It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) saying the takir every time he went down or came up, or stood or sat, and he said the salam to his right and to his left: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah, as-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah, peace be upon you and the mercy of Allah) until the whiteness of his cheek could be seen . And I saw Abu Bakr and 'Umar رضی اللہ عنہم doing likewise.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاذ بن معاذ نے بیان کیا، کہا: ہم سے زہیر نے ابواسحاق سے، عبدالرحمٰن بن اسود سے، اسود اور علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہر جھکنے اٹھنے اور کھڑے ہونے اور بیٹھنے میں اللہ اکبر کہتے، پھر اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی، اور میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم کو بھی اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا۔
It was narrated from Wasi' bin Habban that:
He asked 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہم about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Allahu Akbar every time he went down and Allahu Akbar every time he came up, then he said: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) to his right and: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) to his left.
ہم سے حسن بن محمد الزعفرانی نے حجاج کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن جریج نے بیان کیا: ہمیں عمرو بن یحییٰ نے محمد بن یحییٰ بن حبان کی سند سے خبر دی,واسع بن حبان سے روایت ہے کہ
انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب جھکتے تو «اللہ أكبر» کہتے، اور جب اٹھتے تو «اللہ أكبر» کہتے، پھر آپ اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے اور اپنی بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے۔
It was narrated that Wasi' bin Habban said:
I said to Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم: Tell me about the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ); how was it? He mentioned the takbir and he mentioned: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) to his right and: As-salamu 'alaykum (peace be upon you) to his left.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالعزیز نے، یعنی الدراوردی نے، عمرو بن یحییٰ کی سند سے، وہ محمد بن یحییٰ بن حبان کی سند سے, واسع بن حبان کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم سے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیسی ہوتی تھی، تو انہوں نے تکبیر کہی، اور اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہنے، اور بائیں طرف «السلام عليكم» ۱؎ کہنے کا ذکر کیا۔
It was narrated from 'Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: It is as if I can see the whiteness of his cheek, saying to his right: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) and to his left: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah). (Sahih
ہم سے زید بن اخزم نے ابن داؤد کی سند سے، یعنی عبداللہ بن داؤد الخریبی نے، علی بن صالح کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، ابو الاحوص کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، اور اپنی بائیں طرف«السلام عليكم ورحمة اللہ» کہا، گویا میں آپ کے گال کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔
It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say the salam to his right so that the whiteness of his cheek could be seen, and to his left so that the whiteness of his cheek could be seen.
ہم سے محمد بن آدم نے عمر بن عبید کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، ابو الاحو ص کی سند سے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی، اور آپ بائیں طرف سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے گال کی سفیدی دکھائی دیتی۔
It was narrated from 'Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) used to say salam to his right and to his left: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah, as-salamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah, peace be upon you and the mercy of Allah) until the whiteness of his cheek could be seen from here, and the whiteness of his cheek from here.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرحمٰن نے سفیان کی سند سے، ابو اسحاق کی سند سے، ابو الاحو ص کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں طرف اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے، اور ( آپ اپنے سر کو اتنا گھماتے ) کہ آپ کے رخسار کی سفیدی ادھر سے، اور ادھر سے دکھائی دیتی۔
Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ narrated that:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to say salam to his right:As-salamu 'alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) , until the whiteness of his right cheek could be seen, and to his left: As-salamu 'alaykum wa rahmatullah (peace be upon you and the mercy of Allah) until the whiteness of his left cheek could be seen.
ہم سے ابراہیم بن یعقوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے علی بن الحسن بن شقیق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں حسین بن واقد نے خبر دی، کہا: ہم سے ابو اسحاق نے علقمہ اور اسود کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے دائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور بائیں طرف «السلام عليكم ورحمة اللہ» کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ کے بائیں گال کی سفیدی دکھائی دینے لگتی۔
It was narrated that Jabir bin Samurah said:
I prayed with the Messenger of Allah (ﷺ) and when we said the salam we used to gesture with our hands: 'Asalamu alaykum wa rahmatullah (peace be upon, peace be upon you).' The Messenger of Allah (ﷺ) looked at us and said: 'What is the matter with you, pointing with your hands as if they are the tails of wild horses? When any one of you says the salam, let him turn to his companions and not gesture with his hand.'
