Abu Az-Zubair said:
I heard Abdullah bin Az-Zubair رضی اللہ عنہم speaking from the Minbar, saying: 'When the Messenger of Allah (ﷺ) said the taslim, he would say: La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir, la hawla wala quwwata illa billahil-'azim; la ilaha ill-Allahu wa la nabbed illa iyyah, ahlan-ni'mati wal-fadli wath-thana'il-has an; la ilaha ill-Allah, mukhlisina lahud-dina wa law karihal-kafirun (There is none worthy of worship except Allah (SWT) alone, with no partner or associate. His is the Dominion, to Him be all praise, and He is able to do all things; there is no power and no strength except with Allah (SWT) the Almighty. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we worship none but Him, the source of blessing and kindness and the One Who is deserving of all good praise. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we are sincere in faith and devotion to Him even though the disbelievers detest it. )
ہم سے محمد بن شجاع المروازی نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل بن الیاس نے حجاج بن ابی عثمان کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوالزبیر کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا حول ولا قوة إلا باللہ لا إله إلا اللہ لا نعبد إلا إياه أهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے جو اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، نہیں طاقت و قوت مگر اللہ ہی کی توفیق سے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم صرف اسی نعمت، فضل اور بہترین تعریف والے کی عبادت کرتے ہیں، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے ۔
It was narrated that Abu Az-Zubair said:
Abdullah bin Az-Zubair رضی اللہ عنہم used to recite the tahlil following every prayer, saying: 'La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir, la hawla wala quwwata illa billahil-'azim; la ilaha ill-Allahu wa la nabbed illa iyyah, ahlan-ni'mati wal-fadli wath-thana'il-has an; la ilaha ill-Allah, mukhlisina lahud-dina wa law karihal-kafirun (There is none worthy of worship except Allah (SWT) alone, with no partner or associate. His is the Dominion, to Him be all praise, and He is able to do all things; there is no power and no strength except with Allah (SWT) the Almighty. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we worship none but Him, the source of blessing and kindness and the One Who is deserving of all good praise. There is none worthy of worship except Allah (SWT), and we are sincere in faith and devotion to Him even though the disbelievers detest it. ) Then Ibn Az-Zubair said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to recite the tahlil in this manner following every prayer.'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا, ابو الزبیر کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نماز کے بعد تہلیل کرتے اور کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا إله إلا اللہ ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا اللہ مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، جو تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے سب پر، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، نعمت، فضل اور بہترین ثنا اسی کے لیے ہے، نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، ہم دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافروں کو برا لگے پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہم کہتے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد انہیں کلمات کے ذریعہ تہلیل کیا کرتے تھے۔
Warrad, the scribe of Al-Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ said:
Muawiyah رضی اللہ عنہ wrote to Al-Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ saying: Tell me of something that you heard from the Messenger of Allah (ﷺ). He said: When the Messenger of Allah (ﷺ) finished praying, he would say: La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir. Allahumma la mani' lima a'taita wa la mu'tia lima mana'ta wa la yanfa'u dhal-jaddi minka al-jadd. (There is none worthy of worship except Allah (ﷺ) alone with no partner or associate. He is the Dominion and to Him be all praise, and He is able to do all things. O Allah, one can withhold what You have given and none can give what You have withheld, and no wealth or fortune can benefit anyone for from You comes all wealth and fortune.)'
ہم سے محمد بن منصور نے سفیان کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اسے عبدہ بن ابی لبابہ سے سنا اور عبد الملک بن عمیر سے سنا:مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد کہتے ہیں کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتی ۔
It was narrated that Warrad said:
Al-Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ wrote to Mu'awiyah رضی اللہ عنہ (Saying) that the Messenger of Allah (ﷺ) used to say following every prayer, after the taslim: 'La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir. Allahumma la mani' lima a'taita wa la mu'tia lima mana'ta wa la yanfa'u dhal-jaddi minka al-jadd. (There is none worthy of worship except Allah (ﷺ) alone with no partner or associate. He is the Dominion and to Him be all praise, and He is able to do all things. O Allah, one can withhold what You have given and none can give what You have withheld, and no wealth or fortune can benefit anyone for from You comes all wealth and fortune.)'
