Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to send ahead the weak members of his family in darkness (to Mina), and command them not to throw pebbles at jamrahs until the sun rose.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ولید بن عقبہ نے بیان کیا، ہم سے حمزہ الزیات نے بیان کیا، وہ حبیب بن ابی ثابت کی سند سے، وہ عطاء کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے کمزور اور ضعیف لوگوں کو اندھیرے ہی میں منیٰ روانہ کر دیتے تھے اور انہیں حکم دیتے تھے کہ کنکریاں نہ مارنا جب تک کہ آفتاب نہ نکل آئے۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا, Ummul Muminin:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم sent Umm Salamah on the night before the day of sacrifice and she threw pebbles at the jamrah before dawn. She hastened (to Makkah) and performed the circumambulation. That day was the one the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم spent with her.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فودیک نے ضحاک کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن عثمان نے، وہ ہشام بن عروہ سے اپنے والد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ کو نحر کی رات ( دسویں رات ) کو ( منیٰ کی طرف ) روانہ فرما دیا انہوں نے فجر سے پہلے کنکریاں مار لیں پھر مکہ جا کر طواف افاضہ کیا، اور یہ وہ دن تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رہا کرتے تھے ۔
Narrator Asma رضی للہ عنہا :
She threw pebbles at the jamrah at night. I said: We threw pebbles (at the jamrah) at night. She said: We used to do so in the lifetime of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے محمد بن خلاد باہلی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، مجھے عطاء نے خبر دی، مجھے ایک مخبر نے خبر دی، اسماء رضی للہ عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں، مخبر ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: ہم نے رات ہی کو جمرے کو کنکریاں مار لیں، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
Narrated Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم hastened from al-Muzdalifah with a quite demeanour and ordered them (the people) to throw small pebbles and he hastened in the valley (wadi) of Muhassir.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، مجھ سے ابو الزبیر نے بیان کیا, جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے اطمینان و سکون کے ساتھ لوٹے اور لوگوں کو حکم دیا کہ اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو ہاتھ کی دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں اور وادی محسر میں آپ نے اپنی سواری کو تیز کیا۔
Narrated Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم halted on the day of sacrifice between the jamrahs (pillars at Mina) during hajj which he performed. He asked: Which is this day? They replied: This is the day of sacrifice. He said: This is the day of greater hajj.
ہم سے مومل بن الفضل نے بیان کیا، ہم سے ولید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، یعنی ہم سے ابن الغاز نے بیان کیا، ہم سے نافع نے بیان کیا،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نحر کے روز ( دسویں ذی الحجہ کو ) حجۃ الوداع میں جمرات کے درمیان کھڑے ہوئے اور لوگوں سے پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ، لوگوں نے جواب دیا: یوم النحر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی حج اکبر کا دن ہے ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
Abu Bakr رضی اللہ عنہ sent me among those who proclaim at Mina that no polytheist should perform Hajj after this year and no naked person should go round the House (the Kabah), and that the day of greater Hajj is the day of sacrifice, and the greater Hajj is the Hajj.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس نے بیان کیا، ان سے الحکم بن نافع نے بیان کیا، ان سے شعیب نے بیان کیا، زہری کی سند سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے۔
Narrated Abu Bakrah رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم gave a sermon during his hajj and said: Time has completed a cycle and assumed the form of the day when Allah created the heavens and the earth. The year contains twelve months of which four are sacred, three of them consecutive, Dhul-Qa'dah, Dhul-Hijjah and Muharram and also Rajab of Mudar which comes between Jumadah and Sha'ban.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا، محمد کی سند سے, ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا: زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہو گیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں: تین لگاتار ہیں، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Bakrah through a different chain of narrators. Abu Dawud said:
Ibn 'Awn has mentioned his (Abu Bakrah's) name and narrated this tradition: From Abdur-Rahman bin Abi Bakrah on the authority of Abu Bakrah.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فیاض نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، ہم سے ایوب السختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ابن ابی بکرہ کی سند سے,اس سند سے بھی ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں
ابن عون نے اس حدیث میں ان کا نام لیا ہے اور یوں کہا ہے «عن عبدالرحمٰن بن أبي بكرة عن أبي بكرة» ۔
Narrated Abdur Rahman Ya'mar ad-Dayli رضی اللہ عنہ :
