It was narrated from 'Aishah رضی الله عنہا that:
The Messenger of Allah said: Whoever loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and whoever hates to meet Allah, Allah, hates to meet him. Amr (one of the narrators) added in his narration: t was said: 'O Messenger of Allah mean hating death? Fore all of us hate death.' He said; 'That is when he is dying; if he is given the glad tidings of the mercy and forgiveness of Allah, he loves to meet Allah and Allah loves to meet him. But if he is given the tidings of the punishment of Allah, he hates to meet Allah and Allah hates to meet him. '
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبد الاعلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید نے بیان کیا اور ہم سے حمید بن مسعدہ نے خالد بن حارث کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے، زرارہ کی سند سے اور سعد بن ہشام کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ سے ملنا ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا ناپسند کرے گا، ( عمرو نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے ) اس پر اللہ کے رسول سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ( اگر ) اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرنا موت کو ناپسند کرنا ہے، تو ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ اس کے مرنے کے وقت کی بات ہے، جب اسے اللہ کی رحمت اور اس کی مغفرت کی خوشخبری دی جاتی ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے ( جلد ) ملنا چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ ( بھی ) اس سے ملنا چاہتا ہے، اور جب اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی دھمکی دی جاتی ہے تو ( ڈر کی وجہ سے ) ملنا ناپسند کرتا ہے، اور وہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی الله عنہا that:
Abu Bakr رضی اللہ عنہ kissed the Prophet between the eyes when he had died.
ہم سے احمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے اور عروہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں کے بیچ بوسہ لیا، اور آپ انتقال فرما چکے تھے۔
It was narrated from Ibn 'Abbas and Aishah رضی الله عنہم that:
Abu Bakr رضی اللہ عنہ kissed the Prophet when he had died.
ہم سے یعقوب بن ابراہیم اور محمد بن المثنی نے بیان کیا: ہم سے یحییٰ نے سفیان کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے عبید اللہ بن عبد اللہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس اور عائشہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیا، اور آپ انتقال فرما چکے تھے۔
It was narrated that Aishah رضی اللہ عنہا said that:
Abu Bakr came riding a horse from his home in As-Sunuh, then he dismounted and entered the Masjid. He did not speak to the people until he met 'Aishah رضی اللہ عنہا and the Messenger of Allah was covered with a Hibrah Burd. He uncovered his face, bent over him and kissed him, and wept. Then he said: May my father be ransomed for you. By Allah! Allah will never cause you to die twice; the death that was decreed for you, you have died.
ہم سے سوید نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ نے بیان کیا، کہا: معمر اور یونس نے بیان کیا، اور زہری نے کہا: ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا ہے کہ
ابوبکر سُنح میں واقع اپنے مکان سے ایک گھوڑے پر آئے، اور اتر کر ( سیدھے ) مسجد میں گئے، لوگوں سے کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( ان کے حجرے میں ) آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا تھا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولا، پھر وہ آپ پر جھکے اور آپ کا بوسہ لیا، اور رو پڑے، پھر کہا: میرے باپ آپ پر فدا ہوں، اللہ کی قسم! اللہ کبھی آپ پر دو موتیں اکٹھی نہیں کرے گا، رہی یہ موت جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر لکھ دی تھی تو یہ ہو چکی ۔
Jabir رضی الله عنہما said:
My father was brought on the day of Uhud and he had been mutilated. He was placed in front of the Messenger of Allah covered with a cloth. I wanted to uncover him but my people forbade me to do so. The Prophet ordered that he was lifted up, he heard the voice of a woman weeping. He said: 'Who is this?' They said: 'This is the daughter of 'Amr, or the sister of 'Amr.' He said: 'Do not weep, or 'She should not weep, for the angels kept on shading him with their wings until he was lifted up,
مجھ سے محمد بن منصور نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا: میں نے ابن المنکدر کو کہتے سنا, جابر بن عبداللہ بن حرام رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
غزوہ احد کے دن میرے والد کو اس حال میں لایا گیا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا تھا، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا گیا، اور ایک کپڑے سے ڈھانپ دیا گیا تھا، میں نے ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانا چاہا تو لوگوں نے مجھے روک دیا، ( پھر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( اٹھانے ) کا حکم دیا، انہیں اٹھایا گیا، تو جب وہ اٹھائے گئے تو آپ نے کسی رونے والے کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے، آپ نے فرمایا: مت روؤ ، یا فرمایا: کیوں روتی ہو؟ جب تک انہیں اٹھایا نہیں گیا تھا فرشتے انہیں برابر سایہ کئے ہوئے تھے ۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
