Muhammad bin Qais bin Makhramah said:
Aishah رضی اللہ عنہا said: 'Shall I not tell you about me and about the Prophet?' We said: 'Yes.' She said: 'When it was my night when he was with me' - meaning the Prophet -'He came back (from 'Isha' prayer), put his sandals by his feet and spread the edge of his Izar on his bed. He stayed until he thought that I had gone to sleep. Then he put his sandals on slowly, picked up his cloak slowly, then opened the door slowly and went out slowly. I covered my head, put on my vie and tightened my waist wrapper, then I followed his steps until he came to Al-Baqi'. He raised his hands three times, and stood there for a long time, then he left and I left. He hastened and I also hastened; he ran and I also ran. He came (to the house) and I also came, but I got there first and entered, and as I lay down he came in. He said: Tell me, or the Subtle, the All-Aware will tell me.' I said: 'O Messenger of Allah, may my father and mother be ransomed for you,' and I told him (the whole story). He said: 'So you were the black shape that I saw in front of me?' I said, 'Yes.' He gave me a nudge on the chest which I felt, then he said: 'Did you think that Allah and His Messenger would deal unjustly with you?' I said: 'Whatever the people conceal, Allah knows it.' He said: Jibril came to me when I saw you, but he did not enter upon me because you where not fully dressed. He called me but he concealed that from you, and I answered him, but I concealed that from you too. I thought that you had gone to sleep and I did not want to wake you up, and I was afraid that you would be frightened. He told me to go to Al-Baqi' and pray for forgiveness for them.' I said: 'What should I say, O Messenger of Allah?' He said: 'Say Peace be upon the inhabitants of this place among the believers and Muslims. May Allah have mercy upon those who have gone on ahead of us and those who come later on, and we will join you, if Allah wills. '
ہم سے یوسف بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج نے، ابن جریج کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا, محمد بن قیس بن مخرمہ کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہی تھیں: کیا میں تمہیں اپنے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں ضرور بتائیے، تو وہ کہنے لگیں، جب وہ رات آئی جس میں وہ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تھے تو آپ ( عشاء ) سے پلٹے، اپنے جوتے اپنے پائتانے رکھے، اور اپنے تہبند کا کنارہ اپنے بستر پر بچھایا، آپ صرف اتنی ہی مقدار ٹھہرے جس میں آپ نے محسوس کیا کہ میں سو گئی ہوں، پھر آہستہ سے آپ نے جوتا پہنا اور آہستہ ہی سے اپنی چادر لی، پھر دھیرے سے دروازہ کھولا، اور دھیرے سے نکلے، میں نے بھی اپنا کرتا، اپنے سر میں ڈالا اور اپنی اوڑھنی اوڑھی، اور اپنی تہبند پہنی، اور آپ کے پیچھے چل پڑی، یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع آئے، اور اپنے ہاتھوں کو تین بار اٹھایا، اور بڑی دیر تک اٹھائے رکھا، پھر آپ پلٹے تو میں بھی پلٹ پڑی، آپ تیز چلنے لگے تو میں بھی تیز چلنے لگی، پھر آپ دوڑنے لگے تو میں بھی دوڑنے لگی، پھر آپ اور تیز دوڑے تو میں بھی اور تیز دوڑی، اور میں آپ سے پہلے آ گئی، اور گھر میں داخل ہو گئی، اور ابھی لیٹی ہی تھی کہ آپ بھی اندر داخل ہو گئے، آپ نے پوچھا: ”عائشہ! تجھے کیا ہو گیا، یہ سانس اور پیٹ کیوں پھول رہے ہیں؟“ میں نے کہا: کچھ تو نہیں ہے، آپ نے فرمایا: ”تو مجھے بتا دے ورنہ وہ ذات جو باریک بین اور ہر چیز کی خبر رکھنے والی ہے مجھے ضرور بتا دے گی“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر میں نے اصل بات بتا دی تو آپ نے فرمایا: ”وہ سایہ جو میں اپنے آگے دیکھ رہا تھا تو ہی تھی“، میں نے عرض کیا: جی ہاں، میں ہی تھی، آپ نے میرے سینہ پر ایک مکا مارا جس سے مجھے تکلیف ہوئی، پھر آپ نے فرمایا: ”کیا تو یہ سمجھتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ظلم کریں گے“، میں نے کہا: جو بھی لوگ چھپائیں اللہ تعالیٰ تو اس سے واقف ہی ہے، ( وہ آپ کو بتا دے گا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس آئے جس وقت تو نے دیکھا، مگر وہ میرے پاس اندر نہیں آئے کیونکہ تو اپنے کپڑے اتار چکی تھی، انہوں نے مجھے آواز دی اور انہوں نے تجھ سے چھپایا، میں نے انہیں جواب دیا، اور میں نے بھی اسے تجھ سے چھپایا، پھر میں نے سمجھا کہ تو سو گئی ہے، اور مجھے اچھا نہ لگا کہ میں تجھے جگاؤں، اور میں ڈرا