Abdullah bin 'Ubaidullah bin 'Abbas said:
We were sitting with 'Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ عنہم and he said: 'By Allah, the Messenger of Allah (ﷺ) did not say specifically anything for us above the people, except for three things: He commanded us to do Wudu' properly, [2] not to consume charity, and not to mate donkeys with horses.' [1] Isbagh Al-Wudu' [2] An Nusbig Al-Wudu'
ہم سے یحییٰ بن حبیب بن عربی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوجہضم نے بیان کیا، کہا:عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ
ہم لوگ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھے تھے، تو انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے لوگوں کی بہ نسبت ہمیں ( یعنی بنی ہاشم کو ) کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا سوائے تین چیزوں کے ( پہلی یہ کہ ) آپ نے حکم دیا کہ ہم کامل وضو کریں، ( دوسری یہ کہ ) ہم صدقہ نہ کھائیں، اور ( تیسری یہ کہ ) ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر نہ چڑھائیں۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہم said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do Wudu' properly.' [1]
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے جریر نے منصور کی سند سے، ہلال بن یاصف سے، ابو یحییٰ سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کامل وضو کرو ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Shall I not tell you of that by means of which Allah erases sins and raises (people) in status? Doing Wudu' properly [1] even when it is inconvenient, taking a lot of steps to the Masjid, and waiting for one Salah after another. That is the Ribat for you, that is the Ribat for you, that is the Ribat for you. [1] Isbagh Al-Wudu'.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، علاء بن عبدالرحمٰن کی سند سے، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم لوگوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹاتا اور درجات بلند کرتا ہے، وہ ہے: ناگواری کے باوجود کامل وضو کرنا، زیادہ قدم چل کر مسجد جانا، اور نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا، یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے یہی «رباط» ہے ۔
It was narrated from 'Asim bin Sufyan Ath-Thaqafi that:
They went out for the battle of As-Salasil, but they missed the fighting, so they kept watch, then they went back to Mu'awiyah رضی اللہ عنہ , and Abu Ayyub and 'Uqbah bin 'Amir رضی اللہ عنہم were with him. 'Asim said: O Abu Ayyub, we missed the general mobilization, but we have been told that whoever prays in the four Masjids will be forgiven his sins. He said: O son of my brother! I will tell you of something easier than that. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) says: 'Whoever performs Wudu' as commanded and prays as commanded, will be forgiven for his previous actions.' Is it not so, O 'Uqbah? He said: Yes.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے ابو الزبیر کی سند سے اور سفیان بن عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ
وہ لوگ غزوہ سلاسل کے لیے نکلے، لیکن یہ غزوہ ان سے فوت ہو گیا، تو وہ سرحد ہی پہ جمے رہے، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آئے، ان کے پاس ابوایوب اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم موجود تھے، تو عاصم کہنے لگے: ابوایوب! اس سال ہم لوگ غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے ہیں، اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ جو چار مسجدوں ۲؎ میں نماز پڑھ لے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے؟، تو انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں اس سے آسان چیز بتاتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: جو وضو کرے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے اور نماز پڑھے اسی طرح جیسے اسے حکم دیا گیا ہے، تو اس کے وہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے جنہیں اس نے اس سے پہلے کیا ہو ، عقبہ! ایسے ہی ہے نا؟ انہوں نے کہا: ہاں ( ایسے ہی ہے ) ۔
It was narrated that Jami' bin Shaddad said:
I heard Humran bin Aban tell Abu Burdah in the Masjid that he heard 'Uthman رضی اللہ عنہ narrating that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever performs Wudu' completely as commanded by Allah, the five daily prayers will be an expiation for whatever comes in between them.'
