It was narrated from Ibn 'Umar that: The Prophet [SAW] said: The makers of these images will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them: 'Breathe life into that which you have created.'
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ وہ لوگ جو تصویریں بناتے ہیں، قیامت کے روز عذاب میں مبتلا ہوں گے، ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا“۔
It was narrated from 'Aishah, the wife of the Prophet [SAW], that: The Messenger of Allah [SAW] said: The makers of these images will be punished on the Day of Resurrection, and it will be said to them: 'Bring to life that which you have created.'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ تصویریں بنانے والے قیامت کے دن عذاب پائیں گے اور ان سے کہا جائے گا: زندگی عطا کرو اسے جسے تم نے بنایا تھا“۔
It was narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet [SAW], said: The people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be those who try to match the creation of Allah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو مخلوق کی تصویر بنانے میں اللہ تعالیٰ کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
It was narrated that 'Abdullah said: The Messenger of Allah [SAW] said: 'Among the people who will be most severely punished on the Day of Resurrection will be the image-makers.'
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب والے تصویر بنانے والے لوگ ہیں“۔
It was narrated that Abu Hurairah said: Jibril, peace be upon him, asked permission to enter upon the Prophet [SAW] and he said: 'Come in.' He said: 'How can I come in when there is a curtain in your house on which there are images? You should either cut off their heads or make it into a rug to be stepped on, for we Angels do not enter a house in which there are images.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، تو آپ نے فرمایا: اندر آئیے، وہ بولے: میں کیسے اندر آؤں؟ آپ کے گھر میں تو ایسا پردہ لٹکا ہے جس میں تصویریں ہیں، لہٰذا یا تو آپ ان کے سر کاٹ دیجئیے، یا پھر ان کا بچھونا بنا دیجئیے تاکہ وہ روندا جائے۔ کیونکہ ہم فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہو۔
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah [SAW] would not pray in our blankets.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اوڑھنے کی چادر میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۱؎۔
Anas narrated that : The sandals of the Messenger of Allah [SAW] had two straps.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے۔
It was narrated that 'Amr bin Aws said: The sandals of the Messenger of Allah [SAW] had two straps.
عمرو بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے۔
It was narrated from Abu Hurairah that: The Prophet [SAW] said: If the strap of the sandal of one of you breaks, let him not walk in one sandal until he fixes it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے“ ۱؎۔
It was narrated that Abu Razin said: I saw Abu Hurairah clap his hand to his forehead and say: 'O people of Al-'Iraq, you claim that I tell lies about the Messenger of Allah [SAW]. I bear witness that I heard the Messenger of Allah [SAW] say: If the strap of the sandal of one of you breaks, let him not walk in the other until he fixes it.'
ابورزین کہتے ہیں کہ
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ مار رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: عراق والو! تم کہتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ گھڑتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو ایک جوتا پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کرا لے“۔
It was narrated from Anas bin Malik that: The Prophet [SAW] lay down on a leather mat and sweated. Umm Sulaim got up and collected his sweat and put it in a bottle. The Prophet [SAW] saw her and said: What are you doing O Umm Sulaim? She said: I am putting your sweat in my perfume. And the Prophet [SAW] smiled.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھال پر لیٹے تو آپ کو پسینہ آ گیا، ام سلیم رضی اللہ عنہا اٹھیں اور پسینہ اکٹھا کر کے ایک شیشی میں بھرنے لگیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو فرمایا: ”ام سلیم! یہ تم کیا کر رہی ہو؟“ وہ بولیں: میں آپ کے پسینے کو عطر میں ملاؤں گی، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے ۱؎۔
It was narrated that Samurah bin Sahm said: I came to Abu Hashim bin 'Utbah when he was suffering the plague, and Mu'awiyah came to visit him. Abu Hashim wept. Mu'awiyah said to him: 'Why are you weeping? Is it because of some pain that is hurting you, or is it for this world, the best of which has gone?' He said: 'Neither, but the Messenger of Allah [SAW] gave me some advice, which I wish that I had followed. He said: Perhaps you will live to see wealth that will be distributed among the people when all that would suffice you of that would be a servant and a mount to ride in the cause of Allah. I lived to see that, and I accumulated (wealth).'
