It was narrated that 'Abdullah bin 'Ukaim said: Hudhaifah asked for some water and the chief brought water in a silver vessel. He threw it aside, then he apologized to them for what he had done, and said: 'I told him before not to do that. I heard the Messenger of Allah [SAW] say: Do not drink from vessels of gold and silver, and do not wear Ad-Dibaj or silk. They are for them in this world, and for you in the Hereafter.
عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے کہ
حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک اعرابی ( دیہاتی ) چاندی کے برتن میں پانی لے آیا، حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے پھینک دیا، پھر جو کیا اس کے لیے لوگوں سے معذرت کی اور کہا: مجھے اس سے روکا گیا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیبا نامی ریشم نہ پہنو اور نہ ہی حریر نامی ریشم، کیونکہ یہ ان ( کفار و مشرکین ) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں“۔
It was narrated that Wafid bin 'Amr bin Sa'd bin Mu'adh said: I entered upon Anas bin Malik when he came to Al-Madinah and greeted him with Salam. He said: 'Where are you from?' I said: 'I am Wafid bin 'Amr bin Sa'd bin Mu'adh.' He said: 'Sa'd was the greatest and most virtuous of people.' Then he wept a great deal, then he said: 'The Messenger of Allah [SAW] sent a delegation to Ukaidir the ruler of Dumah, who sent him a Jubbah made of Ad-Dibaj interwoven with gold. The Messenger of Allah [SAW] put it on, then he stood on the Minbar and sat, without speaking, then he came down and the people started touching it with their hands. He said: 'Are you admiring this? The handkerchiefs of Sa'd in Paradise are more beautiful than what you see.'
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب مدینے آئے، تو میں ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں، وہ بولے: سعد تو بہت عظیم شخص تھے اور لوگوں میں سب سے لمبے تھے، پھر وہ رو پڑے اور بہت روئے، پھر بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ کے بادشاہ اکیدر کے پاس ایک وفد بھیجا، تو اس نے آپ کے پاس دیبا کا ایک جبہ بھیجا، جس میں سونے کی کاریگری تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے، پھر کچھ کہے بغیر اتر گئے، لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھونے لگے، تو آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں اس پر تعجب ہے؟ سعد کے رومال جنت میں اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جسے تم دیکھ رہے ہو“ ۱؎۔
Jabir said: The Prophet [SAW] put on a Qaba' of Ad-Dibaj that had been given to him, but he soon took it off and sent it to 'Umar. It was said to him: 'How soon you took it off, O Messenger of Allah.' He said: 'Jibril, peace be upon him, prohibited me from wearing it.' Then 'Umar came weeping and said: 'O Messenger of Allah, you disliked something but you gave it to me.' He said: 'I did not give it to you to wear it, rather I gave it to you to sell it.' So 'Umar sold it for two thousand Dirhams.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیبا کی ایک قباء پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر تھوڑی دیر بعد اسے اتار دیا اور اسے عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے بہت جلد اتار دی، فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام نے اس کے استعمال سے روک دیا ہے“، اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! ایک چیز آپ نے ناپسند فرمائی اور وہ مجھے دے دی؟ فرمایا: ”میں نے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، میں نے تمہیں بیچ دینے کے لیے دی ہے“، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دو ہزار درہم میں بیچ دیا۔
Abdullah bin Az-Zubair said, while he was on the Minbar delivering a Khutbah: Muhammad [SAW] said: 'Whoever wears silk in this world, will not wear it in the Hereafter.'
ثابت کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا“ ۱؎۔
Khalifah said: I heard 'Abdullah bin Az-Zubair say: 'Do not let your womenfolk wear silk, for I heard 'Umar bin Al-Khattab say: The Messenger of Allah [SAW] said: Whoever wears it in this world will not wear it in the Hereafter.'
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
تم اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ اس لیے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا“ ۱؎۔
Imran bin Hittan narrated that : He asked 'Abdullah bin 'Abbas about wearing silk. He said: Ask 'Aishah. So I asked 'Aishah and she said: 'Ask 'Abdullah bin 'Umar.' So I asked Ibn 'Umar and he said: 'Abu Hafs told me, that the Messenger of Allah [SAW] said: Whoever wears silk in this world will have no share in the Hereafter.
عمران بن حطان سے روایت ہے کہ
انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ریشم پہننے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھ لو، چنانچہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو وہ بولیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھ لو، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھ سے ابوحفص ( عمر ) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں“ ۱؎۔
It was narrated from Ibn 'Umar, : That the Messenger of Allah [SAW] said: Silk is only worn by one who has no share.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حریر نامی ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں“۔
It was narrated that 'Ali Al-Bariqi said: A woman came to me to ask a question, and I said to her: 'There is Ibn 'Umar.' So she went after him to ask him, and I went after her to hear what he would say. She said: 'Tell me about silk.' He said: 'The Messenger of Allah [SAW] forbade it.'