When a young daughter of the Messenger of Allah was dying, the Messenger of Allah picked her up and held her to his chest, then he put his hand on her, and she died in front of the Messenger of Allah. Umm Ayman رضی اللہ عنہا wept and the Messenger of Allah said 'Oh Umm Ayman, do you weep while the Messenger of Allah is with you?' She said: 'Why shouldn't I weep when the Messenger of Allah is weeping. So the Messenger of Allah said Verily, I am not weeping. Rather it is compassion.' Then the Messenger of Allah said: 'The believer is fine whatever the situation; even when his soul is being pulled from his body and he praises Allah, the Mighty and Sublime '
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو الاحوص نے عطاء بن سائب کی سند سے اور عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک چھوٹی بچی کے مرنے کا وقت آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( اپنی گود میں ) لے کر اپنے سینے سے چمٹا لیا، پھر اس پر اپنا ہاتھ رکھا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی مر گئی، ام ایمن رضی اللہ عنہا رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ام ایمن! تم رو رہی ہو جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے پاس موجود ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( خود ) رو رہے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں رو نہیں رہا ہوں، البتہ یہ اللہ کی رحمت ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ہر حال میں اچھا ہے، اس کی دونوں پسلیوں کے بیچ سے اس کی جان نکالی جاتی ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا رہتا ہے ۔
It was narrated from Anas رضی الله عنہ that:
Fatimah رضی اللہ عنہا wept for the Messenger of Allah when he died. She said: O my father, how close he is now to his Lord! O my father, we announce the news (of his death) to Jibril! O my father, Jannat Al-Firdawas is now his abode!
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی، کہا: ہم سے معمر نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر رونے لگیں، اور کہنے لگیں: ہائے، ابا جان! آپ اپنے رب سے کس قدر قریب ہو گئے، ہائے، ابا جان! مرنے کی خبر ہم جبرائیل علیہ السلام کو دے رہے ہیں، ہائے، ابا جان! آپ کا ٹھکانا جنت الفردوس ہے۔
It was narrated from Jabir رضی الله عنہ that:
His father was killed on the day of Uhud. He saide: I started to uncover his face, weeping. The people told me not to do that but the Messenger of Allah did not forbid me. My paternal aunt started to weep, and the Messenger of Allah said: 'Do not weep, for angels kept on shading him with their wings until you lifted him up. '
ہم سے عمرو بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے بہز بن اسد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، محمد بن المنکدر سے اور جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ان کے والد غزوہ احد کے دن قتل کر دیئے گئے، میں ان کے چہرہ سے کپڑا ہٹانے اور رونے لگا، لوگ مجھے روک رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں روک رہے تھے، میری پھوپھی ( بھی ) ان پر رونے لگیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان پر مت روؤ، فرشتے ان پر برابر اپنے پروں سے سایہ کیے رہے یہاں تک کہ تم لوگوں نے اٹھایا ۔
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah bin 'Atik that 'Atik bin Al-Harith who was the grandfather of 'Abdullah bin 'Abdullah, his mother's fathr told him that the Jabir bin Atik رضی اللہ عنہ told him that:
The Prophet came to visit 'Abdullah bin Thabit رضی اللہ عنہ (when he was sick) and found him very close to death. He called out to him and he did not respond, so the Messenger of Allah said: Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return, and said: We wanted you to live but we were overtaken by the decree of Allah, O Abu Ar-Rabi. The women screamed and wept, and Ibn Atik started telling them to quiet. The Messenger of Allah said: Leave them; when the inevitable comes, no one should weep. They said: What is the inevitable, O Messenger of Allah? He said: Death. His daughter said: I had hoped that you would become a martyr, for you had prepared yourself for it. The Messenger of Allah said: Allah, the Mighty and Sublime, has rewarded him according to his intention. What do you think martyrdom is? They said: Being killed for the sake of Allah. The Messenger of Allah said: Martyrdom is of seven types besides being killed for the sake of Allah. The one who dies of the plague is a martyr; the one who is crushed by a falling building is a martyr; the one who is crusheds by a falling building is a martyr; the one who dies of pleurisy is a martyr; the one who dies of pleurisy is a martyr; the one who is burned to death is a martyr, and the woman who dies in pregnancy is a martyr.
