Narrated Ubaydah bin as-Samit رضی اللہ عنہ :
I taught some persons of the people of Suffah writing and the Quran. A man of them presented to me a bow. I said: It cannot be reckoned property; may I shoot with it in Allah's path? I must come to the Messenger of of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and ask him (about it). So I came to him and said: Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم, one of those whom I have been teaching writing and the Quran has presented me a bow, and as it cannot be reckoned property, may I shoot with it in Allah's path? He said: If you want to have a necklace of fire on you, accept it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن الرواسی نے، مغیرہ بن زیاد نے، عبادہ بن نسی سے، انہوں نے اسود بن ثعلبہ کی سند سے بیان کیا, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے اصحاب صفہ کے کچھ لوگوں کو قرآن پڑھنا اور لکھنا سکھایا تو ان میں سے ایک نے مجھے ایک کمان ہدیتہ دی، میں نے ( جی میں ) کہا یہ کوئی مال تو ہے نہیں، اس سے میں فی سبیل اللہ تیر اندازی کا کام لوں گا ( پھر بھی ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا اور آپ سے اس بارے میں پوچھوں گا، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جن لوگوں کو قرآن پڑھنا لکھنا سکھا رہا تھا، ان میں سے ایک شخص نے مجھے ہدیہ میں ایک کمان دی ہے، اور اس کی کچھ مالیت تو ہے نہیں، میں اس سے اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں پسند ہو کہ تمہیں آگ کا طوق پہنایا جائے تو اس کمان کو قبول کر لو ۔
A similar tradition has also been transmitted by Ubadah bin al-Samit رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators, but the former tradition is more perfect. This version has:
I said: What do you think about it, Messenger of Allah? He said: A live coal between your shoulders which you have put around your neck or hanged it.
ہم سے عمرو بن عثمان اور کثیر بن عبید نے بیان کیا، کہا ہم سے بقیع نے بیان کیا، مجھ سے بشر بن عبداللہ بن یسار نے بیان کیا، عمرو نے کہا: مجھ سے عبادہ بن نسی نے جنادہ بن ابی امیہ کی سند سے بیان کیا, اس سند سے بھی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، لیکن اس سے پہلی والی روایت زیادہ مکمل ہے اس میں یہ ہے کہ
میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تمہارے دونوں مونڈھوں کے درمیان ایک انگارا ہے جسے تم نے گلے کا طوق بنا لیا ہے یا اسے لٹکا لیا ہے ۔
Narrated Abu Saeed Al Khudri رضی اللہ عنہ :
Some of the Companions of Prophet صلی اللہ علیہ وسلم went on a journey. They encamped with a clan of the Arabs and sought hospitality from them, but they refused to provide them with any hospitality. The chief of the clan was stung by a scorpion or bitten by a snake. They gave him all sorts of treatment, but nothing gave him relied. One of them said: Would that you had gone to those people who encamped with you ; some of them might have something which could give you relief to your companion. (So they went and) one of them said: Our chief has been stung by a scorpion or bitten by a snake. We administered all sorts of medicine but nothing gave him relief. Has any of you anything, i.e. charm, which gives healing to our companion. One of those people said: I shall apply charm; we sought hospitality from you, but you refused to entertain us. I am not going to apply charm until you give me some wages. So they offered them a number of sheep. He then came to and recited Faithat-al-Kitab and spat until he was cured as if he were set free from a bond. Thereafter they made payment of the wages as agreed by them. They said: Apportion (the wages). The man who applied the charm said: Do not do until we come to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and consult him. So they came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم next morning and mentioned it to him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: From where did you learn that it was a charm ? You have done right. Give me a share along with you.