Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم did not walk quickly (ramal) in the seven rounds of the last circumambulation (Tawaf al-Ifadah).
ہم سے سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن جریج نے عطاء بن ابی رباح کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ کے سات پھیروں میں رمل نہیں کیا ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The people used to go out (from Makkah after Hajj) by all sides. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: No one should leave (Makkah) until he performs the last circumambulation of the House (the Kabah).
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے سلیمان احوال نے طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
لوگ ہر جانب سے ( مکہ سے ) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ( طواف وداع ) ہو ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم mentioned about Safiyyah, daughter of Huyayy رضی اللہ عنہا . He was told that she had menstruated. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: She may probably detain us. They (the people) said: She has performed the obligatory circumambulation (Tawaf al-Ziyarah). He said: If so, there is no need (of staying any longer).
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے روایت کی, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیي رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو لوگوں نے عرض کیا: انہیں حیض آ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لگتا ہے وہ ہم کو روک لیں گی ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو کوئی بات نہیں ۔
Al-Harith Ibn Abdullah Ibn Aws said:
I came to Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ and asked him about a woman who has performed the (obligatory) circumambulation on the day of sacrifice, and then she menstruates. He said: She must perform the last circumambulation of the House (the Kabah). Al-Harith said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم told me the same thing. Umar said: May your hands fall down! You asked me about a thing that you had asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم so that I might oppose him.
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم کو ابو عوانہ نے یعلیٰ بن عطا کی سند سے، وہ ولید بن عبدالرحمٰن کی سند سے, حارث بن عبداللہ بن اوس کہتے ہیں کہ
میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جو یوم النحر کو بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کر چکی ہو، پھر اسے حیض آ گیا ہو؟ انہوں نے کہا: وہ آخری طواف ( طواف وداع ) کر کے جائے ( یعنی: طواف وداع کا انتظار کرے ) ، حارث نے کہا: اسی طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتایا تھا، اس پر عمر نے کہا تیرے دونوں ہاتھ گر جائیں ! تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی جسے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ چکے تھے تاکہ میں اس کے خلاف بیان کروں۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
I put on ihram for Umrah at at-Tanim and I entered (Makkah) and performed my Umrah as an atonement. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم waited for me at al-Abtah till I finished it. He commanded the people to depart. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to the House (the Kabah), went round it and went out (i.e. left for Madina).
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے، افلح کی سند سے، القاسم کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں ( مکہ ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر ( آپ کے پاس واپس آ گئی ) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
I went out along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم during his last march, and he alighted at al-Muhassab. Abu Dawud said: Ibn Bashshar did not mention that she was sent to al-Tanim in this tradition. She said: I then came to him in the morning. He announced to his companions for departure, and he himself departed. He passed the house (the Kabah) before the dawn prayer, and went round it when he proceeded. He then went away facing Madina.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، یعنی الحنفی نے، کہا ہم سے افلح نے بیان کیا، القاسم کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے، ( ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا ) پھر میں صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے۔
Abdur Rahman reported on the authority of his mother:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم passed any place from the house of Yala, --the narrator Ubaydullah forgot its name--he faced the House (the Kabah) and supplicated.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، مجھے عبید اللہ بن ابی یزید نے خبر دی، عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے ( اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے ) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم alighted at al-Muhassab so that it might be easier for him to proceed (to Madina). It is not a sunnah (i.e. a rite of Hajj). Anyone who desires may alight there, and anyone who does not want may not alight.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ہشام سے اور اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے میں آسانی ہو، یہ کوئی سنت نہیں، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۔
Abu Rafi رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not command me to align there. But when I pitched his tent there, he alighted. The narrator Musaddad said “He (Abu Rafi) kept watch over the luggage of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. The narrator Uthman رضی اللہ عنہ said That is in Al Abtah.
