Abu Dharr said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم asked me: 'How will you act, Abu Dharr, when you are under rulers who kill prayer or delay it (beyond its proper time) ?' I said: 'Messenger of Allah, what do you command me ?' He replied: 'Offer the prayer at its proper time, and if you say it along with them, say it, for it will be a supererogatory prayer for you. '
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے ابو عمران کی سند سے، یعنی الجونی نے عبداللہ بن صامت کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حاکم و سردار ہوں گے جو نماز کو مار ڈالیں گے؟ یا فرمایا: نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اس سلسلے میں آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز وقت پر پڑھ لو، پھر اگر تم ان کے ساتھ یہی نماز پاؤ تو ( دوبارہ ) پڑھ لیا کرو ۱؎، یہ تمہارے لیے نفل ہو گی ۔
Narrated Amr Ibn Maymun al-Awdi said:
Muadh Ibn Jabal رضی اللہ عنہ the Messenger of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came to us in Yemen, I heard his takbir (utterance of AllahuAkbar) in the dawn prayer. He was a man with loud voice. I began to love him. I did depart from him until I buried him dead in Syria (i.e. until his death). Then I searched for a person who had deep understanding in religion amongst the people after him. So I came to Ibn Masud رضی اللہ عنہ and remained in his company until his death. He (Ibn Masud رضی اللہ عنہ ) said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said to me: How will you act when you are ruled by rulers who say prayer beyond its proper time? I said: What do you command me, Messenger of Allah, if I witness such a time? He replied: Offer the prayer at its proper time and also say your prayer along with them as a supererogatory prayer.
ہم سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم دہیم الدمشقی نے بیان کیا، ہم سے الولید نے بیان کیا، ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے حسان نے بیان کیا، جس سے ابن عطیہ نے بیان کیا، مجھ سے عبدالرحمٰن بن ثابت نے بیان کیا, عمرو بن میمون اودی کہتے ہیں کہ
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد بن کر ہمارے پاس یمن آئے، میں نے فجر میں ان کی تکبیر سنی، وہ ایک بھاری آواز والے آدمی تھے، مجھ کو ان سے محبت ہو گئی، میں نے ان کا ساتھ نہیں چھوڑا یہاں تک کہ میں نے ان کو شام میں دفن کیا، پھر میں نے غور کیا کہ ان کے بعد لوگوں میں سب سے بڑا فقیہ کون ہے؟ ( تو معلوم ہوا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں ) چنانچہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے ساتھ چمٹا رہا یہاں تک کہ وہ بھی انتقال فرما گئے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہارے اوپر ایسے حکمراں مسلط ہوں گے جو نماز کو وقت پر نہ پڑھیں گے؟ ، تو میں نے کہا: اللہ کے رسول! جب ایسا وقت مجھے پائے تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز کو اول وقت میں پڑھ لیا کرنا اور ان کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لینا ۔
Narrated Ubadah Ibn as-Samit رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ﷺ said: After me you will come under rulers who will be detained from saying prayer at its proper time by (their) works until its time has run out, so offer prayer at its proper time. A man asked him: Messenger of Allah, may I offer prayer with them? He replied: Yes, if you wish (to do so). Sufyan (another narrator through a different chain)said: May I offer prayer with them if I get it with them? He said: Yes, if you wish to do so.
ہم سے محمد بن قدامہ بن اعین نے بیان کیا، ہم سے جریر نے منصور کی سند سے، ہلال بن یساف سے، ابو المثنیٰ سے، عبادہ بن صامت کے بھتیجے سے ,عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جنہیں وقت پر نماز پڑھنے سے بہت سی چیزیں غافل کر دیں گی یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جائے گا، لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھ لیا کرنا ، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان کے ساتھ بھی پڑھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگر تم چاہو ۔ سفیان نے ( اپنی روایت میں ) یوں کہا ہے: اگر میں نماز ان کے ساتھ پاؤں تو ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، تم ان کے ساتھ ( بھی ) پڑھ لو اگر تم چاہو ۔
Narrated Qabisah Ibn Waqqas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: After me you will be ruled by rulers who will delay the prayer and it will be to your credit but to their discredit. So pray with them so long as they pray facing the qiblah.
