Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم threw pebbles at the last jamrah (Jamrat al-'Aqabah) on the day of sacrifice. He then returned to his lodging at Mina. He called for a sacrificial animal which he slaughtered. He then called for a barber. He held the right side of his head and shaved it. He then began to distribute among those who were around him one or two hair each. He then held the left side of his head and shaved it. Again he said: Is Abu Talhah here ? He then gave it (the hair shaved off) to Abu Talhah.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے حفص نے بیان کیا، ہشام کی سند سے، ابن سیرین کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو جمرہ عقبہ کی رمی کی، پھر آپ منیٰ میں اپنی قیام گاہ لوٹ آئے، پھر قربانی کے جانور منگا کر انہیں ذبح کیا، اس کے بعد حلاق ( سر مونڈنے والے کو بلایا ) ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے داہنے حصے کو پکڑا، اور بال مونڈ دیئے ۱؎، پھر ایک ایک اور دو دو بال ان لوگوں میں تقسیم کئے جو آپ کے قریب تھے پھر بایاں جانب منڈوایا اور فرمایا: ابوطلحہ یہاں ہیں؟ اور وہ سب بال ابوطلحہ کو دے دیئے۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Hisham n. Hassan through a different chain of narrators. This version adds:
He said to the barber: Start with the right side and shave it.
ہم سے عبید بن ہشام ابو نعیم حلبی اور عمرو بن عثمان المعنی نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا, ہشام بن حسان سے اس سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں اس طرح ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلاق ( سر مونڈنے والے ) سے فرمایا: میرے دائیں جانب سے شروع کرو اور اسے مونڈو ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was asked (about rites of Hajj) on the day of stay at Mina. He said: No harm. A man asked him: I got myself shaved before I slaughtered. He said: Slaughter, there is no harm. He again asked: The evening came but I did not throw stones at the jamrah. He replied: Throw stones now ; there is no harm.
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منیٰ کے دن پوچھا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: کوئی حرج نہیں ، چنانچہ ایک شخص نے پوچھا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے حلق کرا لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ذبح کر لو، کوئی حرج نہیں ، دوسرے نے کہا: مجھے شام ہو گئی اور میں نے اب تک رمی نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمی اب کر لو، کوئی حرج نہیں ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Shaving is not a duty laid on women; only clipping the hair is incumbent on them.
ہم سے محمد بن حسن العتکی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے کہا: یہ بات مجھ سے صفیہ بنت شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہما سے پہنچی، انہوں نے کہا: مجھے ام عثمان بنت ابی سفیان نے خبر دی,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں صرف «تقصير» ( بال کٹانا ) ہے ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Shaving is not a duty laid on women; only clipping the hair is incumbent on them.
ہم سے ابو یعقوب البغدادی ثقہ نے بیان کیا, ہم سے ہشام بن یوسف نے ابن جریج سے، عبد الحمید بن جبیر بن شیبہ کی سند سے، صفیہ بنت شیبہ کی سند سے، انہوں نے کہا: مجھے ابو سفیان کی بیٹی ام عثمان نے مجھ سے کہا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتوں پر حلق نہیں بلکہ صرف «تقصير» ( بال کٹانا ) ہے ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed Umrah before performing Hajj.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے مخلد بن یزید نے اور ان سے یحییٰ بن زکریا نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے اور عکرمہ بن خالد کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
By Allah, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not make Aishah رضی اللہ عنہا perform Umrah during Dhul-Hijjah but to discontinue the practice of the idolaters (in Arabia before Islam), for this clan of Quraysh and those who followed them used to say: When the fur of the camel abounds, and the wounds on the back of the camels are recovered and the month of Safar begins, Umrah becomes lawful for one who performs Umrah. They considered performing Umrah unlawful till the months of Dhul-Hijjah and al-Muharram passed away.