کہ تو اکیلی پریشان نہ ہو، خیر انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں مقبرہ بقیع آؤں، اور وہاں کے لوگوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کروں“، میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں ( جب بقیع میں جاؤں ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو «السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين يرحم اللہ المستقدمين منا والمستأخرين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون» ”سلامتی ہو ان گھروں کے مومنوں اور مسلمانوں پر، اللہ تعالیٰ ہم میں سے اگلے اور پچھلے ( دونوں ) پر رحم فرمائے، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے ( ہی ) والے ہیں“۔
It was narrated that 'Alqamah bin Abi 'Alqamah, from his mother, that she heard 'Aishah رضی الله عنہا say:
The Messenger of Allah got up one night and got dressed, then he went out. I told my slave girl Barirah to follow him, so she followed him until he came to Al-Baqi. Then he stood near if for as long as Allah willed that he should stand, then he left. Barirah came back before he did and told me, but I did not mention anything until morning came, then I mentioned that to him. He said: 'I was sent to the people of Al-Baqi' to pray for them. '
مجھے محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے ان سے پڑھ کر بیان کیا جب کہ میں سن رہا تھا اور یہ الفاظ ان کے ہیں، ابن القاسم کی روایت سے، انہوں نے کہا: مجھے مالک نے علقمہ بن ابی علقمہ کی سند سے، اپنی والدہ سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں
ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنا کپڑا پہنا پھر ( باہر ) نکل گئے، تو میں نے اپنی لونڈی بریرہ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے پیچھے جائے، چنانچہ وہ آپ کے پیچھے پیچھے گئی یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع پہنچے، تو اس کے قریب کھڑے رہے جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے کھڑا رکھنا چاہا، پھر آپ پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے پلٹ کر آ گئی، اور اس نے مجھے بتایا، لیکن میں نے آپ سے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ صبح کیا، تو میں نے آپ کو ساری باتیں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے حق میں دعا کروں“۔
It was narrated that 'Aishah رضی الله عنہا said that:
Every time it was her night for the Messenger of Allah to stay with her, he would go out at the end of the night to Al-Baqi' and say: As-salamu 'alaykum dara qawmin mu'minin, wa inna wa iyyakum mutawa'idun ghadan wa mutawakilun, wa inna in sha' Allahu bikum lahiqun. Allahummaghfir li ahli baqi'il gharaqad. (Peace be upon you, O abode of believing people. You and we used to remind one another about the Day of Resurrection and we are relying on one another (with regard to intercession and bearing witness). Soon we will join you, if Allah willing. O Allah, forgive the people of Baqi' Al-Charqad.)
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے شارق نے، جو ابن ابی نمیر ہیں، نے عطاء کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں
جب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے یہاں ہوتی تو رات کے آخری ( حصے ) میں مقبرہ بقیع کی طرف نکل جاتے، ( اور ) کہتے: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين وإنا وإياكم متواعدون غدا أو مواكلون وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون اللہم اغفر لأهل بقيع الغرقد» ”اے مومن گھر ( قبرستان ) والو! تم پر سلامتی ہو، ہم اور تم آپس میں ایک دوسرے سے کل کی حاضری کا وعدہ کرنے والے ہیں، اور آپس میں ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے ہیں، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم تم سے ملنے والے ہیں، اے اللہ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما“۔
It was narrated from Sulaiman bin Buraidah رضی الله عنہ, from his father, that:
When the Messenger of Allah came to the graveyard he would say: As-salamu 'alaykum ahli ad-diyari min al-mu'minin wal-muslimin wa inna I sha' Allahu bikum lana faratun wa nahnu lakum taba'un, as'alullahal-'afiyata lana wa lakum. (Peace by upon the inhabitants of this place among the believers and Muslims. Soon we will join you, if Allah willing. You have gone on ahead of us and we will follow you. I ask Allah to keep us and you safe and sound.)
