Narrated Az-Zuhri:
Uthman رضی اللہ عنہ prayed four rak'ahs at Mina because he resolved to stay there after hajj.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابن مبارک نے معمر کی سند سے بیان کیا, زہری سے روایت ہے کہ
عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں صرف اس لیے پڑھیں کہ انہوں نے حج کے بعد وہاں اقامت کی نیت کی تھی۔
Narrated Ibrahim:
Uthman رضی اللہ عنہ prayed four rak'ahs (at Mina) for he made it his home (for settlement).
ہم سے ہناد بن سری نے ابو الاحواص کی سند سے مغیرہ کی سند سے بیان کیا, ابراہیم کہتے ہیں
عثمان رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں اس لیے کہ انہوں نے منیٰ کو وطن بنا لیا تھا۔
Narrated Az-Zuhri:
When Uthman رضی اللہ عنہ placed his property at at-Taif and intended to settle there, he prayed four rak'ahs. The rulers after him followed the same practice.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے ابن مبارک نے بیان کیا، یونس سے, زہری کہتے ہیں
جب عثمان رضی اللہ عنہ نے طائف میں اپنی جائیداد بنائی اور وہاں قیام کرنے کا ارادہ کیا تو وہاں چار رکعتیں پڑھیں، وہ کہتے ہیں: پھر اس کے بعد ائمہ نے اسی کو اپنا لیا۔
Narrated Az-Zuhri:
Uthman رضی اللہ عنہ offered complete prayer at Mina for the sake of bedouins who attended (hajj) in large numbers that year. He led the people four rak'ahs in prayer in order to teach them that the prayer (i.e. noon or afternoon prayer) essentially contained four rak'ahs.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب رضی اللہ عنہ سے, زہری سے روایت ہے کہ
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز ( اصل میں ) چار رکعت ہی ہے ( نہ کہ دو، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے ) ۔
Narrated Harithah Ibn Wahb al-Khuzai, whose mothe was a wife of Umar's who gave birth to 'Ubaidullah bin Umar:
I prayed along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at Mina and the people gathered there in large numbers. He led us two rak'ahs in prayer in the Farewell Pilgrimage. Abu Dawud said: Harithah belonged to the tribe of Khuzaah, and they had their houses in Makkah.
ابواسحاق کہتے ہیں کہ مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی نے بیان کیا اور ان کی والدہ عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان سے عبیداللہ بن عمر کی ولادت ہوئی، وہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منیٰ میں نماز پڑھی، اور لوگ بڑی تعداد میں تھے، تو آپ نے ہمیں حجۃ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حارثہ کا تعلق خزاعہ سے ہے اور ان کا گھر مکہ میں ہے۔
Narrated Sulaiman bin Amr bin al-Ahwas رضی اللہ عنہما On the authority of his mother: :
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم throwing pebbles at the jamrah from the botton of wadi (valley) while he was riding (on a camel). He was uttering the takbir (Allah is most great) with each pebble. A man behind him was shading him. I asked about the man. They (the people) said: He is al-Fadl bin al-Abbas رضی اللہ عنہما . The people crowded. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: 'O people, do not kill each other ; when you throw pebbled at the jamrah, throw small pebbles.
ہم سے ابراہیم بن مہدی نے بیان کیا، مجھ سے علی بن مشیر نے بیان کیا، یزید بن ابی زیاد سے, والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہو کر بطن وادی سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے، ایک شخص آپ کے پیچھے تھا، وہ آپ پر آڑ کر رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، اور لوگوں کی بھیڑ ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے ( یعنی بھیڑ کی وجہ سے ایک دوسرے کو کچل نہ ڈالے ) اور جب تم رمی کرو تو ایسی چھوٹی کنکریوں سے مارو جنہیں تم دونوں انگلیوں کے بیچ رکھ سکو ۔
Sulaiman bin Amr bin Ahwas رضی اللہ عنہما reported on the authority of his mother:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم near the Jamrat al-Aqabah (the third or last pillar) riding (on a camel) and I saw a pebble between his fingers. He threw the pebbles and the people also threw (stones at the Jamrah).
ہم سے ابو ثور ابراہیم بن خالد اور وہب بن بیان نے بیان کیا, ہم سے عبیدہ نے یزید بن ابی زیاد کی سند سے بیان کیا , والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۔
The aforesaid tradition (No 1963) has also been transmitted by Yazid Ibn Abu Ziyad with a different chain of narrators. This version adds the words:
He (the Prophet) did not stand near it (the jamrah).
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا, اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد سے اسی طریق سے اسی حدیث کے ہم مثل مروی ہے
اس میں «ولم يقم عندها» اور اس کے پاس نہیں ٹھہرے کا جملہ زائد ہے۔
Nafi reported on the authority of Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
He (Ibn Umar) used to come (to Mina) and threw pebbles three days after the day of sacrifice walking when arriving and returning (both ways). He reported that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to do so.