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو بشر کی سند سے اور ابو المتوکل کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک جماعت ایک سفر پر نکلی اور عرب کے قبائل میں سے کسی قبیلے کے پاس وہ لوگ جا کر ٹھہرے اور ان سے مہمان نوازی طلب کی تو انہوں نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا وہ پھر اس قبیلے کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ ( ڈنک مار دیا ) کھایا، انہوں نے ہر چیز سے علاج کیا لیکن اسے کسی چیز سے فائدہ نہیں ہو رہا تھا، تب ان میں سے ایک نے کہا: اگر تم ان لوگوں کے پاس آتے جو تمہارے یہاں آ کر قیام پذیر ہیں، ممکن ہے ان میں سے کسی کے پاس کوئی چیز ہو جو تمہارے ساتھی کو فائدہ پہنچائے ( وہ آئے ) اور ان میں سے ایک نے کہا: ہمارا سردار ڈس لیا گیا ہے ہم نے اس کی شفایابی کے لیے ہر طرح کی دوا دارو کر لی لیکن کوئی چیز اسے فائدہ نہیں دے رہی ہے، تو کیا تم میں سے کسی کے پاس جھاڑ پھونک قسم کی کوئی چیز ہے جو ہمارے ( ساتھی کو شفاء دے ) ؟ تو اس جماعت میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں، میں جھاڑ پھونک کرتا ہوں، لیکن بھائی بات یہ ہے کہ ہم نے چاہا کہ تم ہمیں اپنا مہمان بنا لو لیکن تم نے ہمیں اپنا مہمان بنانے سے انکار کر دیا، تو اب جب تک اس کا معاوضہ طے نہ کر دو میں جھاڑ پھونک کرنے والا نہیں، انہوں نے بکریوں کا ایک گلہ دینے کا وعدہ کیا تو وہ ( صحابی ) سردار کے پاس آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر تھوتھو کرتے رہے یہاں تک کہ وہ شفایاب ہو گیا، گویا وہ رسی کی گرہ سے آزاد ہو گیا، تو ان لوگوں نے جو اجرت ٹھہرائی تھی وہ پوری پوری دے دی، تو صحابہ نے کہا: لاؤ اسے تقسیم کر لیں، تو اس شخص نے جس نے منتر پڑھا تھا کہا: نہیں ابھی نہ کرو یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے پوچھ لیں تو وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے پورا واقعہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کیسے جانا کہ یہ جھاڑ پھونک ہے؟ تم نے اچھا کیا، اپنے ساتھ تم میرا بھی ایک حصہ لگانا ۔
This tradition has also been transmitted by Abu Saeed al-Khudri رضی اللہ عنہ form the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم.
ہم سے حسن بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن حسن نے بیان کیا، وہ محمد بن سیرین سے، وہ اپنے بھائی معبد بن سیرین سے, اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے , نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
Kharijah bin al-Salt quoted his paternal uncle as saying:
He passed by a clan (of the Arab) who came to him and said: You have brought what is good from this man. Then they brought a lunatic in chains. He recited Surat al-Fatihah over him three days, morning and evening. When he finished, he collected his saliva and then spat it out, (he felt relief) as if he were set free from a bond. They gave him something (as wages). He then came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and mentioned it to him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Accept it, for by my life, some accept it for a worthless charm, but you have done so far a genuine one.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن ابی سفر کی سند سے اور شعبی کی سند سے, خارجہ بن صلت کے چچا علاقہ بن صحار تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ آدمی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس سے بھلائی لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو ذرا جھاڑ پھونک دیں، پھر وہ لوگ رسیوں میں بندھے ہوئے ایک پاگل لے کر آئے، تو انہوں نے اس پر تین دن تک صبح و شام سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، جب وہ اسے ختم کرتے تو ( منہ میں ) تھوک جمع کرتے پھر تھو تھو کرتے، پھر وہ شخص ایسا ہو گیا، گویا اس کی گرہیں کھل گئیں، ان لوگوں نے ان کو کچھ دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بے دھڑک ) کھاؤ، قسم ہے ( یعنی اس ذات کی جس کے اختیار میں میری زندگی ہے ) لوگ تو جھوٹا منتر پڑھ کر کھاتے ہیں، آپ تو سچا منتر پڑھ کر کھا رہے ہیں ۔
Narrated Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The earnings of a cupper are impure, the price paid for a dog is impure, and the hire paid to a prostitute is impure.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں ابان نے یحییٰ کی سند سے، انہیں ابراہیم بن عبداللہ کی سند سے، یعنی ابن قارظ نے سائب بن یزید کی سند سے , رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی ( پچھنا ) لگانے والے کی کمائی بری ( غیر شریفانہ ) ہے کتے کی قیمت ناپاک ہے اور زانیہ عورت کی کمائی ناپاک ( یعنی حرام ) ہے ۔
Narrated Muhayyisah رضی اللہ عنہ from his father:
He permission of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم regarding hire of the cupper, but he forbade him. He kept on asking his permission, and at last he said to him: Feed your watering camel with it and feed your slave with it.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے مالک کی سند سے، ابن شہاب کی سند سے، ابن محیصہ رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد سے
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگا کر اجرت لینے کی اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اس کے لینے سے منع فرمایا، وہ برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے ان سے کہہ دیا کہ اس سے اپنے اونٹ اور اپنے غلام کو چارہ کھلاؤ۔
Narrated Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم got him self cupped and gave the cupper his wages. Had he considered it impure, he would not have given it (wage) to him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ہم سے خالد نے بیان کیا، عکرمہ رضی اللہ عنہ سے,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوائی، اور سینگی لگانے والے کو اس کی مزدوری دی، اگر آپ اسے حرام جانتے تو اسے مزدوری نہ دیتے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
That Abu Tibah cupped the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and he ordered that a sa' of dates be given to him, also ordering his people to remit some of his dues.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے حمید الطَّویل کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ابوطیبہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سینگی لگائی تو آپ نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکان سے کہا کہ اس کے خراج میں کچھ کمی کر دیں۔
Narrated Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade earnings of slave-girls.
ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ محمد بن جوہدہ سے، انہوں نے کہا: ابوحازم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Tariq bin Abdur Rahman al-Qarash:
Rafi ibn Rifaah رضی اللہ عنہ came to a meeting of the Ansar and said: The Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade us (from some things) today, and he mentioned some things. He forbade the earning of a slave-girl except what she earned with her hand. He indicated (some things) with his fingers such as baking, spinning, and ginning.
ہم سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا، ہم سے عکرمہ نے بیان کیا, طارق بن عبدالرحمٰن قرشی کہتے ہیں
رافع بن رفاعہ رضی اللہ عنہ انصار کی ایک مجلس میں آئے اور کہنے لگے کہ آج اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا ہے، پھر انہوں نے کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی ( زنا کی کمائی ) سے منع فرمایا سوائے اس کمائی کے جو اس نے ہاتھ سے محنت کر کے کمائی ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے اشارہ کر کے بتایا، مثلاً روٹی پکانا، چرخہ کاتنا، روئی دھننا، جیسے کام۔
Narrated Rafi bin Khadij رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade earnings of a slave-girl unless it is known from where it came.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی فدیک نے عبید اللہ کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن ہریرہ نے اپنے والد سے,رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے جب تک کہ یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا ہے ؟ ۔
Narrated Abu Masud رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade the price paid for a dog, the hire paid to a prostitute, and the gift given to a soothsayer.
ہم سے قتیبہ نے سفیان کی سند سے، زہری کی سند سے، ابوبکر بن عبدالرحمٰن کی سند سے, ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، زانیہ عورت کی کمائی , اور کاہن کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔
Narrated Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade (taking hire for) a stallion's covering.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، علی بن الحکم سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے ۔
Abu Majidah said:
I cut the ear of a boy, or he cut my ear (the narrator is doubtful). Abu Bakr رضی اللہ عنہ then came to us to perform hajj and we got together with him. But he referred us to Umar Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ . Umar (Ibn al-Khattab رضی اللہ عنہ ) said: This reached the extent of retaliation. Call a cupper to me so that he may retaliate. When the cupper was called, he (Umar رضی اللہ عنہ ) said: I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: I gave a boy to my maternal aunt, and I hope that she will be blessed in respect of him. I said to her: Do not entrust him to a supper, nor to a goldsmith, nor to a butcher. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Abd al-A'la from Ibn Ishaq who said: Abu Majidah is a man of Banu Sahm narrating from Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ .
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، انہیں محمد بن اسحاق نے علاء بن عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا, ابوماجدہ کہتے ہیں
میں نے ایک غلام کا کان کاٹ لیا، یا میرا کان کاٹ لیا گیا، ( یہ شک راوی کو ہوا ہے ) ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں حج کے ارادے سے آئے، ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، تو انہوں نے ہمیں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ معاملہ تو قصاص تک پہنچ گیا ہے، کسی حجام ( پچھنا لگانے والے ) کو میرے پاس بلا کر لاؤ تاکہ وہ اس سے ( جس نے کان کاٹا ہے ) قصاص لے، پھر جب حجام ( پچھنا لگانے والا ) بلا کر لایا گیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: میں نے اپنی خالہ کو ایک غلام ہبہ کیا اور میں نے امید کی کہ انہیں اس غلام سے برکت ہو گی تو میں نے ان سے کہا کہ اس غلام کو کسی حجام ( سینگی لگانے والے ) ، سنار اور قصاب کے حوالے نہ کر دینا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالاعلی نے اسے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ابن ماجدہ بنو سہم کے ایک فرد ہیں اور انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ( عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت مرسل ہے )
A similar tradition has also been transmitted by Abu Majidah al-Sahmi from Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators.
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے سلمہ بن الفضل نے بیان کیا، ہم سے ابن اسحاق نے بیان کیا، ان سے العلاء بن عبدالرحمٰن حرقی نے بیان کیا، ابن ماجدہ سہمی نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سےاور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Abu Majidah quoted Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ as saying: I heard the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم say. . . narrating the tradition to the same effect.
ہم سے الفضل بن یعقوب نے بیان کیا، ہم سے عبد العلا نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسحاق نے بیان کیا، ہم سے علاء بن عبدالرحمٰن حرقی نے بیان کیا، ان سے ابن عبداللہ نے بیان کیا, اس سند سے بھی ابن ماجدہ سہمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سےاور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
It was narrated from Az-Zuhri, from Salim, from his father:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If anyone buys a slave who possesses property. his property belongs to the seller unless buyer makes a provision and if anyone buys palm-trees after they have been fecundated, the fruit belongs to the seller unless the buyer make a provision.
ہم سے احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، زہری کی سند سے، سلیم نے اپنے والد سے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی غلام کو بیچا اور اس کے پاس مال ہو، تو اس کا مال بائع لے گا، الا یہ کہتے ہیں کہ خریدار پہلے سے اس مال کی شرط لگا لے، ( ایسے ہی ) جس نے تابیر ( اصلاح ) کئے ہوئے ( گابھا دئیے ہوئے کھجور کا درخت بیچا تو پھل بائع کا ہو گا الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے ( کہ پھل میں لوں گا ) ۔
This tradition has also been narrated by Umar رضی اللہ عنہما from the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم through a different chain of narrators. It mentions only the sale of the slave. It has also been transmitted by Nafi on the authority of Ibn Umar رضی اللہ عنہما from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم indicating only the sale of palm-trees. Abu Dawud said:
Al-Zuhri and Nafi differed among themselves in four traditions. This is one of them.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، نافع کی سند سے، ابن عمر کی سند سے بیان کیا،عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غلام کا واقعہ روایت کیا ہے، اور نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سےاور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھجور کے درخت کے واقعہ کی روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں
زہری اور نافع نے چار حدیثوں میں اختلاف کیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone buys a slave who possesses property, his property belongs to the seller unless the buyer makes a proviso.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، سفیان کی سند سے، مجھ سے سلمہ بن کلہیل نے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو مال بیچنے والے کو ملے گا، الا یہ کہ خریدار خریدتے وقت شرط لگا لے ( کہ مال میں لوں گا تو پھر خریدار ہی پائے گا ) ۔