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے شعبہ کی سند سے، وہ جامی بن شداد سے، انہوں نے کہا
میں نے حمران بن ابان کو ابو بردہ کو مسجد میں بیان کرتے سنا کہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس نے اللہ عزوجل کے حکم کے موافق وضو کو پورا کیا، پانچوں وقت کی نمازیں اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہوئے ہوں گے ۔
Uthman رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'There is no man who performs Wudu' and does it well, then prays, but when he prays it, he will be forgiven whatever (sins he commits) between that and the next prayer.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ہشام بن عروہ سے، اپنے والد سے، عثمان کے آزاد کردہ غلام حمران کی سند سے, عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر نماز پڑھے، تو اس کے اس نماز سے لے کر دوسری نماز پڑھنے تک کے دوران ہونے والے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
Amr bin 'Abasah رضی اللہ عنہ said:
I said: 'O Messenger of Allah! How is Wudu' done?' He said: 'As for Wudu', when you perform Wudu', and you wash your hands to clean them, your sins come out from between your fingers and fingertips. When you rinse your mouth and nostrils, and wash your face and hands up to the elbows, and wipe your head, and wash your feet up to the ankles, you are cleansed of all your sins. When you prostrate your face to Allah, may He be exalted, you emerge from your sins like the day your mother bore you.' Abu Umamah said: I said: 'O 'Amr bin 'Abasah! Look at what you are saying! Was all of that given in one sitting? He said: 'By Allah, I have grown old, my appointed time is near and I am not so poor that I should tell lies about the Messenger of Allah (ﷺ). I heard it with my own ears and understood it in my heart from the Messenger of Allah.'
ہم سے عمرو بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، کہا: ابو یحییٰ سلیم بن عامر، دمرہ بن حبیب اور ابو طلحہ نعیم بن میثم نے بیان کیا، انہوں نے کہا:ہم نے ابو امامہ باہلی کو کہتے سنا:عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وضو کا ثواب کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو کا ثواب یہ ہے کہ: جب تم وضو کرتے ہو، اور اپنی دونوں ہتھیلی دھو کر انہیں صاف کرتے ہو تو تمہارے ناخن اور انگلیوں کے پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب تم کلی کرتے ہو، اور اپنے نتھنوں میں پانی ڈالتے ہو، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتے ہو، اور سر کا مسح کرتے ہو، اور ٹخنے تک پاؤں دھوتے ہو تو تمہارے اکثر گناہ دھل جاتے ہیں، پھر اگر تم اپنا چہرہ اللہ عزوجل کے لیے ( زمین ) پر رکھتے ہو تو اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جاتے ہو جیسے اس دن تھے جس دن تمہاری ماں نے تمہیں جنا تھا ۔ ابوامامہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے عمرو بن عبسہ! دیکھو تم کیا کہہ رہے ہو! کیا یہ سب ایک ہی نشست میں دیا گیا تھا؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم میں بوڑھا ہو گیا ہوں، میرا مقررہ وقت قریب ہے اور میں اتنا غریب نہیں ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولوں۔ میں نے اسے اپنے کانوں سے سنا اور اپنے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھا۔
It was narrated that 'Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever performs Wudu' and does it well, then says: Ashhadu an la ilaha ill-Allah was ashhadu anna Muhammadan 'abduhu wa rasuluh (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is his slave and Messenger), eight gates of Paradise will be opened for him, and he may enter through whichever one he wishes.'
ہم سے محمد بن علی بن حرب المروازی نے بیان کیا، کہا: ہم سے زید بن الحباب نے بیان کیا، کہا: ہم سے معاویہ بن صالح نے ربیعہ بن یزید سے، ابو ادریس خولانی اور ابو عثمان عقبہ بن عقبہانی کی سند سے, عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا، اور اچھی طرح وضو کیا، پھر «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں کہا تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس سے چاہے وہ جنت میں داخل ہو ۔
It was narrated that Abu Hazim said:
I was behind Abu Hurairah رضی اللہ عنہ when he performed Wudu' for Salah. He washed his hand up to the armpit, and I said: 'O Abu Hurairah! What is this Wudu'?' He said to me: 'O Banu Farrukh! You are here! If I had known that you were here I would not have performed Wudu' like this. I heard my close friend (i.e., the Prophet (ﷺ)) says: The jewelry of the believer will reach as far as his Wudu reached.