ابووائل سے روایت ہے کہ
سمرہ بن سہم جو ابووائل کے قبیلے کے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے یہاں ٹھہرا، وہ طاعون میں مبتلا تھے، چنانچہ ان کی عیادت کے لیے معاویہ رضی اللہ عنہ آئے، تو ابوہاشم رونے لگے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ کیا کسی تکلیف کی وجہ سے رو رہے ہو یا دنیا کے لیے؟ دنیا کی راحت تو اب گئی، انہوں نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، دراصل مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عہد یاد آ گیا جو آپ نے مجھ سے لیا تھا، میں چاہتا تھا کہ میں اس کی پیروی کروں، آپ نے فرمایا: ”تیرے سامنے ایسے اموال آئیں گے جو لوگوں کے درمیان تقسیم کیے جائیں گے، لیکن تمہارے لیے اس میں سے صرف ایک خادم اور اللہ کی راہ کے لیے ایک سواری کافی ہے، لیکن میں نے مال پایا پھر اسے جمع کیا“۔
It was narrated that Abu Umamah bin Sahl said: The pommel of the sword of the Messenger of Allah [SAW] was of silver.
ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔
It was narrated that Anas said: The metallic end of the scabbard of the Messenger of Allah [SAW] was of silver, the pommel of his sword was silver, and in between were rings of silver.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے نیام کا نچلا حصہ چاندی کا تھا، آپ کی تلوار کا دستہ بھی چاندی کا تھا، اور ان کے درمیان میں چاندی کے حلقے تھے۔
It was narrated that Sa'eed bin Abi Al-Hasan said: The pommel of the sword of the Messenger of Allah [SAW] was of silver.
سعید بن ابی الحسن کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔
It was narrated that 'Ali said: The Messenger of Allah [SAW] said to me: Say: O Allah, make me steadfast and guide me. And he forbade me to sit on Al-Mayathir. Al-Mayathir: Qassi which the women used to put on the saddles for their husbands, such as red cushions.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو: ” «اللہم سددني واهدني» اے اللہ مجھے درست رکھ اور ہدایت عطا کر“ اور آپ نے مجھے «میاثر» پر بیٹھنے سے منع فرمایا، «میاثر» ایک قسم کا ریشمی کپڑا ہے، جسے عورتیں اپنے شوہروں کے لیے پالان پر ڈالنے کے لیے بناتی تھیں۔ جیسے گلابی رنگ کی چھوردار چادریں۔
It was narrated that Humaid bin Hilal said: Abu Rifa'ah said: 'I came to the Messenger of Allah [SAW] while he was delivering a Khutbah, and said: O Messenger of Allah, a stranger has come to ask about his religion, for he does not know what his religion is. The Messenger of Allah [SAW] stopped delivering his Khutbah and turned to me. A chair was brought, and I think its legs were of iron. The Messenger of Allah [SAW] sat down on it and started to teach me what Allah has taught him, then he went and completed his Khutbah.'
ابورفاعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ خطبہ دے رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں معلومات کرنے آیا ہے، اسے نہیں معلوم کہ اس کا دین کیا ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور خطبہ روک دیا یہاں تک کہ آپ مجھ تک پہنچ گئے، پھر ایک کرسی لائی گئی، میرا خیال ہے اس کے پائے لوہے کے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے اور مجھے سکھانے لگے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں سکھایا تھا، پھر آپ لوٹ کر آئے اور اپنا خطبہ مکمل کیا۔
It was narrated that Abu Juhaifah said: We were with the Prophet (ﷺ) in Al-Batha' and he was in a red tent, and some people were with him, and he was about to set out. Bilal came and called the Adhan, turning this way and that.
ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ بطحاء میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ ایک لال خیمے میں تھے اور آپ کے پاس تھوڑے سے لوگ بیٹھے تھے، اتنے میں آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اذان دینی شروع کی، تو اپنا منہ اِدھر اُدھر کرنے لگے ۱؎۔