Ibn 'Abbas رضی الله عنہما told us:
The Messenger of Allah said to a woman from among the Ansar: 'When it is Ramadan, perform 'Umrah then, for 'Umrah during it is equivalent to Hajj.
ہم سے عمران بن یزید بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعیب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا:عطا کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو سنا، وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے کہا: ”جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کر لو، کیونکہ ( ماہ رمضان میں ) ایک عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے“۔
Kuraib narrated that:
Umm Al-Fadl رضی اللہ عنہا sent him to Muawiyah رضی اللہ عنہ in Ash-Sham. He said: I came to Ash-Sham. He said: I came to Ash-Sham and complete her errand. Then the new crescent of Ramadan was sighted while I was in Ash-Sham. I saw the new crescent on the night of Friday, then I came to Al-Madinah at the end of the month. 'Abdullah bin 'Abbas asked me about the sighting of the moon and said: ' When did you see it?' I said: 'We saw it on the night of Friday.' He said; 'You saw it on the ninth of Friday?' I said: 'Yes, and the people saw it and started fasting, and so did Muawiyah رضی اللہ عنہ. He said: 'But we saw it on the night of Saturday, so we will continue fasting until we have completed thirty days or we see it.' I said: 'Will you not be content with the sighting of Muawiyah رضی اللہ عنہ and his companions? He said; 'No; this is what the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم enjoined upon us. '
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن ابی حرملہ نے بیان کیا، کہا: کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں
ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام ( ہی ) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری ( ایام ) میں مدینہ آ گیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے ( حال چال ) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، ( اور مجھ سے ) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا؟ تو میں نے جواب دیا: ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے ( تاکیداً ) پوچھا: تم نے ( بھی ) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں ( میں نے بھی دیکھا تھا ) اور لوگوں نے بھی دیکھا، تو لوگوں نے ( بھی ) روزے رکھے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی، ( تو ) انہوں نے کہا: لیکن ہم لوگوں نے ہفتے ( سنیچر ) کی رات کو دیکھا تھا، ( لہٰذا ) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم ( گنتی کے ) تیس دن پورے کر لیں، یا ہم ( اپنا چاند ) دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے؟ کہا: نہیں! ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
A Bedouin came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: 'I have sighted the crescent.' He said: 'Do you bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and that Muhammad is His slave and Messenger?' He said: 'Yes.' So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave the call saying: 'Fast. '
ہم سے محمد بن عبدالعزیز بن ابی رزمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں فضل بن موسیٰ نے سفیان کی سند سے، سماک کی سند سے، عکرمہ کی سند سے,عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( اور ) کہنے لگا: میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے کہا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
A Bedouin come to the Prophet and said; 'I have sighted the crescent tonight.' He said: 'Do you bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and that Messenger?' He said: 'Yes.' He said: 'O Bilal, announce to the people that they should fast tomorrow. '
ہم سے موسیٰ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسین نے زید کی سند سے، سماک کی سند سے اور عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ایک اعرابی ( دیہاتی ) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے آج رات چاند دیکھا ہے، آپ نے پوچھا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں“۔
Narrated 'Ikramah:
A similar, Mursal, report was narrated from 'Ikramah.
ہم سے احمد بن سلیمان نے ابوداؤد سے، سفیان کی سند سے، سماک کی اس سند سے
عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔
Narrated 'Ikramah:
A similar, Mursal, report was narrated from 'Ikrimah.
ہم سے محمد بن حاتم بن نعیم میسی نے بیان کیا، کہا: ہم سے حبان بن موسیٰ المروزی نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ نے سفیان کی سند سے اور سماک کی اس سند سے
بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Zaid bin Al-Khattab:
He addressed the people on the day concerning which there was doubt (as to whether the month had begun) and said: I sat with the Companions of the Messenger of Allah and asked them, and they a narrated that the Messenger of Allah said: 'Fast when you see it and stop fasting when you see it, and perform the rites on that basis. If it is obscured, then complete thirty days, and if two witnesses testify then fast and stop fasting.
مجھ سے ابراہیم بن یعقوب نے بیان کیا، کہا: ہم سے سعید بن شبیب ابو عثمان نے، جو طرسو س کے صالح شیخ تھے، بیان کیا، کہا: ہمیں ابن ابی زیدہ نے حسین بن حارث الجدلی کی سند سے خبر دی، عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ
انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا ( کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری ) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہم نشینی کی، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اور اسی طرح حج بھی کرو، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( کی گنتی ) پوری کرو، ( اور ) اگر دو گواہ ( چاند دیکھنے کی ) شہادت دے دیں تو روزے رکھو، اور افطار ( یعنی عید ) کرو“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then count it as thirty (days). '
ہم سے معمل بن ہشام نے اسماعیل کی سند سے، شعبہ کی سند سے اور محمد بن زیاد کی سند سے, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس ( دن ) پورے کرو“ ۔
Narrated It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then count it as thirty (days).'
ہم سے محمد بن عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ورقہ نے شعبہ کی سند سے اور محمد بن زیاد کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، ( اور ) اگر مطلع تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو“۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی الله عنہ that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When you see the crescent then fast, and when you crescent then fast, and when you see it, stop fasting. If it is obscured from you (too cloudy), then fast thirty days.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن عبداللہ النیسابوری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابراہیم نے محمد بن مسلمہ سے اور سعید بن المسیب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب ( شوال کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، ( اور ) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو ( پورے ) تیس دن روزہ رکھو“۔
Abdullah bin 'Umar رضی الله عنہما said:
I heard the messenger of Allah say: 'When you see the crescent then fast, and when you see it, then stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out (from the beginning of the month, to complete thirty days) '
ہم سے ربیع بن سلیمان نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا، کہا: مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم چاند دیکھو تو روزہ رکھو، اور جب ( شوال کا ) چاند دیکھو تو روزہ رکھنا بند کر دو، ( اور ) اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو اس کا اندازہ لگاؤ“۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah mentioned Ramadan and said: Do not fast until you see the crescent, and do not stop fasting until you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out.
