Narrated Abu Hurairahرضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If any one of you greets me, Allah returns my soul to me and I respond to the greeting.
ہم سے محمد بن عوف نے بیان کیا، ہم سے المقری نے بیان کیا، ہم سے حیوہ نے بیان کیا، ان سے ابو صخر حمید بن زیاد نے، وہ یزید بن عبداللہ بن قسیط کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not make your houses graves, and do not make my grave a place of festivity. But invoke blessings on me, for your blessings reach me wherever you may be.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، میں نے عبداللہ بن نافع کی سند سے پڑھا، مجھے ابن ابی ذہب نے سعید مقبری سے خبر دی، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ ( کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں ) ، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا ۔
Narrated Rabiah Ibn al-Hudayr said:
I did not hear Talhah Ibn Ubaydullah رضی اللہ عنہ narrating any tradition from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم except one tradition. I (Rabiah ibn Abu Abdur Rahman) asked: What is that? He said: We went out along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم who was going to visit the graves of the martyrs. When we ascended Harrah Waqim, and then descended from it, we found there some graves at the turning of the valley. We asked: Messenger of Allah, are these the graves of our brethren? He replied: Graves of our companions. When we came to the graves of martyrs, he said: These are the graves of our brethren.
ہم سے حمید بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن معن مدنی نے بیان کیا، مجھے داؤد بن خالد نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے خبر دی، ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ
میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا، میں نے عرض کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم ( ایک ٹیلے کا نام ہے ) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎ ، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۔
Nafi reported on the authority of Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم made his Camel kneel down at Al Batha which lies in Dhu Al Hulaifa and prayed there. Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما too used to do so. ”
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Narrated Malik:
One should not exceed al-Muarras when one returns to Madina until one prays there as much as one wishes, for I have been informed that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم halted there at night. Abu Dawud said: I heard Muhammad bin Ishaq al-Madini say: Al-Muarras lies at a distance of six miles from Madina.
ہم سے القعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مالک کہتے ہی
جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا: معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے۔