Yala bin Munayyah from his father:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded him to take it off (the tunic) and to take a bath twice or thrice. The narrator then transmitted the rest of the tradition.
ہم سے یزید بن خالد بن عبداللہ بن موحب الحمدانی الرملی نے بیان کیا , مجھ سے لیث نے عطاء بن ابی رباح سے اور ا بن یعلی بن منیہ سے اپنے والد کی سند سے اس روایت کے ساتھ بیان کیا , اس میں فرمایا
البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: «فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينزعها نزعا ويغتسل مرتين أو ثلاثا» یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے اتار دے اور غسل کرے دو بار یا تین بار آپ نے فرمایا پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
It is narrated by Yala bin Umayyah from his father:
A man came to Prophet صلی اللہ علیہ وسلم at Ji’ranah, putting on ihram for ‘Umrah. He had a cloak on him and his beard and head had been dyed.
ہم سے عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے قیس بن سعد کو، عطاء کی سند سے، صفوان بن یعلی بن امیہ سے، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے سنا
ایک آدمی جعرانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس نے عمرہ کا احرام اور جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اس کی داڑھی و سر کے بال زرد تھے، اور راوی نے یہی حدیث بیان کی۔
It was reported from Az-Zuhri, from Salim, from his father:
A man asked the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم What clothing one should put on if one intend to put on ihram? He said He should not wear shirts, turbans, trousers, garments with head coverings and clothing which has any dye of waras or saffron; one should not put on shoes unless one cannot get sandals. If one cannot get sandals, one should wear the shoes, in which case one must cut them to come below the ankles.
ہم سے مسدد اور احمد بن حنبل نے بیان کیا: ہم سے سفیان نے زہری کی سند سے، سلیم نے اپنے والد سے، انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: نہ کرتا پہنے، نہ ٹوپی، نہ پائجامہ، نہ عمامہ ( پگڑی ) ، نہ کوئی ایسا کپڑا جس میں ورس یا زعفران لگا ہو، اور نہ ہی موزے، سوائے اس شخص کے جسے جوتے میسر نہ ہوں، تو جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے، انہیں کاٹ ڈالے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Umar from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم to the same effect.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، نافع کی سند سے،اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سےاسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
This tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Ibn Umar رضی اللہ عنہما to the same effect. This version adds:
“A woman in the sacred state (while wearing ihram) should not be veiled or wear gloves. Abu Dawud said This tradition has also been transmitted by Hatim bin Ismail and Yahya bin Ayyub from Musa bin Uqbah from Nafi as reported by al Laith. This has also been narrated by Musa bin Tariq from Musa bin Uqbah as a statement of Ibn Umar (not of the Prophet). Similarly, this tradition has also been transmitted by Ubaid Allah bin Umar Malik and Ayyub as a statement of Ibn Umar رضی اللہ عنہما (not of the Prophet). Ibrahim bin Saeed al Madini narrated this tradition from Nafi on the authority of Ibn Umar رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم A woman in the sacred state (wearing ihram) must not be veiled or wear gloves. Abu Dawud said Ibrahim bin Saeed al Madini is a traditionist of Madina. Not many traditions have been narrated by him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث نے نافع کی سند سے بیان کیا , اس سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے، راوی نے البتہ اتنا اضافہ کیا ہے کہ
محرم عورت منہ پر نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حاتم بن اسماعیل اور یحییٰ بن ایوب نے اس حدیث کو موسی بن عقبہ سے، اور موسیٰ نے نافع سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے لیث نے کہا ہے، اور اسے موسیٰ بن طارق نے موسیٰ بن عقبہ سے ابن عمر پر موقوفاً روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے عبیداللہ بن عمر اور مالک اور ایوب نے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، اور ابراہیم بن سعید المدینی نے نافع سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابراہیم بن سعید المدینی ایک شیخ ہیں جن کا تعلق اہل مدینہ سے ہے ان سے زیادہ احادیث مروی نہیں، یعنی وہ قلیل الحدیث ہیں۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: A woman in the sacred state (wearing ihram) must not be veiled or wear gloves.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن سعید مدینی نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
آپ نے فرمایا: محرم عورت نہ تو منہ پر نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے ۔
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما said:
He heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم prohibiting women in the sacred state (wearing ihram) to wear gloves, veil (their faces) and to wear clothes with dye of waras or saffron on them. But afterwards they can wear any kind of clothing they like dyed yellow or silk or jewelry or trousers or shirts or shoes. Abu Dawud said Abdah and Muhammad bin Ishaq narrated this tradition from Muhammad bin Ishaq up to the words “And to wear clothes with dye of waras or saffron on them”. They did not mention the words after them.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے عبداللہ بن عمر کے آزاد کردہ غلام نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ نے عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننے، نقاب اوڑھنے، اور ایسے کپڑے پہننے سے جن میں ورس یا زعفران لگا ہو منع فرمایا، البتہ ان کے علاوہ جو رنگین کپڑے چاہے پہنے جیسے زرد رنگ والے کپڑے، یا ریشمی کپڑے، یا زیور، یا پائجامہ، یا قمیص، یا کرتا، یا موزہ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدہ بن سلیمان اور محمد بن سلمہ نے ابن اسحاق سے ابن اسحاق نے نافع سے حدیث «وما مس الورس والزعفران من الثياب» تک روایت کیا ہے اور اس کے بعد کا ذکر ان دونوں نے نہیں کیا ہے۔
Nafi said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما felt cold and said Throw a garment over me, Nafi. I threw a hooded cloak over him. Thereupon he said Are you throwing this over me when the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم has forbidden those who are in sacred state to wear it?