ہم سے ہناد بن سری نے بیان کیا، ابن ابی زایدہ نے، ابن جریج اور محمد بن اسحاق کی سند سے، عبداللہ بن طاؤس نے اپنے والد سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذی الحجہ میں عمرہ صرف اس لیے کرایا کہ مشرکین کا خیال ختم ہو جائے اس لیے کہ قریش کے لوگ نیز وہ لوگ جو ان کے دین پر چلتے تھے، کہتے تھے: جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور پیٹھ کا زخم ٹھیک ہو جائے اور صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کا عمرہ درست ہو گیا، چنانچہ وہ ذی الحجہ اور محرم ( اشہر حرم ) کے ختم ہونے تک عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے۔
Abu Bakr Ibn Abdur Rahman said:
The messenger of Marwan whom he sent to Umm Maqil رضی اللہ عنہا reported to me. She said: Abu Maqil accompanied the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم during hajj. When he came (to her) she said: You know that hajj is incumbent on me. They walked until they visited him (i.e. the Prophet) and she asked (him): Messenger of Allah, hajj is due from me, and Abu Maqil has a camel. Abu Maqil رضی اللہ عنہما said: She spoke the truth, I have dedicated it to the cause of Allah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Give it to her, that is in the cause of Allah. So he gave the camel to her. She then said: Messenger of Allah, I am a woman who has become aged and ill. Is there any action which would be sufficient for me as my hajj? He replied: Umrah performed during Ramadan is sufficient as hajj.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے ابراہیم بن مہاجر کی سند سے بیان کیا, ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
مجھے مروان کے قاصد ( جسے ام معقل رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تھا ) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ، چنانچہ دونوں ( ام معقل اور ابو معقل رضی اللہ عنہما ) چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ام معقل نے کہا: اللہ کے رسول! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے؟ ابو معقل نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کر لے، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے ، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا، پھر وہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا ( میرے ساتھ ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ۔
Narrated Umm Maqil رضی اللہ عنہا:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed the Farewell Pilgrimage, and we had a camel, Abu Maqil رضی اللہ عنہ dedicated it to the cause of Allah. Then we suffered from a disease, and Abu Maqil died. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم went out (for hajj). When he finished the hajj, I came to him. He said (to me): Umm Maqil رضی اللہ عنہا, what prevented you from coming out for hajj along with us? She said: We resolved (to do so), but Abu Maqil رضی اللہ عنہ died. We had a camel on which we could perform hajj, but Abu Maqil رضی اللہ عنہ had bequeathed it to the cause of Allah. He said: Why did you not go out (for hajj) upon it, for hajj is in the cause of Allah? If you miss this hajj along with us, perform Umrah during Ramadan, for it is like hajj. She used to say: hajj is hajj, and Umrah is Umrah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said it to me: I do not know whether it was peculiar to me.
ہم سے محمد بن عوف الطائی نے بیان کیا، ہم سے احمد بن خالد الوہبی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسحاق نے عیسیٰ بن معقل بن عدی کی سند سے بیان کیا, ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف لے گئے، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام معقل! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلنے سے روک دیا؟ ، وہ بولیں: ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہو گئی، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کر لو، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے ، ام معقل رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا ( یا سب کے لیے ہے ) ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم intended to perform hajj. A woman said to her husband: Let me perform hajj along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: I have nothing on which I can let you perform hajj. She said: You may perform hajj on your such-and-such camel. He said: That is dedicated to the cause of Allah, the Exalted. He then came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and said: My wife has conveyed her greetings and the blessings of Allah to you. She has asked about performing hajj along with you. She said (to me): Let me perform hajj with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I said (to her): I have nothing upon which I can let you perform hajj. She said: Let me perform hajj on your such-and-such camel. I said: That is dedicated to the cause of Allah, The Exalted. He replied: If you let her perform hajj on it, that would be in the cause of Allah. He said: She has also requested me to ask you: What is that action which is equivalent to performing hajj with you? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Convey my greetings, the mercy of Allah and His blessings to her and tell her that Umrah during Ramadan is equivalent to performing hajj along with me.
ہم سے مسدد نے بیان کیا اور ہم سے عبد الوارث نے عامر الاحول کی سند سے اور بکر بن عبداللہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، وہ کہنے لگی: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ، تو انہوں نے کہا: وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے، اور کہا ہے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، اس نے کہا: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا ۔ اس نے کہا: اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کر لینا میرے ساتھ حج کر لینے کے برابر ہے ۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed two Umrahs: one Umrah in Dhul-Qa'dah, and the other in Shawwal.
ہم سے عبد الاعلی بن حماد نے بیان کیا، ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ۔
Mujahid said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما was asked: How many times did the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم perform Umrah ? He said: Twice. Aishah رضی اللہ عنہا said: Ibn Umar رضی اللہ عنہما knew that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed three Umrahs in addition to the one he combined with the Farewell Pilgrimage.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے زہیر نے بیان کیا، ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، مجاہد کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے جواب دیا: دو بار، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرے کے علاوہ جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملایا تھا تین عمرے کئے ہیں۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed four Umrahs. Umrah al-Hudaybiyyah; the second is the one when they (the Companions) were agreed upon performing Umrah next year; the third is Umrah performed from al-Ji'ranah; the fourth is the one which he combined with his hajj.
ہم سے النفیلی اور قتیبہ نے بیان کیا : ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن عطار نے عمرو بن دینار سے عکرمہ کی سند سے بیان کیا , عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے: ایک عمرہ حدیبیہ کا، دوسرا وہ عمرہ جسے آئندہ سال کرنے پر اتفاق کیا تھا، تیسرا عمرہ جعرانہ کا ، اور چوتھا وہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed four Umrahs all in Dhu al-Qa'dah except the one which he performed along with Hajj. Abu Dawud said: From here the narrator Hudbah (bin Khalid) became certain. I heard it from Abu al-Walid, but I did nor retain: An Umrah, during the treaty of al-Hudaibiyyah, or from al-Hudaibiyyah; and 'Umrat al-Qada' in Dhu al-Qa'dah, and an Umrah from al-Ji'ranah where he (the Prophet) distributed the booty of Hunain in Dhu al-Qa'dah, and an Umrah along with his Hajj.