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حرامی بن عمرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے علقمہ بن مرثد سے، سلیمان بن بریدہ رضی الله عنہ سے اپنے والد سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قبرستان آتے تو فرماتے: «السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين وإنا إن شاء اللہ بكم لاحقون أنتم لنا فرط ونحن لكم تبع أسأل اللہ العافية لنا ولكم» ”اے مومن اور مسلمان گھر والو! تم پر سلامتی ہو، اور اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو ہم ( عنقریب ) تم سے ملنے والے ہیں، تم ہمارے پیش رو ہو، اور ہم تمہارے بعد آنے والے ہیں۔ میں اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کی درخواست کرتا ہوں“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
When An-Najashi died, the Prophet said: 'Pray for forgiveness for him. '
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زہری سے اور ابوسلمہ کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب نجاشی ( شاہ حبشہ ) کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ان کی بخشش کی دعا کرو“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ :
Said that the Messenger of Allah announced the death of An-Najashi, the ruler of Ethiopia, to them on the day that he died, and said Pray for forgiveness for your brother.
ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعقوب نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے صالح کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، کہا: مجھ سے ابوسلمہ اور ابن المسیب نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شاہ حبشہ نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو“۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah cursed women who visit graves, and those who take them as Masjid and put lamps on them.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد الوارث بن سعید نے محمد بن جحادہ کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کی زیارت کرنے والیوں پر، اور انہیں سجدہ گاہ بنانے اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'If any one of you were to sit on a live coal until it burns his garment, that would be better for him than sitting on a grave.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے وکیع کی سند سے، سفیان کی سند سے، سہیل سے، اپنے والد سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کا انگارے پر بیٹھنا یہاں تک کہ اس کے کپڑے جل جائیں اس کے لیے بہتر ہے اس بات سے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے“
It was narrated from 'Amr bin Hazm رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah said: do not sit on graves.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن عبد الحکم نے شعیب کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے خالد نے ابن ابی ہلال سے، ابوبکر بن حزم کی سند سے، وہ نضر بن عبداللہ السلمی کی سند سے, عمرو بن حزم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ قبروں پر نہ بیٹھو“۔
It was narrated from Aishah رضی الله عنہا that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: May Allah curse people who take the graves of their prophets as Masjids.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے قتادہ کی سند سے اور سعید بن مسیب کی سند سے بیان کیا,ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah said: May Allah curse the Jews and Christians who took the graves of their prophets as Masjids.
ہم سے محمد بن عبد الرحیم ابو یحییٰ صاعقہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو سلمہ الخزاعی نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث بن سعد نے یزید بن الحاد سے، ابن شہاب نے سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائی ہے ( کیونکہ ) ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔
It was narrated that Bashir bin Al-Khasasiyyah رضی الله عنہ said:
I was walking with the Messenger of Allah and he passed by the graves of the Muslims and aid: 'They died before a great deal of evil came to them.' Then he passed by the grave of the idolators and said: 'They died before a great deal of good came to them.' Then he rurned, and he saw a man walking between the graves in his sandals and he said; 'O you with the Sibtiyah sandals, take them off '.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے اسود بن شیبان سے جو ثقہ تھے، خالد بن سمیر کی سند سے اور بشیر بن نحیک کی سند سے بیان کیا, بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ بڑے شر و فساد سے ( بچ ) کر آگے نکل گئے“، پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”یہ لوگ بڑے خیر سے ( محروم ) ہو کر آگے نکل گئے“، پھر آپ متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص اپنی دونوں جوتیوں میں قبروں کے درمیان چل رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے سبتی جوتوں والو! انہیں اتار دو“۔
It was narrated from Anas that the Prophet said: when a person is placed in his grave and his companions depart from him, he hears the sound of their sandals.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں، تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے“ ۱؎۔
Anas bin Malik said: The Prophet of Allah said: 'When a person is placed in his grave and his companions depart from him, he hears the sound of their sandals. Then two angles came to him and make him sit up, and they say to him: What did you say about this man? As for the believer, he says: I bear witness that he is the slave of Allah and His Messenger. Then it is said to him: Look at your place in Hell, Which Allah has replaced for you with a place in Paradise. The prophet said: 'And he sees them both. '
انس بن مالک رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتیوں کی آواز سنتا ہے، ( پھر ) اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اسے بٹھاتے ہیں، ( اور ) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص ( محمد ) کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، تو اس سے کہا جائے گا کہ تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمہیں جنت میں ٹھکانا دیا ہے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تو وہ ان دونوں ( جنت و جہنم ) کو ایک ساتھ دیکھے گا“۔
It was narrated from Anas that the Prophet said: When a person is put in his grave and his companions leave him, he hears the sound of their sandals. Two angels come to him, making him sit up, and say to him: 'What did you say about this man (Muhammad)?' As for the believer, he says: 'I bear witness that he says: 'I bear witness that he is the slave of Allah and His Messenger.' It is said to him: 'Look at your place in hell; Allah has replaced it for you with a place better than it.''' The Messenger of Allah said: Then he sees them both. As for the disbeliever or the hypocrite, it is said to him: 'What did you say about this man?' He says: 'I do not know; I used to say what the people said.' It is said to him: 'You did not understand and you did not follow those who had understanding.' Then he is dealt a blow between his ears and the man utters a scream which everything near him hears, except for the two races.'''