ہم سے ابو الولید طیالسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو ہاشم یعنی الزعفرانی نے بیان کیا، مجھ سے صالح بن عبید نے بیان کیا, قبیصہ بن وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو نماز تاخیر سے پڑھیں گے، یہ تمہارے لیے مفید ہو گی، اور ان کے حق میں غیر مفید، لہٰذا تم ان کے ساتھ نماز پڑھتے رہنا جب تک وہ قبلہ رخ ہو کر پڑھیں ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم returned from the Battle of Khaibar, he travelled during the night. When we felt sleep, he halted for rest. Addressing Bilal رضی اللہ عنہ he said: Keep vigilance at night for us. But Bilal who was leaning against the saddle of his mount was dominated by sleep. Neither the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم nor Bilal nor any of his Companions could get up till the sunshine struck them. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم got up first of all. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was embarrassed and said: O Bilal! He replied: He who detained your soul, detained my soul, Messenger of Allah, my parents be sacrificed for you. Then they drove their mounts to a little distance. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم perfumed ablution and commanded Bilal who made announcement for the prayer. He (the Prophet) led them in the Fajr prayer. When he finished prayer, he said: If anyone forget saying prayer, he should observe it when he recalls it, for Allah has said (in the Quran): Establish prayer for my remembrance . Yunus said: Ibn Shihab used to recite this verse in a similar way (i. e. instead of reciting the word li-dhikri - for the sake of My remembrance - he would recite li-dhikra - when you remember). Ahmad (one of the narrator) said: 'Anbasah (a reporter) reported on the authority of Yunus the word li-dhikri (for the sake of my remembrance). Ahmad said: The word nu'as (occurring in this tradition) means drowsiness .
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، مجھے یونس نے خبر دی، وہ ابن شہاب کی سند سے، وہ ابن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت غزوہ خیبر سے لوٹے تو رات میں چلتے رہے، یہاں تک کہ جب ہمیں نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اخیر رات میں پڑاؤ ڈالا، اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”(تم جاگتے رہنا) اور رات میں ہماری نگہبانی کرنا“، ابوہریرہ کہتے ہیں کہ بلال بھی سو گئے، وہ اپنی سواری سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر نہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے نہ بلال رضی اللہ عنہ، اور نہ آپ کے اصحاب میں سے کوئی اور ہی، یہاں تک کہ جب ان پر دھوپ پڑی تو سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر بیدار ہوئے اور فرمایا: ”اے بلال!“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے بھی اسی چیز نے گرفت میں لے لیا جس نے آپ کو لیا، پھر وہ لوگ اپنی سواریاں ہانک کر آگے کچھ دور لے گئے ۱؎، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور بلال کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھائی، جب نماز پڑھا چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب بھی یاد آئے اسے پڑھ لے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: نماز قائم کرو جب یاد آئے“۔ یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے (یعنی «للذكرى» لیکن مشہور قرأت: «أقم الصلاة للذكرى» (سورۃ طہٰ: ۱۴) ہے)۔ احمد کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے اس حدیث میں «للذكرى» کہا ہے۔ احمد کہتے ہیں: «الكرى» «نعاس» (اونگھ) کو کہتے ہیں.