ہم سے ابو الولید طیالسی اور حدبہ بن خالد نے بیان کیا , ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے بیان کیا , انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ: ایک حدیبیہ کے زمانے کا، یا حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا۔
Hafsah, daughter of Abdur Rahman Ibn Abu Bakr رضی اللہ عنہما , reported on the authority of her father:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to Abdur Rahman رضی اللہ عنہ : Abdur Rahman, put your sister Aishah on the back of the camel behind you and make her perform Umrah from at-Tanim. When you come down from the hillock (in at-Tanim), she must wear (ihram for Umrah), for this is an Umrah accepted (by Allah).
ہم سے عبد الاعلی بن حماد نے بیان کیا، ہم سے داؤد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے بیان کیا، ان سے یوسف بن ماہک نے بیان کیا، ان سے حفصہ بنت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد کی سند سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنی بہن عائشہ کو بٹھا کر لے جاؤ اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ، جب تم ٹیلوں سے تنعیم میں اترو تو چاہیئے کہ وہ احرام باندھے ہو، کیونکہ یہ مقبول عمرہ ہے ۔
Narrated Muharrish al-Kabi رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered al-Ji'ranah. He came to the mosque (there) and prayed as long as Allah desired; he then wore ihram. Then he rode his camel and faced Batn Sarif till he reached the way which leads to Madina. He returned from Makkah (at night to al-Ji'ranah) as if he had passed the night at Makkah.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے سعید بن مزاحم بن ابی مزاحم نے بیان کیا، مجھ سے ابی مزاحم نے عبدالعزیز بن عبداللہ بن اسید کی سند سے بیان کیا, محرش کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں داخل ہوئے تو مسجد آئے اور وہاں اللہ نے جتنی چاہا نماز پڑھی، پھر احرام باندھا، پھر اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گئے اور وادی سرف کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ سے جا ملے، پھر آپ نے صبح مکہ میں اس طرح کی جیسے کوئی رات کو مکہ میں رہا ہو۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stayed (at Makkah) for three days during Umrah for atonement ('Umrat al-Qada')
ہم سے داؤد بن راشد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن زکریا نے بیان کیا، ہم سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے ابان بن صالح نے اور ابن ابی نجیح کی سند سے مجاہد نے بیان کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ قضاء میں تین دن قیام فرمایا۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم performed the obligatory circumambulation (Tawaf al-Ziyarah) on the day of the sacrifice; he then offered the noon prayer at Mina when he returned.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی ( طواف سے ) لوٹ کر۔
Narrated Umm Salamah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The night which the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم passed with me was the one that followed the day of sacrifice. He came to me and Wahb I2bn Zam'ah also visited me. A man belonging to the lineage of Abu Umayyah accompanied him. Both of them were wearing shirts. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to Wahb: Did you perform the obligatory circumambulation (Tawaf az-Ziyarah), Abu Abdullah? He said: No, by Allah Messenger of Allah. He (the Prophet) said: Take off your shirt. He then took it off over his head, and his companion too took his shirt off over his head. He then asked: And why (this), Messenger of Allah? He replied: On this day you have been allowed to take off ihram when you have thrown the stones at the jamrahs, that is, everything prohibited during the state of ihram is lawful except intercourse with a woman. If the evening comes before you go round this House (the Kabah) you will remain in the sacred state (i.e. ihram), just like the state in which you were before you threw stones at the jamrahs, until you perform the circumambulation of it (i.e. the Kabah).
ہم سے احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے بیان کیا، معنی ایک ہی ہیں, انہوں نے کہا: ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن اسحاق سے، ہم سے ابو عبیدہ بن عبداللہ بن زمعہ نے اپنے والد سے اور اپنی والدہ زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کی, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میری وہ رات جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یوم النحر کی شام تھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اتنے میں وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ ابوامیہ کی اولاد کا ایک شخص دونوں قمیص پہنے میرے یہاں آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا: ابوعبداللہ! کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا؟ وہ بولے: قسم اللہ کی! نہیں اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنی قمیص اتار دو ، چنانچہ انہوں نے اپنی قمیص اپنے سر سے اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی اپنے سر سے اپنی قمیص اتار دی پھر بولے: اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے کہ جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو تمہارے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی جو تمہارے لیے حالت احرام میں حرام تھیں سوائے عورتوں کے، پھر جب شام کر لو اور بیت اللہ کا طواف نہ کر سکو تو تمہارا احرام باقی رہے گا، اسی طرح جیسے رمی جمرات سے پہلے تھا یہاں تک کہ تم اس کا طواف کر لو ۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin ; Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہم :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم postponed the circumambulation on the day of sacrifice till the night.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابو الزبیر رضی اللہ عنہ سے, ام المؤمنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کا طواف رات تک مؤخر کیا۔