ہم سے القعنبی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ نے، یعنی ہم سے ابن عمر نے، انہوں نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ یوم النحر کے بعد تین دنوں میں جمرات کی رمی کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور پیدل ہی واپس جاتے اور وہ بتاتے تھے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم throwing pebbles on the day of sacrifice while on his riding beast and saying: Learn your rites, for I do not know whether I am likely to perform Hajj after this occasion.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، وہ ابن جریج کی سند سے، مجھ سے ابو الزبیر نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی سواری پر یوم النحر کو رمی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: تم لوگ اپنے حج کے ارکان سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے اس حج کے بعد کوئی حج ادا کر سکوں گا یا نہیں ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہما :
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم throwing pebbles on the day of sacrifice while on his riding beast in the forenoon, and next when the sun had passed the meridian.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ابن جریج کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھے ابو الزبیر نے خبر دی, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر یوم النحر کو چاشت کے وقت رمی کرتے دیکھا پھر اس کے بعد جو رمی کی ( یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہ کو ) تو وہ زوال کے بعد کی۔
Narrated Wabrah:
I asked Ibn Umar رضی اللہ عنہما : When should I throw pebbles at the jamrah? He replied: When your imam (leader at Hajj) throws pebbles, at that time you should throw them. I repeated the question to him. Thereupon he said: We used to wait for the time when the sun passes the meridian. When the sun declined, we threw the pebbles.
ہم سے عبداللہ بن محمد الزہری نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، مسعر کی سند سے, وبرہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کنکریاں کب ماروں؟ آپ نے کہا: جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی مارو، میں نے پھر یہی سوال کیا، انہوں نے کہا: ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے تو جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed the obligatory circumambulation of the Kabah at the end of the day of sacrifice after he had offered the noon prayer. He hen returned to Mina and stayed there during the tashriq days and he threw pebbles at the jamrahs when the sun declined. He threw seven pebbles at each of the jamrahs, uttering the takbir (Allah is most great) at the time of the throwing the pebble. He stood at the first and the second jamrah, and prolonged his standing there, making supplications with humilation. He threw pebbles at the third jamrah but did not stand there.
ہم سے علی بن بحر اور عبداللہ بن سعید المعنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن القاسم کے واسطہ سے، وہ اپنے والد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوم النحر ) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے، روتے، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے۔
Narrated Abdur-Rahman bin Yazid: On the authority of Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
When Ibn Masud came to the largest jamrah, he stood with the House (the Kabah) on his left and Mina on his right, and he thew seven pebbles at the jamrah. Then he said: Thus he did throw to whom Surat al-Baqarah was sent down.
ہم سے حفص بن عمر اور مسلم بن ابراہیم المعنا نے بیان کیا, ہم سے شعبہ نے بیان کیا، الحکم کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، عبدالرحمٰن بن یزید کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب وہ جمرہ کبری ( جمرہ عقبہ ) کے پاس آئے تو بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کیا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں، اور کہا: اسی طرح اس ذات نے بھی کنکریاں ماری تھیں جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی۔
Narrated Abu al-Baddah bin Asim: On the authority of his father Asim:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave permission to the herdsmen of the camels not to pass night at Mina and asked them to throw pebbles on the day of sacrifice, and to throw pebbles at the jamrahs the next day and the following two days, and on the day of their return.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القَعْنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا۔ ہم سے ابن سرح نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن وہب نے خبر دی، مجھے مالک نے خبر دی، وہ عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے والد کی سند سے، وہ ابو البدعہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے, عاصم سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو ( منیٰ میں ) رات نہ گزارنے کی رخصت دی اور یہ کہ وہ یوم النحر کو رمی کریں، پھر اس کے بعد والے دن یعنی گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں، اور پھر روانگی کے دن ( تیرہویں کو ) رمی کریں گے۔
Narrated Abu al-Baddah bin Asim bin Adi رضی اللہ عنہ from his father:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم permitted the herdsmen of the camel to lapidate the the jamrahs one day and omit one day.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوبکر کے بیٹوں عبداللہ اور محمد نے، اپنے والد سے ,عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں۔
Abu Mijlaz said:
I asked Ibn Abbas رضی اللہ عنہما about a thing concerning the throwing of stones at the jamrahs. He said: I do not know whether the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم threw six or seven pebbles.
ہم سے عبدالرحمٰن بن المبارک نے بیان کیا، ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، قتادہ کی سند سے، انہوں نے کہا: ابومجلز کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رمی جمرات کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When one of you throws pebbles at the last jamrah (Jamrat al-Aqabah), everything becomes lawful for him except women (sexual intercourse). Abu Dawud said: This is a weak tradition. The narrator al-Hajjaj neither saw al-Zuhri nor heard tradition from him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، ہم سے الحجاج نے بیان کیا، وہ الزہری کی سند سے، وہ عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لیے سوائے عورتوں کے ہر چیز حلال ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف ہے، حجاج نے نہ تو زہری کو دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے سنا ہے ۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: O Allah, have mercy on those who have themselves shaved. The people said: Messenger of Allah, and those who have clipped their hair. He again said: O Allah, have mercy on those who have themselves shaved. The people said: Messenger of Allah, those who have clipped their hair. He said: and those who clip their hair.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ارحم المحلقين» اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم کر ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم ارحم المحلقين» اے اللہ سر منڈوانے والوں پر رحم فرما ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اور کٹوانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کٹوانے والوں پر بھی ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had his head shaved at the Farewell Pilgrimage.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ہم سے یعقوب نے بیان کیا، یعنی اسکندرانی نے، ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈوایا۔