It was narrated from Sa'd bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) wiped over the Khuffs.
ہم سے سلیمان بن داؤد اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، ان سے پڑھتے ہوئے میں نے سنا (اور قول ان کا ہے) ابن وہب سے، عمرو بن حارث سے، ابو النضر کی سند سے، ابو سلمہ بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے, سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپﷺ نے دونوں موزوں پر مسح کیا۔
It was narrated from Sa'd bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ), with regard to wiping over the Khuffs; There is nothing wrong with it.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے جو ابن جعفر ہیں، انہوں نے موسیٰ بن عقبہ کی سند سے، ابو النضر کی سند سے اور ابو سلمہ کی سند سے, سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موزوں پر مسح کے متعلق روایت کی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
It was narrated that Al-Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ said:
The Prophet (ﷺ) went out to relieve himself, and when he came back, I met him with a vessel (of water). I poured some for him and he washed his hands, then he washed his face. Then he wanted to wash his forearms but his Jubbah was too tight, so he brought them out from beneath the Jubbah to wash them, and he wiped over his Khuffs, then he led us in prayer.
ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا، کہا: ہم سے عیسیٰ نے الاعمش کی سند سے، مسلم کی سند سے، مسروق کی سند سے بیان کیا, مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، جب آپ لوٹے تو میں ایک لوٹے میں پانی لے کر آپ سے ملا، اور میں نے ( اسے ) آپ پر ڈالا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا چہرہ دھویا، پھر آپ اپنے دونوں بازو دھونے چلے تو جبہ تنگ پڑ گیا، تو آپ نے انہیں جبے کے نیچے سے نکالا اور انہیں دھویا، پھر اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر ہمیں نماز پڑھائی، ( پھر ہمیں نماز پڑھائی کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ) ۔
It was narrated from Al-Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) went out to relieve himself, and Al-Mughirah followed him, (carrying) a vessel of water. He poured water for him when he had finished relieving himself, and he performed Wudu' and wiped over his Khuffs.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے یحییٰ کی سند سے، سعد بن ابراہیم کی سند سے، نافع بن جبیر سے، عروہ بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد المغیرہ کی سند سے بیان کیا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے، مغیرہ ایک برتن لے کر جس میں پانی تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے گئے، اور آپ پر پانی ڈالا، یہاں تک کہ آپ اپنی حاجت سے فارغ ہوئے، پھر وضو کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا ۔
Hamzah bin Al-Mughirah bin Shu'bah رضی اللہ عنہ (narrated) that his father said:
I was with the Prophet (ﷺ) on a journey, and he said: 'Stay back O Mughirah! Go ahead, O people!' So I went back, and I had with me a vessel of water. The people went ahead, and there the Messenger of Allah (ﷺ) relieved himself. when he came back I went and poured water for him. He was wearing a Roman Jubbah with narrow sleeves, and he wanted to expose his hands (to wash them) but the sleeves were too tight, so he brought his hands out from beneath the Jubbah and washed his head, and wiped over his Khuffs.
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: میں نے اسماعیل بن محمد بن سعد کو کہتے سنا: میں نے حمزہ بن مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو آپ نے فرمایا: مغیرہ! تم پیچھے ہو جاؤ اور لوگو! تم چلو ، چنانچہ میں پیچھے ہو گیا، میرے پاس پانی کا ایک برتن تھا، لوگ آگے نکل گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، جب واپس آئے تو میں آپ پر پانی ڈالنے لگا، آپ تنگ آستین کا ایک رومی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے اس سے اپنا ہاتھ نکالنا چاہا مگر جبہ تنگ ہو گیا، تو آپ نے جبہ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکال لیا، پھر اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاتابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
It was narrated that Safwan bin 'Assal رضی اللہ عنہ said:
The Prophet (ﷺ) granted us a dispensation when traveling, allowing us not to take off our Khuffs for three days and three nights.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے عاصم کی سند سے اور زر کی سند سے بیان کیا, صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت سفر ہم کو تین دن اور تین راتیں اپنے موزے نہ اتارنے کی اجازت دی تھی۔
It was narrated that Zirr said:
I asked Safwan bin 'Assal رضی اللہ عنہ about wiping over the Khuffs, and he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to tell us, when we were travelling, to wipe over our Khuffs and not take them off for three nights in the event of defecating, urinating or sleeping; only in the case of Janabah.'
