It was narrated that Aishah رضی الله عنہا said:
The Prophet was shrouded in three white Suhuli garments, among which no shirt and no turban.
ہم سے قتیبہ نے مالک کی سند سے، ہشام بن عروہ سے، اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین سفید یمنی کپڑوں میں کفنائے گئے جن میں نہ تو قمیص تھی اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ۔
Hisham narrated from his father, from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah was shrouded in three white Yemeni garments of cotton, among which was no shirt and no turban. It was mentioned to 'Aishah رضی اللہ عنہا that they said: He was buried in two garments and a Burd made of Hibrah. She said: A Burd was brought, but they sent it back and did not shroud him in it.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے حفص نے بیان کیا، ہشام سے، اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سفید یمنی سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا جس میں نہ تو قمیص تھی، اور نہ عمامہ ( پگڑی ) ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دو کپڑوں اور ایک یمنی چادر کے متعلق لوگوں کی گفتگو کا ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: چادر لائی گئی تھی لیکن لوگوں نے اسے لوٹا دیا، اور آپ کو اس میں نہیں کفنایا تھا۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar رضی الله عنہما said:
When 'Abdullah bin Ubayy died, his son came to the Prophet and said: 'Give me your shirt so that I may shroud him in it, and (some and) offer the (funeral) prayer for him, and pray for forgiveness for him'. So he gave him his shirt then he said: 'When you have finished, inform me and I will offer the (funeral) prayer for him.' But 'Umar رضی اللہ عنہ stopped him and said: 'Hasn't Allah forbidden you to offer the (funeral) prayer for the hypocrites?' He said: 'I have two options. Whether you ask forgiveness for them (hypocrites) or ask no forgiveness for them. So he offered the (funeral) prayer for him. Then Allah, Most High, revealed: 'And never pray (funeral prayer) for any of them (hypocrites) who dies, nor stand at his grave.' So he stopped offering the (funeral) prayer for them.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) مر گیا، تو اس کے بیٹے ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ( اور ) عرض کیا: ( اللہ کے رسول! ) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں، اور آپ ان پر نماز ( جنازہ ) پڑھ دیجئیے، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی، پھر فرمایا: جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز ( جنازہ ) پڑھوں گا ( اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا، اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز ( جنازہ ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دو اختیارات کے درمیان ہوں ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے ( التوبہ: ۸۰ ) چنانچہ آپ نے اس کی نماز ( جنازہ ) پڑھی، تو اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» تم ان ( منافقین ) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو ( التوبہ: ۸۴ ) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔
It was narrated from Sufyan, from 'Amr who said he heard Jabir رضی الله عنہما say:
The Prophet came to the grave of 'Abdullah bin Ubayy when he had been placed in his grave and stood over it. He commanded that he be brought out to him and placed on his knees, and he dressed him in his shirt and blew on him (for blessing). And Allah knows best.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے نافع نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کی قبر پر آئے، اور اسے اس کی قبر میں رکھا جا چکا تھا، تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور اس کے نکالنے کا حکم دیا تو اسے نکالا گیا، تو آپ نے اسے اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھا، اور اپنی قمیص پہنائی اور اس پر تھو تھو کیا، واللہ تعالیٰ اعلم۔
It was narrated that 'Amr heard Jabir رضی الله عنہما say:
And Al-'Abass رضی اللہ عنہ was in Al-Madinah, and he asked the Ansar for a garment to clothe him in, but they could not find a shirt that would fit him except the shirt of 'Abdullah bin Ubayy, so they clothed him in it.
