Aishahرضی اللہ عنہا the wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said:
We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at the farewell pilgrimage and raised the voice in talbiyah for an ‘Umrah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said those who have brought the sacrificial animals with them should raise their voices in talbiyah for Hajj along with an ‘Umrah and they should not put off their Ihram till they do so after performing them both. I came to Makkah while I was menstruating and I did not go round the House (the Kaabah) or run between al-Safa and al-Marwah. I complained about this to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم he said: Undo your hair, comb it and raise your voice in talbiyah for Hajj and let Umrah go. She said I did so. When we performed Hajj, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent me along with Abdur-Rahman bin Abu Bakr to al-Ta’nim and I performed Umrah. He said, this is Umrah in place of the one you had missed. She said those who had raised their voices in talbiyah for Umrah put off Ihram after circumambulating the House (the Kaabah) and after running between al-Safa and al-Marwa. Then they performed another circumambulation for their Hajj after they returned from Mina but those who combined Hajj and Umrah performed only one circumambulation.
ہم سے القعْنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
حجۃ الوداع میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ ہدی ہو تو وہ عمرے کے ساتھ حج کا احرام باندھ لے پھر وہ حلال نہیں ہو گا جب تک کہ ان دونوں سے ایک ساتھ حلال نہ ہو جائے ، چنانچہ میں مکہ آئی، میں حائضہ تھی، میں نے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: اپنا سر کھول لو، کنگھی کر لو، حج کا احرام باندھ لو، اور عمرے کو ترک کر دو ، میں نے ایسا ہی کیا، جب میں نے حج ادا کر لیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھائی ) عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ مقام تنعیم بھیجا ( تو میں وہاں سے احرام باندھ کر آئی اور ) میں نے عمرہ ادا کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کی جگہ پر ہے ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ جنہوں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا تھا انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، پھر ان لوگوں نے احرام کھول دیا، پھر جب منیٰ سے لوٹ کر آئے تو حج کا ایک اور طواف کیا، اور رہے وہ لوگ جنہوں نے حج و عمرہ دونوں کو جمع کیا تھا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابراہیم بن سعد اور معمر نے ابن شہاب سے اسی طرح روایت کیا ہے انہوں نے ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے عمرہ کے طواف کا احرام باندھا، اور ان لوگوں کے طواف کا جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا ذکر نہیں کیا۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
We raised our voices in talbiyah for Hajj. When we reached Sarif, I menstruated. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came upon me while I was weeping. He asked, why are your weeping, Aishah? I replied, I menstruated. Would that I had not come out for performing Hajj. He said: Glory be to Allah, this is a thing prescribed by Allah on the daughters of Adam. He said perform all the rites of Hajj but do not go round the House (the Kaabah). When we entered Makkah, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said he who desires to make (his Hajj) an Umrah may do so, except those who have sacrificial animals with them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sacrificed a cow on behalf of his wives on the day of sacrifice. When the night of al-Batha came, and Aishah رضی اللہ عنہا was purified she said to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم my fellow female pilgrims will return after performing Hajj and Umrah and I shall return after performing only Hajj? He therefore, ordered Abdur-Rahman bin Abu Bakr رضی اللہ عنہما who took her to al-Ta’nim. She uttered there talbiyah for Umrah.
ہم سے ابوسلمہ موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، عبدالرحمٰن بن القاسم سے، اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ نے پوچھا: عائشہ! تم کیوں رو رہی ہو؟ ، میں نے کہا: مجھے حیض آ گیا کاش میں نے ( امسال ) حج کا ارادہ نہ کیا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی ذات پاک ہے، یہ تو بس ایسی چیز ہے جو اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے واسطے لکھ دی ہے ، پھر فرمایا: تم حج کے تمام مناسک ادا کرو البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۱؎ پھر جب ہم مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اسے عمرہ بنانا چاہے تو وہ اسے عمرہ بنا لے سوائے اس شخص کے جس کے ساتھ ہدی ہو ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر ( دسویں ذی الحجہ ) کو اپنی ازواج مطہرات کی جانب سے گائے ذبح کی۔ جب بطحاء کی رات ہوئی اور عائشہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ والیاں حج و عمرہ دونوں کر کے لوٹیں گی اور میں صرف حج کر کے لوٹوں گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا وہ انہیں لے کر مقام تنعیم گئے پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہاں سے عمرہ کا تلبیہ پڑھا۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
“We went out with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and we thought it nothing but a Hajj. When we came, we circumambulated the House (the Kaabah). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then commanded those who did not bring the sacrificial animals with them to take off their ihram. Therefore those who did not bring the sacrificial animals with them took off their ihram.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود سے,ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، جب ہم ( مکہ ) آئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے ، چنانچہ وہ تمام لوگ حلال ہو گئے جو ہدی لے کر نہیں آئے تھے۔
Aishah رضی اللہ عنہا reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “If I had known beforehand about my affair what I have come to know later, I would not have brought the sacrificial animals with me. The narrator Muhammad (bin Yahya) said “ I think he (’Uthman bin Umar) said and I would have taken off my Ihram with those who have put their ihram after performing ‘Umrah. He said “By this he intended that all the people might have performed equal rites (of Hajj)
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس الذھلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں یونس نے، زہری کی سند سے، عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے پہلے یہ بات معلوم ہو گئی ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں ہدی نہ لاتا ، محمد بن یحییٰ ذہلی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اور میں ان لوگوں کے ساتھ حلال ہو جاتا جو عمرہ کے بعد حلال ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ سب لوگوں کا معاملہ یکساں ہو ۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
“We went out along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raising our voices in talbiyah for Hakk alone (Ifrad) while Aishah رضی اللہ عنہا raised her voice in talbiyah for an ‘Umrah. When she reached Sarif, she menstruated. When we came to (Makkah) we circumambulated the Kaabah and ran between al Safa’ and al Marwah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then commanded us that those who had not brought sacrificial animals withthem should put off their ihram (after ‘Umrah). We asked “Which acts are lawful (and which not)? He replied All acts are lawful (that are permissible usually). We had therefore intercourse with our wives, used perfumes, put on our clothes. There remained only four days to perform Hajj at ‘Arafah. We then raised our voice in talbiyah (wearing Ihram for Hajj) on the eighth of Dhu al Hijjah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered upon Aishah رضی اللہ عنہا and found her weeping. He said What is the matter with you? My problem is that I have menstruated, while the people have put on their ihram but I have not done so, nor did I go round the House (the Kaabah). Now the people are proceeding for Hajj. He said This is a thing destined by Allah to the daughters of Adam. Take a bath, then raise your voice in talbiyah for Hajj (i. e, wear ihram for Hajj). She took a abtah and performed all the rites of the Hajj (lit. she stayed at all those places where the pilgrims stay). When she was purified, she circumambulated the House (the Kaabah), and ran between al Safa’ and al Marwah. He (the Prophet) said “Now you have performed both your Hajj and your ‘Umrah. She said Messenger of Allah, I have some misgiving in my mind that I did not go round the Kaabah when I performed Hajj (in the beginning). He said Abd al Rahman (her brother), take her and have her perform ‘Umrah from Al Tan’im. This happened on the night of Al Hasbah (i. e., the fourteenth of Dhu Al Hijjah).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، وہ ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھ کر آئے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا عمرے کا احرام باندھ کر آئیں، جب وہ مقام سرف میں پہنچیں تو انہیں حیض آ گیا یہاں تک کہ جب ہم لوگ مکہ پہنچے تو ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جن کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دیں، ہم نے کہا: کیا کیا چیزیں حلال ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز حلال ہے ، چنانچہ ہم نے عورتوں سے صحبت کی، خوشبو لگائی، اپنے کپڑے پہنے حالانکہ عرفہ میں صرف چار راتیں باقی تھیں، پھر ہم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو احرام باندھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہیں روتے پایا، پوچھا: کیا بات ہے؟ ، وہ بولیں: مجھے حیض آ گیا لوگوں نے احرام کھول دیا لیکن میں نے نہیں کھولا اور نہ میں بیت اللہ کا طواف ہی کر سکی ہوں، اب لوگ حج کے لیے جا رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ( حیض ) ایسی چیز ہے جسے اللہ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے لہٰذا تم غسل کر لو پھر حج کا احرام باندھ لو ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، اور سارے ارکان ادا کئے جب حیض سے پاک ہو گئیں تو بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم حج اور عمرہ دونوں سے حلال ہو گئیں ، وہ بولیں: اللہ کے رسول! میرے دل میں خیال آتا ہے کہ میں بیت اللہ کا طواف ( قدوم ) نہیں کر سکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالرحمٰن! انہیں لے جاؤ، اور تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ ، یہ واقعہ حصبہ کی رات کا تھا۔
It was reported from Ibn Juraij, that Abu Zubair informed him that he heard Jabir رضی اللہ عنہ say:
"The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to Aisha“. Mentioned some of this incident. He said: the intend to perform Hajj, and do everything that the one performing Hajj does, except do not perform the Twaf around the house, do not offer salat.'
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے ابن جریج کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے آگے اسی قصہ کا کچھ حصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ اپنے قول «وأهلي بالحج» یعنی حج کا احرام باندھ لو کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر حج کرو اور وہ تمام کام کرو جو ایک حاجی کرتا ہے البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نماز نہ پڑھنا ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
“We raised our voices in talbiyah along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم exclusively for Hajj, not combining anything with it. When we came to Makkah four days of Dhu al Hijjah had already passed. We the circumambulated (the Kaabah) and ran between Al Safa’ and Al Marwah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم then commanded us to put off ihram. He said if I had not brought the sacrificial animals, I would have taken off Ihram. Suraqah bin Malik رضی اللہ عنہ then stood up and said Messenger of Allah, what do you think, have you provided this facility to us for this year alone or forever? The Messenger of Allah said No, this forever and forever. Al Awza’l said I heard Ata bin Abi Rabah narrating this tradition, but I did not memorize it till I met Ibn Juraij who confirmed it for me.
ہم سے عباس بن ولید بن مزید نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، مجھ سے عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ نے سنا جس نے کہا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کا احرام باندھا اس میں کسی اور چیز کو شامل نہیں کیا، پھر ہم ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد مکہ آئے تو ہم نے طواف کیا، سعی کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں احرام کھولنے کا حکم دے دیا اور فرمایا: اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ، پھر سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! یہ ہمارا متعہ ( حج کا متعہ ) اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نہیں ) بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے ۔ اوزاعی کہتے ہیں: میں نے عطا بن ابی رباح کو اسے بیان کرتے سنا تو میں اسے یاد نہیں کر سکا یہاں تک کہ میں ابن جریج سے ملا تو انہوں نے مجھے اسے یاد کرا دیا۔
Jabir رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and his companions came to Makkah on the fourth of Dhu Al Hijjah. When they circumambulated the Kaabah and ran between al Safa’ and al Marwah the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said Change this (Hajj) into ‘Umrah, except those who have brought the sacrificial animals with them. When the eighth of Dhul Al Hijjah came, they raised their voices in talbiyah for Hall. When the tenth of Dhul Al Hijjah came, they circumambulated the Kaabah, but did not run between al Safa’ and Al Marwah.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہوں نے قیس بن سعد سے، وہ عطاء بن ابی رباح کی سند سے, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام ذی الحجہ کی چار راتیں گزرنے کے بعد ( مکہ ) آئے، جب انہوں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب اسے عمرہ بنا لو سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو ، پھر جب یوم الترویہ ( آٹھواں ذی الحجہ ) ہوا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا، جب یوم النحر ( دسواں ذی الحجہ ) ہوا تو وہ لوگ ( مکہ ) آئے اور انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی نہیں کی ۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and his companions raised their voices in talbiyah for Hajj. No one of them had brought the sacrificial animals with them except the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and Talhah رضی اللہ عنہ . Ali (رضی اللہ عنہ) had returned from Yemen and had brought sacrificial animals with him. He said I raised my voice in talbiyah for which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم raised his voice. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded his companions to change it into ‘Umrah and clip their hair after running (between Al Safa’ and Al Marwah), and then take off their ihram except those who brought the sacrificial animals with them. They remarked should we go to Mina with our penises dripping with prostatic fluid? These remarks reached the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. Thereupon he said “had I known before hand about my affair what I have come to know later, I would not have brought sacrificial animals. Had I not brought sacrificial animals with me, I would have put off my ihram. “
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب ثقفی نے بیان کیا، ان سے حبیب یعنی استاد نے، ہم سے عطاء کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا ان میں سے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے پاس ہدی کے جانور نہیں تھے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے ساتھ ہدی لے کر آئے تھے تو انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ میں بدل لیں یعنی وہ طواف کر لیں پھر بال کتروا لیں اور پھر احرام کھول دیں سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی ہو، تو لوگوں نے عرض کیا: کیا ہم منیٰ کو اس حال میں جائیں کہ ہمارے ذکر منی ٹپکا رہے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: اگر مجھے پہلے سے یہ معلوم ہوتا جو اب معلوم ہوا ہے تو میں ہدی نہ لاتا، اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتا تو میں بھی احرام کھول دیتا ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying This is an ‘Umrah from which we have benefitted. Anyone who has brought sacrificial animal with him should take off ihram totally. ‘Umrah has been included in Hajj till the Day of Judgment. Abu Dawud said This is a munkar (uncommon) tradition. This is in fact the statement of Ibn Abbas himself.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا کہ ان سے محمد بن جعفر نے شعبہ کی سند سے، الحکم کی سند سے، مجاہد کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ ہے، ہم نے اس سے فائدہ اٹھایا لہٰذا جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پوری طرح سے حلال ہو جائے، اور عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ( مرفوع حدیث ) منکر ہے، یہ ابن عباس کا قول ہے نہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying If a man raises his voice in talbiya for Hajj, then he comes to Makkah, goes round the House (the Kaabah) and runs between Al Safa’ and Al Marwah he may take off his ihram. That will be considered as ihram for ‘Umrah. Abu Dawud said Ibn Juraij narrated from a man on the authority of Ata that the companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered Makkah raising their voices in talbiyah for Hajj alone, but the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم changed it to ‘Umrah.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے النحاس نے، عطاء کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے فرمایا: جب آدمی حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا اور یہ عمرہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایک شخص سے انہوں نے عطا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خالص حج کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عمرہ سے بدل دیا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم raised his voice in talbiyah for hajj. When he came (to Makkah) he went round the House (the Kabah) and ran between as-Safa and al-Marwah. The narrator Ibn Shawkar said: He did not clip his hair, nor did he take off his ihram due to sacrificial animals. But he commanded those who did not bring sacrificial animals with them to go round the Kabah, to run between as-Safa and al-Marwah, to clip their hair, and then put off their ihram. The narrator Ibn Mani' added: Or shave their heads, then take off their ihram.
ہم سے حسن بن شوکر اور احمد بن منیع نے بیان کیا: ہم سے ہشیم نے یزید بن ابی زیاد کی سند سے بیان کیا, ابن منی نے کہا: ہمیں یزید بن ابی زیاد المعنا نے مجاہد کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب آپ ( مکہ ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی ( ابن شوکر کی روایت میں ہے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں کتروائے ( پھر ابن شوکر اور ابن منیع دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کی وجہ سے احرام نہیں کھولا، اور حکم دیا کہ جو ہدی لے کر نہ آیا ہو طواف اور سعی کر لے اور بال کتروا لے پھر احرام کھول دے، ( ابن منیع کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے ) : یا سر منڈوا لے پھر احرام کھول دے۔
Narrated Saeed Ibn al-Musayyab:
A man from the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم came to Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ . He bore witness before him that when he (the Prophet) was suffering from a disease of which he died he heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibiting performing of Umrah before hajj.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں حیوہ نے خبر دی، مجھے ابو عیسیٰ خراسانی نے خبر دی، وہ عبداللہ بن قاسم کی سند سے, سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے ایک شخص عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے ان کے پاس گواہی دی کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الموت میں حج سے پہلے عمرہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا۔
Narrated Muawiyah Ibn Abu Sufyan رضی اللہ عنہما :
He said to the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم: Do you know that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibited from doing so and so (and he prohibited from) riding on the skins of leopards? They said: Yes. He again said: You know that he prohibited combining hajj and Umrah. They replied: This we do not (know). He said: This was prohibited along with other things, but you forgot.
ہم سے موسیٰ ابو سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، قتادہ کی سند سے, ابوشیخ ہنائی خیوان بن خلدہ,( جو اہل بصرہ میں سے ہیں اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں ) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے
انہو ں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں چیز سے روکا ہے اور چیتوں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر معاویہ نے پوچھا: تو کیا یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( قران ) حج اور عمرہ دونوں کو ملانے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: رہی یہ بات تو ہم اسے نہیں جانتے، تو انہوں نے کہا: یہ بھی انہی ( ممنوعات ) میں سے ہے لیکن تم لوگ بھول گئے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم uttering talbiyah (labbaik) aloud for both Hajj and ‘Umrah. He was saying in a loud voice “Labbaik for ‘Umrah and Hajj, labbaik for ‘Umrah and Hajj”.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ابی اسحاق، عبد العزیز بن صہیب اور حمید الطویل نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے انہیں کہتے سنا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا آپ فرما رہے تھے: «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ۔
Anas رضی اللہ عنہ said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم passed the night at Dhu al Hulaifah till the morning came. He then rode (on his she Camel) which stood up with him on her back. When he reached al Baida, he praied Allaah, glorified Him and expressed His greatness. He then raised his voice in talbiyah for Hajj and ‘Umrah. The people too raised their voices in talbiyah for both of them. When we came (to Makkah), he ordered the people to take off their ihram and they did so. When the eight of Dhu Al Hijjah came, they again raised their voices in talbiyah for Hajj (i.e., wore ihram for Hajj). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sacrificed seven Camels standing with his own hand. Abu Dawud said The version narrated by Anas رضی اللہ عنہ alone has the words. He began with the praise, glorification and exaltation of Allah, then he raised his voice in talbiyah for Hajj.
ہم سے ابوسلمہ موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا، ابوقلابہ سے, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات ذی الحلیفہ میں گزاری، یہاں تک کہ صبح ہو گئی پھر سوار ہوئے یہاں تک کہ جب سواری آپ کو لے کر بیداء پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی تحمید، تسبیح اور تکبیر بیان کی، پھر حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی ان دونوں کا احرام باندھا، پھر جب ہم لوگ ( مکہ ) آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ( احرام کھولنے کا ) حکم دیا، انہوں نے احرام کھول دیا، یہاں تک کہ جب یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) آیا تو لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات اونٹنیاں کھڑی کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جو بات اس روایت میں منفرد ہے وہ یہ کہ انہوں نے ( یعنی انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے «الحمدلله، سبحان الله والله أكبر» کہا پھر حج کا تلبیہ پکارا۔
Narrated Al-Bara Ibn Azib رضی اللہ عنہا :
I was with Ali (رضی اللہ عنہ) when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم appointed him to be the governor of the Yemen. I collected some ounces of gold during my stay with him. When Ali رضی اللہ عنہ returned from the Yemen to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم he said: I found that Fatimah رضی اللہ عنہا had put on coloured clothes and the smell of the perfume she had used was pervading the house. (He expressed his amazement at the use of coloured clothes and perfume. ) She said: What is wrong with you? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has ordered his companions to put off their ihram and they did so. Ali said: I said to her: I raised my voice in talbiyah for which the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم raised his voice (i.e. I wore ihram for qiran). Then I came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. He asked (me): How did you do? I replied: I raised my voice in talbiyah, for which the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم raised his voice. He said: I have brought the sacrificial animals with me and combined Umrah and hajj. He said to me: Sacrifice sixty-seven or sixty-six camels (for me) and withhold for yourself thirty-three or thirty-four, and withhold a piece (of flesh) for me from every camel.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ابواسحاق کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا امیر مقرر کر کے بھیجا، میں ان کے ساتھ تھا تو مجھے ان کے ساتھ ( وہاں ) کئی اوقیہ سونا ملا، جب آپ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو دیکھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اور گھر میں خوشبو بکھیر رکھی ہے، وہ کہنے لگیں: آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا تو انہوں نے احرام کھول دیا ہے، علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ سے کہا: میں نے وہ نیت کی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم نے کیا نیت کی ہے؟ ، میں نے کہا: میں نے وہی احرام باندھا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ہدی ساتھ لایا ہوں اور میں نے قِران کیا ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم سڑسٹھ ( ۶۷ ) ۱؎ یا چھیاسٹھ ( ۶۶ ) اونٹ ( میری طرف سے ) نحر کرو اور تینتیس ( ۳۳ ) یا چونتیس ( ۳۴ ) اپنے لیے روک لو، اور ہر اونٹ میں سے ایک ایک ٹکڑا گوشت میرے لیے رکھ لو ۔