مجھ سے محمد بن قدامہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے جریر نے منصور کی سند سے اور المسیب ابو العلاء کی سند سے بیان کیا, وراد کہتے ہیں کہ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے سلطنت و حکومت ہے، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور نہ مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا سکے گی ۔
It was narrated from Warrad that:
Mu'awiyah رضی اللہ عنہ wrote to Al-Mughirah رضی اللہ عنہ asking him to write him a hadith that he had heard from the Messenger of Allah (ﷺ). Al-Mughirah wrote to him (Saying): I heard him say, when he finished the prayer: 'La Ilaha Illallah wahdahu la sharika lah, lahul-mulk wa lahul-hamd wa huwa 'ala kulli shay'in qadir (There is none worthy of worship except Allah (ﷺ) alone with no partner or associate. He is the Dominion and to Him be all praise, and He is able to do all things) three times.
ہمیں حسن بن اسماعیل المجالدی نے خبر دی، کہا: ہمیں ہشیم نے خبر دی، کہا: ہمیں المغیرہ نے خبر دی، اور انہوں نے ایک اور کا ذکر کیا اور ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا: ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا: ان میں سے ایک سے زیادہ نے، بشمول المغیرہ، نے الشعبی کی سند سے ہمیں خبر دی ہے, مغیرہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد سے روایت ہے کہ
معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کوئی حدیث لکھ بھیجو جسے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام پھیر کر پلٹتے وقت «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے تین بار کہتے سنا ہے۔
It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) sat in a gathering or prayed, he said some words, and 'Aishah asked him about those words. He said: If he has spoken some good words (and he says this statement of remembrance), it will be a seal for them to preserve them until the Day of Resurrection, and if he has said something other than that, it (these words) will be an expiation for him: 'Subhanak Allahumma wa bihamdika, astaghfiruka wa atubu ilayk (Glory and praise be to You, O Allah, I seek Your forgiveness and I repent to You.)'
ہم سے محمد بن اسحاق الصاغانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوسلمہ الخزاعی، منصور بن سلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خلاد بن سلیمان نے بیان کیا، اور ابو سلمہ نے کہا: وہ خالد بن ابی عمران سے عروہ کے واسطہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مجلس میں بیٹھتے یا نماز پڑھتے تو کچھ کلمات کہتے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے کوئی بھلی بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس پر قیامت کے دن تک بطور مہر ہوں گے، اور اگر اس کے علاوہ اس نے کوئی اور بات کی ہو گی تو یہ کلمات اس کے لیے کفارہ ہوں گے، وہ یہ ہیں: «سبحانك اللہم وبحمدك أستغفرك وأتوب إليك» تیری ذات پاک ہے اے اللہ! اور تیری حمد کے ذریعہ سے میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں، اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
A Jewish woman entered unto me and said: 'The torment of the grave is because of urine.' I said: 'You are lying.' She said: 'No, it is true; we cut our skin and clothes because of it.' The Messenger of Allah (ﷺ) went out to pray and our voices became loud. He said: 'What is this?' So I told him what she had said. He said: 'She spoke the truth.' After that day he never offered any prayer but he said, following the prayer: 'Rabba Jibril wa Mika'il wa Israfil, aiding min harrin-nar wa 'adhabil-qabr (Lord of Jibril, Mika'il and Israfil, grant me refuge from the heat of the Fire and the torment of the grave).'
