Abbul-Jabbar bin Al-Ward narrated: I heard Ibn Abi Mulaikah say:
'When Umm Aban died, I attended with the people. I sat in front of 'Abdullah bin 'Umar and Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہم, and the women wept. Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما said: 'Why don't you tell them not to weep? For I heard the Messenger of Allah say: The deceased is punished due to some of his family's weeping for him. ' Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said: Umar رضی اللہ عنہ used to narrate something like that. I went out with 'Umar رضی اللہ عنہ and when we got to on uninhabited area, he saw a caravan beneath a tree. He said: 'See whose caravan this is.' I went and I found Suhaib رضی اللہ عنہ and his family. I came back to him and said: 'O Commander of the Believers! This is Suhaib رضی اللہ عنہ and his family.' He said: 'Bring Suhaib رضی اللہ عنہ to me.' When we entered Al-Madinah, 'Umar رضی اللہ عنہ was attacked and Suhaib رضی اللہ عنہ sat by him, weeping and saying, 'O my brother, O my brother.' 'Umar رضی اللہ عنہ said: 'O Suhaib, do not weep, for I heard the Messenger of Allah say: The deceased is punished due to some of the weeping of his family for him. He said: I mentioned that to 'Aishah رضی اللہ عنہا and she said: 'By Allah you are not narrating this Hadith from two liars who have disbelieved, but sometimes you mishear. And no bearer of burdens shall bear another's burden. And the Messenger of Allah said: 'Allah increases the punishment of the disbeliever because of his family's weeping for him. '
ہم سے سلیمان بن منصور بلخی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالجبار بن ورد نے بیان کیا, ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ
جب ام ابان مر گئیں تو میں ( بھی ) لوگوں کے ساتھ ( تعزیت میں ) آیا، اور عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کے بیچ میں بیٹھ گیا، عورتیں رونے لگیں تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم انہیں رونے سے روکو گے نہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے ، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کہتے تھے، ( ایک بار ) میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ہم بیداء پہنچے، تو انہوں نے ایک درخت کے نیچے کچھ سواروں کو دیکھا تو ( مجھ سے ) کہا: دیکھو ( یہ ) سوار کون ہیں؟ چنانچہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، لوٹ کر ان کے پاس آیا، اور ان سے کہا: امیر المؤمنین! وہ صہیب رضی اللہ عنہ اور ان کے گھر والے ہیں، تو انہوں نے کہا: صہیب رضی اللہ عنہ کو میرے پاس لاؤ، پھر جب ہم مدینہ آئے تو عمر رضی اللہ عنہ زخمی کر دئیے گئے، صہیب رضی اللہ عنہ ان کے پاس روتے ہوئے بیٹھے ( اور ) وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے بھائی! تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! روؤ مت، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ( ابن عباس ) کہتے ہیں: میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا تو انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! تم یہ حدیث نہ جھوٹوں سے روایت کر رہے ہو، اور نہ ایسوں سے جنہیں جھٹلایا گیا ہو، البتہ سننے ( میں ) غلط فہمی ہوئی ہے، اور قرآن میں ( ایسی بات موجود ہے ) جس سے تمہیں تسکین ہو: «ألا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) فرمایا تھا: اللہ کافر کا عذاب اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔
It was narrated from Muhammad bin 'Amr bin 'Ata that Salamah bin Al-Azraq said:
I heard Abu Hurairah رضی الله عنہ say: 'Someone from the family of the Messenger of Allah died, and the women gathered, weeping for him. 'Umar رضی الله عنہ stood up and told them not to do that, and threw them out, but the Messenger of Allah said: Let them be there, O 'Umar, for the eye weeps and the heart grieves, but soon we will join them.