Narrated As-Subayy ibn Mabad said:
I raised my voice in talbiyah for both of them (i.e. Umrah and hajj). Thereupon Umar رضی اللہ عنہ said: You were guided to the practice (sunnah) of your Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر بن عبد الحمید نے منصور کی سند سے بیان کیا, ابووائل کہتے ہیں کہ ,صبی بن معبد سے کہا
میں نے ( حج و عمرہ ) دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں اپنے نبی کی سنت پر عمل کی توفیق ملی۔
Narrated As-Subayy Ibn Mabad:
I was a Christian Bedouin; then I embraced Islam. I came to a man of my tribe, who was called Hudhaym ibn Thurmulah. I said to him. O brother, I am eager to wage war in the cause of Allah (i.e. jihad), and I find that both hajj and Umrah are due from me. How can I combine them? He said: Combine them and sacrifice the animal made easily available for you. I, therefore, raised my voice in talbiyah for both of them (i.e. Umrah and hajj). When I reached al-Udhayb, Salman ibn Rabiah and Zayd ibn Suhan met me while I was raising my voice in talbiyah for both of them. One of them said to the other: This (man) does not have any more understanding than his camel. Thereupon it was as if a mountain fell on me. I came to Umar Ibn al-Khattab ( رضی اللہ عنہ) and said to him: Commander of the Faithful, I was a Christian Bedouin, and I have embraced Islam. I am eager to wage war in the cause of Allah (jihad), and I found that both hajj and Umrah were due from me. I came to a man of my tribe who said to me: Combine both of them and sacrifice the animal easily available for you. I have raised my voice in talbiyah for both of them. Umar رضی اللہ عنہ thereupon said to me: You have been guided to the practice (sunnah) of your Prophet) صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن قدامہ بن عیان اور عثمان بن ابی شیبہ المعنی نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبد الحمید نے منصور کی سند سے بیان کیا, ابووائل کہتے ہیں کہ,صبی بن معبد نے عرض کیا کہ
میں ایک نصرانی بدو تھا میں نے اسلام قبول کیا تو اپنے خاندان کے ایک شخص کے پاس آیا جسے ہذیم بن ثرملہ کہا جاتا تھا میں نے اس سے کہا: ارے میاں! میں جہاد کا حریص ہوں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حج و عمرہ میرے اوپر فرض ہیں، تو میرے لیے کیسے ممکن ہے کہ میں دونوں کو ادا کر سکوں، اس نے کہا: دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو، تو میں نے ان دونوں کا احرام باندھ لیا، پھر جب میں مقام عذیب پر آیا تو میری ملاقات سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان سے ہوئی اور میں دونوں کا تلبیہ پکار رہا تھا، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: یہ اپنے اونٹ سے زیادہ سمجھ دار نہیں، تو جیسے میرے اوپر پہاڑ ڈال دیا گیا ہو، یہاں تک کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان سے عرض کیا: امیر المؤمنین! میں ایک نصرانی بدو تھا، میں نے اسلام قبول کیا، میں جہاد کا خواہشمند ہوں لیکن دیکھ رہا ہوں کہ مجھ پر حج اور عمرہ دونوں فرض ہیں، تو میں اپنی قوم کے ایک آدمی کے پاس آیا اس نے مجھے بتایا کہ تم ان دونوں کو جمع کر لو اور جو ہدی میسر ہو اسے ذبح کرو، چنانچہ میں نے دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کی توفیق ملی۔
Narrated Umar bin Al Khattab رضی اللہ عنہ :
He heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say Someone came to me at night from Allaah the Exalted. The narrator said When he was staying at ‘Aqiq said Pray in his blessed valley. Then he said ‘Umrah has been included in Hajj. Abu Dawud said Al Walid bin Musilm and Umar bin Abd Al Wahid narrated in this version from Al Auzai the words “And say An ‘Umrah included in Hajj”. Abu Dawud said Ali bin Al Mubarak has also narrated similarly from Yahya bin said Abi Kathir in this version “And say An ‘Umrah included in Hajj”.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے مسکین نے، اوزاعی نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا, عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج رات میرے پاس میرے رب عزوجل کی جانب سے ایک آنے والا ( جبرائیل ) آیا ( آپ اس وقت وادی عقیق میں تھے ) اور کہنے لگا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو، اور کہا: عمرہ حج میں شامل ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ولید بن مسلم اور عمر بن عبدالواحد نے اس حدیث میں اوزاعی سے یہ جملہ «وقل عمرة في حجة» ( کہو! عمرہ حج میں ہے ) نقل کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اس حدیث میں علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے «وقل عمرة في حجة» کا جملہ نقل کیا ہے۔