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے قدامہ نے جسرہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی: پیشاب سے نہ بچنے پر قبر میں عذاب ہوتا ہے تو میں نے کہا: تو جھوٹی ہے، تو اس نے کہا: سچ ہے ایسا ہی ہے، ہم کھال یا کپڑے کو پیشاب لگ جانے پر کاٹ ڈالتے ہیں، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے باہر تشریف لائے، ہماری آواز بلند ہو گئی تھی، آپ نے پوچھا: کیا ماجرا ہے؟ میں نے آپ کو جو اس نے کہا تھا بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سچ کہہ رہی ہے ، چنانچہ اس دن کے بعد سے آپ جو بھی نماز پڑھتے تو نماز کے بعد یہ کلمات ضرور کہتے: «رب جبريل وميكائيل وإسرافيل أعذني من حر النار وعذاب القبر» اے جبرائیل وم یکائیل اور اسرافیل کے رب! مجھے جہنم کی آگ کی تپش، اور قبر کے عذاب سے بچا ۔
It was narrated from 'Ata bin Abi Marwan, from his father, that:
Ka'b رضی اللہ عنہ swore to him: By Allah (SWT) Who parted the sea for Musa, we find in the Tawrah that when Dawud, the Prophet of Allah, finished his prayer, he would say: 'Allahumma Aslih li dinya-lladhi ja'altahu li ismatan wa aslih li dunyaya-llati ja'alta fiha ma'ashi, Allahumma inni a-udhu biridaka min sakhatik wa a-udhu bi'afwika min naqmatika wa a-udhu bika mink, la mani' lima a'taita wa la mu'tia lima mana'ta wa la yanfa'u dhal-jaddi minka al-jadd (O Allah, set straight my religious commitment that You have made a protection for me, and set straight my worldly affairs which You have made a means of my livelihood. O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath, and I seek refuge in Your forgiveness from Your punishment, and I seek refuge in You from You. None can withhold what you have given and none can give what you have withheld, and no wealth or fortune can avail the man of wealth and fortune before You.)' He said: And Ka'b رضی اللہ عنہ told me that Suhaib رضی اللہ عنہ told him that Muhammad (ﷺ) used to say (these words) when he had finished praying.'
ہم سے عمرو بن سواد بن اسود بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے حفص بن میسرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے، عطاء بن ابی مروان سے اپنے والد سے
کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے اس اللہ کی قسم کھا کر کہا جس نے موسیٰ کے لیے سمندر پھاڑا کہ ہم لوگ تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود علیہ السلام جب اپنی نماز سے سلام پھیر کر پلٹتے تو کہتی: «اللہم أصلح لي ديني الذي جعلته لي عصمة وأصلح لي دنياى التي جعلت فيها معاشي اللہم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من نقمتك وأعوذ بك منك لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» اے اللہ! میرے لیے میرے دین کو درست فرما دے جسے تو نے میرے لیے بچاؤ کا ذریعہ بنایا ہے، اور میرے لیے میری دنیا درست فرما دے جس میں میری روزی ہے، اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا مندی کی پناہ چاہتا ہوں، اور تیرے عذاب سے تیرے عفو و درگزر کی پناہ چاہتا ہوں، اور میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، نہیں ہے کوئی روکنے والا اس کو جو تو دیدے، اور نہ ہی ہے کوئی دینے والا اسے جسے تو روک لے، اور نہ مالدار کو اس کی مالداری بچا پائے گی۔ ابومروان کہتے ہیں: اور کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ صہیب رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کو نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر کہا کرتے تھے۔
It was narrated that Muslim bin Abi Bakrah رضی اللہ عنہ said:
My father used to say following every prayer: 'Allahumma inni a-udhu bika min al-kufri wal-faqri wa 'adhab al-qabr. ( O Allah, I seek refuge with You from Kufr, poverty, and the torment of the grave)' and I used to say them (these words). My father said: 'O my son, from whom did you learn this?' I said: 'From you. He said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to say them following the prayer.'
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے عثمان الشہام کی سند سے اور مسلم بن ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میرے والد ( ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ) نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے: «اللہم إني أعوذ بك من الكفر والفقر وعذاب القبر» اے اللہ میں کفر سے، محتاجی سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں تو میں بھی انہیں کہا کرتا تھا، تو میرے والد نے کہا: میرے بیٹے! تم نے یہ کس سے یاد کیا ہے؟ میں نے کہا: آپ سے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں نماز کے بعد کہا کرتے تھے۔
It was narrated that Abdullah in 'Umar رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are two qualities which no Muslim person attains but he will enter Paradise, and they are easy, but those who do them are few.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'The five daily prayers: After each prayer one of you glorifies Allah (SWT) ten times and praises Him ten times and magnifies him ten times, which makes one hundred and fifty on the tongue and one thousand five hundred in the balance.' And I saw the Messenger of Allah (ﷺ) counting them on his hands. 'And when one of you retires to his bed he says the tasbih thirty-three times and the tahmid thirty-three times and the takbir thirty-four times, that is one hundred on the tongue and one thousand in the balance.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: So which of you does two thousand five hundred bad deeds in a day and a night? It was said: O Messenger of Allah (ﷺ), how can a person not persist in doing that? He said: The Shaitan comes to one of you when he is praying and says: 'Remember such and such, remember such and such, or he comes to him when he is in bed and makes him fall asleep.