ہم سے احمد بن حنبل اور عثمان بن ابی شیبہ المعنا نے بیان کیا۔ ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، ہم سے صالح بن کیسان نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن یسار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
مجھے آپ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں ( محصب میں ) اتروں، میں نے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا تھا، آپ وہاں اترے تھے۔ مسدد کی روایت میں ہے، وہ ( ابورافع ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں «يعني في الأبطح» کا اضافہ ہے ( مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے ) ۔
Usamah bin Zaid رضی اللہ عنہما said:
I asked Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم where will you encamp tomorrow? (This is asked on the occasion of his Hajj). He replied “Did Aqil leave any house for us?” He again said “We shall encamp in the valley (Khaif) of Banu Kinanah where the Quraish took an oath upon disbelief, that is, Al Muhassab. ” The oath was that Banu Kinanah concluded a pact with the Quraish against Banu Hashim “they would have no marital relationship with them, nor would give them accommodation nor would have any commercial ties with them. ” Al Zuhri said Al Khaif means valley.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، علی بن حصین سے، عمرو بن عثمان رضی اللہ عنہ سے, اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے ( مکہ میں ) چھوڑا ہے؟ ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا ( یعنی وادی محصب میں ) ، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ خرید و فروخت، اور نہ انہیں پناہ دیں گے۔ زہری کہتے ہیں: خیف وادی کا نام ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said when intended to march from Mina we shall encamp tomorrow. The narrator then narrated something similar (as a previous tradition but he did not mention the opening words, nor did he mention the words “Al Khaif, Al Wadi (Khaif means Valley). ”
ہم سے محمود بن خالد نے بیان کیا، ہم سے عمر نے بیان کیا، ان سے ابو عمرو نے بیان کیا ، وہ الزہری کی سند سے، ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب منیٰ سے کوچ کرنے کا قصد کیا تو فرمایا: ہم وہاں کل اتریں گے ۔ پھر راوی نے ویسا ہی بیان کیا، اس روایت میں نہ تو حدیث کے شروع کے الفاظ ہیں، اور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ خیف وادی کا نام ہے۔
Nafi said:
“Ibn Umar used to nap for a short while at Batha’ (i. e, Al Muhassab) and then enter Makkah. ” He thought that Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to do so.
ہم سے موسیٰ ابوسلمہ نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، حمید نے بکر بن عبداللہ اور ایوب رضی اللہ عنہما سے, نافع سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
“The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم offered noon, afternoon, evening and night prayers at Al Batha (i.e. Al Muhassab). He then napped for a short while and then entered Makkah. Ibn Umar رضی اللہ عنہما also used to do so.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عفان نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، انہیں حمید نے خبر دی، وہ بکر بن عبداللہ سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ایوب رضی اللہ عنہ نے نافع رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Abdullah bin Amr bin Al ‘As رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina, as the people were to ask him (about the rites of Hajj). A man came and said Messenger of Allah being ignorant, I shaved before sacrificing. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم replied “Sacrifice, for no harm will come. ” Another man came and said “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles. ” He replied “Throw them for no harm will come. ” He (the Prophet) was not asked about anything which had been done before or after its proper time without saying “Do it, for no harm will come. ”
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ سے روایت کی ہے, عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے، لوگ آپ سے سوالات کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذبح کر لو کوئی حرج نہیں ، پھر ایک اور شخص آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم نہ تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے نحر کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمی کر لو، کوئی حرج نہیں ، اس طرح جتنی چیزوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا جو آگے پیچھے ہو گئیں تھیں آپ نے فرمایا: کر ڈالو، کوئی حرج نہیں ۔
Usamah bin Sharik رضی اللہ عنہ said:
“I went out with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to perform Hajj, and the people were coming to him. One would say “Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم I ran between Al Safa’ and Al Marwah before going round the Kaabah or I did something before the its proper time or did something after its proper time. He would reply “No harm will come; no harm will come except to one who defames a Muslim acting wrongfully. That is the one who will be in trouble and will perish.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے، وہ زیاد بن علاقہ کی سند سے, اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا: اللہ کے رسول! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی یا میں نے ایک چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کوئی حرج نہیں، کوئی حرج نہیں، حرج صرف اس پر ہے جس نے کسی مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کی اور وہ ظالم ہو، ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑ گیا اور ہلاک ہوا ۔
