Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Makkah he was ill. So, he performed the circumambulation on his Camel. He touched the corner (Black Stone) with a crooked stick as often as he came to it. When he finished the circumambulation, he made his Camel kneel down and offered two rak’ahs of prayer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ابی زیاد نے بیان کیا، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے آپ کو کچھ تکلیف تھی چنانچہ آپ نے اپنی سواری پر بیٹھ کر طواف کیا ۱؎، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آتے تو چھڑی سے اس کا استلام کرتے، جب آپ طواف سے فارغ ہو گئے تو اونٹ کو بٹھا دیا اور ( طواف کی ) دو رکعتیں پڑھیں۔
Umm Salamah رضی اللہ عنہا said:
I complained to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم that I was ill. He said “Perform the circumambulation riding behind the people”. She said “I performed circumambulation and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was praying towards the side of the House (the Kaabah) and reciting “by al Tur and a Book inscribed”. ”
ہم سے القعنبی نے مالک کی سند سے، محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل سے، عروہ بن زبیر کی سند سے، زینب بنت ابی سلمہ کی سند سے بیان کیا, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے طواف کر لو ، تو میں نے طواف کیا اور آپ خانہ کعبہ کے پہلو میں اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، اور «الطور * وكتاب مسطور» کی تلاوت فرما رہے تھے۔
Narrated Yala رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم went round the House (the Kabah) wearing a green Yamani mantle under his right armpit with the end over his left shoulder.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ابن جریج کی سند سے, یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہری چادر میں اضطباع کر کے طواف کیا ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and his Companions performed Umrah from al-Ji'ranah. They went quickly round the House (the Kabah) moving their shoulders) proudly. They put their upper garments under their armpits and threw the ends over their left shoulders.
ہم سے ابوسلمہ موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی سند سے، وہ سعید بن جبیر سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں کے نیچے سے نکال کر اپنے بائیں کندھوں پر ڈالا۔
Abu Al Tufail said:
I said to Ibn Abbas رضی اللہ عنہما Your people think that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم walked proudly with swift strides while going round the Kaabah and that it is sunnah (practice of the Prophet). He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part). ” I asked “What truth did they speak and what lie did they tell?” He said “They spoke the truth that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم walked proudly while going round the Kaabah but they told a lie, this is no sunnah. The Quraish asserted during the days of Al Hudaibiyyah “Forsake Muhammad and his Companions till they die the death of a Camel which dies of bacteria in its nose. When they concluded a treaty with him agreeing upon the fact that they (the Prophet and his Companions) would come (to Makkah) next year and stay at Makkah three days, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to the Companions “Walk proudly (moving shoulders) while going round the Kaabah in first three circuits. (Ibn Abbas said) But this is not sunnah. I said “Your people think that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel and that is sunnah. ” He said “They spoke the truth (in part) and told a lie (in part). I asked “What truth did they speak and what lie did they tell? He said “they spoke the truth that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ran between Al Safa and Al Marwah on a Camel. They told a lie that it is a sunnah. As the people did not move from around the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and did not separate themselves from him he did the sa’i on a Camel so that they may listen to him and see his position and their hands might not reach him.
ہم سے ابوسلمہ موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ہم سے ابو عاصم الغنوی نے بیان کیا، ابوطفیل کہتے ہیں کہ
میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے طواف میں رمل کیا اور یہ سنت ہے، انہوں نے کہا: لوگوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: لوگوں نے کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ اور غلط؟ فرمایا: انہوں نے یہ سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمل کیا لیکن یہ جھوٹ اور غلط کہا کہ رمل سنت ہے ( واقعہ یہ ہے ) کہ قریش نے حدیبیہ کے موقع پر کہا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دو وہ اونٹ کی موت خود ہی مر جائیں گے، پھر جب ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر مصالحت کر لی کہ آپ آئندہ سال آ کر حج کریں اور مکہ میں تین دن قیام کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مشرکین بھی قعیقعان کی طرف سے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: تین پھیروں میں رمل کرو ، اور یہ سنت نہیں ہے ۱؎، میں نے کہا: آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی اور یہ سنت ہے، وہ بولے: انہوں نے سچ کہا اور جھوٹ اور غلط بھی، میں نے دریافت کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟ وہ بولے: یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان اپنے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی لیکن یہ جھوٹ اور غلط ہے کہ یہ سنت ہے، دراصل لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نہ جا رہے تھے اور نہ سرک رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہو کر سعی کی تاکہ لوگ آپ کی بات سنیں اور لوگ آپ کو دیکھیں اور ان کے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکیں۔
Ibn Abbas said The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to Makkah while the fever of Yathrib (Madina) had weakened them. Thereupon the disbelievers said “The people whom the fever has weakened and who suffer misery at Madina are coming to you. ” Allaah, the exalted, informed the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم of what they had said. He, therefore, ordered them to perform ramal (walk proudly with swift pace) in first three circuits and walk ordinarily between the two corners (Yamani Corner and the Black Stone). When they saw them the believers walking proudly, they said” These are the people about whom you mentioned that the fever had weakened them, but they are more vigorous than us. ” Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said “He did not order them to walk proudly in all circuits (of the circumambulation) out of mercy upon them. ”
