It was narrated that Zaid bin Arqam رضی اللہ عنہ said:
We used to speak to each other during the prayer, saying whatever was necessary, at the time of the Messenger of Allah (ﷺ), until this verse was revealed: Guard strictly (five obligatory) As-Salawat (the prayers) especially the middle Salah (i.e. the best prayer- 'Asr). And stand before Allah with obedience (and do not speak to others during the Salah (prayers)), so we were commanded to be silent.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا: مجھ سے حارث بن شبیل نے ابو عمرو شیبانی کی سند سے بیان کیا, زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( شروع میں ) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو نازل ہوئی تو ( اس کے بعد سے ) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا ( البقرہ: ۲۳۸ ) ۔
It was narrated that Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
I used to come to the Prophet (ﷺ) when he was praying, and I would greet him with Salam, he would return my greeting. Then I came to him when he was praying, and he did not return my greeting. When he said the Taslim, he pointed to the people and said: Allah (SWT) has decreed that in the prayer you should not speak except to remember Allah (SWT), and it is not appropriate for you, and that you should stand before Allah (SWT) with obedience.'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن عمار نے بیان کیا : ہم سے ابن ابی غنیہ نے جن کا نام یحییٰ بن عبد الملک تھا اور ہم سے قاسم بن یزید الجرمی نے سفیان کی سند سے اور زبیر بن عدی نے کلثوم کی سند سے بیان کیا , عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا، اور آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو میں آپ کو سلام کرتا، تو آپ مجھے جواب دیتے، ( ایک بار ) میں آپ کے پاس آیا، اور میں نے آپ کو سلام کیا، آپ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، جب آپ نے سلام پھیرا، تو لوگوں کی طرف اشارہ کیا، اور فرمایا: اللہ نے نماز میں ایک نیا حکم دیا ہے کہ تم لوگ ( نماز میں ) سوائے ذکر الٰہی اور مناسب دعاؤں کے کوئی اور گفتگو نہ کرو، اور اللہ کے لیے یک سو ہو کر کھڑے رہا کرو ۔
It was narrated that Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
We used to greet the Prophet (ﷺ) with salam and he would return our salam, until we came back from the land of Ethiopia. I greeted him with salam and he did not return my greeting,a nd I started to wonder why. So I sat down; and when he finished praying, he said: 'Allah (SWT) decrees what He wills, and He has decreed what we should not speak during the prayer.'
ہم سے حسین بن حریث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے عاصم کی سند سے اور ابو وائل سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے، تو آپ ہمیں سلام کا جواب دیتے تھے، یہاں تک کہ ہم سر زمین حبشہ سے واپس آئے تو میں نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا، تو مجھے نزدیک و دور کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ جب آپ نے نماز ختم کر لی تو فرمایا: اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے نیا حکم دیتا ہے، اب اس نے یہ نیا حکم دیا ہے کہ ( اب ) نماز میں گفتگو نہ کی جائے ۔
It was narrated that Abdullah bin Buhainah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in praying two rak'ahs, then he stood up and did not sit, and the people stood up with him. When he finished the prayer, and we were waiting for him to say the taslim, he said the takbir and prostrated twice while sitting, before the taslim. Then he said the taslim.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عبدالرحمٰن الاعرج کی سند سے, عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی، پھر آپ کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں، تو لوگ ( بھی ) آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب آپ نے نماز مکمل کر لی، اور ہم آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کرنے لگے، تو آپ نے اللہ اکبر کہا، اور سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے، پھر آپ نے سلام پھیرا۔
It was narrated from 'Abdullah bin Buhainah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) stood up during the prayer when he should have sat, so he prostrated twice while sitting, before the taslim.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے یحییٰ بن سعید کی سند سے اور عبدالرحمٰن بن ہرمز کی سند سے بیان کیا, عبداللہ ابن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کھڑے ہو گئے حالانکہ آپ کو تشہد کے لیے بیٹھنا چاہیئے تھا، تو آپ نے سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کئے۔
It was narrated that Muhammad bin Sirin said: Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
'The Prophet (ﷺ) led us in one of the nighttime prayers.' He said: Abu Hurairah said: 'But I forgot (which one).' He said: 'He led us in praying two rak'ahs, then he said the taslim and went to a piece of wood that was lying in the masjid and leaned his hand on it as if he was angry. Those who were in a hurry left the masjid, and said: The prayer has been shortened. Among the people were Abu Bakr and 'Umar رضی اللہ عنہم but they hesitated to ask him for they revere him. Also among the people was a man with long hands who was known as Dhul-Yadain. He said: O Messenger of Allah (ﷺ), did you forget or has the prayer been shortened? He said: I did not forget and the prayer has not been shortened. He said: Is it as Dhul-Yadain says? They said: yes. So he came and prayed what he had missed, then he said the salam, then he said the takbir and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head and said the takbir, and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head and said the takbir.'