ہم سے عتبہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے مالک کے پاس عبداللہ بن عبداللہ بن جبیر بن عتیک کی روایت سے پڑھا کہ عتیق بن حارث نے جو عبداللہ بن عبداللہ کے دادا ہیں، ان کے نانا تھے, جابر بن عتیک انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت ( بیمار پرسی ) کرنے آئے تو دیکھا کہ بیماری ان پر غالب آ گئی ہے، تو آپ نے انہیں زور سے پکارا ( لیکن ) انہوں نے ( کوئی ) جواب نہیں دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اناللہ وانا اليہ راجعون»پڑھا، اور فرمایا: اے ابو ربیع! ہم تم پر مغلوب ہو گئے ( یہ سن کر ) عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں، ابن عتیک انہیں چپ کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو لیکن جب واجب ہو جائے تو ہرگز کوئی رونے والی نہ روئے ۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ( یہ ) واجب ہونا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: مر جانا ، ان کی بیٹی نے اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا: مجھے امید تھی کہ آپ شہید ہوں گے ( کیونکہ ) آپ نے اپنا سامان جہاد تیار کر لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی نیت کے حساب سے انہیں اجر و ثواب دے گا، تم لوگ شہادت سے کیا سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے جانے کے علاوہ شہادت ( کی ) سات ( قسمیں ) ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، عمارت سے دب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، اور جو عورت جننے کے وقت یا جننے کے بعد مر جائے وہ شہید ہے ۔
It was narrated that 'Aishah رضی اللہ عنہا said:
'When news of the death of Zaid bin Harithah, Ja'far bin Abi Talib and 'Abdullah bin Rawahah رضی اللہ عنہم was announced, the Messenger of Allah sat down and it could be seen that he was grieving. I was looking through a crack in the door, and a man came and said: 'Ja'far's womenfolk are weeping.' The Messenger of Allah said: 'Go and prevent them.' He went away, then he came back, and said: I told them not to do that, but they refused to stop; He said: Go and prevent them; He went away then he came back, and said: I told them not to do that, but they refused to stop. He said: 'Throw dust in their mouths.' Aishah رضی اللہ عنہا said: I said: 'May Allah rub his nose in the dust, the one who is over there! You did not leave the Messenger of Allah alone but you were not going to do (what he told you to do).
ہم سے یونس بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ معاویہ بن صالح نے اور مجھ سے یحییٰ بن سعید نے عمرہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
جب زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ ( رضی اللہ عنہم ) کے مرنے کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ( اور ) آپ ( کے چہرے ) پر حزن و ملال نمایاں تھا، میں دروازے کے شگاف سے دیکھ رہی تھی ( اتنے میں ) ایک شخص آیا اور کہنے لگا: جعفر ( کے گھر ) کی عورتیں رو رہی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جاؤ انہیں منع کرو ، چنانچہ وہ گیا ( اور ) پھر ( لوٹ کر ) آیا اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا ( لیکن ) وہ نہیں مانیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں منع کرو ( پھر ) وہ گیا ( اور پھر لوٹ کر آیا، اور کہنے لگا: میں نے انہیں روکا ( لیکن ) وہ نہیں مان رہی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے کہا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی ناک خاک آلود کرے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے، تو اللہ کی قسم! نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پریشان کرنا چھوڑ رہا ہے، اور نہ تو یہی کر سکتا ہے ( کہ انہیں سختی سے روک دے ) ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما, from 'Umar رضی الله عنہ , that:
The Prophet said: The deceased is punished due to the weeping of his family for him.