ہم سے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن الزہری البصری نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے عمرو کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مدینے میں تھے، تو انصار نے ایک کپڑا تلاش کیا جو انہیں پہنائیں، تو عبداللہ بن ابی کی قمیص کے سوا کوئی قمیص نہیں ملی جو ان پر فٹ آتی، تو انہوں نے انہیں وہی پہنا دیا ۔
Khabbab رضی الله عنہ said:
We emigrated with the Messenger of Allah, seeking the Face of Allah, the Most High, so our reward became due from Allah. Some of us died without enjoying anything of his reward (in this world) among them is Mus'ab bin Umair رضی اللہ عنہ . He was matyred on the day of Uhud and we could not find anything to shroud him in except a Namirah; if we covered his head with it, his feet were uncovered, and if we covered his feet with it, his head became uncovered. The Messenger of Allah told us to cover his head with it and to put Idhkhir over his feet. And for some of us, the fruits of our labor have ripened and we are gathering them. This is the wording of Isma'il
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے العماش کی سند سے بیان کیا۔ اور ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید القطان نے بیان کیا، کہا: میں نے عماش کو کہتے سنا: میں نے شقیق کو کہتے سنا: خباب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ہمارا اجر ثابت ہو گیا، پھر ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو مر گئے ( اور ) اس اجر میں سے ( دنیا میں ) کچھ بھی نہیں چکھا، انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں، جو جنگ احد میں قتل کئے گئے، تو ہم نے سوائے ایک ( چھوٹی ) دھاری دار چادر کے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جس میں انہیں کفناتے، جب ہم ان کا سر ڈھکتے تو پیر کھل جاتا، اور جب پیر ڈھکتے تو سر کھل جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور ان کے پیروں پہ اذخر نامی گھاس ڈال دیں، اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کے پھل پکے اور وہ اسے چن رہے ہیں ( یہ الفاظ اسماعیل کے ہیں ) ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah said: 'Wash the Muhrim in the two garments in which he entered Ihram, and wash him with water and lotus leaves, and shroud him in his two garments, and do not put perfume on him nor cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection in Ihram. '
ہم سے عتبہ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن نافع نے عمرو بن دینار سے اور سعید بن جبیر سے,عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم کو اس کے ان ہی دونوں کپڑوں میں غسل دو جن میں وہ احرام باندھے ہوئے تھا، اور اسے پانی اور بیر ( کے پتوں ) سے نہلاؤ، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفناؤ، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ ہی اس کا سر ڈھکو، کیونکہ وہ قیامت کے دن احرام باندھے ہوئے اٹھے گا ۔
It was narrated that Abu Sa'eed رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: The best of perfume is musk. '
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوداؤد اور شبابہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ خلید بن جعفر سے، انہوں نے ابو نضرۃ رضی اللہ عنہ سے سنا, ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمدہ ترین خوشبو مشک ہے ۔
It was narrated that Abu Sa'eed رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'One of the best of your perfumes is musk. '
ہم سے علی بن الحسین الدرہمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امیہ بن خالد نے مستمیر بن ریان سے اور ابو نضرہ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین خوشبوؤں میں سے مشک ہے ۔
It was narrated from Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif رضی الله عنہ that:
A poor woman fell sick and the Messenger of Allah was informed of her sickness. The Messenger of Allah used to visit the poor when they were sick and ask about them. The Messnger of Allah said: If she dies, then inform me. Then her funeral took place at night and they did not like to wake the Messenger of Allah. When morning came, the Messenger of Allah was told what had happened to her. He said: Did I not tell you to inform me? They said: O Messenger of Allah, we did not like to wake you up at night. The Messenger of Allah went out and the people lined up by her grave and he said four Takbirs.
ہمیں قتیبہ نے اپنی حدیث میں مالک کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا ہے, ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک مسکین عورت بیمار ہو گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی بیماری کی خبر دی گئی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں اور غریبوں کی بیمار پرسی کرتے اور ان کے بارے میں پوچھتے رہتے تھے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب یہ مر جائے تو مجھے خبر کرنا ، رات میں اس کا جنازہ لے جایا گیا ( تو ) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ جانا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو ( رات میں ) جو کچھ ہوا تھا آپ کو اس کی خبر دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ مجھے اس کی خبر کرنا؟ تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو رات میں جگانا نا مناسب سمجھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنے صحابہ کے ساتھ ) نکلے یہاں تک کہ اس کی قبر پہ لوگوں کی صف بندی ۱؎ کی اور چار تکبیریں کہیں۔
It was narrated from 'Abdullah bin Mihran that Abu Huraiyrah رضی الله عنہ said:
I heard the Messenger of Allah say: 'When the righteous man is placed on his bier, he says: Take me quickly, take me quickly. And when the bad man is placed on his bier he said: Woe to me! Where are you taking me? '
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبداللہ نے ابن ابی ذہب کی سند سے، سعید مقبری نے عبدالرحمٰن بن مہران کی سند سے خبر دی, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب نیک بندہ اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے، تو وہ کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور جب برا آدمی اپنی چارپائی پہ رکھا جاتا ہے، تو کہتا ہے: ہائے میری تباہی! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو ۔
Abu Sa'eed Al-Khudri رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'When the Janazah (prepared body) is placed (on the bier) and the men lift it onto their shoulders, if it was a righteous person it says: Take me quickly, take me quickly. And if it was not a righteous person it says: Woe to me! Where are you taking me! And everything hears its voice except man, and if man heard it he would faint. '