I came to the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj). So he called the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him. The narrator said: He (the Prophet) then put a man behind him on the camel. He began to proclaim this loudly. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Mahran from Sufyan in a similar way. This version adds: The Hajj, the Hajj, twice. The version narrated by Yaya bin Saeed al-Qattan has the words: The Hajj only once.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر بن عطا نے بیان کیا, عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ عرفات میں تھے، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی: اللہ کے رسول! حج کیوں کر ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا: حج عرفات میں وقوف ہے جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح مہران نے سفیان سے «الحج الحج» دو بار نقل کیا ہے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے «الحج» ایک ہی بار نقل کیا ہے۔
Narrated Urwah Ibn Mudarris at-Ta'i رضی اللہ عنہ :
I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at the place of halting, that is, al-Muzdalifah. I said: I have come from the mountains of Tayy. I fatigued my mount and fatigued myself. By Allah, I found no hill (on my way) but I halted there. Have I completed my hajj? The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Anyone who offers this prayer along with us and comes over to Arafat before it by night or day will complete his hajj and he may wash away the dirt (of his body).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، اسماعیل کی سند سے عامر نے بیان کیا, عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ موقف یعنی مزدلفہ میں تھے، میں نے عرض کیا: میں طی کے پہاڑوں سے آ رہا ہوں، میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا، اور خود کو بھی تھکا دیا، اللہ کی قسم راستے میں کوئی ایسا ٹیکرہ نہیں آیا جس پر میں ٹھہرا نہ ہوں، تو میرا حج درست ہوا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے ساتھ اس نماز کو پا لے اور اس سے پہلے رات یا دن کو عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج پورا ہو گیا، اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا ۔
Abdur Rahman Ibn Muadh said:
He heard a man from the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم addressed the people at Mina and he made them stay in their dwellings. He then said: The Muhajirun (Emigrants) should stay here, and he made a sign to the right side of the qiblah, and the Ansar (the Helpers) here, and he made a sign to the left side of the qiblah; the people should stay around them.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، حمید العراج سے، محمد بن ابراہیم تیمی کی سند سے, عبدالرحمٰن بن معاذ سے روایت ہے
وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں اتارا، آپ نے فرمایا: مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے دائیں جانب اشارہ کیا، اور انصار یہاں اتریں، اور قبلے کے بائیں جانب اشارہ کیا، پھر باقی لوگ ان کے اردگرد اتریں ۔
Ibn Abu Najih reported from his father:
On the authority of two men from Banu Bakr who said: We saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم addressing (the people) in the middle of the tashriq days when we were staying near his mount. This is the address of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم which he gave at Mina.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے، ابراہیم بن نافع سے، ابن ابی نجیح سے، اپنے والد سے
بنی بکر کے دو آدمی کہتے ہیں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایام تشریق کے بیچ والے دن ( بارہویں ذی الحجہ کو ) خطبہ دے رہے تھے اور ہم آپ کی اونٹنی کے پاس تھے، یہ وہی خطبہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دیا.
Narrated Sarra daughter of Nabhan:
She was mistress of a temple in pre-Islamic days. She said: The prophet صلی اللہ علیہ وسلم addressed us on the second day of sacrifice (yawm ar-ru'us) and said: Which is this day? We said: Allah and His Messenger are better aware. He said: Is this not the middle of the tashriq days? Abu Dawood said: And this is exactly what the uncle of Abu Hurrah Abu Raqashi narrated us well, that he delivered the sermon in the middle day of Tashiq.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا, ربیعہ بن عبدالرحمن بن حصین کہتے ہیں 90
مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں ( جس میں اصنام ہوتے تھے ) ، وہ کہتی ہیں: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ( ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ ) کو خطاب کیا اور پوچھا: یہ کون سا دن ہے؟ ، ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا۔
Narrated Harmas Ibn Ziyad al-Bahili رضی اللہ عنہ :
I saw the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم addressing the people on his she-camel al-Adba', on the day of sacrifice at Mina.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عبد الملک نے بیان کیا، ہم سے عکرمہ نے بیان کیا، ہرماس بن زیاد باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنی اونٹنی عضباء پر عید الاضحی کے دن منیٰ میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے۔
Narrated Abu Umamah:
I heard the address of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at Mina on the day of sacrifice.