ہم سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے عبید اللہ سے، نافع سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے, عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
It was narrated that 'Abdullah bin Subaih said:
I heard Muhammad bin Sirin say: It was mentioned in the presence of 'Imran bin Husain رضی اللہ عنہما that the deceased is punished due to the weeping of the living.' 'Imran said: The Messenger of Allah said it.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے عبداللہ بن صبیح سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں
میں نے محمد بن سیرین کو کہتے سنا: عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس ذکر کیا گیا کہ میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو انہوں نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
It was narrated that Ibn Shihab said: Salim said: 'I heard 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما say: 'Umar رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: The deceased is punished due to his family's weeping for him. '
ہم سے سلیمان بن سیف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے میرے والد نے صالح کی سند سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا: سلیم نے کہا: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا:عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
It was narrated from Hakim bin Qais, that Qais bin 'Asim رضی الله عنہ said:
Do not wail over me, for no one wailed over the Messenger of Allah. This is an abridgment.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے قتادہ کی سند سے، مطرف کی سند سے اور حکیم بن قیس سے, قیس بن عاصم رضی الله عنہ نے کہا
تم میرے اوپر نوحہ مت کرنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا۔ یہ لمبی حدیث سے مختصر ہے
It was narrated from Anas رضی الله عنہ that:
When the Messenger of Allah accepted the women's oath of allegiance, he accepted their pledge that they would not wail (over the death). They said: O Messenger of Allah, there are women who helped us to mourn during the Jahiliyyah should we help them to mourn? The Messenger of Allah said: There is no helping to mourn in Islam.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا: ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، کہا: ہم سے معمر نے ثابت کی سند سے بیان کیا, انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت عورتوں سے بیعت لی تو ان سے یہ بھی عہد لیا کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، تو عورتوں نے کہا: اللہ کے رسول! کچھ عورتوں نے زمانہ جاہلیت میں ( نوحہ کرنے میں ) ہماری مدد کی ہے، تو کیا ہم ان کی مدد کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں ( نوحہ پر ) کوئی مدد نہیں ۔
It was narrated that 'Umar رضی الله عنہما said:
I heard the Messenger of Allah say: 'The deceased is punished in his grave due to the wailing over him. '
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے قتادہ نے سعید بن مسیب کی سند سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے, عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: میت کو اس کی قبر میں اس پر نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ۔
It was narrated that 'Imran bin Husain رضی الله عنہ said:
The deceased is punished due to his family's wailing for him. A man said to him: A man died in Khurasan and his family wailed for him here; will he be punished due to his family's wailing? He said: The Messenger of Allah spoke the truth and you are a liar.
ہم سے ابراہیم بن یعقوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے منصور نے جو ابن زدان ہیں، حسن کی سند سے بیان کیا, عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ
میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، اس پر ایک شخص نے ان سے کہا: مجھے بتائیے کہ ایک شخص خراسان میں مرے، اور اس کے گھر والے یہاں اس پر نوحہ کریں تو اس پر اس کے گھر والوں کے نوحہ کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا، ( یہ بات عقل میں آنے والی نہیں ) ؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا، اور تو جھوٹا ہے ۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah said: 'The deceased is punished due to his family's weeping over him; Mention of that was made to 'Aishah رضی اللہ عنہا and she said: 'He is wrong; rather the Prophet passed by a grave and said: The occupant of this grave is being punished and his family are weeping for him. Then she recited: And no bearer of burdens shall bear another's burden.
ہم سے محمد بن آدم نے عبدہ کی سند سے، ہشام کی سند سے، اپنے والد سے۔عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے ، اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: انہیں ( ابن عمر کو ) غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل واقعہ یوں ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے تو کہا: اس قبر والے کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں، پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ( فاطر: ۱۸ ) ۔
It was narrated from 'Amrah that:
She heard 'Aishah رضی اللہ عنہا say: , when she was told that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما said that the deceased is punished due to the weeping of the living for him, 'Aishah رضی اللہ عنہا said: May Allah forgive Abu 'Abdur-Rahman; he is not lying, but he has forgotten or made a mistake. The Messenger of Allah passed by a (deceased) Jewish woman for whom people were weeping and he said: 'They are weeping for her and she is being punished. '
ہم سے قتیبہ نے مالک بن انس سے، عبداللہ بن ابی بکر سے اور اپنے والد سے۔عمرہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کے سامنے اس بات کا ذکر کیا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کی مغفرت کرے، سنو! انہوں نے جھوٹ اور غلط نہیں کہا ہے، بلکہ وہ بھول گئے انہیں غلط فہمی ہوئی ہے ( اصل بات یہ ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ عورت ( کی قبر ) کے پاس سے گزرے جس پر ( اس کے گھر والے ) رو رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے ۔
Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said: Aishah رضی الله عنہا said:
Rather the Messenger of Allah said: 'Allah, the Mighty and Sublime increases the punishment of the disbeliever due to some of his family's weeping for him. '
ہم سے عبدالجبار بن العلاء بن عبد الجبار نے سفیان کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ کو کہتے سنا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا, ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس پر اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے بڑھا دیتا ہے ۔