ہم سے یحییٰ بن حبیب بن عربی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے عطاء بن السائب سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو ایسی خصلتیں ہیں کہ کوئی مسلمان آدمی انہیں اختیار کر لے تو وہ جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں لیکن ان پر عمل کرنے والے کم ہیں، پانچ نمازیں تم میں سے جو کوئی ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان اللہ» دس بار «الحمد لله» اور دس بار «اللہ أكبر» کہے گا، تو وہ زبان سے کہنے کے لحاظ سے ڈیڑھ سو کلمے ہوئے، مگر میزان میں ان کا شمار ڈیڑھ ہزار کلموں کے برابر ہو گا، ( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں اپنے ہاتھوں ( انگلیوں ) پر شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے ) ، اور جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے، اور تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہے، تو وہ زبان پر سو کلمات ہوں گے، مگر میزان ( ترازو ) میں ایک ہزار شمار ہوں گے، تو تم میں سے کون دن و رات میں دو ہزار پانچ سو گناہ کرتا ہے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم یہ دونوں تسبیحیں کیوں کر نہیں گن سکتے؟۱؎ تو آپ نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے، اور وہ نماز میں ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو اور اسی طرح اس کے سونے کے وقت اس کے پاس آتا ہے، اور اسے ( یہ کلمات کہے بغیر ہی ) سلا دیتا ہے ۔
It was narrated that Ka'b bin 'Ujrah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'There are statements of remembrance following the prayer of which the one who says them will never be deprive of the reward: Glorifying Allah (SWT) thirty-three times following each prayer, and praising Him thirty-three times, and magnifying Him thirty-four times.'
ہم سے محمد بن اسماعیل بن سمرہ نے اسباط کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمرو بن قیس نے الحکم کی سند سے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی سند سے بیان کیا, کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ایسے الفاظ ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد کہا جاتا ہے ان کا کہنے والا ناکام و نامراد نہیں ہو سکتا، یعنی جو ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہے۔
It was narrated that Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ said:
They were commanded to say the tasbih thirty-three times following the prayer, and to say the tahmid thirty-three times, and to say the takbir thirty-four times, then a man from among the Ansar was told in a dream: 'Did the Messenger of Allah (ﷺ) command you to say the tasbih thirty-three times following the prayer, and to say the tahmid thirty-three times, and to say the takbir thirty-four times?' He said: 'Yes.' 'Instead of that, say each one twenty-five times, and include the tahlil among them.' The next morning he came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him about that, and he said: 'Do that.'
ہم سے موسیٰ بن حزام الترمذی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن آدم نے ابن ادریس سے، ہشام بن حسان سے، محمد بن سیرین سے، کثیر بن افلح کی سند سے بیان کیا, زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہیں، پھر ایک انصاری شخص سے اس کے خواب میں پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ»تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہنے کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، تو پوچھنے والے نے کہا: تم انہیں پچیس، پچیس بار کر لو، اور باقی پچیس کی جگہ «لا الٰہ إلا اللہ» کہا کرو، تو جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا، تو آپ نے فرمایا: اسے اسی طرح کر لو ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم that:
A man saw in a dream that it was said to him: What does your Prophet (ﷺ) command you to do? He said: He commanded us to say Tasbih thirty-three times following the prayer, and to say the tahmid thirty-three times, and to say the takbir thirty-four times, and that makes one-hundred. He said: Say the tasbih twenty-five times and say the tahmid twenty-five times and say the takbir twenty-five times and say the tahlil twenty-five times, and that will make one hundred. The following morning he told the Prophet (ﷺ) about that and the Messenger of Allah (ﷺ) said: Do what the Ansari said.