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported Another version of the above tradition adds: :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Go away from this place of yours where inadvertence took hold of you. He then commanded Bilal رضی اللہ عنہ who called for prayer and announced that the prayer in congregation was ready (i.e. he uttered the iqamah) and he observed prayer. Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Malik, Sufyan bin Uyainah, al-Awzai, and Abdul-Razzaq from Mamar and Ibn Ishaq, none of them made a mention of the call for prayer (adman) in this version of the tradition narrated by al-Zuhri, and none of them attribute (this tradition) to him except al-Awzai and Aban al-'Attar on the authority of Mamar.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے ابان نے بیان کیا، ہم سے معمر نے بیان کیا، وہ زہری کی سند سے، وہ سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یہ بھی روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اس جگہ سے جہاں تمہیں یہ غفلت لاحق ہوئی ہے کوچ کر چلو ، وہ کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان ۱؎ دی اور تکبیر کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مالک، سفیان بن عیینہ، اوزاعی اور عبدالرزاق نے معمر اور ابن اسحاق سے روایت کیا ہے، مگر ان میں سے کسی نے بھی زہری کی اس حدیث میں اذان ۲؎ کا ذکر نہیں کیا ہے، نیز ان میں سے کسی نے اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا ہے سوائے اوزاعی اور ابان عطار کے، جنہوں نے اسے معمر سے روایت کیا ہے۔
Abu Qatadah reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was on a journey. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم took a turn and I also took a turn with him. He said: 'Look!' I said: 'This is a rider; these are two riders; and these are three' until we became seven. He then said: Guard for us our prayer, i.e. the Fajr prayer. But sleep dominated them and none could awaken them except the heat of the sun. They stood up and drove away a little. Then they got down (from their mounts) and performed ablution. Bilal called for prayer and they offered two rak'ahs of (Sunnah) of Fajr and then offered the Fajr prayer and mounted (their mounts). Some of them said to others: We showed negligence in prayer. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: There is no negligence in sleep. The negligence is in wakefulness. If any of you forget saying prayer, he should offer it when he remembers it and next day (he should say it) at its proper time.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، ثابت البنانی کی سند سے، وہ عبداللہ بن رباح الانصاری کی سند سے, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، تو آپ ایک طرف مڑے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرف مڑ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، ( یہ کون آ رہے ہیں ) ؟ ، اس پر میں نے کہا: یہ ایک سوار ہے، یہ دو ہیں، یہ تین ہیں، یہاں تک کہ ہم سات ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہماری نماز کا ( یعنی نماز فجر کا ) خیال رکھنا ، اس کے بعد انہیں نیند آ گئی اور وہ ایسے سوئے کہ انہیں سورج کی تپش ہی نے بیدار کیا، چنانچہ لوگ اٹھے اور تھوڑی دور چلے، پھر سواری سے اترے اور وضو کیا، بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو سب نے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر دو رکعت فرض ادا کی، اور سوار ہو کر آپس میں کہنے لگے: ہم نے اپنی نماز میں کوتاہی کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو جانے میں کوئی کوتاہی اور قصور نہیں ہے، کوتاہی اور قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز بھول جائے تو جس وقت یاد آئے اسے پڑھ لے اور دوسرے دن اپنے وقت پر پڑھے ۔
Narrator Khalid bin Sumair said:
Abdullah bin Rabah al-Ansari, whom the Ansar called faqih (juries), came to us from Madina, and reported us on the authority of Abu Qatadah al-Ansari رضی اللہ عنہ , the horseman of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم saying: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent a military expedition consisting of the chief Companions. He then narrated the same story, saying Nothing awakened us except the rising sun. We stoop up in bewilderment, for our prayer. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Wait a little, wait a little. When the sun rose high, the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Those who sued to observer the two rak'ahs of Fajr prayer (sunnah prayer before obligatory prayer) should observe them. Then those who used to observe and those who would not observe stood up and said prayer. Then the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded to call for prayer; the call for prayer was made accordingly. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم stood and led us in prayer. When he turned away (from the prayer) he said: We thank Allah for the fact that we were not engaged in any wordily affairs which detained us from our prayer. Instead our souls were in the hands of Allah. He released them whenever He wished. If any one of you gets morning prayer tomorrow at its proper time, he should offer a similar prayer as an atonement.
ہم سے علی بن نصر نے بیان کیا، ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ہم سے اسود بن شیبان نے بیان کیا, خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ
مدینہ سے عبداللہ بن رباح انصاری جنہیں انصار مدینہ فقیہ کہتے تھے ہمارے پاس آئے اور انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ مجھ سے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہسوار تھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا ایک لشکر بھیجا ( اور پھر یہی قصہ بیان کیا ) ، اس میں ہے: تو سورج کے نکلنے ہی نے ہمیں جگایا، ہم گھبرائے ہوئے اپنی نماز کے لیے اٹھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، ٹھہرو، یہاں تک کہ جب سورج چڑھ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو لوگ فجر کی دو رکعت سنت پڑھا کرتے تھے پڑھ لیں ، چنانچہ جو لوگ سنت پڑھا کرتے تھے اور جو نہیں پڑھتے تھے، سبھی سنت پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور سبھوں نے دو رکعت سنت ادا کی، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے اذان دینے کا حکم فرمایا، اذان دی گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم دنیا کے کسی کام میں نہیں پھنسے تھے، جس نے ہم کو نماز سے باز رکھا ہو، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، جب اس نے چاہا انہیں چھوڑا، تم میں سے جو شخص کل فجر ٹھیک وقت پر پائے وہ اس کے ساتھ ایسی ہی ایک اور نماز پڑھ لے ۔
This tradition has also been reported by Abu Qatadah through a different chain of narrators. He said:
Allah Messenger (ﷺ) said: Allah detained your should how He wished and returned when He wished. Stand up and call for prayer. They (the Companions) stood and performed ablution. When the sun rose high, the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم stood and led the people in prayer.
