It was narrated that a man called 'Abdul-Malik narrated from his father, that:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to enjoin (fasting) these days of Al-Bid and he said: That is (equivalent to) fasting for the whole month.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا: ہم سے خالد نے شعبہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں انس بن سیرین نے عبد الملک نامی ایک شخص کی سند سے خبر دی، جس نے اپنے والد سے روایت کی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیض کے ان تینوں دنوں کے روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے، اور فرماتے تھے: ”یہ مہینے بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔
Abdul-Malik bin Abi Al-Minhai رضی الله عنہ narrated from his father that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded them to fast the three days of Al-Bid. He said: That is (equivalent to) fasting for the whole month.
ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبان نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ نے شعبہ کی سند سے اور انس بن سیرین سے، انہوں نے کہا:میں نے عبدالملک بن ابی المنہال رضی الله عنہ کو اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام بیض کے تین روزے کا حکم دیا اور فرمایا: ”یہ مہینہ بھر کے روزے کے برابر ہیں“۔
Abdul-Malik bin Qudamah bin Milhan رضی الله عنہ narrated that his father said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to command us to fast the three days with the shining bright nights (Al-Ayam Al-Bid), the thirteenth, fourteenth and fifteenth.
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، کہا: مجھ سے عبدالمالک بن قدامہ بن ملحان رضی الله عنہ نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔
It was narrated from Abu Nawfal bin Abi 'Aqrab رضی الله عنہ that his father said:
I asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم about fasting and he said: 'Fast one day of the month.' I said: 'Fast one day of the month.' I said: 'O Messenger of Allah, let me do more, let me do more.' He said: 'Let me do more, let me do more; I am able for it.' Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم fell silent until I thought that he was going to refuse my request. Then he said: 'fast three days of each month. '
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا: مجھ سے سیف بن عبید اللہ نے بیان کیا، جو کہ بہترین مخلوق میں سے ہیں، انہوں نے کہا: ہم سے اسود بن شیبان نے ابو نوفل بن ابی عقرب رضی الله عنہ سے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”تم کہتے ہو: اللہ کے رسول! کچھ بڑھا دیجئیے، کچھ بڑھا دیجئیے، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، اس پر آپ نے میری بات ”کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے، پھر آپ نے فرمایا: ”ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو“۔
It was narrated from Abu Nawfal bin Abi 'Aqrab رضی الله عنہ , from his father, that:
He asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم about fasting and he said: Fast one day of each month. He asked him for more, saying: May my father and mother be ransomed for you, I am able. He said: Fast two days of each month. He said May my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah, I am able. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: I am able, I am able. He did not want to increase it, but when I insisted, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Fast three days of each month. The end of what the Shaikh had about fasting, all praise is due to Allah the Lord of the worlds.
ہم سے عبدالرحمٰن بن محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہمیں اسود بن شیبان نے ابو نوفل بن ابی عقرب رضی الله عنہ سے اپنے والد کی سند سے خبر دی
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو“، انہوں نے مزید کی درخواست کی اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو آپ نے اس میں اضافہ فرما دیا، فرمایا: ”ہر مہینہ دو دن رکھ لیا کرو“، تو انہوں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری بات ) ”میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں“ دہرائی، آپ اضافہ کرنے والے نہ تھے، مگر جب انہوں نے اصرار کیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر مہینہ تین دن رکھ لیا کرو“۔