Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہما reported:
The mosque (of the Prophet) during his lifetime was built with bricks, its roof with branches of the palm-tree, and its pillars with palm-wood, as Mujahid said: Abu Bakr رضی اللہ عنہ did not add anything to it. But Umar رضی اللہ عنہ added to it; he built as it was built during the lifetime of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم with bricks and branches, and he changed its pillars. Mujahid said: Its pillars were made of wood. Uthman رضی اللہ عنہ changed it altogether with increasing addition. He built its walls with decorated stone and lime. And he built the pillars with decorated stone and its roof with teak. Mujahid said: Its roof was made of teak. Abu Dawud said: Al-Qassah means lime used as mortar.
ہم سے محمد بن یحییٰ بن فارس اور مجاہد بن موسیٰ نے بیان کیا اور یہ زیادہ مکمل ہے, انہوں نے کہا: ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انصالح سے، ہم سے نافع نے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی، مجاہد کہتے ہیں: اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا، البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ کیا، اور اس کی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی بنیادوں کے مطابق کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے کی اور اس کے ستون بھی نئی لکڑی کے لگائے، مجاہد کی روایت میں «عمده خشبا» کے الفاظ ہیں، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی عمارت میں تبدیلی کی اور اس میں بہت سارے اضافے کئے، اس کی دیواریں منقش پتھروں اور گچ ( چونا ) سے بنوائیں، اس کے ستون منقش پتھروں کے بنوائے اور اس کی چھت ساگوان کی لکڑی کی بنوائی۔ مجاہد کی روایت میں «وسقفه الساج» کے بجائے «وسقفه بالساج» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث میں مذکور ( «قصة» ) کے معنی گچ کے ہیں۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما reported:
The pillars of the mosque of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم during the life time of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم were made of the trunks of the palm-tree; they covered from the above by twigs of the palm-tree; they decayed during the caliphate of Abu Bakr رضی اللہ عنہ . He built it afresh with trunks and twigs of the palm-tree. But they again decayed during the caliphate of Uthman رضی اللہ عنہ . He, therefore, built it with bricks. That survives until today.
ہم سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، شعبان سے، فراس کی سند سے، عطیہ کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، اس کے اوپر کھجور کی شاخوں سے سایہ کر دیا گیا تھا، پھر وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اس کو کھجور کے تنوں اور اس کی ٹہنیوں سے بنوایا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وہ بھی بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اسے پکی اینٹوں سے بنوا دیا، جو اب تک باقی ہے۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came over to Madina and encamped at the upper side of Madina among the tribe known as Banu Amr bin Awf. He stayed among them for fourteen days. He then sent someone to call Banu al-Najjar. They came to him hanging their swords from the necks. Anas رضی اللہ عنہ then said: As if I am looking at the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sitting on his mount and Abu Bakr رضی اللہ عنہ seated behind him, and Banu al-Najjar standing around him. He descended in the courtyard of Abu Ayyub رضی اللہ عنہ. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم would say his prayer in the folds of the sheep and goats. He commanded us to build a mosque. He then sent for Banu al-Najjar and said to them: Banu al-Najjar, sell this land of yours to me for some price. They replied: By Allah, we do not want any price (from you) except from Allah. Anas رضی اللہ عنہ said: I tell what this land contained. It contained the graves of the disbelievers, dung-hills, and some trees of date-palm. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded and the graves of the disbelievers were dug open, and the trees of the date-palm were cut off. The wood of the date-palm were erected in front of the mosque ; the door-steps were built of stone. They were reciting verses carrying the stones. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم also joined them (in reciting verses) saying: O Allah, there is no good except the good of the Hereafter. So grant you aid to the Ansar and the Muhajirah.