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسرائیل نے فرات القزاز سے اور عبید اللہ کی سند سے جو قبطی عورت کے بیٹے تھے, جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب ہم سلام پھیرتے تو اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے کہتے:«السلام عليكم السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ تم لوگ اپنے ہاتھوں سے اشارے کرتے ہو، گویا کہ وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، جب تم میں سے کوئی سلام پھیرے تو وہ اپنے ساتھ والے کی طرف متوجہ ہو جائے، اور اپنے ہاتھ سے اشارہ نہ کرے ۔
Itban bin Malik رضی اللہ عنہ said:
I used to lead my people Bani Salim in prayer. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'I have lost my eyesight and the rainwater prevents me from reaching the masjid of my people. I would like you to come and pray in my house in a place that I can take as a masjid.' The Prophet (ﷺ) said: 'I will do that, if Allah (SWT) wills.' The next day, the Messenger of Allah (ﷺ) came, and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was with him, after the day had grown hot. The Prophet (ﷺ) asked for permission to enter, and I gave him permission. He did not sit own until he asked: 'Where would you like me to pray in your house?' I showed him the place where I wanted him to pray, so the Messenger of Allah (ﷺ) stood there and formed a row behind him, then he said the salam and we said the salam when he did.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے معمر کی سند سے اور زہری کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا:محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھایا کرتا تھا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے عرض کیا کہ میری آنکھیں کمزور ہو گئی ہیں، اور برسات میں میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان سیلاب حائل ہو جاتا ہے، لہٰذا میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لاتے، اور کسی جگہ میں نماز پڑھ دیتے تو میں اس جگہ کو اپنے لیے مسجد بنا لیتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا ان شاءاللہ عنقریب آؤں گا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب دن چڑھ آنے کے بعد میرے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت مانگی، میں نے آپ کو اندر تشریف لانے کے لیے کہا، آپ بیٹھے بھی نہیں کہ آپ نے پوچھا: تم اپنے گھر کے کس حصہ میں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ تو میں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں میں چاہتا تھا کہ آپ اس میں نماز پڑھیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، اور ہم نے بھی سلام پھیرا جس وقت آپ نے سلام پھیرا۔
It was narrated from 'Urwah (that) Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray eleven rak'ahs, making it odd (witr) by one between the time when he finished 'Isha and dawn, and he would prostrate for as long as it takes one of you to recite fifty verses before raising his head. Some of them (the narrators) were more detailed than others in the report. (This is an) abridged form.
ہم سے سلیمان بن داؤد بن حماد بن سعد نے ابن وہب کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابن ابی ذہب، عمرو بن حارث اور یونس بن یزید نے بیان کیا کہ ان سے ابن شہاب نے عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فجر تک کے بیچ میں گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، اور ایک رکعت کے ذریعہ وتر کرتے، اور ایک سجدہ اتنا لمبا کرتے کہ کوئی اس سے پہلے کہ آپ سجدہ سے سر اٹھائیں پچاس آیتیں پڑھ لے۔ اس حدیث کے رواۃ ( ابن ابی ذئب، عمرو بن حارث اور یونس بن یزید ) ایک دوسرے پر اضافہ بھی کرتے ہیں اور یہ حدیث ایک لمبی حدیث سے مختصر کی گئی ہے۔
It was narrated from 'Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said the salam, then he spoke, then he performed two prostrations of forgetfulness.
ہم سے محمد بن آدم نے حفص کی سند سے، الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر آپ نے گفتگو کی، پھر سہو کے دو سجدے کیے۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said the salam then he performed two prostrations of forgetfulness while he was still sitting, then he said the salam. He said: He mentioned it in the hadith of Dhul-Yadain.
ہم سے سوید بن نصر نے عبداللہ بن المبارک سے اور عکرمہ بن عمار کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ضمضم بن جوس نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، پھر سہو کے دو سجدے بیٹھے بیٹھے کئے، پھر سلام پھیرا، راوی کہتے ہیں: اس کا ذکر ذوالیدین والی حدیث میں بھی ہے۔
It was narrated from 'Imran bin Husain رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) prayed three (rak'ahs) then said the taslim. Al-Khirbaq رضی اللہ عنہ said: You prayed three. So he led them in praying the remaining rak'ah, then he said the taslim, then he did the two prostrations of forgetfulness, then he said the taslim (again).