ہم سے عبید اللہ بن عبد الکریم ابو زرعہ الرازی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے احمد بن عبد اللہ بن یونس نے بیان کیا، کہا: مجھ سے علی بن الفضیل بن عیاض نے، عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
ایک آدمی نے دیکھا جیسے سونے والا خواب دیکھتا ہے، اس سے خواب میں پوچھا گیا: تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہیں، تو یہ کل سو ہیں، تو اس نے کہا: تم پچیس بار «سبحان اللہ» پچیس بار «الحمد لله» پچیس بار «اللہ أكبر» اور پچیس بار «لا إله إلا اللہ»کہو، یہ بھی سو ہیں، چنانچہ جب صبح ہوئی تو اس آدمی نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایسے ہی کر لو جیسے انصاری نے کہا ۔
It was narrated that Juwayriyah bint Al-Harith رضی اللہ عنہا said that:
The Prophet (ﷺ) passed by her while she was in the masjid, supplicating, then he passed by her again when it was almost midday. He said to her: Are you still here? She said: Yes. He said: Shall I not teach you some words which you can say? Subhan Allah adada khalqihi, subhan Allah adada khalqihi, subhan Allah adada khalqihi; subhan Allah rida nafsihi, subhan Allah rida nafsihi, subhan Allah rida nafsihi; Subhan Allah zinata 'arshihi, Subhan Allah zinata 'arshihi, Subhan Allah zinata 'arshihi; Subhan Allah midada Kalamatihi, Subhan Allah midada Kalamatihi, Subhan Allah midada Kalamatihi (Glory be to Allah the number of His creation, glory be to Allah the number of His creation, glory be to Allah the number of His creation; glory be to Allah as much as pleases Him, glory be to Allah as much as pleases Him, glory be to Allah as much as pleases Him; glory be to Allah the weight of His throne, glory be to Allah the weight of His throne, glory be to Allah the weight of His throne; glory be to Allah the number of His words, glory be to Allah the number of His words, glory be to Allah the number of His words).'
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ محمد بن عبدالرحمٰن سے جو طلحہ کے خاندان کے آزاد کردہ غلام تھے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کریب کو سنا:ام المؤمنین جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، اور وہ مسجد میں دعا مانگ رہی تھیں، پھر آپ ان کے پاس سے دوپہر کے قریب گزرے ( تو دیکھا وہ اسی جگہ دعا میں مشغول ہیں ) تو آپ نے ان سے فرمایا: تم اب تک اسی حال میں ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتاؤں کہ جنہیں تم کہا کرو؟ وہ یہ ہیں: «سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ عدد خلقه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ رضا نفسه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ زنة عرشه سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته سبحان اللہ مداد كلماته» اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو جتنا وہ چاہے، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر، اللہ کی پاکی بیان ہو اس کے بے انتہا کلمات کے برابر ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم said:
Some poor people came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), the rich pray as we pray, and they fast as we fast, but they have wealth that they give in charity and with which they free slaves.' The Prophet (ﷺ) said: 'If you pray and say SubhanAllah thirty-three times, Al-hamdu-lillah thirty-three times and Alahu Akbar thirty-four times, and La illaha illaAllah ten times, then you will catch up with those who went ahead of you and will go ahead of those who come after you.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا ہم سے عتاب بن بشیر نے خصیف سے، عکرمہ اور مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فقراء نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مالدار لوگ ( بھی ) نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، ان کے پاس مال ہے وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں، اور ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتے ہیں، ( اور ہم نہیں کر پاتے ہیں تو ہم ان کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں ) یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوگ نماز پڑھ چکو تو تینتیس بار «سبحان اللہ»تینتیس بار «الحمد لله» اور تینتیس بار «اللہ أكبر» اور دس بار «لا إله إلا اللہ» کہو، تو تم اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے سبقت کر گئے ہیں، اور اپنے بعد والوں سے سبقت کر جاؤ گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever says the tasbih one hundred times following the morning prayer, and the tahlil one hundred times, he will be forgiven his sins even if they are like the foam of the sea.'