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن عون نے محمد بن سیرین کی سند سے بیان کیا، کہا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو شام کی دونوں نمازوں ( ظہر یا عصر ) میں سے کوئی ایک نماز پڑھائی، لیکن میں بھول گیا ( کہ آپ نے کون سی نماز پڑھائی تھی ) تو آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ مسجد میں لگی ایک لکڑی کی جانب گئے، اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا، ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ گویا آپ غصہ میں ہیں، اور جلد باز لوگ مسجد کے دروازے سے نکل گئے، اور کہنے لگے: نماز کم کر دی گئی ہے، لوگوں میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم ( بھی ) تھے، لیکن وہ دونوں ڈرے کہ آپ سے اس سلسلہ میں پوچھیں، لوگوں میں ایک شخص تھے جن کے دونوں ہاتھ لمبے تھے، انہیں ذوالیدین ( دو ہاتھوں والا ) کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بھول گئے ہیں یا نماز ہی کم کر دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ تو میں بھولا ہوں، اور نہ نماز ہی کم کی گئی ہے ، آپ نے ( لوگوں سے ) پوچھا: کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، ( ایسا ہی ہے ) چنانچہ آپ ( مصلے پر واپس آئے ) اور وہ ( دو رکعتیں ) پڑھیں جنہیں آپ نے چھوڑ دیا تھا، پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے سجدوں کے جیسا یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، اور اللہ اکبر کہا، اور اپنے سجدوں کی طرح یا ان سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا پھر اللہ اکبر کہا۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that :
The Messenger of Allah (ﷺ) finished praying two rak'ahs,and Dhul-Yadain said to him: Has the prayer been shortened or did you forget, O Messenger of Allah? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Is Dhul-Yadain speaking the truth? The people said: Yes. So the Messenger of Allah (ﷺ) stood up and prayed two, then he said the takbir and prostrated as usual or longer than that. Then he raised his head, then he prostrated as usual or longer than that, then he sat up.
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن القاسم نے، مالک کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ایوب نے، محمد بن سیرین کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہی رکعت پر نماز ختم کر دی، تو آپ سے ذوالیدین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے دو ( رکعت مزید ) پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر آپ نے اللہ اکبر کہہ کر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، پھر اپنے سجدوں کی طرح یا اس سے لمبا دوسرا سجدہ کیا، پھر اپنا سر اٹھایا۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in praying 'Asr, and he said the salam after two rak'ahs. Dhul-Yadain stood up and said: 'Has the prayer been shortened, O Messenger of Allah (ﷺ) or did you forget?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Neither.' He said: 'One of them happened, O Messenger of Allah (ﷺ).' The Messenger of Allah (ﷺ) turned to the people and said: 'Is Dhul-Yadain speaking the truth?' They said: 'Yes.' So the Messenger of Allah (ﷺ) completed what was left of the prayer, then he prostrated twice when he was sitting after the taslim.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، داؤد بن حصین کی سند سے، ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابو سفیان کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا:ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی، تو دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، ذوالیدین کھڑے ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( ان دونوں میں سے ) کوئی بات بھی نہیں ہوئی ہے ، ذوالیدین نے کہا: اللہ کے رسول! ان دونوں میں سے کوئی ایک بات ضرور ہوئی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور آپ نے ان سے پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( سچ کہہ رہے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سے جو رہ گیا تھا، اسے پورا، کیا پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کیے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr with two rak'ahs, then said the salam. They said: Has the prayer been shortened? So he stood up and prayed two rak'ahs, then he said the salam, then he prostrated twice.