ہمیں قتیبہ نے خلف کی سند سے، جو ابن خلیفہ ہیں، ابو مالک اشجعی کی سند سے بیان کیا, ابوحازم کہتے ہیں کہ
میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھا، اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے، وہ اپنے دونوں ہاتھ دھو رہے تھے یہاں تک کہ وہ اپنے دونوں بغلوں تک پہنچ جاتے تھے، تو میں نے کہا: ابوہریرہ! یہ کون سا وضو ہے؟ انہوں نے مجھ سے کہا: اے بنی فروخ! تم لوگ یہاں ہو! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم لوگ یہاں ہو تو میں یہ وضو نہیں کرتا ، میں نے اپنے خلیل ( گہرے دوست ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں مومن کا زیور وہاں تک پہنچے گا جہاں تک وضو پہنچے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) went out to the graveyard and said: Peace be upon you, abode of believing people. If Allah wills, we shall join you soon. Would that I had seen our brothers. They said: O Messenger of Allah, are we not your brother? He said: You are my Companions. My brothers are those who have not come yet. And I will reach the Hawd before you. They said: O Messenger of Allah, how will you know those of your Ummah who come after you? He said: Don't you think that if a man has a horse with a white blaze and white feet among horses that are solid black, he will recognize his horse? They said: Of course. He said: They will come on the Day of Resurrection with glittering white faces and glittering white hands and feet because of Wudu', and I will reach the Hawd before them.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، علاء بن عبدالرحمٰن کی سند سے، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» مومن قوم کی بستی والو! تم پر سلامتی ہو، اللہ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں میری خواہش ہے کہ میں اپنے بھائیوں کو دیکھوں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے صحابہ ( ساتھی ) ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی ( دنیا میں ) نہیں آئے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو جو بعد میں آئیں گے کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر کسی آدمی کا سفید چہرے اور پاؤں والا گھوڑا سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو تو کیا وہ اپنا گھوڑا نہیں پہچان لے گا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ قیامت کے دن ( میدان حشر میں ) اس حال میں آئیں گے کہ وضو کی وجہ سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں چمک رہے ہوں گے، اور میں حوض پر ان کا پیش رو ہوں گا ۔
It was narrated that 'Uqbah bin 'Amir Al-Juhani رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever performs Wudu' and does it well, then prays two Rak'ahs in which his heart and face are focused, Paradise will be his.
ہم سے موسیٰ بن عبدالرحمٰن مسروقی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معاویہ بن صالح نے بیان کیا، کہا: ہم سے ربیعہ بن یزید الدمشقی نے بیان کیا، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے اور ابوعثمان ثقفی نے ابوعثمان رحمہ اللہ سے روایت کی, عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اچھی طرح وضو کرے، پھر دل اور چہرہ سے متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی ۔
Ali رضی اللہ عنہ said:
I was a man who had a lot of prostatic discharge, and the daughter of the Prophet (ﷺ) was married to me, so I felt shy to ask him (about that). I said to a man who was sitting beside me: 'Ask him,' so he asked him and he said: 'Perform Wudu' for that.'
ہم سے ہناد بن السری نے ابو بکر بن عیاش کی سند سے اور ابو حصین کی سند سے بیان کیا, ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا
میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) میرے عقد نکاح میں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا: تم پوچھو، تو اس نے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو ہے ۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
I said to Al-Miqdad: 'If a man is intimate with his wife and excretes prostatic fluid but does not have intercourse - ask the Prophet (ﷺ) about that, for I am too shy to ask him about it since his daughter is married to me.' So he asked him, and he said: 'Let him wash his male member and perform Wudu' as for Salah.'
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے ہشام بن عروہ سے اور اپنے والد سےعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے مقداد سے کہا: جب آدمی اپنی بیوی کے پاس جائے، اور مذی نکل آئے، اور جماع نہ کرے تو ( اس پر کیا ہے؟ ) تم اس کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھنے سے شرما رہا ہوں، کیونکہ آپ کی صاحبزادی میرے عقد نکاح میں ہیں، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور نماز کی طرح وضو کر لیں ۔
It was narrated from 'A'ish bin Anas that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
I was a man who had a lot of prostatic discharge, so I told 'Ammar bin Yasir to ask the Messenger of Allah (ﷺ) (about it) because his daughter was married to me. He said: 'Wudu' is sufficient for that.'
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے عمرو کی سند سے اور عطاء کی سند سے بیان کیا, عائش بن انس سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو میں نے آپ کی صاحبزادی جو میرے عقد نکاح میں تھیں کی وجہ سے عمار بن یاسر کو حکم دیا کہ وہ ( اس بارے میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں، ( چنانچہ انہوں نے پوچھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو کافی ہے ۔
It was narrated from Rafi' bin Khadij رضی اللہ عنہ that:
'Ali رضی اللہ عنہ told 'Ammar رضی اللہ عنہ to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about prostatic fluid, and he said: 'Let him wash his male member and perform Wudu'.'
