It was reported from Abdul-Karim bin Malik Al-Jazari, from Abdur-Rahman bin Abi Laila, from Kab bin Ujrah رضی اللہ عنہ , regarding this incident (as narrated in on previous hadith):
He added: Whichever of these you do, it will suffice.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعْنبی نے مالک کی سند سے بیان کیا, اس سند سے بھی کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے
البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے «أى ذلك فعلت أجزأ عنك» اس میں سے تو جو بھی کر لو گے تمہارے لیے کافی ہے ۔
Al Hajjaj bin Amr Al Ansari reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying “ If anyone breaks (a bone or leg) or becomes lame, he has come out of the sacred state and must perform Hajj the following year. ” Ikrimah said I asked Ibn Abbas رضی اللہ عنہما and Abu Hurairah رضی اللہ عنہ about this. They replied He spoke the truth.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حجاج الصوف نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے عکرمہ کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے، یا لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا، اب اس پر اگلے سال حج ہو گا ۔ عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا تو ان دونوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔
Narrated al-Hajjaj Ibn Amr رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone breaks (a leg) or becomes lame or falls ill. He then narrated the tradition to the same effect. The narrator Salamah ibn Shabib said: Mamar narrated (this tradition) to us.
ہم سے محمد بن متوکل عسقلانی اور سلمہ نے بیان کیا: ہم سے عبدالرزاق نے معمر کی سند سے، یحییٰ بن ابی کثیر سے، عکرمہ کی سند سے، عبداللہ بن رافع کی سند سے,حجاج بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی ہڈی ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے یا بیمار ہو جائے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، سلمہ بن شبیب نے «عن معمر» کے بجائے «أنبأنا معمر» کہا ہے۔
Maymun Ibn Mahran said:
I came out to perform Umrah in the year when the people of Syria besieged Ibn az-Zubayr رضی اللہ عنہما at Makkah. Some people of my tribe sent sacrificial animals with me as an offering. When we reached the people of Syria, they stopped us from entering the sacred territory. I, therefore, sacrificed the animals at the same spot. I then took off ihram and returned. Next year I came out to make an atonement for my Umrah. I came to Ibn Abbas رضی اللہ عنہما and asked him (about it). He said: Bring a new sacrificial animal, for the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ordered his companions to bring fresh sacrificial animals for the Umrah of atonement in lieu of the animals they had sacrificed in the year of al-Hudaybiyyah.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن سلمہ نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق کی سند سے, عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے ابوحاضر حمیری سے سنا وہ میرے والد میمون بن مہران سے بیان کر رہے تھے کہ
جس سال اہل شام مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کئے ہوئے تھے میں عمرہ کے ارادے سے نکلا اور میری قوم کے کئی لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کے جانور بھی بھیجے، جب ہم اہل شام ( مکہ کے محاصرین ) کے قریب پہنچے تو انہوں نے ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روک دیا، چنانچہ میں نے اسی جگہ اپنی ہدی نحر کر دی اور احرام کھول دیا اور لوٹ آیا، جب دوسرا سال ہوا تو میں اپنا عمرہ قضاء کرنے کے لیے نکلا، چنانچہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ قضاء کے عمرہ میں حدیبیہ کے سال جس ہدی کی نحر کر لی تھی اس کا بدل دو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ وہ عمرہ قضاء میں اس ہدی کا بدل دیں جو انہوں نے حدیبیہ کے سال نحر کی تھی۔
Nafi said:
Ibn Umar رضی اللہ عنہما came to Makkah he spent the night at Dhu Tuwa in the morning he would take a bath and enter Makkah in the daytime. He used to say the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم had done so.
ہم سے محمد بن عبید نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ایوب رضی اللہ عنہ سے, نافع سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ آتے تو ذی طویٰ میں رات گزارتے یہاں تک کہ صبح کرتے اور غسل فرماتے، پھر دن میں مکہ میں داخل ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے کہ آپ نے ایسے ہی کیا ہے ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to enter Makkah from the upper hillock. The version of Yahya goes: The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to enter Makkah from Kuda’ from the hillock of Batha’. He would come out from the lower hillock. Al Barmaki added “that is the two hillocks of Makkah”. The version of Musaddad is more complete.
ہم سے عبداللہ بن جعفر برمکی نے بیان کیا، ہم سے معن نے مالک سے بیان کیا, ہم سے مسدد اور ابن حنبل نے یحییٰ کی سند سے بیان کیا۔ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سب نے عبید اللہ کی سند سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا ( بلند گھاٹی ) سے داخل ہوتے، ( یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے ) اور ثنیہ سفلی ( نشیبی گھاٹی ) سے نکلتے۔ برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to come out from (Madina) by the way of Al Shajarah and enter (Makkah) by the way of Al Mu’arras.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے، وہ نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شجرہ ( جو ذی الحلیفہ میں تھا ) کے راستے سے ( مدینہ سے ) نکلتے تھے اور معرس ( مدینہ سے چھ میل پر ایک موضع ہے ) کے راستہ سے ( مدینہ میں ) داخل ہوتے تھے ۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered Makkah from the side of Kuda’ the upper end of Makkah in the year of conquest (of Makkah) and he entered from the side of Kida’ when he performed ‘Umrah. Urwah used to enter (Makkah) from both sides, but he often entered from the side of Kuda’ as it was nearer to his house.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا۔
Aishah رضی اللہ عنہا said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered Makkah he entered from the side of the upper end and he came out from the side of the lower end.
ہم سے ابن المثنی نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے تو اس کی بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور اس کے نشیب سے نکلتے۔
Narrated Al-Muhajir and Al-Makkisaid:
Jabir Ibn Abdullah رضی اللہ عنہما was asked about a man who looks at the House (the Kabah) and raises his hands (for prayer). He replied: I did not find anyone doing this except the Jews. We performed hajj along with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, but he did not do so.