ہم سے یحییٰ بن حبیب بن عربی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے ابوقلابہ سے اور ابو المحلب کی سند سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیر دیا، تو خرباق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ نے تین ہی رکعت نماز پڑھی ہے، چنانچہ آپ نے انہیں وہ رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی، پھر آپ نے سلام پھیرا، پھر سجدہ سہو کیا، اس کے بعد سلام پھیرا۔
It was narrated that Al-Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہ said:
I watched the Messenger of Allah (ﷺ) when he prayed, and I noticed that his standing, his bowing, his standing up after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations and his sitting between the taslim and departing were almost the same in length.
ہم سے احمد بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو عوانہ نے ہلال کی سند سے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو بغور دیکھا، تو میں نے پایا کہ آپ کا قیام ، آپ کا رکوع، اور رکوع کے بعد آپ کا سیدھا کھڑا ہونا، پھر آپ کا سجدہ کرنا، اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا، پھر دوسرا سجدہ کرنا، پھر سلام پھیرنے اور مقتدیوں کی طرف پلٹنے کے درمیان بیٹھنا تقریباً برابر برابر ہوتا تھا۔
Hind bint Al-Harith Al-Farrasiyyah narrated that:
Umm Salamah رضی اللہ عنہا told her that during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), when the women said the taslim at the end of the prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) and the men who had prayed with him would stay put for as long as Allah (ﷺ) willed. Then, when the Messenger of Allah (ﷺ) got up, the men did too.
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے یونس کی سند سے بیان کیا اور ابن شہاب نے کہا: مجھ سے ہند بنت حارث الفراسیہ نے بیان کیا کہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتیں جب نماز سے سلام پھیرتیں تو کھڑی ہو جاتیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مردوں میں سے جو لوگ نماز میں ہوتے بیٹھے رہتے جب تک اللہ چاہتا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو مرد بھی کھڑے ہو جاتے۔
It was narrated from Jabir bin Yazid bin Al-Aswad رضی اللہ عنہ, from his father that:
He prayed subh with the Messenger of Allah (ﷺ), and when he finished praying he turned away (from the Qiblah and toward the people.)
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے یعلیٰ بن عطاء نے، جابر بن یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد سے
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنا رخ پلٹ کر مقتدیوں کی طرف کر لیا۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم said:
I used to know that the prayer of the Messenger of Allah (ﷺ) ended by the takbir.
ہم سے بشر بن خالد عسکری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے سفیان بن عیینہ کی سند سے، عمرو بن دینار سے اور ابو معبد کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر کے ذریعہ جانتا تھا ۔
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amr رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) commanded me to recite Al-Mu'awwidhat following every prayer.
ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن وہب نے لیث کی سند سے، حنین بن ابی حکیم کی سند سے اور علی بن رباح کی سند سے بیان کیا,عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذتین «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھا کروں۔
Thawban رضی اللہ عنہ , the freed slave of the Messenger of Allah (ﷺ), narrated that:
When he finished the prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) would pray for forgiveness three times and say: 'Allahumma anta asalam, wa minka as-salam tabarakta ya dhal-jalali wal-ikram (O Allah, You are the source of eace (or the One free from all faults) and from You comes peace, blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor).
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ولید نے ابو عمرو الاوزاعی کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے شداد ابو عمار نے بیان کیا، ان سے ابو اسماء الرحبی نے بیان کیا, ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین بار «استغفر اللہ» کہتے، پھر کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھ سے ہی تمام کی سلامتی ہے، تیری ذات بڑی بابرکت ہے، اے بزرگی اور عزت والے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
After saying the taslim the Messenger of Allah (ﷺ) would say: Allahumma anta as-salam wa minka as-salam tabarakta ya dhal-jalali wal-ikram (O Allah, You are the source of eace (or the One free from all faults) and from You comes peace, blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor).
ہم سے محمد بن عبد الاعلی اور محمد بن ابراہیم بن صدران نے خالد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے عاصم کی سند سے اور عبداللہ بن حارث کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھی سے تمام کی سلامتی ہے، اے عزت و بزرگی والے تیری ذات بڑی بابرکت ہے ۔