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ایوب کی سند سے، وہ سعید بن جبیر کی سند سے بیان کرتے ہیں, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا تھا، تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنا دیا ہے، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کر دیا، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ ( طواف کعبہ کے ) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں، تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے: یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ۱؎۔
Aslam, from his father said:
I heard Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ say: What is the need of walking proudly (ramal) and moving the shoulders (while going round the Kabah)? Allah has now strengthened Islam and obliterated disbelief and the infidels. In spite of that we shall not forsake anything that we used to do during the time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے عبد الملک بن عمرو نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن سعد نے بیان کیا، وہ زید بن اسلم سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اب رمل اور مونڈھے کھولنے کی کیا ضرورت ہے؟ اب تو اللہ نے اسلام کو مضبوط کر دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا خاتمہ کر دیا ہے، اس کے باوجود ہم ان باتوں کو نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کیا کرتے تھے ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Going round the House (the Kabah), running between as-Safa and lapidation of the pillars are meant for the remembrance of Allah.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے عبیداللہ ابن ابی زیاد نے بیان کیا، القاسم کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور کنکریاں مارنا، یہ سب اللہ کی یاد قائم کرنے کے لیے مقرر کئے گئے ہیں ۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم wore the mantle under his right armpit with the end over his left shoulder, and touched the corner (Black Stone), then uttered Allah is most great and walked proudly in three circuits of circumambulation. When they (the Companions) reached the Yamani corner, and disappeared from the eyes of the Quraysh, they walked as usual; When they appeared before them, they walked proudly with rapid strides. Thereupon the Quraysh said: They look to be the deer (that are jumping). Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said: Hence this became the sunnah (model behaviour of the Prophet).
ہم سے محمد بن سلیمان الانباری نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، انہوں نے ابن خثیم کی سند سے اور ابو الطفیل کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اضطباع کیا، پھر استلام کیا، اور تکبیر بلند کی، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، جب لوگ ( یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) رکن یمانی پر پہنچتے اور قریش کی نظروں سے غائب ہو جاتے تو عام چال چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے تو رمل کرتے، قریش کہتے تھے: گویا یہ ہرن ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو یہ فعل سنت ہو گیا۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and his Companions performed Umrah from al-Ji'ranah and walked proudly with rapid strides round the House (the Kabah) in three circuits and walked as usual in four circuits.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے ابو الطفیل کی سند سے خبر دی، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کا احرام باندھا تو بیت اللہ کے تین پھیروں میں رمل کیا اور چار میں عام چال چلی۔
Nafi said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما walked proudly (ramal) from the corner (Black Stone) to the corner (Black Stone) and mentioned that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had done so.
ہم سے ابو کامل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیم بن اخضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ نے بیان کیا, نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا، اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔
Narrated Abdullah Ibn as-Saib رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say between the two corners: O Allah, bring us a blessing in this world and a blessing in the next and guard us from punishment of Hell.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبید نے اپنے والد سے, عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں رکن ( یعنی رکن یمانی اور حجر اسود ) کے درمیان«ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ( سورۃ البقرہ: ۹۶ ) کہتے سنا، اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم observed the circumambulation at hajj and ‘Umrah on his arrival, he ran three circuits and walked four, then he made two prostrations.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یعقوب نے بیان کیا، وہ موسیٰ بن عقبہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی سب سے پہلے جب حج و عمرہ کا طواف کرتے تو آپ تین پھیروں میں دوڑ کر چلتے اور باقی چار میں معمولی چال چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے۔
Narrated Jubayr Ibn Mutim رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Do not prevent anyone from going round this House (the Kabah) and from praying any moment he desires by day or by night. The narrator Fadl (ibn Ya'qub) said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Banu Abdu Munaf, do not stop anyone.
ہم سے ابن سرح اور الفضل ابن یعقوب نے بیان کیا اور یہ ان کا قول ہے, انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے ابو الزبیر سے اور عبداللہ بن بابہ کی سند سے بیان کیا, جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھر ( کعبہ ) کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے کسی کو مت روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں بھی وہ کرنا چاہے کرنے دو ۔ فضل کی روایت کے میں ہے: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا بني عبد مناف لا تمنعوا أحدا» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! کسی کو مت روکو.