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد نے خبر دی، انہیں حسین نے اور ابن ابی قتادہ سے, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث میں یوں مروی ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو جب تک چاہا روکے رکھا، اور جب چاہا انہیں چھوڑ دیا، تم اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو ، چنانچہ سب اٹھے اور سب نے وضو کیا یہاں تک کہ جب سورج چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
This tradition has been transmitted through a different chain by Abu Qatadah رضی اللہ عنہ to the same effect. This version adds:
He performed ablution when the sun had arisen high and led them in prayer.
ہم سے ہناد نے بیان کیا، ہم سے ابطار نے بیان کیا، حسین رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں,اس میں ہے
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جس وقت سورج چڑھ گیا پھر انہیں نماز پڑھائی ۔
Abu Qatadah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: There is no remissness in sleep, it is only when one is awake that there is remissness when you delay saying the prayer till the time for the next prayer comes.
ہم سے عباس العنبری نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن داؤد نے جو طیالسی ہیں، انہوں نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابن المغیرہ نے، انہوں نے ثابت کی سند سے، انہوں نے عبداللہ بن رباح کی سند سے بیان کیا, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سو جانے میں کوتاہی نہیں ہے، بلکہ کوتاہی یہ ہے کہ تم جاگتے ہوئے کسی نماز میں اس قدر دیر کر دو کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If any one forgets a prayer or oversleeps, he should observe it when he remembers it; there is no expiation for it except that.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اسے پڑھ لے، یہی اس کا کفارہ ہے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور کفارہ نہیں ۔
Imran bin Husain رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم was on his journey. They (the people) slept abandoning the Fajr prayer. They awoke by the heat of the sun. Then they travelled a little until the sun rose high. He (the Prophet) commanded the muadhdhin (one who called for prayer) to call for prayer. He then offered two rak'ahs of prayer (sunnah prayer) before the (obligatory) fajr prayer. Then he (the muadhdhin) announced for saying the prayer in congregation (i. e. he uttered iqamah). Then he led them in the morning prayer.
ہم سے وہب بن بقیہ نے خالد کی سند سے، یونس بن عبید کی سند سے، حسن رضی اللہ عنہ سے, عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کہ لوگ نماز فجر میں سوئے رہ گئے، سورج کی گرمی سے وہ بیدار ہوئے تو تھوڑی دور چلے یہاں تک کہ سورج چڑھ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا، تو اس نے اذان دی تو آپ نے فجر ( کی فرض نماز ) سے پہلے دو رکعت سنت پڑھی، پھر ( مؤذن نے ) تکبیر کہی اور آپ نے فجر پڑھائی۔
Narrated Amr Ibn Umayyah ad-Damri رضی اللہ عنہ :
We were in the company of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم during one of his journeys. He overslept abandoning the morning prayer until the sun had arisen. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم awoke and said: Go away from this place. He then commanded Bilal to call for prayer. He called for prayer. They (the people) performed ablution and offered two rak'ahs of the morning prayer (sunnah prayer). He then commanded Bilal (to utter the iqamah, i. e. to summon the people to attend the prayer). He announced the prayer (i.e. uttered the iqamah) and he led them in the morning prayer.
