It was narrated from Saeed bin Abi Hind that Mutarrif a man from Banu 'Amir bin Sa'sa'ah told him that: 'Uthman bin Abi Al-As called for milk to be given to him (Mutarrif) to drink. Mutarrif said: 'I heard the Messenger of Allah say: 'Fasting is a shield like the shield of any one of you in battle. ' Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Fasting is a shield. ' (Sahih
بنی عامر بن صعصعہ کی اولاد میں سے مطرف نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے دودھ منگوایا تاکہ وہ انہیں پلائیں تو مطرف نے کہا: میں تو روزے سے ہوں۔ تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”روزہ ڈھال ہے جس طرح کہ لڑائی کے موقع پر تم میں سے کسی کے پاس ڈھال ہوتی ہے“۔
It was narrated that Mutarrif said: I entered upon 'Uthman bin Abi Al-As and he called for milk. I said: I am fasting; He said: I heard the Messenger of Allah say: 'Fasting is a shield like the of any one of you in battle. ' Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Fasting is a shield. ' (Sahih
مطرف کہتے ہیں کہ
میں عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے ( میری ضیافت کے لیے ) دودھ منگوایا، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”روزہ آگ سے بچاؤ کے لیے کی ڈھال ہے جس طرح کہ تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہوتی ہے“۔
It was narrated that Saeed bin Abi Hind said: Mutarrif entered upon 'Uthman and he narrated something similar in Mursal from. Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Fasting is a shield. ' (Sahih
سعید بن ابی ہند کہتے ہیں کہ
مطرف عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ آگے راوی نے اس طرح کی روایت بیان کی، یہ روایت مرسل ہے۔
Abu 'Ubaidah said: I heard the Messenger of Allah say: 'Fasting is a shield, so long as you do not damage it. '
ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے ( جھوٹ و غیبت وغیرہ کے ذریعہ ) پھاڑ نہ دے“۔
It was narrated that 'Aishah said that the Prophet said: Fasting is a shield against the Fire. Whoever starts the day of fasting, let him not act in an ignorant manner during that day. If anyone treats him in an ignorant maner, let him not insult him or curse him, rather let him say: I am fasting.' By the One in whole hand is the soul of Muhammad, the smell that comes from the mouth of a fasting person is better before Allah than the fragrance of musk.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ڈھال ہے، جو شخص روزہ دار ہو کر صبح کرے تو وہ اس دن جہالت و نادانی کی کوئی بات نہ کرے، اور اگر کوئی شخص اس کے ساتھ جہالت و نادانی کی بات کرنے لگے تو اسے گالی نہ دے، برا بھلا نہ کہے۔ اس کے لیے مناسب ہو گا کہ وہ اس سے کہے، ( بھائی ) میں روزے سے ہوں، ( میں تم سے لڑائی جھگڑا نہیں کر سکتا ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے“۔
It was narrated that Al-Walid bin Abi Malik said: Our companions narrated to us that Abu 'Ubaidah said: 'Fasting is a shield, so long as you do not damage it. '
ابوعبیدہ بن الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے پھاڑ نہ دے۔
It was narrated from Sahi bin Sad that the Prophet said: For those who fast there is a gate in Paradise called Ar-Rayyan, through which no one but they will enter. When the last of them has entered it, it will be closed. Whoever enters through it will drink, and whoever drinks will never thirst again.
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کے لیے جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، روزہ دار کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہو گا، اور جب آخری روزہ دار دروازہ کے اندر پہنچ جائے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، جو وہاں پہنچ جائے گا وہ پئے گا اور جو پئے گا، وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا“۔
Sahi narrated that: in Paradise there is a gate called Ar'Rayyan, it will be said on the Day of Resurrection: Where are those who used to fast? Would you like to enter through Ar-Rayyan? whoever enters through it will never thirst again. Then when they have entered it will be closed behind them, and no one but they will enter through it.
سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا، روزہ دارو! کہاں ہو؟ کیا تمہیں ریان کی طرف آنے کی رغبت ہے؟ جو شخص اس میں داخل ہو گا، اور ( اس کے چشمے ( ریان ) کا پانی پئے گا ) وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہو گا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تو وہ بند کر دیا جائے گا۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا کوئی اور داخل نہ ہو گا۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: Whoever spends on a pair (of things) in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, he will be called in Paradise: 'O slave of Allah, here is prosperity, Whoever is one of the people of Salah, he will be called from the gate of salah. Whoever is on of the people of charity, he will be called from the gate of Ar-Rayyan.' Abu Bakr As-Siddiq said: 'O Messenger of Allah, no distress or need will befall the one who is called from those gates. Will there be anyone who will be called from all these gates?' The Messenger of Allah said: 'Yes, and I hope that you will be one of them. '
ابوہریرہ رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا دے گا ۱؎ اسے جنت میں بلا کر پکارا جائے گا، اے اللہ کے بندے! یہ تیری نیکی ہے، تو جو شخص نمازی ہو گا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو مجاہدین میں سے ہو گا وہ جہاد والے دروازہ سے بلایا جائے گا، اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہو گا وہ صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزہ داروں میں سے ہو گا وہ باب ریان سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کسی کے لیے ضرورت تو ۲؎ نہیں کہ وہ ان سبھی دروازوں سے بلایا جائے، لیکن کیا کوئی ان سبھی دروازوں سے بھی بلایا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے“۔
It was narrated that 'Abdullah said: We went out with the Messenger of Allah and we were young men who could not afford anything. He said: 'O young men, you should get married, for it is more effective in lowering the gaze and protecting one's chastity. Whoever cannot afford it should fast, for it will be a restraint Wija, for him. '
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، اور ہم سب نوجوان تھے۔ ہم ( جوانی کے جوش میں ) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، اور جو نہ کر سکتا ہو ( یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو ) وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے کیونکہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصی بنا دینے کے ہے“۔