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوارث نے بیان کیا، انہوں نے ابو التیا ح سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور مدینہ کے بالائی حصے میں ایک محلے میں ٹھہرے، جسے کہتے ہیں: بنو عمرو بن عوف۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان چودہ راتیں رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو النجار کو بلوایا، وہ اپنی تلواریں لے کر آئے,انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ شہر کے بالائی حصہ میں ایک محلہ میں اترے، جسے بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہا جاتا تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چودہ دن تک قیام پذیر رہے، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے آئے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہیں یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے مکان کے صحن میں اترے، جس جگہ نماز کا وقت آ جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے، بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم فرمایا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا، ( وہ آئے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے بنو نجار! تم مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے چاہتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس باغ میں جو چیزیں تھیں وہ میں تمہیں بتاتا ہوں: اس میں مشرکوں کی قبریں تھیں، ویران جگہیں، کھنڈرات اور کھجور کے درخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، مشرکوں کی قبریں کھود کر پھینک دی گئیں، ویران جگہیں اور کھنڈر ہموار کر دیئے گئے، کھجور کے درخت کاٹ ڈالے گئے، ان کی لکڑیاں مسجد کے قبلے کی طرف قطار سے لگا دی گئیں اور اس کے دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پتھروں سے بنائے گئے، لوگ پتھر اٹھاتے جاتے تھے اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے اور فرماتے تھے: «اللهم لا خير إلا خير الآخره فانصر الأنصار والمهاجره» اے اللہ! بھلائی تو دراصل آخرت کی بھلائی ہے تو تو انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Mosque (of the Prophet) was built in the land of Banu al-Najjar which contained crops, palm trees and graves of the disbelievers. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Sell it to me for some price. They (Banu al-Najjar) replied: We do not want (any price). The palm-trees were cut off, and the crops removed and the graves of the disbelievers dug opened. He then narrated the rest of the tradition. But this version has the word forgive in the verse, instead of the word help . Musa said: Abdul-Warith also narrated this tradition in a like manner. The version of Abdul-Warith has the word dung-hill (instead of crop), and he asserted that he narrated this tradition to Hammad.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ابو الطیہ رضی اللہ عنہ سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مسجد نبوی کی جگہ پر قبیلہ بنو نجار کا ایک باغ تھا، اس میں کچھ کھیت، کچھ کھجور کے درخت اور مشرکوں کی قبریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: مجھ سے اس کی قیمت لے لو ، انہوں نے کہا: ہم اس کی قیمت نہیں چاہتے، تو کھجور کے درخت کاٹے گئے، کھیت برابر کئے گئے اور مشرکین کی قبریں کھدوائی گئیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، مگر اس حدیث میں لفظ «فانصر» کی جگہ لفظ «فاغفر» ہے ( یعنی اے اللہ! تو انصار و مہاجرین کو بخش دے ) ۔ موسیٰ نے کہا: ہم سے عبدالوارث نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور عبدالوارث «خرث» کے بجائے «خرب» ( ویرانے ) کی روایت کرتے ہیں، عبدالوارث کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہی حماد سے یہ حدیث بیان کی ہے۔
Narrated Aishah, Ummul Muminin رضی اللہ عنہا :
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم commanded us to build mosques in different localities (i.e. in the locality of each tribe separately) and that they should be kept clean and be perfumed.
ہم سے محمد بن العلاء نے بیان کیا، ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، انہوں نے زیدہ کی سند سے، ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر اور محلہ میں مسجدیں بنانے، انہیں پاک صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔
Samurah reported:
He wrote (a letter) to his sons: After (praising Allah and blessing the Prophet) that: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to command us to build mosques in our localities and keep them well and clean.
ہم سے محمد بن داؤد بن سفیان نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے ابن حسن نے بیان کیا، ہم سے سلیمان بن موسیٰ نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن سعد نے بیان کیا, سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے اپنے بیٹے ( سلیمان ) کو لکھا: حمد و صلاۃ کے بعد معلوم ہونا چاہیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھروں اور محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں درست اور پاک و صاف رکھنے کا حکم دیتے تھے.
Narrated Maymunah Ibn Saad:
I said: Messenger of Allah ﷺ, tell us the legal injunction about (visiting) Bayt al-Muqaddas (the dome of the Rock at Jerusalem). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: go and pray there. All the cities at that time were effected by war. If you cannot visit it and pray there, then send some oil to be used in the lamps.