ہم سے احمد بن سلیمان رهاوی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان ثوری، مالک بن میثال، زہیر، ابوبکر بن عیاش اور سفیان بن عیینہ نے عاصم کی سند سے بیان کیا, زر کہتے ہیں کہ
میں نے صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: جب ہم مسافر ہوتے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے کہ ہم اپنے موزوں پر مسح کریں، اور اسے تین دن تک پیشاب، پاخانہ اور نیند کی وجہ سے نہ اتاریں سوائے جنابت کے۔
It was narrated that 'Ali (رضی اللہ عنہ) said:
The Messenger of Allah (ﷺ) set a time limit of three days and three nights for the traveler, and one day and one night for the resident - meaning, with regards to wiping (over the Khuffs).
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہم سے ثوری نے عمرو بن قیس ملائی نے، حاکم بن عتیبہ سے، قاسم بن مخیمرہ نے حنین کی سند سے بیان کیا, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات کی تحدید فرمائی ہے یعنی ( موزوں پر ) مسح کے سلسلے میں۔
It was narrated that Shuraih bin Hani' said:
I asked 'Aishah رضی اللہ عنہا about wiping over the Khuffs and she said: 'Go to 'Ali, for he knows more about that than I do.' So I went to 'Ali رضی اللہ عنہ and asked him about wiping (over the Khuffs) and he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to tell us to wipe (over the Khuffs) for one day and one night for the resident, and three for the traveler.'
ہم سے ہناد بن السری نے ابو معاویہ کی سند سے، الاعمش کی سند سے، الحکم کی سند سے، قاسم بن مخیمیرہ کی سند سے, شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۔
An-Nazzal bin Sabrah said:
I saw 'Ali (رضی اللہ عنہ) praying Zuhr, then he sat to tend to the people's needs, and when the time for 'Asr came, a vessel of water was brought to him. He took a handful of it and wiped his face, forearms, head and feet with it, then he took what was left and drank standing up. He said: 'People dislike this, but I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing it. This is the Wudu' of one who has not committed Hadath.
ہم سے عمرو بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا, عبدالملک بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے نزال بن سبرہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے یعنی ان کے مقدمات نپٹانے کے لیے بیٹھے، جب عصر کا وقت ہوا تو پانی کا ایک برتن لایا گیا، آپ نے اس سے ایک ہتھیلی میں پانی لیا، پھر اسے اپنے چہرہ، اپنے دونوں بازو، سر اور دونوں پیروں پر ملا ، پھر بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے ہو کر پیا، اور کہنے لگے کہ کچھ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور یہ ان لوگوں کا وضو ہے جن کا وضو نہیں ٹوٹا ہے۔
It was narrated from 'Amr bin 'Amir that Anas رضی اللہ عنہ mentioned:
The Messenger of Allah (ﷺ) was brought a small vessel (of water) and he performed Wudu'. I said: Did the Messenger of Allah (ﷺ) perform Wudu' for every prayer? He said: Yes. He said: What about you? He said: We used to pray all the prayers so long as we did not commit Hadath. He said: And we used to pray all the prayers with (one) Wudu'.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، عمرو بن عامر کی سند سے بیان کیا, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے ( اس سے ) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ! اس پر ( عمرو بن عامر ) نے پوچھا: اور آپ لوگ؟ کہا: ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا: ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم that:
The Messenger of Allah (ﷺ) came out from the toilet and food was brought to him. They said: Shall we not bring water for Wudu'? He said: I have only been commanded to perform Wudu' when I want to pray.
ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ایوب نے ابن ابی ملیکہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو لوگوں نے پوچھا: کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۔
It was narrated from Ibn Buraidah رضی اللہ عنہ that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to perform Wudu' for every prayer. One the day of the Conquest (of Makkah), he offered all the prayers with one Wudu'. 'Umar رضی اللہ عنہ said to him: 'You have done something that you never did before.' He said: 'I did that deliberately, O 'Umar.'
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے سفیان کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے اور اپنے والد کی سند سے بیان کیا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے، تو جب فتح مکہ کا دن آیا تو آپ نے کئی نمازیں ایک ہی وضو سے ادا کیں، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ نہیں کرتے تھے ۱؎؟ فرمایا: عمر! میں نے اسے عمداً ( جان بوجھ کر ) کیا ہے ۔
It was narrated from Al-Hakam, from his father, that:
When the Messenger of Allah (ﷺ) performed Wudu', he would take a handful of water and do this with it. Shu'bah described it: He would sprinkle his private parts with it. [1] Shaikh Ibn As-Sunni said: Al-Hakam (one of the narrators) is Ibn Sufyan Ath-Thaqafi رضی اللہ عنہ .
