It was narrated from Imran bin Husain رضی اللہ عنہ that:
A woman from Juhainah came to the Messenger of Allah sand said: I have committed Zina. And she was committed Zina. And She was pregnant. He handed her over to her guardian and said: Look after her, and when she gave birth, he brought her to him. He ordered that her garment be wrapped around her, then he offered the funeral prayer for her. 'Umar رضی اللہ عنہ said to him: Are you praying for her even though she committed Zina? he said: She has repented in a manner that, if it were to be shared among seventy of the people of Al-Madinah it would suffice them. Have you ever seen repentance better than the one who sacrificed herself for the sake of Allah, the Mighty and Sublime?
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر کی سند سے، ابو قلابہ سے، ابو المحلب کی سند سے, عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور کہنے لگی: میں نے زنا کیا ہے، وہ حاملہ تھی، تو آپ نے اسے اس کے ولی کے سپرد کر دیا اور کہا: ”اسے اچھی طرح رکھو، اور جب بچہ جن دے تو میرے پاس لے کر آنا“، چنانچہ جب اس نے بچہ جن دیا تو ولی اسے لے کر آیا، تو آپ نے اسے حکم دیا، اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟ حالانکہ وہ زنا کر چکی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے، اور اس سے بہتر توبہ اور کیا ہو گی کہ اس نے اللہ تعالیٰ ( کی شریعت کے پاس و لحاظ میں ) اپنی جان ( تک ) قربان کر دی“۔
It was narrated from 'Imran bin Husain رضی الله عنہ that:
A man freed six slaves of his when he was dying, and he did not have any wealth apart from them. News of that reached the Prophet and he was angry about that. He said: I was thinking of not offering the funeral prayer for him. Then he called the slaves and divided them into three groups. He cast lost among them, then freed two and left four as slaves.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا: ہم کو ہشیم نے منصور کی سند سے، جو ابن زادان ہیں، حسن کی سند سے خبر دی,عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیئے، اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال ( مال و اسباب ) نہ تھا، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ اس سے ناراض ہوئے، اور فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں“، پھر آپ نے اس کے غلاموں کو بلایا، اور ان کے تین حصے کیے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور دو کو آزاد کر دیا، اور چار کو رہنے دیا۔
It was narrated that Zaid bin Khalid رضی الله عنہ said:
A man died at Khaibar and the Messenger of Allah said: 'Pray for your companion; he stole from the spoils war.' We inspected his luggage and fund some of the beads of the Jews that were not even worth two Dirhams.
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، وہ یحییٰ بن سعید انصاری سے، وہ محمد بن یحییٰ بن حبان سے، انہوں نے ابو عمرہ کی سند سے, زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص خیبر میں مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو، اس نے اللہ کی راہ میں چوری کی ہے“، تو ( جب ) ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہود کے نگینوں میں سے کچھ نگینے ملے، جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھے۔
Abdullah bin Abi Qatadah narrated from his father that:
A man was brought to the Prophet for him to offer the funeral prayer, and he said: Pray for your companion, for he owes a debt. Abu Qatadah رضی اللہ عنہ said: I will pay it. The Prophet said: In full? He said: In full. So he prayed for him
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، عثمان بن عبداللہ بن موہب کی سند سے، کہا: میں نے عبداللہ بن ابوقتادہ رضی الله عنہ کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھتا ) کیونکہ اس پر قرض ہے“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ میرے ذمہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اس کی ادائیگی کرو گے؟“ تو انہوں نے کہا: ہاں میں اس کی ادائیگی کروں گا، تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
Salamah - meaning, bin Al-Akwa' رضی الله عنہ said:
A Janazah was brought to the Prophet and they said: O Prophet of Allah, pray for him.' He said: Did he leave any debt behind?' They said: Yes.' He said 'Did he leave anything?' They said: No. He said; 'Pray fro your companion.' A man among the Ansar who was called Abu Qatadah said: 'Pray for him and I will pay off his debt.' So he prayed for him.
ہم سے عمرو بن علی اور محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا: سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے نبی! اس کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: ”کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے؟“ لوگوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو“، تو ابوقتادہ نامی ایک انصاری نے عرض کیا: آپ اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اس کا قرض میرے ذمہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی۔
It was narrated that Jabir رضی الله عنہما said:
The Prophet would not pray for a man who owed a debt. A deceased person was brought to him and he said: 'Does he owe any debt?' They said: 'Yes, he owes two Dinars.' He said: 'Pray for your companion.' Abu Qatadah رضی الله عنہما said: 'I will pay them, O Messenger of Allah, So he prayed for him. Then, when Allah made His Messenger rich though conquest, he said: ' I am closer to each believer than his own self. Whoever leaves behind a debt, I will pay it, and whoever leaves behind wealth, it is for his heirs.
ہم سے نوح بن حبیب القومیسی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں معمر نے زہری سے اور ابو سلمہ کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، چنانچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا اس پر قرض ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، اس پر دو دینار ( کا قرض ) ہے، آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو“، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی، تو آپ نے فرمایا: ”میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں، جو قرض چھوڑ کر مرے ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
If a believer died with debts outstanding, the Messenger of Allah would ask whether he had left behind anything to pay off his debts. If they said yes, he would pray for him, but if they said no, he would say: Pray for your companion. Then, when Allah made His Messenger rich through conquest, he said: I am closer to the believers than their own selves. Whoever dies and leaves behind a debt, I will pay it, and whoever leavers behind wealth, it is for his heirs.
ہم سے یونس بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس اور ابن ابی ذہب نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے اور ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: ”کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے؟“ اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ کہتے: ”تم اپنے ساتھی پر نماز ( جنازہ ) پڑھ لو“۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا، تو آپ نے فرمایا: ”میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو ( اس کی ادائیگی ) مجھ پر ہے، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے“۔
It was narrated from Jabir bin Samurah رضی الله عنہ that:
A man killed himself with an arrowhead and the Messenger of Allah said: As for me, I will not pray for him.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابو الولید نے خبر دی، کہا: ہم سے ابو خیثمہ زہیر نے بیان کیا، کہا: ہم سے سما ک نے بیان کیا, ابن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے تیر کی انی سے خودکشی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہا میں تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Prophet said: Whoever throws himself, he will be in the Fire of Hell, throwing himself down forever and ever. And whoever kills himself with a piece of iron - then I missed something ( one of the narrators) Khalid said- will have his piece of iron in his hand, stabbing himself in the stomach in the Fire of Hell, forever and ever.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، سلیمان سے، کہا: میں نے ذکوان کو بیان کرتے ہوئے سنا، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا اسے وہ زہرہمیشہ جہنم میں پیتا رہے گا، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے ( راوی کہتے ہیں: پھر کوئی چیز میرے سننے سے رہ گئی ، خالد کہہ رہے تھے: ) تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہو گا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا“۔
It was narrated that 'Umar bin Al-Khattab رضی الله عنہ said:
When 'Abdullah bin Ubayy bin Soul died, the Messenger of Allah was called upon to offer the funeral prayer for him. When the Messenger of Allah stood up (to offer the prayer), I got up quickly and said: 'O Messenger of Allah Are you going to pray for Ibn Ubayy when he said such-and-such an occasion?' And I stated to list all the things that he had said. The Messenger of Allah smiled and said: 'Leave me alone, O 'Umar.' When I spoke too much he said: 'I have been given the choice and I have chosen (to offer the prayer for him). If I knew that he could be forgiven by asking Allah's forgiveness more than seventy times, I would have done so.' The Messenger of Allah offered the funeral prayer for him, and then left. A short while later, the two Verses form surah Bara were revealed: 'And never pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave. Certainly they disbelieved in Allah and His Messenger, and died while they were rebellious.' Later I was astonished by my audacity toward the Messenger of Allah on that day. And Allah and His Messenger know best.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حوثین بن المثنی نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے عقیل کی سند سے، ابن شہاب سے، عبید اللہ بن عبداللہ کی سند سے، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے , عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافقوں کا سردار ) مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلائے گئے، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑے ہوئے تو میں تیزی سے آپ کی طرف بڑھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ابن ابی پر نماز جنازہ پڑھیں گے؟ حالانکہ فلاں دن وہ ایسا ایسا کہہ رہا تھا، میں اس کی تمام باتیں آپ پر گنانے لگا، تو آپ مسکرائے، اور فرمایا: ”اے عمر! ان باتوں کو جانے دو“۔ جب میں نے کافی اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اختیار ہے ( نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں ) تو میں نے پڑھنا پسند کیا، اگر میں یہ جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت چاہنے پر اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں اس سے زیادہ مغفرت کرتا“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر لوٹے اور ابھی ذرا سا دم ہی لیا تھا کہ سورۃ برأت کی دونوں آیتیں نازل ہوئیں: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم كفروا باللہ ورسوله وماتوا وهم فاسقون» ”جب یہ مر جائیں تو تم ان میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہو، اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے، اور گنہگار ہو کر مرے ہیں“، بعد میں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنی اس دن کی اس جرات پر حیرت ہوئی، اور اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں کہ یہ جرات میں نے کیوں کی۔
It was narrated that 'Aishah رضی الله عنہا said:
The Messenger of Allah did not offer the funeral prayer for shail bin Baida رضی اللہ عنہ anywhere but in the Masjid.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور علی بن حجر نے بیان کیا: ہم سے عبدالعزیز بن محمد نے، عبدالواحد بن حمزہ کی سند سے، عباد بن عبداللہ بن الزبیر کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی ۔
It was narrated from 'Abdul-Wahid bin Hamzah that 'Abbad bin 'Abdullah bin Az-Zubair told him that 'Aishah رضی الله عنہا said:
The Messenger of Allah did not offer the funeral prayer for Suhail bin Baida anywhere but inside the Masjid.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ نے موسیٰ بن عقبہ کی سند سے، وہ عبد الواحد بن حمزہ کی سند سے کہ ان سے عباد بن عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد کے صحن ہی میں پڑھی تھی۔
Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif رضی الله عنہ said:
A poor woman in Al-Awali fell sick and the Prophet used to ask them about her. He said: 'If she dies, do not bury her until I have offered the funeral prayer for her. She died and they brought her to Al-Madinah after dark, and they found that the Messenger of Allah had gone to sleep. They did not like to wake him up, so they offered the funeral prayer for her and buried her in Baqi' Al-Gharqab. The next morning they came and the Messenger of Allah asked them about her. They said: 'She has been buried, O Messenger of Allah. We came to you and found you sleeping, and we did not like to wake you up.' He said: 'let's go.' He set out walking and they went with him and showed him her grave. The Messenger of Allah stood and they formed rows behind him, and he offered the funeral prayer for her, saying the Takbir four times.
ہم سے یونس بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، کہا: مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا، کہا: ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ
عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ۱؎ بیمار پڑ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ ”اگر یہ مر جائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں“، چنانچہ وہ مر گئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چنانچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! وہ تو دفنائی جا چکی، ( رات ) ہم آپ کے پاس آئے ( بھی ) تھے، ( لیکن ) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا، آپ نے فرمایا: ”چلو!“ ( اور ) خود بھی چل پڑے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا، آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی اور ( اس میں ) چار تکبیریں کہیں۔
It was narrated from Jair رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah said: Your brother An-Najashi has died, so get up and offer the funeral prayer for him. He stood up and put us in rows as is done for the funeral prayer, and we prayed for him.
ہم سے محمد بن عبید نے حفص بن غیاث سے، ابن جریج کی سند سے، عطاء کی سند سے, جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی کی موت ہو گئی ہے، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، ( پھر ) آپ نے ہماری صف بندی کی جیسے جنازہ پر صف بندی کی جاتی ہے، اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ :
The Prophet announced the death of An-Najashi to the people on the day that he died, then he took them out to the prayer place and put them in rows and offered the funeral prayer for him, saying the Takbir four times.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہم کو عبداللہ نے مالک کی سند سے، ابن شہاب نے سعید بن مسیب کی سند سے خبر دی, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، پھر آپ لوگوں کو لے کر صلاۃ گاہ کی طرف نکلے، اور ان کی صف بندی کی، ( پھر ) آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah announced the death of An-Najashi to his Companions in Al-Madinah, so they formed rows behind him and he offered the funeral prayer for him, saying the Takbir four times. Abu Abdur Rahman (An-Nasa'i) said: I did not understand "Ibn Al-Musayyab" as I wanted to.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں معمر نے زہری کی سند سے اور ابن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنے صحابہ کو نجاشی کی موت کی خبر دی، تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ نے ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: ابن مسیب کا نام جیسا میں سننا چاہتا تھا نہیں سن سکا۔
It was narrated from Jabir رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah said: Your brother has died, so get up and offer the funeral prayer for him. So we formed two rows for him.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں اسماعیل نے ایوب سے اور ابو الزبیر کی سند سے خبر دی , جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے بھائی ( نجاشی ) مر گئے ہیں تو تم لوگ اٹھو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“ تو ہم نے ان پر دو صفیں باندھیں۔
It was narrated that Jabir رضی الله عنہما said:
I was in the second row on the day the Messenger of Allah offered the funeral prayer for An-Najashi.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، میں نے شعبہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: وہ ابھی نکلے گا، ابھی نکلے گا۔ ہم سے ابو الزبیر نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز ( جنازہ ) پڑھی تھی میں دوسری صف میں تھا۔
It was narrated that 'Imran bin Husain رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said to us: 'Your brother An-Najashi has died, so get up and offer the funeral prayer for him.' So we got up and formed row to pray for him, as rows are formed to pray for the dead, and he led us in praying for him as people pray for the dead.
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، کہا: ہم سے یونس نے محمد بن سیرین کی سند سے اور ابو المحلب کی سند سے, عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو“، تو ہم کھڑے ہوئے ( اور ) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے، اور ہم نے ان کی نماز ( جنازہ ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے۔
It was narrated that Samurah رضی الله عنہ said:
I offered the funeral prayer with the Messenger of Allah for Umm kab رضی اللہ عنہا who had died in childbirth, and the Messenger of Allah stood in line at her mid-section to pray.
ہم سے حمید بن مسعدہ نے عبد الوارث کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے حسین نے ابن بریدہ کی سند سے بیان کیا, سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، جو اپنی زچگی میں مر گئیں تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ان کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