ہم سے النفیلی نے بیان کیا، ہم سے مسکین نے بیان کیا، سعید بن عبدالعزیز نے زیاد بن ابی سودہ کی سند سے, نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بیت المقدس کے سلسلے میں ہمیں حکم دیجئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہاں جاؤ اور اس میں نماز پڑھو ، اس زمانے میں ان شہروں میں لڑائی پھیلی ہوئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم وہاں نہ جا سکو اور نماز نہ پڑھ سکو تو تیل ہی بھیج دو کہ اس کی قندیلوں میں جلایا جا سکے ۔
Abu al-Walid said:
I asked Ibn Umar رضی اللہ عنہما about the gravel spread pin the mosque. He replied: One night the rain fell and the earth was moistened. A man was bringing the gravel (broken stones) in his cloth and spreading it beneath him. When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم finished his prayer, he said: How fine it is!
ہم سے سہل بن تمام بن بزیع نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر بن سلیم الباہلی نے بیان کیا، ابوالولید سے روایت ہے کہ
میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسجد کی کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک رات بارش ہوئی، زمین گیلی ہو گئی تو لوگ اپنے کپڑوں میں کنکریاں لا لا کر اپنے نیچے بچھانے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا: کتنا اچھا کام ہے یہ ۔
Abu Salih said:
It was said that when a man removed gravels from the mosque, they adjured him.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ اور وکیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے العمش نے بیان کیا، ابوصالح کہتے ہیں کہ
کہا جاتا تھا: جب آدمی کنکریوں کو مسجد سے نکالتا ہے تو وہ اسے قسم دلاتی ہیں ( کہ ہمیں نہ نکالو ) ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
(Abu Bakr رضی اللہ عنہ said that in his opinion he narrated this tradition from the Prophet ﷺ): The Messenger of Allah ﷺ The gravels adjure the person when removes them from the mosque.
محمد بن اسحاق ابوبکر یعنی الصاغانی نے ہم سے کہا, ابوبدر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے
یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنکری اس شخص کو قسم دلاتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے ۔
Narrated Anas Ibn Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The rewards of my people were presented before me, so much so that even the reward for removing a mote by a person from the mosque was presented to me. The sins of my people were also presented before me. I did not find a sin greater than that of a person forgetting the Quranic chapter or verse memorised by him.
ہم سے عبد الوہاب بن عبد الحکم الخزاز نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد المجید بن عبد العزیز بن ابی رواد نے بیان کیا، ابن جریج کی سند سے، وہ المطلب بن عبد اللہ بن حنطب کی سند سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر میری امت کے ثواب پیش کئے گئے یہاں تک کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے نکالتا ہے، اور مجھ پر میری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے دیکھا کہ اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورت یا آیت یاد ہو پھر وہ اسے بھلا دے ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہما reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: If we left this door for women (it would have been better). Nafi said: Ibn Umar رضی اللہ عنہ did not enter (the door) until his death. The other except Abdul-Warith رضی اللہ عنہما said: This was said by Umar رضی اللہ عنہ (and not by Ibn Umar رضی اللہ عنہ) and that is more correct.
ہم سے عبداللہ بن عمرو اور ابو معمر نے بیان کیا، ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ہم اس دروازے کو عورتوں کے لیے چھوڑ دیں ( تو بہتر ہے ) ۱؎۔ نافع کہتے ہیں: تو ابن عمر رضی اللہ عنہما تاحیات اس دروازے سے مسجد میں داخل نہیں ہوئے۔ عبدالوارث کے علاوہ دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے ) یہ عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
This tradition has been reported by Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ through a different chain of narrators. He narrated it to the same effect and that is more correct.
ہم سے محمد بن قدامہ بن عیان نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل نے، ایوب کی سند سے، وہ نافع سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی اور یہی زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
Nafi said:
Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ used to prohibit (men) to enter through the door reserved for women.