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل بن جعفر نے، محمد بن عمرو بن ہلالہ سے، وہ محمد بن عمرو بن عطاء کی سند سے، کہ سلمہ بن الازرق نے کہا
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں کسی کا انتقال ہو گیا تو عورتیں اکٹھا ہوئیں ( اور ) میت پر رونے لگیں، تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر انہیں روکنے اور بھگانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو کیونکہ آنکھوں میں آنسو ہے، دل غم میں ڈوبا ہوا ہے، اور موت کا وقت قریب ہے ۔
It was narrated that 'Abdullah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'He is not one of us who strikes his cheeks, rends his garment, calls out the calls of the Jahiliyyah. '
ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا، کہا: ہم سے عیسیٰ نے العمش کی سند سے بیان کیا اور ہم سے حسن بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ادریس نے الاعمش کی سند سے، عبداللہ بن مرہ کی سند سے، مسروق کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو منہ پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ( یعنی نوحہ کرے ) ۔ یہ الفاظ علی بن خشرم کے ہیں، اور حسن کی روایت «بدعا الجاہلیۃ» کی جگہ «بدعویٰ الجاہلیۃ» ہے۔
It was narrated that Safwan bin Muhriz said:
Abu Musa fell unconscious and they wept for him. He said: 'I say to you the words of disavowal that the messenger of Allah said: He is not one of us who shaves his head (as a sign of mourning), rends his garments, or raises his voice in Lamentation. '
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے عوف کی سند سے اور خالد الاحداب سے, صفوان بن محرز کہتے ہیں کہ
ابوموسیٰ اشعری پر بے ہوشی طاری ہو گئی، لوگ ان پر رونے لگے، تو انہوں نے کہا: میں تم سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ کہہ کر برات کا اظہار کیا تھا کہ جو سر منڈائے کپڑے پھاڑے، واویلا کرے ہم میں سے نہیں۔
It was narrated from 'Abdullah رضی الله عنہ that:
The Prophet said: He is not one of us who strikes his cheeks, rends his garment, and calls the calls of the Jahiliyyah.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: مجھ سے زبید نے ابراہیم کی سند سے اور مسروق کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو گال پیٹے، گریباں پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ہم میں سے نہیں ۔
It was narrated from Abu Sakhrah, that 'Abdur-Rahman bin Yazid and Abu Burdah رضی الله عنہما said:
When Abu Musa was close to death, his wife started to scream. They said: He woke up and said: 'Did I not tell you that I am free from what the Messenger of Allah is free? They said: He used to narrate that the Messenger of Allah said: 'I am free from the one who shaves his head, rends his garments or raises his voice in lamentation. '
ہم سے احمد بن عثمان بن حکیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو عمیس نے ابو صخرہ کی سند سے بیان کیا, عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب ابوموسیٰ اشعری ( کی بیماری ) سخت ہوئی، تو ان کی عورت چلاتی ہوئی آئی۔ ( ان کی بیماری میں کچھ ) افاقہ ہوا، تو انہوں نے کہا: کیا میں تجھے نہ بتاؤں کہ میں ان چیزوں سے بری ہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری تھے، ان دونوں نے ان کی بیوی سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: میں اس شخص سے بری ہوں جو سر منڈائے، کپڑے پھاڑے اور واویلا کرے ۔
It was narrated from 'Abdullah رضی الله عنہ that:
The Prophet said: He is not one of us who strikes his cheeks, rends his garment, and calls the calls of the Jahiliyyah.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے زبید کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، مسروق کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، گریبان پھاڑے، اور جاہلیت کی پکار پکارے ۔
It was narrated from Yazid bin Aws رضی الله عنہ that:
Abu Musa رضی الله عنہ said he fell unconscious and an Umm Walad of his wept. When he woke up, he asked her: Have you not heard what the Messenger of Allah said? She said: He said: 'He is not one of us who raises his voice in lamentation, shaves his head, or rends his garments.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، یزید بن اوس کی سند سے, ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
ان پر غشی طاری ہوئی، تو ان کی ام ولد رو پڑی، جب ( کچھ ) افاقہ ہوا تو انہوں نے اس سے کہا: کیا تجھے وہ بات نہیں پہنچی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے؟ تو ہم نے اس سے پوچھا ( آپ نے کیا فرمایا تھا؟ ) تو اس نے کہا: آپ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو گال پیٹے، سر منڈائے، اور کپڑے پھاڑے ۔
It was narrated from Umm 'Abdullah, the wife of Abu Musa, that Abu Musa رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'He is not one of us who shaves his head, raises his voice in lamentation or rends his garments. '
ہم سے عبدہ بن عبد اللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا: ہم سے بنی اسرائیل نے منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، یزید بن اوس سے اور ابو موسیٰ کی بیوی ام عبد اللہ کی سند سے, ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو سر منڈائے، واویلا کرے اور کپڑے پھاڑے ۔
It was narrated that Al-Qartha' said:
When Abu Musa رضی اللہ عنہ was close to death, his wife screamed and he said: 'Do you not know what the Messenger of Allah said? She said: 'Yes, Then she fell silent and it was said to her after that: 'What did the Messenger of Allah say?' She said: 'The Messenger of Allah cursed the one who shaves his head, raises his voice in lamentation or rends his garment.