ہم سے مومل یعنی ابن الفضل حرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، ہم سے ابن جبیر نے بیان کیا, سلیم بن عامر کلاعی کہتے ہیں کہ
میں نے ابوامامہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے منیٰ میں یوم النحر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا ۔
Narrated Rafi Ibn Amr al-Muzani:
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم addressing the people at Mina (on the day of sacrifice) when the sun rose high (i.e. in the forenoon) on a white mule, and Ali (رضی اللہ عنہ) was interpreting on his behalf; some people were standing and some sitting.
ہم سے عبد الوہاب بن عبد الرحیم الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے مروان نے بیان کیا، ہلال بن عامر مزنی کی سند سے, رافع بن عمرو المزنی کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطبہ دیتے سنا جس وقت آفتاب بلند ہو چکا تھا اور علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے اسے لوگوں کو پہنچا رہے تھے اور دور والوں کو بتا رہے تھے، کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے تھے۔
Narrated Abdur Rahman Ibn Muadh at-Taymi رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم addressed us when we were at Mina. Our ears were open and we were listening to what he was saying, while we were in our dwellings. He began to teach them the rites of hajj till he reached the injunction of throwing pebbles at the Jamrahs (pillars at Mina). He put his forefingers in his ears and said: (Throw small pebbles. He then commanded the Emigrants (Muhajirun) to station themselves. They stationed themselves before the mosque. He then commanded the Helpers (Ansar) to encamp. They encamped behind the mosque. Thereafter the people encamped.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عبد الوارث نے بیان کیا، حمید العراج نے، محمد بن ابراہیم تیمی کی سند سے, عبدالرحمٰن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے کان کھول دئیے گئے آپ جو بھی فرماتے تھے ہم اسے سن لیتے تھے، ہم اپنے ٹھکانوں میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ارکان حج سکھانا شروع کئے یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو رکھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگلیوں کے درمیان آ سکتی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد کے اگلے حصہ میں اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ لوگ مسجد کے پیچھے اتریں اس کے بعد سب لوگ اترے۔
Ibn Jurayj asked Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
We sell the property of the people; so one of us goes to Makkah and passes the night there with the property (during the stay at Mina). He said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to pass night and day at Mina.
ہم سے ابوبکر محمد بن خلاد باہلی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، حریز یا ابوحریز بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمٰن بن فروخ کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ
ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
Al-Abbas رضی اللہ عنہ sought permission from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم to pass the night at Makkah during the period of his stay at Mina for distributing water among the people. He gave him permission.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابن نمیر اور ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
Narrated Abdur-Rahman bin Zaid:
Uthman رضی اللہ عنہ prayed four rak'ahs at Mina. Abdullah (bin Masud) رضی اللہ عنہ said: I prayed two rak'ahs along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and two rak'ahs along with Umar. The version of Hafs added: And along with Uthman رضی اللہ عنہ during the early period of his caliphate. He (Uthman رضی اللہ عنہ) began to offer complete prayer (i. e. four rak'ahs) later on. The version of Abu Muawiyah added: Then your modes of action varied. I would like to pray two rak'ahs acceptable to Allah instead of four rak'ahs. Al-Amash said: Muawiyah bin Qurrah reported to me from his teachers: Abdullah (bin Masud رضی اللہ عنہ) once prayed four rak'ahs. He was told: You criticized Uthman but you yourself prayed four ? He replied: Dissension is evil.
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہ ان سے ابو معاویہ اور حفص بن غیاث نے بیان کیا اور ابو معاویہ کی حدیث زیادہ مکمل ہے، الاعمش کی سند سے اور ابراہیم کی سند سے,عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ
عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دو ہی رکعتیں پڑھیں ( اور حفص کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ ) عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں، پھر وہ پوری پڑھنے لگے، ( ایک روایت میں ابومعاویہ سے یہ ہے کہ ) پھر تمہاری رائیں مختلف ہو گئیں، میری تو خواہش ہے کہ میرے لیے چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہی ہوں۔ اعمش کہتے ہیں: مجھ سے معاویہ بن قرہ نے اپنے شیوخ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں، تو ان سے کہا گیا: آپ نے عثمان پر اعتراض کیا، پھر خود ہی چار پڑھنے لگے؟ تو انہوں نے کہا: اختلاف برا ہے۔