ہم سے یحییٰ بن معین نے بیان کیا، ان سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے ابو قزعہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا، مہاجر مکی کہتے ہیں کہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتا ہو تو انہوں نے کہا: میں سوائے یہود کے کسی کو ایسا کرتے نہیں دیکھتا تھا، اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا، لیکن آپ ایسا نہیں کرتے تھے ۱؎۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم entered Makkah he circumambulated the House (the Kaabah) and offered two rak’ahs of prayer behind the station. That is, he did so on the day of the Conquest (of Makkah).
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے سلام بن مسکین نے بیان کیا، ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا، عبداللہ بن رباح الانصاری رضی اللہ عنہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں ( یعنی فتح مکہ کے روز ) ۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came an entered Makkah, and after the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had gone forward to the Stone, and touched it, he went round the House (the Kabah). He then went to as-Safa and mounted it so that he could look at the House. Then he raised his hands began to make mention of Allah as much as he wished and make supplication. The narrator said: The Ansar were beneath him. The narrator Hashim said: He prayed and praised Allah and asked Him for what he wished to ask.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، ان سے بہز بن اسد اور ہاشم نے، یعنی ہم سے ابن القاسم نے بیان کیا، کہا: ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے ثابت کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن رباح کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور مکہ میں داخل ہوئے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس آئے اور اس کا بوسہ لیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر صفا کی طرف آئے اور اس پر چڑھے جہاں سے بیت اللہ کو دیکھ رہے تھے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے لگے اور اس کا ذکر کرتے رہے اور اس سے دعا کرتے رہے جتنی دیر تک اللہ نے چاہا، راوی کہتے ہیں: اور انصار آپ کے نیچے تھے، ہاشم کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اور اللہ کی حمد بیان کی اور جو دعا کرنا چاہتے تھے کی۔
Abis bin Rabiah said on the authority of Umar رضی اللہ عنہ :
He (Umar) came to the (Black) Stone and said “ I know for sure that you are a stone which can neither benefit nor injure and had I not seen the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم kissing you, I would not have kissed you. ”
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے اعمش کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، ابیس بن ربیعہ کی سند سے, عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوما، اور کہا: میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا.
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
I have not seen the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم touching anything in the House (the Kaabah) but the two Yamani corners.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا، ابن شہاب کی سند سے، سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے حجر اسود اور رکن یمانی کے ۔
Narrated Ibn Umar رضی اللہ عنہما :
He was informed about the statement of Aishah رضی اللہ عنہا that a part of al-Hijr is included in the magnitude of the Kabah. Ibn Umar رضی اللہ عنہما said: By Allah, I think that she must have heard it from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. I think that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had not given up touching both of them but for the reason that they were not on the foundation of the House (the Kabah), nor did the people circumambulate (the House) beyond al-Hijr for this reason.
ہم سے مخلد بن خالد نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے، زہری کی سند سے، سلیم کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ قول معلوم ہوا کہ حطیم کا ایک حصہ بیت اللہ میں شامل ہے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میرا گمان ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا، میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( رکن عراقی اور رکن شامی ) کا استلام بھی اسی لیے چھوڑا ہو گا کہ یہ بیت اللہ کی اصلی بنیادوں پر نہ تھے اور اسی وجہ سے لوگ (حطیم) حجر کےباہر سے اسی بنا پر طواف کرتے تھے۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not give up touching the Yamani corner and the (Black) Stone in each of his circumambulations. Ibn Umar used to do so.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، وہ عبدالعزیز بن ابی رواد نے نافع کی سند سے,عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کسی بھی چکر میں ترک نہیں کرتے تھے، راوی کہتے ہیں اور عبداللہ بن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed the circumambulation at the Farewell Pilgrimage on a Camel and touched the corner (Black Stone) with a crooked stick.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، وہ عبید اللہ سے، یعنی ابن عبداللہ بن عتبہ نے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
Narrated Safiyyah, daughter of Shaybah رضی اللہ عنہا :
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had some rest at Makkah in the year of its Conquest, he performed circumambulation on a camel and touched the corner (black Stone) with a crooked stick in his hand. She said: I was looking at him.
ہم سے مصرف بن عمرو یمی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ہم سے ابن بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن اسحاق نے بیان کیا، ان سے محمد بن جعفر بن زبیر نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن عبداللہ بن ابی ثور نے بیان کیا,صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب مکہ میں اطمینان ہوا تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ کی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے، اور میں آپ کو دیکھ رہی تھی۔
Narrated Safiyyah, daughter of Shaybah:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم had some rest at Makkah in the year of its Conquest, he performed circumambulation on a camel and touched the corner (black Stone) with a crooked stick in his hand. She said: I was looking at him.
ہم سے ہارون بن عبداللہ اور محمد بن رافع المعنہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عاصم نے معروف کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن خربود المکی نے, ابوطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر بیت اللہ کا طواف کرتے دیکھا، آپ حجر اسود کا استلام اپنی چھڑی سے کرتے پھر اسے چوم لیتے، ( محمد بن رافع کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا و مروہ کی طرف نکلے اور اپنی سواری پر بیٹھ کر سعی کے سات چکر لگائے۔
Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما said:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم performed the circumambulation of the House (the Kaabah) on his Camel at the Farewell Pilgrimage and ran between Al Safa’ and Al Marwah, so that the people could see him, remain well informed about him and ask him questions (about Hajj) for the people surrounded him.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، وہ ابن جریج کی سند سے، مجھ سے ابو الزبیر نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیٹھ ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا، اور صفا و مروہ کی سعی کی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلندی پر ہوں، اور لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ سے پوچھ سکیں، کیونکہ لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