Jabir bin Abdallah رضی اللہ عنہما said:
“Neither the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم nor his Companions ran between Al Safa’ and Al Marwah except once and that was his first running. ”
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ابن جریج نے کہا, ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ( جنہوں نے قران کیا تھا ) صفا اور مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی اپنے پہلے طواف کے وقت۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
The Companions of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم who accompanied him did not go round the Kabah till they threw pebbles at the Jamrah (pillar at Mina).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے جو آپ کے ساتھ تھے، اس وقت تک طواف نہیں کیا جب تک کہ ان لوگوں نے رمی جمار نہیں کر لیا۔
Ata said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to Aishah Your observance of circumambulation of the Kaabah and your running between Al Safa’ and al Marwah (only once) are sufficient for your Hajj and your ‘Umrah. Al Shafi’i said The narrator Sufyan has transmitted this tradition from Ata on the authority of Aishah رضی اللہ عنہا and also narrated it on the authority of Ata stating that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said to Aishah ( رضی اللہ عنہا).
ہم سے ربیع بن سلیمان نے بیان کیا، مجھے شافعی نے ابن عیینہ کی سند سے، ابن ابی نجیح نے عطاء کی سند سے بیان کیا , ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: بیت اللہ کا تمہارا طواف اور صفا و مروہ کی سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے ۔ شافعی کہتے ہیں: سفیان نے اس روایت کو کبھی عطاء سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور کبھی عطاء سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا۔
Narrated Abdur Rahman Ibn Safwan رضی اللہ عنہ :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم conquered Makkah, I said (to myself): I shall put on my clothes, and my house lay on the way, I shall watch how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم behaves. So I went out. I saw that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and his Companions had come out from the Kabah and embraced the House (the Kabah) from its entrance (al-Bab) to al-Hatim. They placed their cheek on the House (the Kabah) while the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was amongst them.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر بن عبد الحمید نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی زیاد نے مجاہد کی سند سے, عبدالرحمٰن بن صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو میں نے کہا: میں اپنے کپڑے پہنوں گا ( میرا گھر راستے میں تھا ) پھر میں دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے ہیں، تو میں گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اور آپ کے صحابہ کعبۃ اللہ کے اندر سے نکل چکے ہیں اور سب لوگ بیت اللہ کے دروازے سے لے کر حطیم تک کعبہ سے چمٹے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے رخسار بیت اللہ سے لگا دئیے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب کے بیچ میں ہیں۔
Amr bin Shuaib reported on the authority of his father:
I went round the Kabah along with Abdullah Ibn Amr رضی اللہ عنہما . When we came behind the Kabah I asked: Do you not seek refuge? He uttered the words: I seek refuge in Allah from the Hell-fire. He then went (farther) and touched the Black Stone, and stood between the corner (Black Stone) and the entrance of the Kabah. He then placed his breast, his face, his hands and his palms in this manner, and he spread them, and said: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم doing like this.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے المثنیٰ بن الصباح نے بیان کیا، ان سے عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ساتھ طواف کیا، جب ہم لوگ کعبہ کے پیچھے آئے تو میں نے کہا: کیا آپ پناہ نہیں مانگیں گے؟ اس پر انہوں نے کہا: ہم پناہ مانگتے ہیں اللہ کی آگ سے، پھر وہ آگے بڑھتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، اور حجر اسود اور کعبہ کے دروازے کے درمیان کھڑے رہے اور اپنا سینہ، اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں ہتھیلیاں اس طرح رکھیں اور انہوں نے انہیں پوری طرح پھیلایا، پھر بولے: اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۔
Abdullah Ibn as-Saib reported on the authority of his father as-Saib:
He used to lead Ibn Abbas رضی اللہ عنہما (when he become blind) and make him stand in the third corner that was adjacent to the corner (Black Stone) near the entrance of the Kabah. Ibn Abbas رضی اللہ عنہما used to say: Has it been reported to you that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would pray in this place. He would reply: Yes. He then used to stand (there) and pray.
ہم سے عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے سائب بن عمرو مخزومی نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ
وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو لے کر جاتے ( جب ان کی بینائی ختم ہو گئی ) اور ان کو اس تیسرے کونے کے پاس کھڑا کر دیتے جو اس رکن کعبہ کے قریب ہے جو حجر اسود کے قریب ہے اور دروازے سے ملا ہوا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے کہتے: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ نماز پڑھتے تھے؟ وہ کہتے: ہاں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے