It was narrated that Abu Hurairah said : The Messenger of Allah said: 'Eat Sahur, for in Sahur there is blessing.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔
It was narrated that Abu Hurairah said : The Messenger of Allah said: 'Eat Sahur, for in Sahur there is blessing. (Hasan) Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai) said: In this narration of Yahya bin Saeed, its chain is Hasan but it is Munkar, and I fear that the error is from Muhammad bin Fudail.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سحری کھاؤ، کیونکہ سحری میں برکت ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید کی اس حدیث کی سند تو حسن ہے، مگر یہ منکر ہے، اور مجھے محمد بن فضیل کی طرف سے غلطی کا اندیشہ ہے ۱؎۔
It was narrated that Zirr said: We said to Hudhaifah: 'At what time did you take Sahur with the Messenger of Allah?' He said: 'It was daytime, but before the sun had risen. (Daif)
زر حبیش کہتے ہیں کہ
ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کس وقت سحری کھائی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ( تقریباً ) دن ۱؎ مگر سورج ۲؎ نکلا نہیں تھا۔
Zirr bin Hubaish said: I had Sahur with Hudhaifah, then we went out to pray. When we came to the Masjid we prayed two Rakahs, then the Iqamah for prayer was said, and there was only a short time between them. Abu Hurairah said : The Messenger of Allah said: 'Eat Sahur, for in Sahur there is blessing.
زر بن حبیش کہتے ہیں
میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے نکلے، تو جب ہم مسجد پہنچے تو دو رکعت سنت پڑھی ہی تھی کہ نماز شروع ہو گئی، اور ان دونوں کے درمیان ذرا سا ہی وقفہ رہا۔
It was narrated that Silah bin Zufar said: I had Sahur with Hudhaifah, then we went out to the Masjid. We prayed the two Rakahs of Fajr, then the Iqamah for prayer was made, and we prayed.
صلہ بن زفر کہتے ہیں: میں نے حذیفہ رضی الله عنہ کے
ساتھ سحری کھائی، پھر ہم مسجد کی طرف نکلے، اور ہم نے فجر کی دونوں رکعتیں پڑھیں، ( اتنے میں ) نماز کھڑی کر دی گئی تو ہم نے نماز پڑھی۔
Hisam reported from Qatadah, from Anas, that Zaid bin Thabir said; We took Sahur with the Messenger of Allah then we went to pray. I said: How long was there between them? He said: As long as it takes a man to recite fifty verses.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم اٹھ کر نماز کے لیے گئے، انس کہتے ہیں: میں نے پوچھا: ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
It was narrated from Anas that Zaid bin Thabit said: We had Sahur with the Messenger of Allah then we went to pray. I (one of the narrators) said: It is claimed that Anas said: 'How long was there between them?' He said: 'As long as it takes a man to recite fifty verses.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، میں نے پوچھا ( کہا جاتا کہ «قلت» کا قائل انس ہیں ۱؎ ) : ان دونوں کے درمیان کتنا ( وقفہ ) تھا؟ انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah and Zaid bin Thabit had Sahur, then they went and started to pray Subh. We said to Anas: How long was there between their finishing and their starting to pray? He said: As long as it takes a man to recite fifty Verses.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت نے سحری کھائی، پھر وہ دونوں اٹھے، اور جا کر نماز فجر پڑھنی شروع کر دی۔ قتادہ کہتے ہیں: ہم نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ان دونوں کے ( سحری سے ) فارغ ہونے اور نماز شروع کرنے میں کتنا ( وقفہ ) تھا؟ تو انہوں نے کہا: اس قدر کہ جتنے میں ایک آدمی پچاس آیتیں پڑھ لے۔
It was narrated that Abu 'Atiyyah said: I said to 'Aishah: 'Among us there are two of the Companions of the Prophet, one of whom hastens Iftar and delays Sahur, and the other delays Iftar and hastens Sahur.' She said: 'Which of them is the one who hastens Ifar and delays Sahur?' I said: Abdullah bin Masud.' She said: 'That is what the Messenger of Allah used to do. '
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان دونوں میں سے ایک افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر، اور دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے، اور سحری میں جلدی، انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے، اور سحری میں تاخیر؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔
It was narrated that Abu 'Atiyyah said: I said to 'Aishah: 'Among us there are two men, one of whom hastens Iftar and delays Sahur, and the other delays Iftar and hastens Sahur.' She said; 'Which of them is the one who hastens Iftar and delays Sahur?' I said: Abdullah bin Masud.' She said; 'This is what the Messenger of Allah used to do. '
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہم میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطار جلدی اور سحری تاخیر سے کرتے ہیں، اور دوسرے افطار تاخیر سے کرتے ہیں اور سحری جلدی، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated that Abu 'Atiyyah said: Masruq and I came to 'Aishah, and Masruq said to her: 'There are two men from among the Companions of the Messenger of Allah both of whom are good; one of them delays the prayer and Ifar, and the other hastens the prayer and Iftar.' 'Aishah said: 'Which of them is the one who hastens the prayer and Iftar?' Masruq said: 'That is what the Messenger of Allah used to do. '
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں
میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، مسروق نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص ہیں، یہ دونوں نیک کام میں کوتاہی نہیں کرتے، ( لیکن ) ان میں سے ایک نماز اور افطار دونوں میں تاخیر کرتے ہیں، اور دوسرے نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کون ہیں جو نماز اور افطار دونوں میں جلدی کرتے ہیں؟ مسروق نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے ہیں۔
It was narrated that Abu 'Atiyyah said: Masruq and I came to 'Aishah and we said to her: 'O mother of the Believers, two men from among the Companions of Muhammad; one of them hastens the Iftar and hastens the prayer, and the other delays Iftar and delays the prayer; She said: 'Which one of them hastens Iftar and has hastens the prayer?' we said : 'Abdullah bin Masud.' She said: 'That is what the Messenger of Allah used to do. And the other was Abu Musa.
ابوعطیہ وادعی ہمدانی کہتے ہیں
میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ہم نے ان سے کہا: ام المؤمنین! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں، ان میں سے ایک افطار میں جلدی کرتے ہیں اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں، اور دوسرے افطار میں تاخیر کرتے ہیں اور نماز میں بھی تاخیر کرتے ہیں، انہوں نے پوچھا: کون ہیں جو افطار میں جلدی کرتے اور نماز میں بھی جلدی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ ( دوسرے شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے۔ )
Abdullah bin Al-Harith narrated that a man from among the Companions of th Prophet said: I entered upon the Prophet when he was having Sahur. He sadi: 'It is a blessing that Allah has given to you, so do not neglect it.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت سحری کھا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ برکت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے تو تم اسے مت چھوڑو“۔
It was narrated that AL-'Irbad bin Sariyah said: I heard the Messenger of Allah inviting people to have Sahur in Ramadan. He said: 'Come to the blessed breakfast. (Hasan) Chatper 26. Calling Sahur Ghada (Breakfast)
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ رمضان کے مہینہ میں سحری کھانے کے لیے بلا رہے تھے، اور فرما رہے تھے: ”آؤ صبح کے مبارک کھانے پر“۔
It was narrated from Al-Miqdam bin Madikarib that the Prophet said: You should take Sahur for it is the blessed breakfast.
مقدام بن معد یکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم صبح کا کھانا ( سحری کو ) لازم پکڑو، کیونکہ یہ مبارک کھانا ہے“۔
It was narrated that Khalid bin Ma'dan said: The Messenger of Allah said to a man: 'Come to the blessed breakfast, - meaning Sahur. '
(تابعی) خالد بن معدان کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: ”صبح کے مبارک کھانے یعنی سحری کے لیے آؤ“۔
It was narrated that 'Amr bin Al-As said: The Messenger of Allah said: 'The difference between our fasting and the fasting of the people of the Book, is eating Sahur. ' '
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے، ( وہ ہے ) سحری کھانا“۔
It was narrated that Anas said: The Messenger of Allah said, at the time of Sahur. 'O Anas, I want to fast, so give me something to eat.' So I brought him some dates and a vessel of water. That was after the Adhan of Bilal. He said: 'O Anas, find a man to come and eat with me.' So I called Zaid bin Thabit, who came and said: I drank some Sawiq and I want to fast.' The Messenger of Allah said: I also want to fast.' So he ate Sahr with him, then he got up and prayed two Rak'ahs, then he went out to the prayer.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری کے وقت فرمایا: ”اے انس! میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، مجھے کچھ کھلاؤ“، تو میں کچھ کھجور اور ایک برتن میں پانی لے کر آپ کے پاس آیا، اور یہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان دینے کے بعد کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انس! کسی اور شخص کو تلاش کرو جو میرے ساتھ ( سحری ) کھائے“، تو میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا، چنانچہ وہ آئے ( اور ) کہنے لگے: میں نے ستو کا ایک گھونٹ پی لیا ہے، اور میں روزہ رکھنا چاہتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ( بھی ) روزہ رکھنا چاہتا ہوں“، ( پھر ) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ کے ساتھ سحری کھائی، پھر آپ اٹھے، اور ( فجر کی ) دو رکعت ( سنت ) پڑھی، پھر آپ فرض نماز کے لیے نکل گئے۔
It was narrated from Al-Bara bin Azib that: if one of them went to sleep before eating supper, it was not permissible for him to eat or drink anything that night or the following day, until the sun had set. (That continued) until this Verse was revealed: And eat and drink until the white thread (light) of dawn appears to you distinct from the black thread (darkness of night). He said: This was revealed concerning Abu Qais bin 'Amr who came to his family after Maghrib when he was fasting, and said: 'Is there anything to eat? His wife said: 'No , but I will go out, and he lay down and slept. She came back and found him sleeping, so she woke him up, but he did not eat anything. He spent the night fasting and woke up the next day fasting, until he passed out at midday. That was before this Verse was revealed, and Allah revealed it concerning him. '
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
ان میں سے کوئی جب شام کا کھانا کھانے سے پہلے سو جاتا تو رات بھر اور دوسرے دن سورج ڈوبنے تک اس کے لیے کھانا پینا جائز نہ ہوتا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «وكلوا واشربوا» سے لے کر «الخيط الأسود» ”تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کی سیاہ دھاری سے سفید دھاری نظر آنے لگے“ تک نازل ہوئی، یہ آیت ابوقیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی، ( ہوا یہ کہ ) وہ مغرب بعد اپنے گھر آئے، وہ روزے سے تھے، انہوں نے ( گھر والوں سے ) پوچھا: کچھ کھانا ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: ہمارے پاس تو کچھ ( بھی ) نہیں ہے، لیکن میں جا کر آپ کے لیے رات کا کھانا ڈھونڈ کر لاتی ہوں، چنانچہ وہ نکل گئی، اور یہ اپنا سر رکھ کر سو گئے، وہ لوٹ کر آئی تو انہیں سویا ہوا پایا، ( تو ) انہیں جگایا ( لیکن ) انہوں نے کچھ ( بھی ) نہیں کھایا، اور ( اسی حال میں ) رات گزار دی، اور روزے ہی کی حالت ) میں صبح کی یہاں تک کہ دوپہر ہوئی، تو ان پر غشی طاری ہو گئی، یہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) انہیں کے سلسلہ میں اتاری۔
It was narrated from 'Adiyy bin Hatim that: he asked the Messenger of Allah about the verse Until the white thread (light) of dawn appears to you distinct from the black thread (darkness of night). He said: It is the blackness of the night and the whiteness of the day. '
عدی بن حاتم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت کریمہ: «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «خيط الأسود» ( سیاہ دھاری ) رات کی تاریکی ہے، ( اور «خيط الأسود» سفید دھاری ) دن کا اجالا ہے“۔