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے، ایوب رضی اللہ عنہ سے, نافع کہتے ہیں کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سردی محسوس کی تو انہوں نے کہا: نافع! میرے اوپر کپڑا ڈال دو، میں نے ان پر برنس ڈال دی، تو انہوں نے کہا: تم میرے اوپر یہ ڈال رہے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say When one who is wearing ihram cannot get a lower garment (loin cloth) he may ear trousers and when he cannot get sandals he may wear shoes. Abu Dawud said This is the tradition narrated by the narrators of Makkah. Its narrator from Basrah is Jabir bin Zaid. He mentioned only trousers and omitted the mention of cutting of the shoes.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، وہ عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: پاجامہ وہ پہنے جسے ازار نہ ملے اور موزے وہ پہنے جسے جوتے نہ مل سکیں ۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں یہ اہل مکہ کی حدیث ہے اس کا مرجع بصرہ میں جابر بن زید ہیں اور جس چیز کے ساتھ وہ منفرد ہیں وہ سراویل کا ذکر ہے اور اس میں موزے کے سلسلہ میں کاٹنے کا ذکر نہیں ) ۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
We were proceeding to Makkah along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. We pasted on our foreheads the perfume known as sakk at the time of wearing ihram. When one of us perspired, it (the perfume) came down on her face. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم saw, but did not forbid it.
ہم سے حصین بن جنید دمغانی نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن سوید ثقفی نے خبر دی، انہوں نے کہا: عائشہ بنت طلحہ کا بیان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ
ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلتے تو ہم اپنی پیشانی پر خوشبو کا لیپ لگاتے تھے جب پسینہ آتا تو وہ خوشبو ہم میں سے کسی کے منہ پر بہہ کر آ جاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھتے لیکن منع نہ کرتے ۔
Narrated Salim Ibn Abdullah said:
Abdullah Ibn Umar رضی اللہ عنہما used to do so, that is to say, he would cut the shoes of a woman who put on ihram; then Safiyyah, daughter of Abu Ubayd, reported to him that Aishah ( رضی اللہ عنہا) narrated to her that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم gave licence to women in respect of the shoes (i.e. women are not required to cut the shoes). He, therefore, abandoned it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق کی سند سے, میں نے ابن شہاب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایسا ہی کرتے تھے یعنی محرم عورت کے موزوں کو کاٹ دیتے ، پھر ان سے صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کے سلسلے میں عورتوں کو رخصت دی ہے تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔
Al Bara (bin Azib) said:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم concluded the treaty with the people of Al Hudaibiyyah, they stipulated that they (the Muslims) would not enter (Makkah) except with the bag of armament (julban al-silah). I asked what is julban al-silah? He replied: The bag with its contents.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ابو اسحاق کی سند سے، انہوں نے کہا: براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والوں سے صلح کی تو آپ نے ان سے اس شرط پر مصالحت کی کہ مسلمان مکہ میں جلبان السلاح کے ساتھ ہی داخل ہوں گے ۱؎ تو میں نے ان سے پوچھا: «جلبان السلاح» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: «جلبان السلاح» میان کا نام ہے اس چیز سمیت جو اس میں ہو۔
Narrated Aishah رضی اللہ عنہا , Ummul Muminin:
Riders would pass us when we accompanied the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم while we were in the sacred state (wearing ihram). When they came by us, one of us would let down her outer garment from her head over her face, and when they had passed on, we would uncover our faces.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی زیاد نے بیان کیا، مجاہد کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
سوار ہمارے سامنے سے گزرتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوتے، جب سوار ہمارے سامنے آ جاتے تو ہم اپنے نقاب اپنے سر سے چہرے پر ڈال لیتے اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اسے کھول لیتے۔
Umm al Hussain رضی اللہ عنہا said:
We performed the Farewell Pilgrimage along with the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. I saw Usamah and Bilal رضی اللہ عنہما one of them holding the halter of the she-Camel of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, while the other raising his garment and sheltering from the heat till he had thrown pebbles at the jamrah of the ‘Aqabah.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو عبدالرحیم سے، زید بن ابی انیسہ سے، یحییٰ بن حصین سے, ام حصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کیا تو میں نے اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان میں سے ایک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے تھے، اور دوسرے اپنا کپڑا اٹھائے تھے تاکہ وہ آپ پر دھوپ سے سایہ کر سکیں یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had himself cupped when he was in the sacred state (wearing ihram).