ہم سے ہناد نے ابو معاویہ کی سند سے، الاعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، سہم بن منجاب کی سند سے, قرثع کہتے ہیں کہ
جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری بڑھ گئی تو ان کی بیوی چیخ مار کر رونے لگی، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے کیا تجھے معلوم نہیں؟ اس نے کہا: کیوں، نہیں ضرور معلوم ہے، پھر وہ خاموش ہو گئی، تو اس سے اس کے بعد پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہر اس شخص پر ) لعنت فرمائی ہے جو سر منڈوائے، یا واویلا کرے، یا گریبان پھاڑے۔
It was narrated that Abu 'Uthman said:
Usamah bin Zaid رضی الله عنہ told me: 'The daughter of the Prophet sent word to him telling him: A son of mine is dying, come to us. He sent word to her, conveying his greeting of salam and saying: To Allah belongs that which He takes and that which He gives, and everything has an appointed time with Allah. Let her be patient and seek reward. She sent word to him adjuring him to go to her. So he got up and went, accompanied by Sa'd bin 'Ubadah, Muadh bin Jabal, Ubayy bin Kab Zaid bin Thabit and some other men. The boy was lifted up to the Messenger of Allah, with the death rattle sounding in him, and his eyes filled with tears. Sa'd said: O Messenger of Allah, what is this? he said: This is compassion which Allah has created in the hearts of His slaves. Allah has mercy on His compassionate slaves.
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا: ہم کو عبداللہ نے عاصم بن سلیمان سے، وہ ابو عثمان کی سند سے، انہوں نے کہا
مجھ سے اسامہ بن زیدرضی الله عنہ نے بیان کیا، کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم کہلا بھیجا کہ میرا بیٹا مرنے کو ہے آپ آ جائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ آپ سلام کہتے ہیں، اور کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو ( کچھ ) لے، اور اسی کے لیے ہے جو ( کچھ ) دے، اور اللہ کے نزدیک ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے، تو چاہیئے کہ تم صبر کرو، اور اللہ سے اجر طلب کرو، بیٹی نے ( دوبارہ ) قسم دے کے کہلا بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور آ جائیں، چنانچہ آپ اٹھے، آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور کچھ اور لوگ تھے، ( بچہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر اس حال میں لایا گیا کہ اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی، تو آپ کی آنکھوں ( سے ) آنسو بہ پڑے، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھ رکھا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں ۔
It was narrated that Thabit said:
I heard Anas رضی الله عنہ say: 'The Messenger of Allah said: True patience is that which comes at the first blow. '
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے ثابت کی سند سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں
میں نے انس رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر وہی ہے جو صدمہ ( غم ) پہنچتے ہی ہو ۔
Abu lyas Mu'awiyah bin 'Qurrah رضی الله عنہ narrated from his father that:
A man came to the Prophet accompanied by a son of his. He said to him: Do you love him? He said: May Allah love you as I love him. Then he (the son) died and he noticed his absence and asked about him. He said: Will it not make you happy to know that you will not come to any of the gates of Paradise but you will find him there, trying to open it for you?