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ جب اپنی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی لوٹتے ہیں تو وہ ان کی جوتیوں کی آواز سنتا ہے، ( پھر ) دو فرشتے آتے ہیں، ( اور ) اسے بٹھاتے ہیں ( پھر ) اس سے پوچھتے ہیں: تم اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ رہا مومن تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، ( پھر ) اس سے کہا جاتا ہے تم جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کے بدلے ایک اچھا ٹھکانا دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: وہ ان دونوں ( جنت و جہنم ) کو ایک ساتھ دیکھتا ہے، اور رہا کافر یا منافق تو اس سے پوچھا جاتا ہے: اس شخص ( محمد ) کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟، تو وہ کہتا ہے: میں نہیں جانتا، میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے، تو اس سے کہا جائے گا: نہ تم نے خود جاننے کی کوشش کی، اور نہ جانکار لوگوں کی پیروی کی، پھر اس کے دونوں کانوں کے بیچ ایک ایسی مار ماری جاتی ہے کہ وہ ایسے زور کی چیخ مارتا ہے جسے انسان اور جنات کے علاوہ جو بھی اس کے قریب ہوتے ہیں سبھی سنتے ہیں“۔
Abdullah bin Yasar said: I was sitting with sulaiman bin Sard and Khalid bin 'Urfutah, and they said that a man had died as a result of abdominal illness. They wanted to attend his funeral, and one of them said to the other: 'Didn't the Messenger of Allah say: Whoever is killed by an abdominal illness, he will not be punished in his grave? The other said: 'Yes.'''
عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ
میں بیٹھا ہوا تھا اور ( وہیں ) سلیمان بن صرد اور خالد بن عرفطہٰ رضی اللہ عنہما ( بھی ) موجود تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ ایک آدمی اپنے پیٹ کے عارضہ میں وفات پا گیا ہے، تو ان دونوں نے تمنا کی کہ وہ اس کے جنازے میں شریک ہوں، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا ہے کہ ”جو پیٹ کے عارضہ میں مرے اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا“، تو دوسرے نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے ایسا فرمایا ہے۔
It was narrated from Rashid bin Sa'd, that a man among the Companions of the Prophet said: O Messenger of Allah, why will the believers be tested in their graves except the martyr? He said: The flashing of the swords above his head is trial enough.
ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، سوائے شہید کے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے سروں پر چمکتی تلوار کی آزمائش کافی ہے“۔
It was narrated that Safwan bin Umayyah said: The plague, abdominal illness, drowning and dying in childbirth are martyrdom. (One of the narrators) said: Abu 'Uthman narrated this to us several times, and on one occasion he attributed it to the Prophet.
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں
طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، اور زچگی کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔ وہ ( تیمی ) کہتے ہیں: ہم سے ابوعثمان نے بارہا بیان کیا، ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مرفوع بیان کیا۔
It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah said: Thos is the one at whose death the Throne shook, the gates of heaven were opened of him and seventy thousand angles attended his funeral. It squeezed him once then released him.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہی وہ شخص ہے جس کے لیے عرش الٰہی ہل گیا، آسمان کے دروازے کھول دئیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوئے، ( پھر بھی قبر میں ) اسے ایک بار بھینچا گیا، پھر ( یہ عذاب ) اس سے جاتا رہا“ ۱؎۔
It was narrated that: Al-Bara said about Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world and in the Hereafter It was revealed concerning the torment of the grave.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں
آیت کریمہ «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھیک بات پر قائم رکھے گا“ ( ابراہیم: ۲۷ ) ۔ عذاب قبر کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