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے سعید بن ابی سعید سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ ( چارپائی پر ) رکھا جاتا ہے ( اور ) لوگ اسے اپنے کندھوں پہ اٹھاتے ہیں، تو اگر وہ نیکوکار ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، مجھے جلدی لے چلو، اور اگر برا ہوتا ہے تو کہتا ہے: ہائے اس کی ہلاکت! تم اسے کہاں لے جا رہے ہو، اس کی آواز ہر چیز سنتی ہے سوائے انسان کے، اگر انسان اسے سن لے تو بیہوش ہو جائے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ , who attributed it to the Prophet:
Hasten with the Janazah, for if it was righteous then your are taking it toward something good, and if it was otherwise, then it is an evil of which you are relieving yourselves.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، سعید کی سند سے، وہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے، جنہوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازے کو تیز لے چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے نیکی کی طرف ( جلد ) لے جاؤ گے، اور اگر اس کے علاوہ ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم ( جلد ) اپنی گردنوں سے اتار پھینکو گے“۔
Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
I heard the Messenger of Allah say: ,Hsten with the Janazah, for if it was righteous then you are taking it toward something good, and if it was otherwise, then it is an evil of which you are relieving yourselves. '
ہم سے سوید نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ نے یونس کی سند سے، وہ زہری کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ابوامامہ بن سہل نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جنازے کو جلدی لے چلو، کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے، اور اگر بد ہے تو شر کو اپنی گردنوں سے ( جلد ) اتار پھینکو گے“۔
Uyaynah bin 'Abdur-Rahman bin Jawsh said: My father told me:
I witnessed the funeral of 'Abdur-Rahamn bin Samurah رضی اللہ عنہ . Ziyad came out, walking in front of the bier, and some men from the family of 'Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ and their freed slaves came out, facing the bier and walking backward, saying: 'Slow down, slow down, may Allah bless you.' And they were walking slowly. Then when they were partway to Al-Mrbad, Abu Bakrah رضی اللہ عنہ joined us on his mule. When he saw what they were doing, he rushed to them on his mule, brandishing his whip, and said: 'Move on, for by the One Who honored the face of Abu Al-Qasim, I remember when we were with the Messenger of Allah, we were walking fast, so the people speeded up. '
ہم سے محمد بن عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عیینہ بن عبدالرحمٰن بن جوشن نے خبر دی، کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا
میں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں موجود تھا، زیاد نکلے تو وہ چارپائی کے آگے چل رہے تھے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے گھر والوں میں سے کچھ لوگ اور ان کے غلام چارپائی کو سامنے کر کے اپنی ایڑیوں کے بل چلنے لگے، وہ کہہ رہے تھے: آہستہ چلو، آہستہ چلو، اللہ تمہیں برکت دے، تو وہ لوگ رینگنے کے انداز میں چلنے لگے، یہاں تک کہ جب ہم مربد کے راستے میں تھے تو ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک خچر پر ( سوار ) ملے، جب انہوں نے انہیں ( ایسا ) کرتے دیکھا، تو اپنے خچر پر ( سوار ) ان کے پاس گئے اور کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا، اور کہا: قسم! اس ذات کی جس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا کہ ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے، تو لوگ ( یہ سن کر ) خوش ہوئے۔
It was narrated that Abu Bakrah رضی الله عنہ said:
I remember when we were with the Messnger of Allah, and we were walking fast with it (the Janazah). This is the wording of Hushaim.
ہم سے علی بن حجر نے اسماعیل اور ہشیم کی سند سے اور عیینہ بن عبدالرحمٰن سے اپنے والد کی سند سے بیان کیا,ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ( صحابہ کرام ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے آپ کو دیکھا ہم جنازے کے ساتھ تقریباً دوڑتے ہوئے چلتے۔ یہ الفاظ ہشیم کی روایت کے ہیں۔
It was narrated from Abu Sa'eed رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah said: When a funeral passes by you, stand up, and whoever follows it, let him not sit down until it is put down (in the grave).
ہم سے یحییٰ بن درست نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو اسماعیل نے یحییٰ کی سند سے بیان کیا کہ ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے ( سامنے ) سے جنازہ گزرے تو کھڑے ہو جاؤ، ( اور ) جو ( جنازے ) کے ساتھ جائے وہ نہ بیٹھے یہاں تک کہ اسے رکھ دیا جائے“۔
It was narrated from 'Amir bin Rabi'ah رضی الله عنہ that:
The Prophet said: When any one of you sees a funeral and is not walking with it, let him stand up until it has passed him, or until (the body) is placed (in the grave) before if passes him.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے نافع کی سند سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے, عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے ( اور ) اس کے ساتھ جا نہ رہا ہو تو وہ کھڑا رہے یہاں تک کہ ( جنازہ ) اس سے آگے نکل جائے یا آگے نکلنے سے پہلے رکھ دیا جائے“۔
It was narrated form 'Amir bin Rabi'ah Al-'Adawi رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah said: When you see a funeral, stand up until it has passed you, or (the body) is placed (in the grave).
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے لیث نے ابن شہاب کی سند سے، سلیم نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا, عامر بن ربیعہ عدوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے، یا رکھ دیا جائے“۔
It was narrated that Abu Sa'eed رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'When you see a funeral, stand up, and whoever follows it, let him not sit down until (the body) is placed (in the grave).
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے ہشام کی سند سے بیان کیا اور ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ہشام نے بیان کیا، یحییٰ سے اور ابو سلمہ سے, ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ، ( اور ) جو اس کے پیچھے پیچھے جا رہا ہو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے وہ نہ بیٹھے“۔