ہم سے سلیمان بن عبید اللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم کی سند سے بیان کیا کہ انہوں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو لوگ کہنے لگے کہ نماز کم کر دی گئی ہے، تو آپ کھڑے ہوئے، اور دو رکعت مزید پڑھائی، پھر سلام پھیرا پھر دو سجدے کئے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed one day and said the salam after two rak'ahs, then he left. Dhul-Shimalain caught up with him and said: O Messenger of Alah, has the prayer been shortened or did you forget? He said: The prayer has not been shortened, and I did not forget. He said: Yes, by the One Who sent you with the truth. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Is Dhul-Yadain speaking the truth? They said: 'Yes.' So he led the people in praying two rak'ahs.
ہم سے عیسیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے یزید بن ابی حبیب کی سند سے، عمران بن ابی انس کی سند سے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے,ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھائی تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر جانے لگے تو آپ کے پاس ذوالشمالین ۱؎ آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہ تو نماز کم کی گئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں ، اس پر انہوں نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ان دونوں میں سے ضرور کوئی ایک بات ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) forgot and said the taslim after two rak'ahs. Dhul-Shimalain said to him: 'Has the prayer been shortened or did you forget, O Messenger of Allah (ﷺ)?' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Is Dhul-Yadain speaking the truth?' They said: Yes. So the Messenger of Allah (ﷺ) stood up and completed the prayer.
ہم سے ہارون بن موسیٰ الفروی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو دمرہ نے یونس سے اور ابن شہاب کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو سلمہ نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز میں ) بھول گئے، تو آپ نے دو ہی رکعت پر سلام پھیر دیا، تو آپ سے ذوالشمالین نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا: کیا ذوالیدین سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، ( سچ کہہ رہے ہیں ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، پھر آپ نے نماز پوری کی۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) prayed Zuhr or 'Asr and said the taslim following two rak'ahs and left. Dhul-Shimalain bin 'Amr said to him: 'Has the prayer been shortened or did you forget? The Prophet (ﷺ) said: 'What is Dhul-Yadain saying?' They said: 'He is speaking the truth, O Messenger of Allah (ﷺ).' So he led them in praying the two rak'ahs that he missed.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں معمر نے الزہری کی سند سے، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن سلیمان بن ابی حاتمہ رضی اللہ عنہم سے خبر دی, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم کو ) ظہر یا عصر پڑھائی، تو آپ نے دو ہی رکعت میں سلام پھیر دیا، اور اٹھ کر جانے لگے، تو آپ سے ذوالشمالین بن عمرو نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم کر دی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لوگوں سے ) پوچھا: ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ سچ کہہ رہے ہیں، اللہ کے نبی! تو آپ نے ان دو رکعتوں کو جو باقی رہ گئی تھیں لوگوں کے ساتھ پورا کیا۔
Abu Bakr bin Sulaiman bin Abi Hathmah narrated that:
It was conveyed to him that the Messenger of Allah (ﷺ) prayed two rak'ahs, and Dhul-Shimalain said something similar to him. (One of the narrators Ibn Shihab said: Sa'eed bin Al-Musayyab informed me of this hadith from Abu Hurairah. He said: And Abu Salamah bin 'Abdur Rahman, Abu Bakr bin 'Abdur Rahman, abu Bakr bin 'Abdur Rahman bin Al-Harith and 'Ubaidullah bin 'Abdullah informed me.
ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعقوب نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے صالح کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ
انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھائی، تو ذوالشمالین نے آپ سے عرض کیا، آگے حدیث اسی طرح ہے۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر سعید بن مسیب نے ابوہریرہ کے واسطہ سے دی ہے، وہ ( زہری ) کہتے ہیں: نیز مجھے اس کی خبر ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث اور عبیدالرحمن بن عبداللہ نے بھی دی ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
'The Messenger of Allah (ﷺ) did not prostrate that day either before the salam or after.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعیب نے بیان کیا، کہا: ہمیں لیث نے عقیل کی سند سے خبر دی، کہا: مجھ سے ابن شہاب نے سعید کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن نہ تو سلام سے پہلے سجدہ ( سہو ) کیا، اور نہ ہی اس کے بعد۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) prostrated twice after the salam on the day of Dhul-Yadain.
ہم سے عمرو بن سواد بن اسود بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے یزید بن ابی حبیب سے اور جعفر بن ربیعہ کی سند سے خبر دی, عراک بن مالک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالیدین والے دن سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے۔
Narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
A similar report was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the Messenger of Allah (ﷺ).
ہم سے عمرو بن سواد بن اسود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عمرو بن حارث نے خبر دی، کہا: ہم سے قتادہ نے بیان کیا, محمد بن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) prostrated after the salam when he was not sure.
ہم سے عمرو بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بقیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن عون اور خالد حذافہ نے بیان کیا, ابن سیرین ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھول ہو جانے کی صورت میں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ ( سہو ) کیا۔
It was narrated from Imran bin Husain رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) led them in prayer and forgot (how many rak'ahs he had prayed), then he prostrated twice, then he said the salam.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن عبداللہ النیسابوری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبداللہ الانصاری نے بیان کیا، کہا: مجھ سے اشعث نے محمد بن سیرین سے، خالد الحذیٰ سے، ابوقلابہ سے، ابو المحلب کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ کو سہو ہو گیا، تو آپ نے دو سجدے ( سہو کے ) کیے، پھر سلام پھیرا ۔
It was narrated that Imran bin Husain رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said the salam after three rak'ahs of 'Asr, then he entered his house. A man called Al-Khibaq stood up and said: 'Has the prayer been shortened, O Messenger of Allah?' He came out angry, dragging his upper garment and said: 'Is he speaking the truth?' They said: 'Yes.' So he stood and prayed that rak'ah, then he said the salam, then prostrated twice, then he said the salam (again).
ہم سے ابو اشعث نے یزید بن زریع کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے خالد الحذاہ نے ابوقلابہ کی سند سے اور ابو المحلب کی سند سے بیان کیا, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعت پر سلام پھیر دیا، پھر آپ اپنے حجرے میں چلے گئے، تو آپ کی طرف اٹھ کر خرباق نامی ایک شخص گئے اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے؟ تو آپ غصہ کی حالت میں اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے، اور پوچھا: کیا یہ سچ کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو آپ کھڑے ہوئے، اور ( جو چھوٹ گئی تھی ) اسے پڑھایا پھر سلام پھیرا، پھر اس رکعت کے ( چھوٹ جانے کے سبب ) دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔
It was narrated from Abu Sa'eed رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: If one of you is not sure about his prayer, let him forget about what he is unsure of and complete his prayer on the basis of what he is sure of. When he is sure that he has completed it, let him prostrate twice while he is sitting. Then if he has prayed five (rak'ahs), they (the two prostrations) will make his prayer even-numbered, and if he had prayed four, they will annoy and humiliate the shaitan.
ہم سے یحییٰ بن حبیب بن عربی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے ابن عجلان سے، زید بن اسلم سے اور عطاء بن یسار سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اس کی نماز میں شک ہو جائے تو وہ شک کو چھوڑ دے، اور یقین پر بنا کرے، جب اسے نماز کے پورا ہونے کا یقین ہو جائے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے، ( اب ) اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھیں ہوں گی تو ( یہ ) دونوں سجدے اس کی نماز کو جفت بنا دیں گے، اور اگر اس نے چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو ( یہ ) دونوں سجدے شیطان کی ذلت و خواری کے موجب ہوں گے ۔