ہم سے محمد بن سلمہ اور حارث بن مسکین نے بیان کیا، جب میں سن رہا تھا تو ان سے پڑھ کر بیان کیا اور ابن القاسم کی سند سے، مالک کی سند سے، نافع کی سند سے، عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: ”تم روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اور روزہ رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو، ( اور ) اگر فضا ابر آلود ہو تو اس کا حساب لگا لو“۔
It was narrated form Ibn 'Umar رضی الله عنہما that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not fast until you see it , and do not stop fasting until you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then work it out.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، کہا: مجھ سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ( رمضان کے ) روزے نہ رکھو یہاں تک کہ ( چاند ) دیکھ لو اور نہ ہی روزے رکھنا بند کرو یہاں تک کہ ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو ( اور ) اگر آسمان میں بادل ہوں تو اس ( مہینے ) کا حساب لگا لو“۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی الله عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم mentioned the crescent and said: 'When you see it, fast and when you see it, stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then count thirty days. '
ہم سے حمص کے صحابی ابوبکر بن علی نے بیان کیا : ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا : ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا : ہم سے عبید اللہ نے ابو الزناد کی سند سے اور العرج کی سند سے بیان کیا , ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کا ذکر کیا تو فرمایا: ”جب تم اسے ( یعنی رمضان کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے ( یعنی عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، ( اور ) اگر آسمان میں بادل ہوں تو تیس دن پورے شمار کرو“۔
It was narrated that Ibn Abbas رضی الله عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said; 'Fast when you see it and stop fasting when you see it, and if it is obscured from you (too cloudy), then complete thirty (days). '
احمد بن عثمان ابو الجوزا، جو کہ بصری کے ثقہ ہیں اور ابو العالیہ کے بھائی ہیں، نے کہا: ہمیں حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا: ہم سے حماد بن سلمہ نے عمرو بن دینار کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے ( رمضان کا چاند ) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ کر روزہ بند کرو، ( اور ) اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی الله عنہما said:
I am surprised at those who anticipate the moth, when the Messenger of Allah said: 'When you see the new crescent then fast, and when you see it, then stop fasting, and if it is obscured from you (too cloudy), then complete thirty days.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے عمرو بن دینار سے اور محمد بن حنین کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں
مجھے حیرت ہوتی ہے اس شخص پر جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ( ہی ) روزہ رکھنے لگتا ہے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، ( اسی طرح ) جب ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کرو، ( اور ) جب تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی گنتی پوری کرو“۔
It was narrated from Ribii bin Hirash, from Hudhaifah bin Al-Yaman رضی الله عنہ , that:
The Messenger of Allah said: Do not anticipate the month until you see the crescent before it, or you complete the number of days. Then fast until you see the new moon, or you complete the number of days.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہمیں جریر نے منصور سے اور ربیع بن حراش کی سند سے خبر دی, حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ ( روزہ رکھنے سے ) پہلے چاند دیکھ لو، یا ( شعبان کی ) تیس کی تعداد پوری کر لو، پھر روزہ رکھو، یہاں تک کہ ( عید الفطر کا ) چاند دیکھ لو، یا اس سے پہلے رمضان کی تیس کی تعداد پوری کر لو“۔
It was narrated from Ribi that one of the Companions of the Prophet said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'Do not anticipate the month until you complete the number, or you see the crescent. Then fast, and do not stop fasting until you see the crescent, or your complete thirty days. ' Al-Hajjaj bin Artah reported it in a Mursal from.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان نے منصور سے، ربیع کی سند سے، اور ایک صحابی رسول رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رمضان کے مہینہ پر سبقت نہ کرو یہاں تک کہ شعبان کی گنتی پوری کر لو، یا رمضان کا چاند دیکھ لو پھر روزہ رکھو، اور نہ روزہ بند کرو یہاں تک کہ تم عید الفطر کا چاند دیکھ لو، یا رمضان کی تیس ( دن ) کی گنتی پوری کر لو“۔ حجاج بن ارطاۃ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔
It was narrated that Ribi said; the Messenger of Allah said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: 'When you see the crescent then fast, and when you see it, then stop fasting. If it is too cloudy then complete Shaban as thirty days, unless you see the crescent before that, then fast Ramadan as thirty days, unless you see the new crescent before that. '
ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبان نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ نے حجاج بن ارطہ کی سند سے اور منصور کی سند سے بیان کیا, ربعی کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو، اور جب اسے ( عید الفطر کا چاند ) دیکھ لو تو روزہ بند کر دو، ( اور ) اگر تم پر بادل چھا جائیں تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو، پھر رمضان کے تیس روزے رکھو، مگر یہ کہ اس سے پہلے چاند دیکھ لو“۔
Ibn 'Abbas narrated رضی الله عنہما that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Fast when you see it, and stop fasting when you see it, and if clouds prevent you from seeing it, then complete the number, and do not fast ahead of Ramadan.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا: ہم سے حاتم بن ابی صغیرہ نے سماک بن حرب سے اور عکرمہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے ( رمضان کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ رکھو، اور اسے ( یعنی عید الفطر کے چاند کو ) دیکھ کر روزہ بند کرو، ( اور ) اگر تمہارے اور اس کے بیچ بدلی حائل ہو جائے تو تیس کی گنتی پوری کرو، اور ( ایک یا دو دن پہلے سے رمضان کے ) مہینہ کا استقبال نہ کرو“۔