ہم سے عثمان بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امیہ نے خبر دی، کہا کہ ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا کہ ہم سے رو ح بن القاسم نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، عطاء کی سند سے اور ایاس بن خلیفہ سے, رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں سوال کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنی شرمگاہ دھو لیں، اور وضو کر لیں ۔
It was narrated from Al-Miqdad bin Al-Aswad رضی اللہ عنہ that:
'Ali رضی اللہ عنہ told him to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about a man who comes close to his wife and prostatic fluid comes out of him - what should he do? ('Ali said: ) For his daughter is married to me and I feel too shy to ask him. So I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about that and he said: If any one of you experiences that, let him sprinkle water on his private part and perform Wudu' as for Salah.
ہم سے عتبہ بن عبداللہ المروازی نے مالک کی سند سے، جو ابن انس ہیں، انہوں نے ابو النضر کی سند سے، سلیمان بن یسار کی سند سے, مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کریں جو اپنی بیوی سے قریب ہو اور اس سے مذی نکل آئے، تو اس پر کیا واجب ہے؟ ( وضو یا غسل ) کیونکہ میرے عقد نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) ہیں، اس لیے میں ( خود ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے شرما رہا ہوں، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایسا پائے تو اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کرے ۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
I felt too shy to ask the Messenger of Allah (ﷺ) about prostatic fluid because of Fatimah رضی اللہ عنہا, so I told Al-Miqdad bin Al-Aswad رضی اللہ عنہ to ask about it, and he (the Prophet (ﷺ)) said: 'Perform Wudu' for that.'
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، کہا: مجھ سے سلیمان نے بیان کیا، کہا: میں نے محمد بن علی رضی اللہ عنہ سے منذر کو سنا, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے مذی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں وضو واجب ہوتا ہے ۔
Zirr bin Hubaish narrated:
I came to a man called Safwan bin 'Assal رضی اللہ عنہ and sat at his door. He came out and said: 'What do you want?' I said: 'I am seeking knowledge.' He said: 'The angels lower their wings for the seeker of knowledge out of pleasure at what he is seeking.' He said: 'What do you want to know about?' I said: 'About the Khuffs.' He said: 'When we were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, he told us not to take them off for three days except in the case of Janabah, but not in the case of defecation, urinating or sleep.'
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے عاصم کی سند سے بیان کیا, زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ
میں ایک آدمی کے پاس آیا جسے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، میں ان کے دروازہ پر بیٹھ گیا، تو وہ نکلے، تو انہوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ میں نے کہا: علم حاصل کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا: طالب علم کے لیے فرشتے اس چیز سے خوش ہو کر جسے وہ حاصل کر رہا ہو اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، پھر پوچھا: کس چیز کے متعلق پوچھنا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: دونوں موزوں کے متعلق کہا: جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے کہ ہم انہیں تین دن تک نہ اتاریں، الاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے، لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند ( تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں ) ۔
Safwan bin 'Assal رضی اللہ عنہ said:
When we were with the Messenger of Allah (ﷺ) on a journey, he told us not to take them off for three days except in the case of Janabah, but not in the case of defecation, urinating or sleep.
ہم سے عمرو بن علی اور اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے عاصم کی سند سے اور زر کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو آپ حکم دیتے کہ ہم ( موزوں کو ) تین دن تک نہ اتاریں، إلاّ یہ کہ جنابت لاحق ہو جائے، لیکن پاخانہ، پیشاب اور نیند ( تو ان کی وجہ سے نہ اتاریں ) ۔
Sa'eed - meaning Ibn Al-Musayyab - and 'Abbad bin Tamim narrated that his uncle - 'Abdullah bin Zaid رضی اللہ عنہ said:
A man who felt something during Salah complained to the Prophet (ﷺ). He said: 'Do not stop praying unless you notice a smell or hear a sound.'
ہمیں قتیبہ نے سفیان کی سند سے اور زہری کی سند سے خبر دی۔ اور سفیان کی سند سے مجھے محمد بن منصور نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے الزہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا: سعید یعنی ابن المسیب نے اور مجھے عباد بن تمیم نے خبر دی, عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی گئی کہ آدمی ( بسا اوقات ) نماز میں محسوس کرتا ہے کہ ہوا خارج ہو گئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک بو نہ پا لے، یا آواز نہ سن لے نماز نہ چھوڑے ۔