ہمیں عباس العنبری نے بتایا اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا اور یہ عباس کا قول ہے کہ ان سے عبداللہ بن یزید نے حیوہ بن شریح نے بیان کیا، ان سے عیاش بن عباس یعنی الکتبانی نے بیان کیا، ان سے کلیب بن سبحان نے بیان کیا، ان سے زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ فجر میں سوئے رہ گئے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے اور فرمایا: اس جگہ سے کوچ کر چلو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی پھر لوگوں نے وضو کیا اور فجر کی دونوں سنتیں پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فجر پڑھائی۔
Narrator Dhu Mikhbar al-Habashi رضی اللہ عنہ :
Who used to serve the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, reported a version of the previous tradition. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم performed ablution in such a way that there is no mud on the earth. He then commanded Bilal رضی اللہ عنہ (to call for prayer). He called for prayer. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم stood and offered two rak'ahs of prayer unhurriedly. This is narrated by Hajjaj on the authority of Yazid bin Sulaih from Dhu Mikhbar from a person of al-Habashah (Ethiopia). Ubaid (a narrator) said: Yazid bin Salih (instead of Yazid bin Sulaih).
ہم سے ابراہیم بن الحسن نے بیان کیا، ان سے حجاج نے، ہم سے ابن محمد نے بیان کیا، ہم سے حارث نے بیان کیا۔ ہم سے عبید بن ابی الوزیر نے بیان کیا، کہا ہم سے مبشر یعنی حلبی نے بیان کیا، کہا ہم سے حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن صالح نے بیان کیا, ذی مخبر حبشی رضی اللہ عنہ (خادم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) سے اس واقعے میں روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اتنے پانی سے ) وضو کیا کہ مٹی اس سے بھیگ نہیں سکی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے دو رکعتیں ادا کیں، پھر بلال رضی اللہ عنہ سے کہا: نماز کے لیے تکبیر کہو تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کیا۔ حجاج کی روایت میں «عن يزيد بن صليح حدثني ذو مخبر رجل من الحبشة» ہے اور عبید کی روایت میں «يزيد بن صليح» کے بجائے «يزيد بن صالح.» ہے۔
Narrators Dhu Mikhbar:
The nephew of the Negus. This version adds: He (Bilal) called for prayer unhurriedly.
ہم سے مومل بن الفضل نے بیان کیا، ہم سے ولید نے حارث کی سند سے بیان کیا، یعنی ابن عثمان نے یزید بن صالح کی سند سے, اس سند سے بھی ذی مخبر سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے
نجاشی کے بھتیجے نے اس قصے میں کہا ہے:انہوں نے بغیر جلد بازی کے ٹھہر ٹھہر کر اذان دی۔
Narrated Abdullah Ibn Masud رضی اللہ عنہ :
We proceeded with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم on the occasion of al-Hudaybiyyah. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Who will keep watch for us? Bilal رضی اللہ عنہ said: I (shall do). The overslept till the sun arose. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم awoke and said: Do as you used to do (i.e. offer prayer as usual). Then we did accordingly. He said: Anyone who oversleeps or forgets (prayer) should do similarly.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے جامی بن شداد سے روایت کی کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی علقمہ رضی اللہ عنہ سے سنا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آئے، آپ نے فرمایا: رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا؟ ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی سو جائے یا ( نماز پڑھنی ) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے ۱؎۔
Narrated Abdullah Ibn Abbas رضی اللہ عنہما :
The Messenger of Allah ﷺ said: I was not commanded to build high mosques. Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said: You will certainly adorn them as the Jews and Christians did.
ہم سے محمد بن صباح بن سفیان نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، ابو فجرہ کی سند سے، وہ یزید بن العصام کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسجدوں کے بلند کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تم مسجدیں اسی طرح سجاؤ گے جس طرح یہود و نصاریٰ سجاتے تھے۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The Last Hour will not come until people vie with one another about mosques.
ہم سے محمد بن عبداللہ الخزاعی نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، انہوں نے ایوب کی سند سے، وہ ابوقلابہ سے, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر و مباہات نہ کرنے لگیں ۱؎۔
Narrated Uthman Ibn Abul As رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم commanded him to build a mosque at Taif where the idols were placed.
ہم سے رجا بن المرجی نے بیان کیا، ہم سے ابو ہمام الدلال محمد بن محبب نے بیان کیا، ان سے سعید بن السائب نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبداللہ بن عیاض نے بیان کیا، عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طائف کی مسجد ایسی جگہ بنانے کا حکم دیا، جہاں طائف والوں کے بت تھے۔