It was narrated from 'Alqamah that: Ibn Masud met 'Uthman at 'Arafat and spoke to him in private. Uthman said to Ibn Masud: Are you interested in a girl so that I marry her to you? 'Abdullah called 'Alqamah and he told him that the Prophet said: 'Whoever among you can afford to get married, let him do so. Whoever cannot afford it, let him fast, for fasting will be a restraint (Wija) for him. '
علقمہ سے روایت ہے کہ
ابن مسعود ( رضی اللہ عنہ ) ، عثمان ( رضی اللہ عنہ ) سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں؟ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بھی بلا لیا ( آ جاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آ گئے ) تو انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کر لے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو طاقت نہ رکھے، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے «وجاء» ہے“ ( یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا، اس کی شہوت کو توڑ دے گا ) ۔
It was narrated that 'Abdullah said: The Messenger of Allah said: 'Whoever among you can afford to get married, let him do so, and whoever cannot afford it should fast, for it will be a restraint (Wija) for him. '
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے، تو وہ شادی کر لے اور جو نہ رکھے، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کر لے، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا“۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Yazid said: We entered upon 'Abdullah along with 'Alqamah, Al-Aswad and a group (of others). He told us a Hadith which he only narrated to the people because of me, as I was the youngest of them. The Messenger of Allah said: 'O young men, whoever among you can afford to get married let him do so, for it is more effective in lowering the gaze and guarding one's chastity. ' (One of the narrators) 'Ali said: Al-Amash was asked about the narrated of Ibrahim, so he (the questioner) said: 'Form Ibrahim, from 'Alqamah, from 'Abdullah; similarly?. Which he (Al-'Amash) replied: 'Yes.
عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے کہ
ہم عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور ایک جماعت تھی، تو انہوں نے ہم سے ایک حدیث بیان کی، اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ حدیث میرے ہی لیے بیان کی تھی کیونکہ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ نوعمر تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کر لے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے“۔ علی بن ہاشم ( راوی ) کہتے ہیں کہ اعمش سے ابراہیم والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا، سائل نے پوچھا: «عن إبراهيم عن علقمة عن عبداللہ» اسی کے مثل مروی ہے، اعمش نے کہا: ہاں۔
It was narrated that 'Alqamah said: I was with Ibn Masud when he was with uthman, and 'Uthman said: 'Whoever among you has the means, let him get married, for it is more effective in lowering the gaze and guarding one's chastity. And whoever cannot, then fasting will be a shield for him. (Sahih) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This (narrator) is Abu Mashar, his name is Ziyad bin Kulaib, and he is trustworthy. He was a companion of Ibrahim. Mansur, Mughirah, and Shubah reported from him. (As for) Abu Mashar AL-Madini; his name is Najih and he is weak, and with his weakness, he also became confused, he narrated Munkar narrations, among them: Muhammad bin 'Amr from Abu Salamah, from Abu Hurairah, from the Prophet, who said: What is between the east and the west is the Qiblah. And among them: Hisham bin 'Urwah, from his father, from 'Aishah, from the Prophet: Do not cut meat with the knife, rather gnaw at it.
علقمہ کہتے ہیں
میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص وسعت والا ہو وہ شادی کر لے۔ کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے، اور جو شخص ایسا نہ ہو تو روزہ اس کی شہوت کو کچل دینے کا ذریعہ ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: سند میں مذکور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے، وہ ثقہ ہیں اور وہ ابراہیم ( نخعی ) کے تلامذہ میں سے ہیں، اور ان سے منصور، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کی ہے۔ اور ( ایک دوسرے ) ابومعشر جو مدنی ہیں ان کا نام نجیح ( نجیح بن عبدالرحمٰن سندی ) ہے، وہ ضعیف ہیں، اور ضعف کے ساتھ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے ان کے یہاں کچھ منکر احادیث بھی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے وہ قبلہ ہے“ ۱؎۔ نیز اسی میں سے ایک حدیث وہ ہے جو انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت چھری سے نہ کاٹو بلکہ نوچ نوچ کر کھاؤ“ ۲؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah said: Whoever fasts one day in the cause of Allah, the Mighty and sublime, Allah will remove his face away from the fire in return for the day (the distance of) seventy autumns.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ ( یعنی جہاد یا اس کے سفر ) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: The Messenger of Allah said: 'Whoever fasts one day in the cause of Allah, Allah will separate between his face and the fire by (a distance of) seventy autumns in return for that day. '
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے اور جہنم کی آگ کے درمیان ستر سال کی دوری کر دے گا“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: The Messenger of Allah said: 'Whoever fasts one day in the cause of Allah, Allah, the mighty and sublime, will separate his face from the fire by (a distance of)seventy autumns. '
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ عزوجل اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
It was narrated from Abu Sa`eed that the Prophet (ﷺ) said: Whoever fasts one day in the cause of Allah, the Mighty and Sublime, Allah will separate his face from the fire by (a distance of) seventy years.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
It was narrated from Abu Saeed that he heard the Messenger of Allah say: There is no worshipper who fasts a day in the cause of Allah, the mighty and sublime, but Allah the mighty and sublime, will separate his face from the fire by (a distance of) seventy autumns in return for that day.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔
It was narrated that An-Numan bin Abi 'Ayyash said: I heard Abu Saeed Al-Khudri say: 'The Messenger of Allah said: Whoever fasts one day in the cause of Allah will separate his face from the fire by (a distance of) seventy autumns. '
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا“۔