علی بارقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک عورت میرے پاس مسئلہ پوچھنے آئی تو میں نے اس سے کہا: یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں، ( ان سے پوچھ لو ) وہ مسئلہ پوچھنے ان کے پیچھے گئی اور میں بھی اس کے پیچھے گیا تاکہ وہ جو کہیں اسے سنوں، وہ بولی: مجھے حریر نامی ریشم کے بارے میں بتائیے، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Al-Bara' bin 'Azib said: The Messenger of Allah [SAW] enjoined seven things upon us, and forbade seven things for us. He forbade to us gold rings, silver vessels, Al-Mayathir, Al-Qassiyah, Al-Istabraq, Ad-Dibaj, and silk.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا اور سات باتوں سے منع فرمایا: ”آپ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے، چاندی کے برتن سے، ریشمی زین سے، قسی، استبرق، دیبا اور حریر نامی ریشم کے استعمال سے منع فرمایا ”۱؎۔
It was narrated from Anas that: The Messenger of Allah [SAW] granted a concession to 'Abdur-Rahman bin 'Awf and Az-Zubair bin Al-'Awwam allowing them to wear silken shirts because of scabies that they were suffering from.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کھجلی کی وجہ سے جو انہیں ہو گئی تھی ریشم کی قمیص ( پہننے ) کی اجازت دی ۱؎۔
It was narrated from Anas that: The Prophet [SAW] granted a concession to 'Abdur-Rahman and Az-Zubair to wear silken shirts because of scabies that they were suffering from.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن اور زبیر رضی اللہ عنہما کو ریشم کی قمیص کی اجازت دی اس مرض یعنی کھجلی کے سبب جو انہیں ہو گئی تھی۔
It was narrated from Jarir from Sulaiman At-Taimi, from Abu 'Uthman A-Nahdi, who said: We were with 'Utbah bin Farqad when the letter of 'Umar came, saying that the Messenger of Allah [SAW] said: 'No one wears silk except one who has no share of it in the Hereafter, except this much.' And Abu 'Uthman gestured with the two fingers that are next to the thumb. And I saw the two of them pointing to the borders of the Tayalisah, so that I could see the Tayalisah.
ابوعثمان النہدی کہتے ہیں کہ
ہم عتبہ بن فرقد کے ساتھ تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”ریشم تو وہی پہنتا ہے جس کا اس میں سے آخرت میں کوئی حصہ نہیں مگر اتنا“، ابوعثمان نے انگوٹھے کے پاس والی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے کہا، میں نے دیکھا وہ طیلسان کے کپڑوں کے چند بٹن تھے، یہاں تک کہ میں نے طیلسان کا کپڑا بھی دیکھا۔
It was narrated from 'Umar that: He did not allow the wearing of silk except (something) the width of four fingers.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے دیباج کی اجازت صرف چار انگلی تک دی گئی ہے ۱؎۔
It was narrated that Al-Bara' said: I saw the Prophet [SAW] wearing a red Hullah, with his hair combed, and I have never seen anyone before or since, who was more handsome than he.
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ لال جوڑا ۱؎ پہنے ہوئے اور کنگھی کیے ہوئے تھے، میں نے آپ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، نہ آپ سے پہلے، نہ آپ کے بعد۔
It was narrated that Anas said: The most beloved of garments to the Prophet of Allah [SAW] was the Hibarah.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے زیادہ پسندیدہ کپڑا یمن کی سوتی چادر تھی۔
Abdullah bin 'Amr narrated that: The Messenger of Allah [SAW] saw him wearing two garments dyed with safflower and he said: This is the clothing of disbelievers; do not wear it.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا، وہ دو کپڑے زرد رنگ کے پہنے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ کفار کا لباس ہے، اسے مت پہنو“۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr that: He came to the Prophet [SAW] wearing two garments dyed with safflower. The Prophet [SAW] got angry and said: Go and take them off. He said: Where should I throw them, O Messenger of Allah? He said: In the fire.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، وہ پیلے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے اور فرمایا: ”جاؤ اور اسے اپنے جسم سے اتار دو“۔ وہ بولے: کہاں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”آگ میں“ ۱؎۔
Ali said: The Messenger of Allah [SAW] forbade me from wearing gold rings, and from wearing Al-Qassiyah garments, and garments dyed with safflower, and reciting Qur'an while I am bowing.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے، ریشمی کپڑوں سے، زعفرانی رنگ کے لباس سے، اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Abu Rimthah said: The Messenger of Allah [SAW] came out to us wearing two green garments.
ابورمثہ رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک بار گھر سے ) باہر نکلے، آپ دو ہرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔
It was narrated that Khabbab bin Al-Aratt said: We complained to the Messenger of Allah [SAW] when he was reclining on his rolled-up Burdah in the shade of the Ka'bah. We said: 'Will you not pray for victory for us, will you not pray to Allah for us?'
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( کفار و مشرکین کی ایذا رسانی کی ) شکایت کی، اس وقت آپ چادر کا تکیہ لگائے ۱؎ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے کہا: کیا آپ ہمارے لیے مدد طلب نہیں کریں گے؟ کیا آپ اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعائیں نہیں کریں گے؟۔