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو ایاس نے جو معاویہ بن قرہ رضی الله عنہ ہیں، اپنے والد سے بیان کیا کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ساتھ اس کا بیٹا ( بھی ) تھا، آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم اس سے محبت کرتے ہو؟ تو اس نے جواب دیا: اللہ آپ سے ایسے ہی محبت کرے جیسے میں اس سے کرتا ہوں، پھر وہ ( لڑکا ) مر گیا، تو آپ نے ( کچھ دنوں سے ) اسے نہیں دیکھا تو اس کے بارے میں ( اس کے باپ سے ) پوچھا ( تو انہوں نے بتایا کہ وہ مر گیا ہے ) آپ نے فرمایا: کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں ہو گی کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ گے ( اپنے بچے ) کو اس کے پاس پاؤ گے، وہ تمہارے لیے دوڑ کر دروازہ کھولنے کی کوشش کرے گا ۔
Amr bin sa'eed bin Abi Husain told us that:
'Amr bin Shu'aib wrote to 'Abdullah bin 'Abdur-Rahman bin Abi Husain to offer condolences for a son of his who had died. In his letter he mentioned that he had heard his father narrate, that his grandfather, 'Abdullah bin 'Amr bin Al-As رضی اللہ عنہما said: The Messenger of Allah said: 'Allah does not approve for His believing slave, if He takes away his loved one from among the people of the Earth, and he bears that with patience and seeks reward, and says that which he is commanded any reward less than Paradise. '
ہم سے سوید بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی
عمرو بن شعیب نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین کو ان کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کا خط لکھا، اور اپنے خط میں ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے والد کو بیان کرتے سنا وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کے لیے جب وہ زمین والوں میں سے اس کی سب سے محبوب چیز یعنی بیٹا کو لے لے، اور وہ اس پر صبر کرے، اور اجر چاہے، اور وہی کہے جس کا حکم دیا گیا ہے، جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا ۔
It was narrated from Anas رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah said: Whoever seeks reward for (the loss of) three of his own children, he will enter Paradise. A woman stood up and said: Or two? He said: Or two. The woman said: I wish that I had said, 'or one. '
ہم سے احمد بن عمرو بن سرح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر بن عبداللہ نے عمران بن نافع سے اور حفص بن عبید اللہ کے واسطہ سے, انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی تین صلبی اولاد مر جائیں ( اور ) وہ اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر و ثواب چاہے، تو وہ جنت میں داخل ہو گا ( اتنے میں ) ایک عورت کھڑی ہوئی اور بولی: اور دو اولاد مرنے پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو اولاد کے مرنے پر بھی ، اس عورت نے کہا: کاش! میں ایک ہی کہتی ۔
It was narrated that Anas رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'There is no Muslim, three of whose children die before reaching puberty, but Allah will admit him to Paradise by virtue of His mercy towards them. '
ہم سے یوسف بن حماد نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالوارث نے عبدالعزیز کی سند سے بیان کیا, انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ اسے ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ۔
It was narrated that Sa'sa'ah bin Mu'awiyah said:
I met Abu Dharr رضی اللہ عنہ and said: 'Tell me a Hadith.' He said: the Messenger of Allah said: There are no two Muslims, three of whose children die before reaching puberty, but Allah will forgive them by virtue of His mercy towards them. '
ہم سے اسماعیل بن مسعود نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بشر بن المفضل نے یونس کی سند سے اور حسن کی سند سے, صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ
میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھ سے حدیث بیان کیجئے تو انہوں کہا: اچھا سنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس مسلمان ماں باپ کی بھی تین نابالغ اولاد مر جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے بخش دیتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah said: No Muslim, three of whose children die, will be touched by the Fire, except in fulfillment of the (Divine) oath.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، سعید کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جس شخص کے بھی تین بچے مر جائیں، تو اسے جہنم کی آگ صرف قسم پوری کرنے ہی کے لیے چھوئے گی ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Prophet said: There are no two Muslims, three of whose children die before reaching puberty, but Allah will admit them to Paradise by virtue of His mercy toward them. It will be said to them: 'Enter Paradise.' They will say: 'Not until our parents enter.' So it will be said: 'Enter Paradise, you and your parents. '
ہم سے محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن الیّہ اور عبدالرحمٰن بن محمد نے بیان کیا: ہم سے اسحاق نے، جو الازرق ہے، نے عوف کی سند سے، محمد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان ماں باپ کے تین نابالغ بچے مر جائیں، تو اللہ تعالیٰ ان کو ان پر اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کرے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تو وہ کہیں گے ( ہم نہیں داخل ہو سکتے ) جب تک کہ ہمارے والدین داخل نہ ہو جائیں، ( پھر ) کہا جائے گا: ( جاؤ ) اپنے والدین کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
A woman came to the Messenger of Allah with a son of hers who was ill and said: 'O Messenger of Allah, I fear for him, and I have already lost three.' The Messenger of Allah said: You have a great protection against the Hellfire.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا: ہم کو جریر نے خبر دی، کہا: مجھ سے طلق بن معاویہ اور حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا: مجھ سے میرے دادا طلق بن معاویہ نے ابو زرعہ کی روایت سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا بیٹا لے کر آئی جو بیمار تھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ڈر رہی ہوں کہ یہ مر نہ جائے، اور ( اس سے پہلے ) تین بچوں کو بھیج چکی ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لیے زبردست ڈھال بنا لیا ہے ۔