بنت ابی العاص رضی اللہ عنہم کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے ہیں، جب آپ رکوع میں گئے تو انہیں اتار دیا، اور جب سجدے سے فارغ ہوئے تو انہیں پھر اٹھا لیا۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
I knocked at the door when the Messenger of Allah (ﷺ) was offering a voluntary prayer. The door was in the direction of the Qiblah so he took a few steps to his right or left and opened the door, then he went back to where he was praying.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حاتم بن وردان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے برد بن سنان ابو العلا نے زہری کی سند سے عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے دروازہ کھلوانا چاہا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ قبلہ کی طرف پڑ رہا تھا، آپ اپنے دائیں جانب یا بائیں جانب ( چند قدم ) چلے، اور آپ نے دروازہ کھولا، پھر آپ اپنی جگہ پر واپس لوٹ آئے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: The Tasbih is for men, and clapping is for women. Ibn Al-Muthanna added: During the prayer.
ہم سے قتیبہ اور محمد بن المثنی نے بیان کیا، اور قول ان کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے اور ابو سلمہ کی سند سے بیان کیا، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔ ابن مثنیٰ نے «في الصلاة» کا اضافہ کیا ہے ( یعنی نماز میں ) ۔
Sa'eed bin Al-Musayyab and Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman said that:
They heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The Tasbih is for men and clapping is for women.'
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن وہب نے یونس کی سند سے، وہ ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے سعید بن المسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ
انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The tasbih is for men and clapping is for women.'
ہمیں قتیبہ نے خبر دی، کہا: ہم سے الفضیل بن عیاض نے العمش کی سند سے بیان کیا اور سوید بن نصر نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں عبداللہ نے سلیمان العمش کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے خبر دی ہے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ ( کہنا ) مردوں کے لیے ہے، اور دستک دینا عورتوں کے لیے ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: The tasbih is for men and clapping is for women.
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے عوف کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے محمد نے بیان کیا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے، اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے ۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
I had certain times when I used to come to the Messenger of Allah (ﷺ). When I came to him I would ask for permission to enter. If I found him praying he would clear his throat and I would enter, and if I found him free he would give me permission (to enter).
ہم سے محمد بن قدامہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے جریر نے المغیرہ کی سند سے، حارث عکلی کی سند سے، ابو زرعہ بن عمرو بن جریر سے، انہوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن نجئی نے بیان کیا, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے میرے لیے ایک گھڑی ایسی مقرر تھی کہ میں اس میں آپ کے پاس آیا کرتا تھا، جب میں آپ کے پاس آتا تو اجازت مانگتا، اگر میں آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پاتا تو آپ کھنکھارتے، تو میں اندر داخل ہو جاتا، اگر میں آپ کو خالی پاتا تو آپ مجھے اجازت دیتے۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
I had two times when I would enter upon the Messenger of Allah (ﷺ), one at night and one during the day. When I entered at night he would clear his throat (to tell me to come in).
مجھ سے محمد بن عبید نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن عیاش نے مغیرہ کی سند سے، حارث عکلی کی سند سے، ابن نجائی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے آنے کے دو وقت تھے، ایک رات میں اور ایک دن میں، جب میں رات میں آپ کے پاس آتا ( اور آپ نماز وغیرہ میں مشغول ہوتے ) تو آپ میرے لیے کھنکھارتے ۔
Abdullah bin Nujayy narrated that his father said:
Ali رضی اللہ عنہ said to me: 'I was so close to the Messenger of Allah (ﷺ), closer than anyone else. I used to come to him at the end of every night, before dawn, and say: As-salamu 'alayka ya Nabiyy Allah (Peace be upon you, O Prophet of Allah). If he cleared his throat I would go back to my family, otherwise I would enter upon him.'
