It was narrated that Abu Hurairah and Abu Sa'eed رضی الله عنہما said:
We never saw the Messenger of Allah attend any funeral where he sat down until (the body) was placed (in the grave).
ہم سے یوسف بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج نے ابن جریج کی سند سے اور ابن عجلان کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ جنازے کے ساتھ ہوں، ( اور ) بیٹھ گئے ہوں یہاں تک کہ وہ رکھ دیا جائے۔
It was narrated from Abu Sa'eed رضی الله عنہ that:
A funeral passed by the Messenger of Allah and he stood up. (One of the narrators) 'Amr said: If a funeral passed by the Messenger of Allah he would stand up.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا: ہم سے زکریا نے شعبی کی سند سے بیان کیا، کہا: ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ ( لے کر ) گزرے، تو آپ کھڑے ہو گئے، اور عمرو بن علی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے۔
It was narrated form Yazid bin Thabit رضی الله عنہ That:
They were sitting with the Messenger of Allah when a funeral appeared. The Messenger of Allah stood up, and those who were with him stood up, until it had passed by.
مجھ سے ایوب بن محمد وزان نے بیان کیا، کہا: ہم سے مروان نے بیان کیا، کہا: ہم سے عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا: مجھ سے خارجہ بن زید بن ثابت نے بیان کیا, یزید بن ثابت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے ( اتنے میں ) ایک جنازہ نظر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، اور جو ان کے ساتھ تھے وہ بھی کھڑے ہو گئے، تو وہ لوگ برابر کھڑے رہے یہاں تک کہ وہ نکل گیا۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abi Laila said:
Sahl bin Hunaif and Qais bin Sa'd bin 'Ubadah رضی اللہ عنہ were in Al-Qadisiyyah when a funeral passed by them, so they stood up and it was said to them: 'It is one of the local people.' They said: 'A funeral passed the Messenger of Allah and he stood up, and it was said to him: It Is a Jew. He said: 'Is it not a soul? '
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے عمرو بن مرہ کی سند سے بیان کیا, عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ
سہل بن حنیف اور قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ قادسیہ میں تھے۔ ان دونوں کے قریب سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو دونوں کھڑے ہو گئے تو ان سے کہا گیا: یہ تو ذمی ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا تو آپ کھڑے ہو گئے، تو آپ سے عرض کیا گیا یہ تو یہودی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”کیا یہ روح نہیں ہے؟“۔
It was narrated that Jabir bin 'Abdullah رضی الله عنہما said:
A funeral passed by us and the Messenger of Allah stood up and we stood with him. I said: 'O Messenger of Allah, it is a Jewish funeral.' He said: 'Death is something terrifying, so if you see a funeral, stand up, ' This is the wording of Khalid.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ہشام کی سند سے بیان کیا۔ اور ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام نے، یحییٰ بن ابی کثیر سے اور عبید اللہ بن مقسم کی سند سے,جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک جنازہ ہمارے پاس سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، اور آپ کے ساتھ ہم بھی کھڑے ہو گئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ جنازہ ( ایک ) یہودی عورت کا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت ایک قسم کی ہیبت ہے، تو جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ“، یہ الفاظ خالد کے ہیں۔
It was narrated that Abu Ma'mar said:
We were with 'Ali رضی اللہ عنہ and a funeral passed by him, and they stood up for it. 'Ali رضی اللہ عنہ said: What is this?' They said: 'The command of Abu Musa.' He said: 'Rather the Messenger of Allah stood up for a Jewish funeral but he did not do it again. '
ہم سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے ابن ابی نجیح کی سند سے اور مجاہد کی سند سے, ابومعمر کہتے ہیں کہ
ہم علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ( اتنے میں ) ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے، تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: ابوموسیٰ اشعری کا حکم ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے جنازے کے لیے کھڑے ہوئے تھے، ( پھر ) اس کے بعد آپ کبھی کھڑے نہیں ہوئے۔
It was narrated from Muhammad that:
A funeral passed by Al-Hasan bin 'Ali and Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم . Al-Hasan رضی اللہ عنہ stood up but Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما did not/ Al-Hasan رضی اللہ عنہ said: 'Didn't the Messenger of Allah stand up for the funeral of a Jew?' Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said: 'Yes, then he sat down. '
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حماد نے ایوب کی سند سے بیان کیا, محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ
ایک جنازہ حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس سے گزرا، تو حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کا جنازہ ( دیکھ کر ) کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں، پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ۔
It was narrated that Ibn Sirin said:
A funeral passed by Al-Hasan bin 'Ali and Ibn 'Abbas. Al-Hasan stood up but Ibn 'Abbas did not. Al-Hasan said to Ibn 'Abbas: 'Didn't the Messengr of Allah stand up for it?' Ibn 'Abbas said: 'He stood up for it then he sat. '
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں منصور نے خبر دی, اس سند سے بھی ابن سیرین کہتے ہیں کہ
حسن بن علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کے قریب سے ایک جنازہ گزرا، تو حسن رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نہیں کھڑے ہوئے، تو حسن رضی اللہ عنہ نے ابن عباس سے کہا: کیا اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نہیں ہوئے تھے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کھڑے ہوئے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے تھے ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas and Al-Hasan bin 'Ali رضی الله عنہما that:
A funeral passed by them and one of them stood and the other sat. The one who stood up said: By Allah, I know that the Messenger of Allah stood up. The one who was sitting said: I know that the Messenger of Allah sat.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے ابن علیہ کی سند سے، سلیمان تیمی کی سند سے، ابومجلاز کی سند سے, اس سند سے بھی ابن عباس رضی الله عنہما اور حسن بن علی رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ان دونوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو ان میں سے ایک کھڑے ہو گئے، اور دوسرے بیٹھے رہے، تو جو کھڑے ہو گئے تھے انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! مجھے یہی معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، تو جو بیٹھے رہ گئے تھے انہوں نے کہا: مجھے ( یہ بھی ) معلوم ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بعد میں ) بیٹھے رہنے لگے تھے۔
It was narrated from Ja'far bin Muhammad from his father that:
Al-Hasan bin 'Ali رضی اللہ عنہما was sitting when a funeral passed by. The People stood until the funeral had passed, and Al-Hasan رضی اللہ عنہ said: The funeral of Jew passed by when the Messenger of Allah was sitting in its path, and he did not want the funeral of a Jew to pass over his head, so he stood up.
ہم سے ابراہیم بن ہارون بلخی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حاتم نے جعفر بن محمد سے اور اپنے والد کی سند سے بیان کیا
حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیٹھے تھے کہ ایک جنازہ گزرا تو لوگ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ جنازہ گزر گیا، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک یہودی کا جنازہ گزرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی راستے میں بیٹھے تھے تو آپ نے ناپسند کیا کہ ایک یہودی کا جنازہ آپ کے سر سے بلند ہو تو آپ کھڑے ہو گئے ۔
Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir رضی الله عنہما say:
The Prophet and his Companions stood up for the funeral of Jew that passed by him, until it disappeared.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھ سے ابو الزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے جنازہ کے لیے کھڑے ہوئے جو آپ کے پاس سے گزرا یہاں تک کہ وہ ( نظروں سے ) اوجھل ہو گیا۔
Jabir رضی الله عنہما said:
The Prophet and his Companions stood up for the funeral of a Jew until it disappeared.
ابو الزبیر نے بھی مجھ سے کہا: اس سند سے بھی جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ایک یہودی کے جنازے کے لیے سے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ وہ ( نظروں سے ) اوجھل ہو گیا۔
It was narrated from Anas that:
A funeral passed by the Messenger of Allah and he stood up. It was said: It is the funeral of a Jew. He said: We stood up for the angels.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں النضر نے خبر دی، کہا: ہم سے حماد بن سلمہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک جنازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ کھڑے ہو گئے، آپ سے کہا گیا: یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم فرشتوں ( کی تکریم میں ) کھڑے ہوئے ہیں، ( نہ کہ جنازہ کی ) ۔
It was narrated from Abu Qatadah bin Raib'i رضی الله عنہ that he used to narrate:
A funeral passed by the Messenger of Allah and he said: 'He is relieved and others are relieved of him.' They said: 'What does relieved mean and what does relieved of him mean: He said: The believing slave is relieved of the hardships and troubles of this world, and the people, the land, the trees and the animals are relieved of the immoral slave. '
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، معبد بن کعب بن مالک سے, ابوقتادہ بن ربعی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے جایا گیا، تو آپ نے فرمایا: ( یہ ) «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، تو لوگوں نے پوچھا: «مستریح» اور «مستراح منہ» سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ مومن ( موت کے بعد ) دنیا کی بلا اور تکلیف سے راحت پا لیتا ہے، اور فاجر ۱؎ بندہ مرتا ہے تو اس سے اللہ کے بندے، بستیاں، پیڑ پودے، اور چوپائے ( سب ) راحت پا لیتے ہیں“۔
It was narrated that Abu Qatadah رضی الله عنہ said:
We were sitting with the Messenger of Allah when a funeral appeared. The Messenger of Allah said: 'He is relieved and others are relieved of him. When the believer dies he is relieved of the calamities, hardships and troubles of this world, and when the evildoer dies, the people, the land, the trees and the animals are relieved of him. '
ہم سے محمد بن وھب بن ابی کریمہ حرانی نے بیان کیا : ہم سے محمد بن سلمہ نے جو حرانی تھے انہوں نے ابو عبد الرحیم کی سند سے بیان کیا ، انہوں نے کہا : مجھ سے زید نے وہب بن کیسان سے اور معبد بن کعب کی سند سے بیان کیا , ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک جنازہ نظر آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ «مستریح» ہے یا «مستراح منہ» ہے، ( کیونکہ ) جب مومن مرتا ہے تو دنیا کی مصیبتوں، بلاؤں اور تکلیفوں سے نجات پا لیتا ہے، اور فاجر مرتا ہے تو اس سے ( اللہ کے ) بندے، ملک و شہر، پیڑ پودے، اور چوپائے ( سب ) راحت پا لیتے ہیں“۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
A funeral passed by and the deceased was praised. The Prophet said: It is granted. Another funeral passed by and the deceased was criticized. The Prophet said: It is granted. 'Umar رضی اللہ عنہ said: May my father and mother be ransomed for you. One funeral passed by and the deceased was praised, and you said, 'It is granted? ' He said: Whoever is praised will be granted Paradise, and whoever is criticized will be granted Hell, You are the witnesses of Allah on Earth.
مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا, انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، ( پھر ) ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ایک جنازہ لے جایا گیا تو اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا تو اس کی مذمت کی گئی، تو آپ نے فرمایا: واجب ہو گئی؟، تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگوں نے جس کی تعریف کی تھی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس کی مذمت کی تھی اس کے لیے جہنم واجب ہو گئی، تم ۱روئے زمین پر اللہ کے گواہ ہو“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
A funeral passed by the Prophet and they praised (the deceased). The Prophet said: 'It is granted.' Then another funeral passed by and they criticized (the deceased). The Prophet said: 'It is granted.' They said: 'O Messenger of Allah, you said in both cases, 'It is granted?' The Prophet said: 'The angels are the witnesses of Allah in heaven, and you are the witnesses of Allah on Earth. '
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عبد الملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا: میں نے ابراہیم بن عامر اور ان کے دادا امیہ بن خلف کو کہتے سنا: میں نے عامر بن سعد کو کہتے سنا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی تعریف کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”: واجب ہو گئی“، پھر لوگ ایک دوسرا جنازہ لے کر گزرے، تو لوگوں نے اس کی مذمت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واجب ہو گئی“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کے پہلی بار اور دوسری بار «وجبت» کہنے سے کیا مراد ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے آسمان پر اللہ کے گواہ ہیں، اور تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو“۔
It was narrated that Abu Aswad Ad-Dili said:
I came to Al-Madinah and sat with 'Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ . A funeral passed by and the deceased was praised, and 'Umar رضی اللہ عنہ said: 'It is granted.' Then another passed by and the deceased was praised, and 'Umar رضی اللہ عنہ Said: 'It is granted.' Then a third passed by, and the deceased was criticized, and 'Umar رضی اللہ عنہ said: 'It is granted.' I said: What is granted, O commander of the believers?' He said: 'I said what the Messenger of Allah said: Any Muslim for whom four people bear witness and say good things, Allah will admit him to Paradise.' We said: 'Or three?' He said: 'Or three.' We said: 'Or two?' He said: 'Or two. '
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عبد الملک اور عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے داؤد بن ابی الفرات نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا, ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ
میں مدینہ آیا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی تعریف کی گئی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر ایک دوسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی ( بھی ) تعریف کی گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، پھر ایک تیسرا جنازہ لے جایا گیا، تو اس کی مذمت کی گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واجب ہو گئی، تو میں نے پوچھا: امیر المؤمنین! کیا واجب ہو گئی؟ انہوں نے کہا: میں نے وہی بات کہی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی: ”جس مسلمان کے لیے بھی چار لوگوں نے خیر کی گواہی دی تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا“، ہم نے پوچھا: ( اگر ) تین گواہی دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین ہی سہی“، ( پھر ) ہم نے پوچھا: ( اگر ) دو گواہی دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو ہی سہی“۔
It was narrated that 'Aishah رضی الله عنہا said:
Something bad was said in the presence of the Prophet about a person who had died. He said: 'Do not say anything but good about your dead. '
ہم سے ابراہیم بن یعقوب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا، کہا: ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا: ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے اپنی والدہ سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرے ہوئے شخص کا ذکر برائی سے کیا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں کا ذکر صرف بھلائی کے ساتھ کیا کرو“۔
It was narrated that 'Aishah رضی الله عنہا said:
The Messenger of Allah said: 'Do not verbally abuse the dead, for they have reached the consequences of what they did. '
ہم سے حمید بن مسعدہ نے بشر کی سند سے جو ابن المفضل ہیں، شعبہ کی سند سے، سلیمان اعمش کی سند سے، مجاہد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے مردوں کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جو کچھ آگے بھیجا تھا، اس تک پہنچ چکے ہیں“ ۔