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا: ہم سے خالد بن حارث نے شعبہ کی سند سے، منصور کی سند سے، مجاہد کی سند سے، الحکم کی سند سے، اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو ایک چلو پانی لیتے اور اس طرح کرتے، اور شعبہ نے کیفیت بتائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی شرمگاہ پر چھڑکتے، ( خالد بن حارث کہتے ہیں ) میں نے اس کا ذکر ابراہیم سے کیا تو انہیں یہ بات پسند آئی۔ ابن السنی کہتے ہیں کہ حکم سفیان ثقفی رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔
It was narrated that Al-Hakam bin Sufyan رضی اللہ عنہ said:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing Wudu' and sprinkling his private area (with water).
ہم سے عباس بن محمد الدوری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے احواس بن جواب نے بیان کیا، کہا: ہم سے عمار بن رزاق نے منصور کی سند سے بیان کیا۔ اور ہمیں احمد بن حرب نے خبر دی، کہا: ہم سے قاسم نے جو ابن یزید الجرمی ہیں، بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا:منصور نے ہم سے مجاہد کی سند سے بیان کیا,حکم بن سفیان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پر پانی کا چھینٹا مارا۔ احمد کی روایت میں «و نضح فرجه» کی جگہ «فنضح فرجه» ہے۔
It was narrated that Abu Hayyah said:
I saw 'Ali رضی اللہ عنہ performing Wudu', washing each part twice. Then he stood up and drank the water that was left over from his Wudu' and said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) did as I have done.'
ہم سے ابوداؤد سلیمان بن سیف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عتاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے ابواسحاق کی سند سے بیان کیا, ابوحیہ کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کیا ( تو اپنے اعضاء ) تین تین بار ( دھوئے ) پھر وہ کھڑے ہوئے، اور وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بھی ) اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے کیا۔
It was narrated from 'Awn bin Abi Juhaifah رضی اللہ عنہ that his father said:
I saw the Prophet (ﷺ) in Al-Batha'. Bilal رضی اللہ عنہ brought out the water left over from his Wudu' and the people rushed toward it and I got some of it. Then a short spear was planted in the ground and he led the people in prayer, while donkeys, dogs and women were passing in front of him.
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، انہوں نے کہا: ہم سے مالک بن میثول نے، عون بن ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے وضو کا پانی ( جو برتن میں بچا تھا ) نکالا، تو لوگ اسے لینے کے لیے جھپٹے، میں نے بھی اس میں سے کچھ لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لکڑی نصب کی، تو آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور آپ کے سامنے سے گدھے، کتے اور عورتیں گزر رہی تھیں۔
Ibn Al-Munkadir said: I heard Jabir رضی اللہ عنہ say:
'I fell sick, and the Messenger of Allah (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ came to visit me. They found me unconscious, so the Messenger of Allah (ﷺ) performed Wudu' and poured his Wudu' water over me.'
ہم سے محمد بن منصور نے سفیان کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابن المنکدر کو کہتے سنا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں بیمار ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے آئے، دونوں نے مجھے بیہوش پایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر آپ نے اپنے وضو کا پانی میرے اوپر ڈالا ۔
It was narrated from Abu Al-Malih, that his father said:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Allah does not accept Salah without purification, nor charity from Ghulul.' [1]
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو عونہ نے قتادہ سے، ابو ملیح سے، اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بغیر وضو کے کوئی نماز قبول نہیں کرتا، اور نہ خیانت کے مال کا صدقہ قبول کرتا ہے ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib رضی اللہ عنہ , from his father, that his grandfather said:
A Bedouin came to the Prophet (ﷺ) to ask him about Wudu', so he showed him how to perform Wudu', washing each part three times, then he said: 'This is Wudu'. Whoever does more than that has done badly, done to extremes and done wrong.'
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے موسیٰ بن ابی عائشہ رضی اللہ عنہا سے، عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو کے بارے میں پوچھ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین تین بار اعضاء وضو دھو کر کے دکھائے، پھر فرمایا: اسی طرح وضو کرنا ہے، جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا، وہ حد سے آگے بڑھا اور اس نے ظلم کیا ۔