ہم سے القاسم بن زکریا بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا: مجھ سے شرحبیل، یعنی ابن مدرک نے بیان کیا، کہا: مجھ سے عبداللہ بن نجی نے اپنے والد سے بیان کیا، کہا
مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرا ایسا مقام و مرتبہ تھا جو مخلوق میں سے کسی اور کو میسر نہیں تھا، چنانچہ میں آپ کے پاس ہر صبح تڑکے آتا اور کہتا «السلام عليك يا نبي اللہ» اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی ہو اگر آپ کھنکھارتے تو میں اپنے گھر واپس لوٹ جاتا، اور نہیں تو میں اندر داخل ہو جاتا۔
It was narrated from Mutarrif that his father said:
I came to the Prophet (ﷺ) when he was praying, and there was a sound coming from his chest like the sound of water boiling, meaning, he was weeping.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ نے حماد بن سلمہ سے، ثابت البنانی سے، مطرف کی سند سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ کے پیٹ سے ایسی آواز آ رہی تھی جیسے ہانڈی ابل رہی ہو یعنی آپ رو رہے تھے ۔
It was narrated that Abu Ad-Darda' رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood praying, and we heard him say: 'I seek refuge with Allah from you.' Then he said: 'I curse you with the curse of Allah (SWT),' three times and stretched out his hand as if to take something. When he finished praying we said: 'O Messenger of Allah, we heard you say something in your prayer that we have never heard you say before, and we saw you stretch out your hand.' He said: 'The enemy of Allah (SWT), Iblis, came with a brand of fire to throw it in my face, so I said: I seek refuge with Allah from you three times, then I wanted to take hold of him. By Allah (SWT), were it not for the prayer of our brother Sulaiman, he would have been tied up this morning for the children of Al-Madinah to play with him.'
ہم سے محمد بن سلمہ نے ابن وہب کی سند سے، انہوں نے معاویہ بن صالح کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ربیعہ بن یزید نے ابو ادریس خولانی کی سند سے بیان کیا, ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو ہم نے آپ کو کہتے سنا: «أعوذ باللہ منك» میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے پھر آپ نے فرمایا: «ألعنك بلعنة اللہ» میں تجھ پر اللہ کی لعنت کرتا ہوں تین بار آپ نے ایسا کہا، اور اپنا ہاتھ پھیلایا گویا آپ کوئی چیز پکڑنی چاہ رہے ہیں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو نماز میں ایک ایسی بات کہتے ہوئے سنا جسے ہم نے اس سے پہلے آپ کو کبھی کہتے ہوئے نہیں سنا، نیز ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر ڈال دے، تو میں نے تین بار کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں تجھ سے، پھر میں نے تین بار کہا: میں تجھ پر اللہ کی لعنت بھیجتا ہوں، پھر بھی وہ پیچھے نہیں ہٹا، تو میں نے ارادہ کیا کہ اس کو پکڑ لوں، اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان ( علیہ السلام ) کی دعا نہ ہوتی، تو وہ صبح کو اس ( کھمبے ) سے بندھا ہوا ہوتا، اور اس سے اہل مدینہ کے بچے کھیل کرتے ۔
It was narrated from Abu Salamah that : Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood up to pray and we stood up with him. A Bedouin said- while he was praying- 'O Allah, have mercy on me and Muhammad and do not have mercy on anyone else.' When the Messenger of Allah (ﷺ) said the Salam, he said to the Bedouin: 'You have limited something vast, meaning the mercy of Allah (SWT).
ہم سے کثیر بن عبید نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن حرب نے الزبیدی کی سند سے، زہری نے ابو سلمہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ کے ساتھ ہم ( بھی ) کھڑے ہوئے، تو ایک اعرابی نے کہا ( اور وہ نماز میں مشغول تھا ) : «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! میرے اوپر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ۱؎جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ نے اعرابی سے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ، آپ اس سے اللہ کی رحمت مراد لے رہے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
A Bedouin entered the masjid and prayed two rak'ahs, then he said: O Allah, have mercy on me and on Muhammad and do not have mercy on anyone else. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You have limited something vast.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن الزہری نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: مجھے زہری سے بہتر یاد ہے، انہوں نے کہا: مجھ سے سعید نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، اور اس نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر اس نے ( نماز ہی میں ) کہا: «اللہم ارحمني ومحمدا ولا ترحم معنا أحدا» اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے ایک کشادہ چیز کو تنگ کر دیا ۔
It was narrated that Mu'awiyah bin Al-Hakam As-Sulami رضی اللہ عنہ said:
I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), we were recently in a state of ignorance, then Allah (SWT) brought Islam. Some men among us follow omens.' He said: 'That is something that they find in their own hearts; it should not deter them from going ahead.' I said: 'And some men among us go to fortune tellers.' He said: 'Do not go to them.' He said: 'Some men among us draw lines.' He said: 'One of the Prophets used to draw lines. So whoever is in accord with his drawing of lines, then so it is.' He said: While I was praying with the Messenger of Allah (ﷺ), a man sneezed and I said: 'Yarhamuk-Allah (May Allah have mercy on you).' The people glared at me and I said: 'May my mother be bereft of me, why are you looking at me?' The people struck their hands against their thighs, and when I saw that they were telling me to be quiet, I fell silent. When the Messenger of Allah (ﷺ) finished, he called me. May my father and mother be ransomed for him, he neither did hit me nor rebuke me nor revile me. I have never seen a better teacher than him, before or after. He said: 'This prayer of ours is not the place for ordinary human speech, rather it is glorification and magnification of Allah (SWT), and reciting Qur'an.' Then I went out to a flock of sheep of mine that was tended by a slave woman of mine beside Uhud and Al-Jawwaniyyah, and I found that the wolf had taken one of the sheep. I am a man from the sons of Adam and I get upset as they get upset. So I slapped her. Then I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him what happened. He regarded that as a serious action on my part. I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), should I set her free?' He said: 'Call her.' The Messenger of Allah (ﷺ) said to her: 'Where is Allah (SWT), the Mighty and Sublime?' She said: 'Above the heavens.' He said: 'And who am I?' She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ).' He said: 'She is a believer, set her free.'
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا: ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا، کہا: مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ہلال بن ابی میمونہ کی سند سے بیان کیا، کہا: مجھ سے عطاء بن یسار نے بیان کیا, معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا جاہلیت کا زمانہ ابھی ابھی گزرا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کو لے آیا، ہم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو برا شگون لیتے ہیں! آپ نے فرمایا: یہ محض ایک خیال ہے جسے لوگ اپنے دلوں میں پاتے ہیں، تو یہ ان کے آڑے نہ آئے ۱؎ معاویہ بن حکم نے کہا: اور ہم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں! تو آپ نے فرمایا: تم لوگ ان کے پاس نہ جایا کرو ، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! اور ہم میں سے کچھ لوگ ( زمین پر یا کاغذ پر آئندہ کی بات بتانے کے لیے ) لکیریں کھینچتے ہیں! آپ نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی بھی لکیریں کھینچتے تھے، تو جس شخص کی لکیر ان کے موافق ہو تو وہ صحیح ہے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ ہی رہا تھا کہ اسی دوران اچانک قوم میں سے ایک آدمی کو چھینک آ گئی، تو میں نے ( زور سے ) «يرحمك اللہ» اللہ تجھ پر رحم کرے کہا، تو لوگ مجھے گھور کر دیکھنے لگے، میں نے کہا: «واثكل أمياه» میری ماں مجھ پر روئے ، تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم مجھے گھور رہے ہو؟ لوگوں نے ( مجھے خاموش کرنے کے لیے ) اپنے ہاتھوں سے اپنی رانوں کو تھپتھپایا، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کر رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے مجھے بلایا، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ہی مجھے ڈانٹا، اور نہ ہی برا بھلا کہا، میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ سے اچھا اور بہتر معلم کسی کو نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: ہماری اس نماز میں لوگوں کی گفتگو میں سے کوئی چیز درست نہیں، نماز تو صرف تسبیح، تکبیر اور قرأت قرآن کا نام ہے ، پھر میں اپنی بکریوں کی طرف آیا جنہیں میری باندی احد پہاڑ اور جوانیہ ۲؎ میں چرا رہی تھی، میں ( وہاں ) آیا تو میں نے پایا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری اٹھا لے گیا ہے، میں ( بھی ) بنو آدم ہی میں سے ایک فرد ہوں، مجھے ( بھی ) غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، چنانچہ میں نے اسے ایک چانٹا مارا، پھر میں لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس واقعہ کی خبر دی، تو آپ نے مجھ پر اس کی سنگینی واضح کی، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلاؤ ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: آسمان کے اوپر، آپ نے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مومنہ ہے، تو تم اسے آزاد کر دو ۔