ہمیں قتیبہ یعنی ابن سعید نے بیان کیا, بکر یعنی ابن مدر نے ہم سے عمرو بن حارث کی سند سے اور بکر کی سند سے بیان کیا, نافع سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ( مردوں کو ) عورتوں کے دروازہ سے داخل ہونے سے منع کرتے تھے۔
Abu Usaid al-Ansari reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: when any of you enters the mosque he should invoke blessing on the prophet صلی اللہ علیہ وسلم and then he should say: O Allah, open to me the gates of thy mercy. And when he goes out, he should say: O Allah, I ask thee out of Thine abundance.
ہم سے محمد بن عثمان الدمشقی نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے، جس کا معنی الدراوردی ہے، انہوں نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عبد الملک بن سعید بن سوید کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوحمید یا ابواسید انصاری کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے پھر یہ دعا پڑھے: «اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، پھر جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تیرے فضل کا طالب ہوں ۔
Abu Usaid al-Ansari reported:
'I met Uqbah bin Muslim, and told him: 'I have heard that you narrate from 'Abdullah bin 'Umar bin Al-As رضی اللہ عنہما that the prophet would say, when he entered the Masjid: 'Ahudhu billahill-azim wa bhiwajhihil-karimi wa sultanihil-qadimi min ash-shaitnir-rajim (I seek refuge in Allah, the great, and in his Noble face and his Eternal power, from shaitan, the rejected).'" He ('Uqbah) said: 'Is that all? I said: 'Yes.' So he (added): So when he say that, shaitan say: "He has been protected from me for the entire day."
ہم سے اسماعیل بن بشر بن منصور نے بیان کیا، ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن مبارک کی سند سے, حیوہ بن شریح کہتے ہیں کہ
میں عقبہ بن مسلم سے ملا تو میں نے ان سے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں تشریف لے جاتے تو فرماتے: «أعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم» ( میں اللہ عظیم کی، اس کی ذات کریم کی اور اس کی قدیم بادشاہت کی مردود شیطان سے پناہ چاہتا ہوں ) تو عقبہ نے کہا: کیا بس اتنا ہی؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب مسجد میں داخل ہونے والا آدمی یہ کہتا ہے تو شیطان کہتا ہے: اب وہ میرے شر سے دن بھر کے لیے محفوظ کر لیا گیا۔
It was reported from Amr bin 'Sulaim Az-Zuraqi, from Abu Qatadah:
The Messenger of Allah ﷺ said: when one of you comes to the Masjid, let him pray two Rak'ahs before he sit down."
ہم سے القعنبی نے بیان کیا، ہم سے مالک نے بیان کیا، عامر بن عبداللہ بن زبیر نے عمرو بن سلیم الزرقی کی سند سے, ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آئے تو اسے چاہیئے کہ وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں ( تحیۃ المسجد ) پڑھ لے ۔
This tradition has been narrated by Abu Qatadah رضی اللہ عنہ through a different chain of transmitters to the same effect from the prophet صلی اللہ علیہ وسلم. This version adds: then he may remain sitting (after praying two RAKAHS) or may go for his work.
اس سند سے بھی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح
مرفوعاً مروی ہے، اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھر اس کے بعد چاہے تو وہ بیٹھا رہے یا اپنی ضرورت کے لیے چلا جائے۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying; The angels invoke blessings on any of you who remains sitting at the place where he says his prayers so long as he is defiled (needs ablution) or stands up, saying: O Allah, forgives him; O Allah, have mercy on him.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العراج کی سند سے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے تم میں سے ہر ایک شخص کے لیے دعائے خیر و استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ میں جہاں اس نے نماز پڑھی ہے بیٹھا رہتا ہے، جب تک کہ وہ وضو نہ توڑ دے یا اٹھ کر چلا نہ جائے، فرشتے کہتے ہیں: «اللهم اغفر له اللهم ارحمه» اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما ۔
Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying; one is considered to be at prayer so long as one is detained by prayer: Nothing prevents one from going home to one’s family except prayer.
ہم سے قعنبی نے مالک کی سند سے، ابو الزناد کی سند سے، العراج کی سند سے، اسی سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک شخص برابر نماز ہی میں رہتا ہے جب تک نماز اس کو روکے رہے یعنی اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے سے اسے نماز کے علاوہ کوئی اور چیز نہ روکے ۔