Narrated Kathir bin Kathir bin al-Muttalib bin Abi Wida'ah رضی اللہ عنہ From his people on the authority of his grandfather:
He saw that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was praying at the place adjacent to the gate of Banu Sahm and the people were passing before him, and there was no covering (sutrah) between them. The narrator Sufyan said: There was no covering between him and the Kabah. Sufyan said: Ibn Juraij reported us stating that Kathir reported on the authority of his father saying: I did not hear my father say, but I heard some of my people on the authority of my grandfather.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ کثیر بن کثیر نے,مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باب بنی سہم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے بیچ میں کوئی سترہ نہ تھا ۔ سفیان کے الفاظ یوں ہیں: ان کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا۔ سفیان کہتے ہیں: ابن جریج نے ان کے بارے میں ہمیں بتایا کہ کثیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے اسے اپنے والد سے نہیں سنا، بلکہ گھر کے کسی فرد سے سنا اور انہوں نے میرے دادا سے روایت کی ہے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
“When Allah, the Exalted, granted the conquest of Makkah to his Messenger, the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم stood among them (the people) and praised Allah and extolled Him. He then said, Verily Allah stopped the Elephant from Makkah, and gave His Messenger and the believers sway upon it and it has been made lawful for me only for one hour on one day then it will remain sacred till the Day of Resurrection. Its trees are not to be cut, its game is not to be molested and the things dropped there are to be picked up only by one who publicly announces it. So, Al-Abbas رضی اللہ عنہ stood up and said: “O Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم except the rush (idhkir) for it is useful for our graves and our houses. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “Except the rush. ” Abu Dawud said “Ibn Al Musaffa added on the authority of Al Walid Abu Shah a man from the people of the Yemen stood and said “Give me in writing, Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم”. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said “Give in writing to Abu Shah. I said to Al Awza’i “What does the statement mean? Give Abu Shah in writing?” He said “This was an address which he heard from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. ”
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ہم سے الاوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابن ابی کثیر نے، مجھ سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ فتح کرا دیا، تو آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا: اللہ نے ہی مکہ سے ہاتھیوں کو روکا، اور اس پر اپنے رسول اور مومنین کا اقتدار قائم کیا، میرے لیے دن کی صرف ایک گھڑی حلال کی گئی اور پھر اب قیامت تک کے لیے حرام کر دی گئی، نہ وہاں ( مکہ ) کا درخت کاٹا جائے، نہ اس کا شکار بدکایا جائے، اور نہ وہاں کا لقطہٰ ( پڑی ہوئی چیز ) کسی کے لیے حلال ہے، بجز اس کے جو اس کی تشہیر کرے ، اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ( یعنی اس کا کاٹنا درست ہونا چاہیئے ) اس لیے کہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوائے اذخر کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مصفٰی نے ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے: تو اہل یمن کے ایک شخص ابوشاہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے لکھ کر دے دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو شاہ کو لکھ کر دے دو ، ( ولید کہتے ہیں ) میں نے اوزاعی سے پوچھا: «اكتبوا لأبي شاه» سے کیا مراد ہے، وہ بولے: یہی خطبہ ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
The version of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما added:
“Its fresh herbage is not to be cut. ”
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے منصور کی سند سے، مجاہد کی سند سے، طاؤس کی سند سے, اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے
اس میں اتنا زائد ہے «لا يختلى خلاها» ( اور اس کے پودے نہ کاٹے جائیں ) ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
I said: Messenger of Allah, should we not build a house or a building which shades you from the sun? He replied: No, it is a place for the one who reaches there earlier.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن مہاجر نے، یوسف بن مہک سے ان کی والدہ سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں یہ ( منیٰ ) اس کی جائے قیام ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے۔
Narrated Yala Ibn Umayyah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Hoarding up food (to sell it at a high price) in the sacred territory is a deviation (from right to wrong).
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عاصم نے جعفر بن یحییٰ بن ثوبان سے بیان کیا، انہیں عمارہ بن ثوبان نے خبر دی، مجھ سے موسیٰ بن باذ ان نے بیان کیا، انہوں نے کہا: یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرم میں غلہ روک کر رکھنا اس میں الحاد ( کج روی ) ہے ۔