ہم سے احمد بن حفص بن عبداللہ النیسابوری نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، یعنی ابن طہمان نے، حجاج بن الحجاج کی سند سے، ابو الزبیر کی سند سے، ابو علقمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فجر کی نماز کے بعد سو بار «سبحان اللہ» اور سو بار «لا إله إلا اللہ» کہے گا، اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہم said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) counting tasbih on his fingers.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی الصنعانی اور حسین بن محمد الذ ارع نے بیان کیا، اور قول ان کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے عثام بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اعمش نے عطاء بن سائب کی سند سے اپنے والد سے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے ہوئے دیکھا ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe I'tikaf during the middle ten days of the month, and after the twentieth (day of the month), he would come out on the twenty-first and go back to his home, and those who were observing I'tikaf with him would go back like him. Then he stayed one month on the night when he used to go back home, and he addressed the people and enjoined upon them whatever Allah (SWT) willed. Then he said: 'I used to observe I'tikaf during these ten days, then I decided to spend the last ten days in I'tikaf. So whoever was observing I'tikaf with me, let him stay in his place of I'tikaf, for I was shown this night (Lailatul Qadr), then I was caused to forget it, so seek it during the last ten nights on the odd-numbered nights. And I saw myself prostrating in water and mud.' Abu Sa'eed said: It rained on the night of the twenty-first, and the roof of the Masjid leaked over the place where the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray. I looked at him when he had finished praying subh and his face was wet with water and mud.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بکر بن مضر نے ابن الحاد کی سند سے، محمد بن ابراہیم کی سند سے، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رمضان کے ) مہینہ کے بیچ کے دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے، جب بیسویں رات گزر جاتی اور اکیسویں کا استقبال کرتے تو آپ اپنے گھر واپس آ جاتے، اور وہ لوگ بھی واپس آ جاتے جو آپ کے ساتھ اعتکاف کرتے تھے، پھر ایک مہینہ ایسا ہوا کہ آپ جس رات گھر واپس آ جاتے تھے اعتکاف ہی میں ٹھہرے رہے، لوگوں کو خطبہ دیا، اور انہیں حکم دیا جو اللہ نے چاہا، پھر فرمایا: میں اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا پھر میرے جی میں آیا کہ میں ان آخری دس دنوں میں اعتکاف کروں، تو جو شخص میرے ساتھ اعتکاف میں ہے تو وہ اپنے اعتکاف کی جگہ میں ٹھہرا رہے، میں نے اس رات ( لیلۃ القدر ) کو دیکھا، پھر وہ مجھے بھلا دی گئی، تم اسے آخری دس دنوں کی طاق راتوں میں تلاش کرو، اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں ، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اکیسویں رات کو بارش ہوئی تو مسجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر ٹپکنے لگی، چنانچہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صبح کی نماز سے فارغ ہو کر لوٹ رہے ہیں، اور آپ کا چہرہ مٹی اور پانی سے تر تھا۔
It was narrated that Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) prayed fajr, he would sit in the place where he had prayed until the sun rose.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو الاحواس نے سماک کی سند سے بیان کیا, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے فارغ ہو جاتے تو آپ اپنے مصلیٰ ہی پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا۔
It was narrated that Simak bin Harb said:
I said to Jabir bin Samurah رضی اللہ عنہ : 'Did you used to sit with the Messenger of Allah (ﷺ)? He said: 'Yes.' When the Messenger of Allah (ﷺ) had prayed fajr, he would sit in the place where he had prayed until the sun rose, and his companions would talk and remember things from the time of Jahilliyah and recite poetry, and they would laugh and he would smile.'
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا: ہم سے زہیر نے بیان کیا، اور انہوں نے ایک اور کا ذکر کیا, سماک بن حرب کہتے ہیں کہ
میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ( پھر انہوں نے بیان کیا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج نکل آتا، پھر آپ کے صحابہ آپ سے میں بات چیت کرتے، جاہلیت کے دور کا ذکر کرتے، اور اشعار پڑھتے، اور ہنستے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مسکراتے۔