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے، عمرو بن دینار سے، عطاء اور طاؤس کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور آپ حالت احرام میں تھے۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had himself cupped in his head when he was in the sacred state (wearing ihram due to a disease from which he was suffering.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، عکرمہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیماری کی وجہ سے جو آپ کو تھی اپنے سر میں پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had himself cupped on the surface of his foot because of a pain in it while he was in the sacred state (wearing ihram). Abu Dawud said: I heard Ahmad say: Ibn Abi 'Arubah narrated it in Mursal form . Meaning from Qatadah.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے، قتادہ کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنے قدم کی پشت پر پچھنا لگوایا، آپ احرام باندھے ہوئے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد کو کہتے سنا کہ ابن ابی عروبہ نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے یعنی قتادہ سے۔
Nubaih bin Wahb said:
Umar bin Ubaidullah bin Mamar had a complaint in his eyes. He sent (someone) to Aban bin Uthman - the narrator Sufyan said that he was the chief of pilgrims during the season of Hajj – asking him what he should do with them. He said Apply aloes to them, for I heard ‘Uthaman narrating this on the authority of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ایوب بن موسیٰ سے, نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ
عمر بن عبیداللہ بن معمر کی دونوں آنکھیں دکھنے لگیں تو انہوں نے ابان بن عثمان کے پاس ( پوچھنے کے لیے اپنا آدمی ) بھیجا کہ وہ اپنی آنکھوں کا کیا علاج کریں؟ ( سفیان کہتے ہیں: ابان ان دونوں حج کے امیر تھے ) تو انہوں نے کہا: ان دونوں پر ایلوا کا لیپ لگا لو، کیونکہ میں نے عثمان سے سنا ہے وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر رہے تھے۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Nubaih bin Wahb through a different chain of narrators.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن الیاس نے بیان کیا، انہوں نے ایوب سے اور نافع کی سند سے, اس سند سے بھی نبیہ بن وہب سے یہی حدیث مروی ہے۔
Abdullah bin Hunain said:
Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما and Miswar bin Makhramah رضی اللہ عنہما differed amongst themselves (on the question of washing the head in the sacred state) at al Abwa. ‘Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said A pilgrim in the sacred state (while wearing ihram) can wash his head. Al Miswar said A pilgrim in the sacred state (wearing ihram) cannot wash his head. Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما then sent him (Abdullah bin Hunain) to Abu Ayyub Al Ansari رضی اللہ عنہ . He found him taking a bath between two woods erected at the edge of the well and he was hiding himself with a cloth (curtain). He (the narrator) said I saluted him. He asked Who is this? I said I am Abdullah bin Hunain. Abdullah bin Abbas رضی اللہ عنہما has sent me to you asking you how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to wash his head while he was wearing ihram. Abu Ayyub then put his hand on the cloth and removed it till his head appeared to me. He then said to a person who was pouring water on him: Pour water. He poured water on his head and Abu Ayyub رضی اللہ عنہ moved his head with his hands. He carried his hands forward and backward. He then said I saw him doing similarly.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے مالک کی سند سے، زید بن اسلم کی سند سے، ابراہیم بن عبداللہ بن حنین سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کے مابین مقام ابواء میں اختلاف ہو گیا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم سر دھو سکتا ہے، مسور نے کہا: محرم سر نہیں دھو سکتا، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں ( ابن حنین کو ) ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تو آپ نے انہیں دو لکڑیوں کے درمیان کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، ابن حنین کہتے ہیں: میں نے سلام کیا تو انہوں نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے آپ کے پاس عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھیجا ہے کہ میں آپ سے معلوم کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے اس قدر جھکایا کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا، پھر ایک آدمی سے جو ان پر پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو تو اس نے ان کے سر پر پانی ڈالا، پھر ایوب نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور بولے ایسا ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے ۔