It was narrated that 'Aishah the mother of the Believers, said: The Messenger of Allah came one day and said: 'Do you have any food?' I said: 'No.' He came in to me on another occasion, and I said: 'O Messenger of Allah, we have been given some Hais.' He said: Then I will break my fast today, although I had started my day fasting. '
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہہا کہتی ہیں کہ
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو میں روزہ رکھ لیتا ہوں“، پھر دوسری بار آپ میرے پاس تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے پاس حیس کا ہدیہ آیا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو میں آج روزہ توڑ دوں گا حالانکہ میں نے روزہ کی نیت کر لی تھی“۔
It was narrated from Hafsah that the Prophet said: Whoever does not have the intention of fasting from the night before, then there is no fast for him. (Daif)
Urdu
ام المؤمنین حفصہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے روزہ کی نیت رات ہی میں نہ کر لی ہو تو اس کا روزہ نہیں“۔
Hamzah bin 'Abdullah bin 'Umar narrated that his father said: Hafsah, the wife of the Prophet said: 'There is no fast for the one who does not intend (to fast) before dawn. '
Urdu
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس شخص کا روزہ نہیں جو فجر سے پہلے روزہ کی پختہ نیت نہ کر لے۔
Abdullah bin 'Amr bin Al-As said: The Messenger of Allah said: 'The most beloved fasting to Allah, the mighty and sublime, is the fast of Dawud, peace be upon him. He used to fast one day and not the next. And the most beloved prayer to Allah, the mighty and sublime, is the prayer of Dawud, peace be upon him. He used to sleep half the night, stand for one-third of it (in prayer), and sleep for one-sixth of it. '
Urdu
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کو روزوں میں سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے تھے۔ وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نماز بھی داود علیہ السلام کی نماز تھی، وہ آدھی رات سوتے تھے اور تہائی رات قیام کرتے تھے، اور رات کے چھٹویں حصہ میں پھر سوتے تھے“۔
It was narrated that Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah would fast until we said he would not break his fast, and he would not fast until we said he does not want to fast. And he never fasted any month in full apart from Ramadan, from the time he came to Al-Madinah.
Urdu
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ روزے رکھنا بند نہیں کریں گے، اور آپ بغیر روزے کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اور آپ جب سے مدینہ آئے رمضان کے علاوہ آپ نے کسی بھی مہینہ کے مسلسل روزے نہیں رکھے۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah used to fast until we said: 'He does not want to break his fast.' And he used not to fast until we said: 'He does not want to fast. '
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے: آپ بغیر روزہ کے رہیں گے ہی نہیں، اور بغیر روزہ کے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔
It was narrated that 'Aishah said: I do not know that the Messenger of Allah recited the whole Quran in one night, or prayed Qiyam until morning, or ever fasted an entire month, except Ramadan.
Urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
میں نہیں جانتی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورا قرآن ایک رات میں پڑھا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ آپ نے کبھی پوری رات صبح تک قیام کیا ہو، اور نہ ہی میں یہ جانتی ہوں کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ رکھا ہو۔
It was narrated that 'Abdullah bin Shaqiq said: I asked 'Aishah about the fasting of the Messenger of Allah. She said: The Messenger of Allah used to fast until we said: He is going to (continue to) fast, and he used not to fast until we said: He is not going to, and he did not fast for a whole month from the time he came to Al-Madinah, apart from Ramadan. '
Urdu
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ
میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ روزہ رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ( برابر ) روزہ ہی رکھا کریں گے، اور آپ افطار کرتے ( روزہ نہ رہتے ) تو ہم کہتے کہ آپ برابر بغیر روزہ کے رہیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آنے کے بعد سوائے رمضان کے کبھی کوئی پورا مہینہ روزہ نہیں رکھا۔